Showing posts with label IDP's Waziristan. Show all posts
Showing posts with label IDP's Waziristan. Show all posts

Tuesday, 18 December 2012

وزیرستان ڈائری: ایک اور دن کی داستان

اسلام و علیکم 
ٹیم آشیانہ کے ایک کارکن کی جانب سے "وزیرستان ڈائری" تحریر کرنے کا عمل جاری ہے اور جیسے ہی ہم کو ڈائری موصول ہوتی ہیں ہم ضروری تدوین کے بعد اس کو یہاں شایع کر دیتے ہیں. اس ڈائری کو یہاں لکھنے کا مقصد خود کی تشہیر یا مقبولیت نہی ہے بلکہ ہم صرف شمالی وزیرستان کے زمینی حقائق اور مقامی افراد کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں مزید "ٹیم آشیانہ" کے جو کارکنان مختلف شہروں سے یہاں آکر فلاحی کام سر انجام دے رہے ہیں ان کاموں کی تفصیلات سے اپنے دیگر دوستوں کو آگاہ کرنا ہے. 

گزشتہ ڈائری کا لنک:

آج کی ڈائری:
رات بھر جاگنے اور شدید ذہنی دباؤ کی وجہہ سے میرا سر درد سے بہت بری طرح پھٹ رہا تھا. میں نے سب ہی کو بولا کے میں اب سونے جا رہا ہوں. مجھ کو ظہر کی نماز میں جگا دیں. باقی معملات رحمت بابا اور دیگر ساتھ مل کر دیکھیں. میں عدنان بھائی کے ٹینٹ میں آیا اور ایک جانب پڑے بستر پر سو گیا.

ظہر کی نماز سے تھوڑا پہلے ہی بلال نے مجھ کو جگا دیا. نیند کا خمار اور سر درد میں کچھ کمی آ چکی تھی، مگر سستی اور کمزوری محسوس ہو رہی تھی. 

جاگ کر نماز کی تیاری کری اور کیمپ کے دیگر کاموں کے بارے میں رحمت بابا اور بلال سے معلومات کری. فیصل بھائی ایک طرف کچھ بچوں کے ساتھ باتوں میں مشغول تھے. میں نے بلال سے پوچھا کے اب تمہاری امی اور بہن کیسے ہیں اور کہاں ہیں؟ بلال میری بات سن کر اچانک سے رو پڑا، مجھ کو فوری طور پر کچھ سمجھ نہی آیا مگر رحمت بابا جب بلال کو دلاسہ دینے کے لئے آگے بڑھے اور انہوں نے کہا "صبر بچہ، صبر،" جب مجھ کو بہت کچھ سمجھ میں آنے لگا. بلال کی باتیں بلال کی ڈائری، بلال کے نہ سمجھ آنے والے پیغامات سب ایک ایک کر کے سمجھ آنے لگے. 

مگر ہوا کیا؟ کوئی مجھ کو بھی تو بتائے؟ میں نے بلال کو اپنے سینے سے لگایا اور ایک طرف بیٹھ کر پوچھا: "بلال امی کہاں ہیں؟ بہن کہاں ہے؟ 

بلال نے روتے ہوۓ جواب دیا "بھائی امی نہیں ہیں وہ ہم کو چھوڑ کر بہت دور چلا گیا ہے." میں نے کہا اور بہن؟ تو بلال نے کہا وہ بھی چلا گیا اس کا شادی ہو گیا. 
میں حیران تھا کے یہ سب مجھ کو پہلے سے کیوں نہیں بتایا گیا؟ کیوں اور کیسے؟ تو رحمت بابا جو ابھی تک ہمرے ساتھ موجود تھے نے مجھ کو کچھ تفصیلات باتیں کہ کس طرح سے بلال کی والدہ کا انتقال ہوا اور بہن کی شادی ہوئی.

 "بلال کی والدہ کیوں کے بیمار تھی اور نفسیاتی مریض بھی تو کچھ ماہ قبل بلال کے کوئی رشتےدار یہاں آئے تھے اور بلال کی بہن کا ہاتھ مانگا تھا، بلال نے عدنان بھائی اور کچھ بڑوں سے مشورہ کر کے اپنی بہن کا نکاح کر دیا تھا اور رخصت کر دیا تھا. اس کی بہن میر علی کے کسی خان کے گھر کی بہو بنی ہے. اور بہن کی شادی کے بعد ہی بلال کی والدہ گزشتہ ماہ نومبر کی ١٧ کو انتقال  کر گئی تھی. "الله پاک مرحومہ کی مغفرت کرے اور بلال کو صبر عطا فرماۓ - آمین"

اب تو بلال اکیلا ہی رہ گیا ہے. اب کیا کرنا ہے؟ میں اسی سوچ میں تھا کے کیمپ میں مقیم کچھ بزرگ ہم سے ملنے ہماری طرف چلے آئے. بزرگ ہم سے یہ جاننا چاہتے تھے  اب ان کا مستقبل کیا ہے محترم رحمت بابا نے کوئی بھی فیصلہ ہونے سے پہلے ہی شاید آشیانہ کیمپ میں مقیم تمام ہی لوگوں کو یہ بتلا دیا تھا کہ ہم لوگ کیمپ میں مقیم کچھ لوگوں کو رخصت کرنا چاہتے ہیں. میں نے اور فیصل بھائی نے ان تمام لوگوں کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کری. 

ہم چاہتے تھے کہ کیمپ کی ابتر حالت کو جلد از جلد سدھار سکیں، فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں. دوست، احباب اور گھر والوں سے رابطہ  کرنا ناممکنات میں ہے ایسا لگ رہا ہے کہ ہم سب جیسے کسی   اور سیارہ کی مخلوق ہیں جس کا زمین والوں سے کوئی رابطہ فلحال ممکن نہیں. ایسی بے بسی کے عالم میں بہت سارے لوگ ہم سے پتا نہیں کیا کیا اور کس کس قسم کی امیدیں لگا کر بیٹھے تھے، ان میں سے اکثر لوگوں کو یہ تک نہیں پتا ہے کہ ہم لوگ تو خود پاکستان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کا گزر بسر ہر مہینے ملنے والی تنخواہ پر یا جو چھوٹا کاروبار رکھتے ہیں اس کی آمدن پر ہوتا ہے اور اب تو ملک کے معاشی حالت ہم کو بچت کرنے کی کوئی اجازت تک نے دیتے تو ہم ان لوگوں کی بہت ساری امیدوں کو کس طرح پورا کر سکتے ہیں. میرے خیال سے ہم (ٹیم آشیانہ کے کارکنان) کو اب آشیانہ کیمپ کے بگڑے حالت کو سدھار نے کے لئے کچھ تلق اور حقیقت پسند فیصلے کرنے ہی ہونگے. ابھی میں کوئی نامکمل یا ادھوری بات کہ کر یہاں کے لوگوں کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا نہ ہی کوئی ایسا قدم جس سے کیمپ کے اندر کسی بھی طرح کی کوئی بے چینی پھیلے یہ میرا مقصد تھا. 

ان لوگوں کو فارغ کر کے میں ایک دفع پھر سے عدنان بھائی کی دی ہوئی فائلز کھول کر بیٹھ گیا. سردی بڑھتی ہی جا رہی تھی. دل اور دماغ میں عجیب عجیب خیالات اور فکریں سوار ہو رہیں تھی. بہت بڑی ذمہ داری میرے کندھوں پر آگئی تھی، مگر ہمت تھی کہ بار بار ٹوٹے جا رہی تھی. 

فیصل بھائی میرے ساتھ ہی بیٹھے رہے اور میرے بتاۓ  ہوۓ اعداد و شمار کو نوٹ کرتے جا رہے تھے. آج میں کیمپ میں موجود تمام  مقامی افراد اور کارکنان کا حتمی ڈیٹا تشکیل دے رہا تھا، اور کیمپ میں موجود امدادی سامان کی تفصیلات اور دیگر باتیں بھی لکھ رہا تھا. میرا سب سے پہلا ٹارگٹ کیمپ میں موجود لوگوں کو بڑھتی ہوئی سردی سے محفوظ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا تھا. جس کہ لئے درکار سامان ابھی تک مہیا نہیں تھا.  ایک حتمی فہرست ترتیب پا گئی تو میں نے شام میں کیمپ میں موجود تمام مقامی کارکنان کو پیغام بھجوادیا کہ ہم آج 
 بعد نماز عشاء ایک میٹنگ کر رہے ہیں لہذا اس وقت سب حاضر رہیں.    

کب کی کب میں عصر اور مغرب ہو گئی کچھ پتہ ہی نہ لگا، بس ہم فائلز سے فارغ ہوتے، نماز ادا کرتے اور پھر سے فائلز لے کر بیٹھ جاتے. مغرب کی نماز کے بعد کھانا تیار تھا ہم سب نے مل کر کھانا کھایا اور سردی سے محفوظ رہنے کے لئے کچھ لکڑیوں کو جلا کر بیٹھ گئے. کچھ اپنی باتیں کریں کچھ لوگوں کی باتیں سنیں. یہاں دکھ، غم، بے بسی کی باتوں کے سوا کچھ اور بھی ایسا نہیں تھا جس کا ذکر اپنی ڈائری میں لکھ سکوں. باتوں ہی باتوں میں فیصل بھائی نے ذکر کیا کہ ہمارا امدادی سامان ابھی تک یہاں نہیں پہنچا ہے تو مجھ کو بھی کچھ فکر لاحق ہوئی. میں نے ایک پرچہ لے کر عدنان بھائی کے لئے ایک پیغم لکھا اور رحمت بابا کے حوالے کیا کہ وہ اس پیغام کو کسی بھی طرح عدنان بھائی تک پہچانے کا اہتمام کریں. اسی اثنا میں عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا ہم سب نے مل کر نماز ادا کری اور سردی سے محفوظ رہنے کے لئے پھر سے کچھ لکڑیاں جلائیں.  

مقامی کارکنان اور ہم سب نے مل کر میٹنگ کر جس میں کچھ بنیادی فیصلے کیے اور پھر کل سے عملی اقدامات کرنے کا احد کر کے ہم سب اپنے اپنے بستروں میں داخل ہوۓ. آج ہوا بھی ہے اور شاید کسی وقت بارش بھی ہو. اگر بارش ہوئی تو ہمارے ٹینٹس کا کیا ہوگا؟ یہ تو پہلے سے ہی بہت خستہ حالت میں ہیں. یا الله ہماری مدد فرما اور ہم کو اس امتحان سے نکال - امین.

اب میں ٢ دن کی ڈائری ایک ساتھ لکھنے بیٹھا ہوں اور آج ہی لکھ کر ختم کر دوں گا، وہاں کراچی میں میری امی اور بہنیں میرے پیغام کے لئے راہ دیکھتی ہونگی اور بہت فکر مند ہونگی. ابھی تو اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنے کے لئے بس یہی ایک راستہ ہے کہ روز ڈائری لکھوں ار میران شاہ میں مجود مقامی کارکن کو بھجواؤں اور وہ اس کو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کردے. باقی امی کا ذاتی پیغام شاید کسی طرح مجھ تک یہاں پہنچ جائے. 

اب یہ ڈائری ختم پر ہے رات کا ایک بج رہا ہے، بہار تیز ہوا چل رہی ہے، سردی ایسی ہے کے بس جسم جمنا ہی باقی ہے. میں خود سے ہی سوال کر رہا ہوں کہ میں اس موسم میں یہاں کیوں ہوں اور خود کو ہی تسلی دے رہا ہوں کہ بس کچھ دنوں کی ہی تو بات ہے پھر ہم اپنے گھر میں ہونگے اور یہ لوگ؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں میرے پاس فلحال. 

شب بخیر، الله پاک ہم سب پر اپنا کرم کرے، آمین!
         

Sunday, 20 May 2012

وزیرستان (شمالی) کے لئے میرا دوسرا سفر:

محترم دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم،

الله کی ذات سے امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہونگے، پورا ایک ماہ ہوا نہ ہی ڈائری اپ ڈیٹ  ہوئی نہ ہی ٹیم آشیانہ کا کوئی صفحہ لکھا  گیا. حالت ہمارا اکثر ساتھ نہیں دیتے. جن صحتوں کی ذمہ داری لگی تھی کے وہ اپنے گھروں پہ بیٹھ کر ہم سے رابطے میں رہیں یا پھر خود ہی ہم سے ہمارے کام کی تفصیلات لے کر ہمارے دوستوں کو اپ ڈیٹ  کرتے رہا کریں. مگر ہر کسی کی کوئی نہ کوئی مجبوری رہا کرتی ہے. الله پاک ہم سب کو صبر اور استقامت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق دے اور ہم سب کو ہمت حوصلہ دی کے ہم اور  بھی ہمارے ساتھی  اپنے پاکستانی بھائی،  بہنوں کی مدد کرتے رہیں.
مجبورن مجھ کو ایک ماہ کے لئے وزیرستان (شمالی) جانا پڑا . جن حالات  میں پہلے ہو کر آیا تھا، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی. اب  سمجھ سے باہر ہے کے میں   پہلے کی ڈائری کو مکمل کروں یا اب  کچھ دیکھ کر اور کر کے آیا ہوں وہ لکھوں. میں خود اتنا مضبوط نہیں جتنا کے وزیرستان میں رہنے والے لوگ ہیں یا ٹیم آشیانہ کے ممبرز ہیں. میں ایک  انسان ہوں جو کبھی بھی ایسے  حالت سے نہیں گزرا  مگر ابہ ٹیم آشیانہ کی مہربانی سے اور الله پاک کی دی ہوئی ہمت سے میں بھی وزیرستان کے حالت کا عادی  ہوتا جا رہا ہوں. مگر آخر کبه تک؟ ہم لوگوں کے  مانگتے رہیں؟ یا ان  لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ  کر اپنے اپنے گھروں میں جا کر بیٹھ جائیں اور زندگی کے مزے لوٹیں جیسے ہمارے حاکم  اور دوسرے لوگ کر رہے ہیں. ایک  جانور کے لئے تو ایسا کرنا آسان ہے مگر ایک انسان کے لئے سب کچھ دیکھ کر ایسا کرنا  نہ ممکن. 
میں سلام کرتا ہوں عدنان بھائی  کو، فریال بہن کی، فیصل بھائی، اکرم بھی، اور ٹیم آشیانہ کے ایک ایک ممبر کو جو کسی بھی قسم کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کی خدمات کے مشن پر لگے ہووے ہیں اور پوری تندہی اور محنت سے وزیرستان (شمالی) کے لوگوں کی خدمات کر رہے ہیں. میں اپنی اس ڈائری میں ابہ پوری کوشش کروں گا کہ جو کچھ بھی حالات میں  وہاں دیکھے ہیں اور جو کچھ مجھ پر وہاں گزری ہے وہ تفصیل سی لکھوں. میری اس ڈائری کو پڑھنے والے لوگوں سی گزارش ہے کہ ٹیم آشیانہ، اور شمالی وزیرستان میں موجود لوگوں کے لئے دعا کریں کے الله پاک ہم سب کو ایک اچھا اور نیک مسلمان بننے کی توفیق دے اور ہمارے اپر سے مشکلات کا خاتمہ کرے، آمین.

میرا وزیرستان کے لئے دوسرا سفر:   
گزشتہ ماہ ١٩ تاریخ (اپریل). کو مجھے فریال بہن کی فون کال ملی مجھ کو کہا گیا کے اگر میری طبیت کچھ بہتر ہے اور اگر میں ایک دفع پھر وزیرستان جا کر ٹیم آشیانہ کے لئے کچھ خدمات  انجام دے سکتا ہوں تو ضرور جاؤں. میں نی اپنی امی سے بات کری ، سکول میں چھٹی کے لئے درخواست 
دی اور ایک دفع پھر شمالی وزیرستان کے لئے تیاری کرنے لگا. تیاری کیا کرنا تھی بس کچھ کپڑے ہی ساتھ رکھنے تھے، پہلے سوچا کے جہاز سے پشاور جاؤں اور وہاں سے ٹیم آشیانہ کا کوئی نہ کوئی ممبر مجھ کو آگے لے جاۓ گا. مگر مری امی نی کہا " جتنا خرچہ تم جہاز سے جانے میں لگا رہے ہو اس کے ادھے میں تم چلے جو گے اور بچی ہوئی رقم سے تم وزیرستان کے بچوں کے لئے  کچھ لیتے جاو." امی کا مشورہ بہت اچھا تھا. میں نی بس سے ایبٹ آباد تک جاؤں اور وہاں سے ٹیم آشیانہ کا کوئی ممبر مجھ کو لے کر آگے  جاۓ گا. میں نیں ٢٢ تاریخ (اپریل) کو سفر کا آغاز کیا اور اپنے   دوستوں، رشتےداروں اور مہربانوں کی مدد سے جمع کیا ہوا کچھ سامان لے کر اپنی منزل کی جانب بڑھنا شروع کیا. سارا راستہ  سوچتے ہووے گزرا میں وہاں جا کر کیا کروں گا؟ عدنان بھائی سے کیا بات کرنا ہے اور می وہاں کیا خدمات سر انجام دے سکتا ہوں؟ 
یہ ایک حقیقت ہے کی میں زیادہ وقت تک شمالی وزیرستان میں نہیں رہ سکتا. میرے اپر میرے گھر کی زمہ داری ہے، میری امی خود کینسر کی مریض ہیں. ایک بہن اور اس کے بچوں کی کفالت کرنا بھی میرے اپر ہے. لیکن میں اپنی ان زمہ داریوں کے ساتھ ایک پاکستانی بھی ہوں اور مسلمان بھی اور اسی حثیت سے مجھ کو اپنے فرض کا بھی اندازہ ہے. روز حشر الله پاک کے سامنے اور نبی کے سامنے شرمندہ نہ رہوں. میرے لئے میری امی میری دنیا ہیں، میری زندگی ہیں. اور مجھ کو فخر ہے کے امی میرے ہر کام می میرا ساتھ دیتی ہیں میری حوصلہ افزائی کرتی ہیں.
میں سارا راستہ سوچتے ہووے  ایبٹ آباد پہنچا وہاں میرے دوست اکرم بھائی  میرے منتظر تھے. وقت کا زیاں کئیے  بغیر ہم لوگ اگلی منزل کی جانب روانہ ہووے. مجھ کو اندازہ تھا کے راستے میں ہم کو کن مشکلات کا  کرنا ہو.گا . میں پوری ترہان  تیار تھا. ٢ دن کے بعد میں کراچی سے وزیرستان شمالی پہنچ گیا. 

پاک فوج کے جوانوں کو سلام:
ایک دفع پھر اور رہتے  دم تک میں سلام کرتا ہوں، پاکستان کے فوجی جوانوں کو، پاکستان کی سیکورٹی کے جوانوں کو کو صرف اور صرف پاکستان کے عوام کے جان اور مال کی حفاظت کے لئے وزیرستان جیسے علاقوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں. ہم میں سے کسی کو اندازہ تک نہیں کے ہمارے یہ جوان کسی کسی مشکلات کا  شکار ہیں.خود ان کے جان غیر  محفوظ ہیں. مگر یہ جوان صرف ہمارے لئے اور ہماری بقا کے لئے، پاکستان کے لئے  موجود ہیں. الله پاک ہمارے ان جوانوں کو اور ہمت، حوصلہ، صبر اور استقامت دے اور ہم کو بھی توفیق دے کے ہم بھی اپنے فوجی جوانوں کے جیسے  سکیں اور وطن کے لئے کسی بھی حد تک گزر سکیں. آمین. 

دتہ خیل میں استقبال:
میں یہاں کچھ وجوہات کی بنا پر دن اور تاریخ کا ذکر نہیں کر  سکوں گا.ہم جیسے ہی دتہ  خیل  میں داخل ہووے سب کچھ ایسا محسوس ہوا کے جیسے میرا ہی گھر ہے اور میں اپنے گھر  واپس آیا ہوں. عدنان بھائی  اور ٹیم آشیانہ کے ممبر کے ساتھ بلال محسود بھی میرے استقبال کے لئے موجود تھے. مجھ کو سب نے گلے لگا، عدنان بھی اور بلال کی آنکھوں میں  آنسو تھے، میری بھی آنکھیں  بھرگیں. میں نی خود کو ہمت دی اور پھر سب کو ہمت دی. میں نی ابہ ایک بھی لمحہ کا زیاں کے بغیر ٹیم آشیانہ کے ممبرز کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کرنے کا کہا جس پر عدنان بھائی  نے کہا "آپ بہت کر لمبا سفر کر کے آے  ہو تھوڑا آرام کر لو" میں نی انکار کیا اور کہا "نہیں بھائی، بہت ہو گیا آرام، پتا نہیں زندگی میں کتنے دن اور لکھے  ہیں ابہ صرف کام ہوگا صرف کام". میری اس بات پر سب لوگوں نے الله اکبر کی صدا  لگی اور مجھ کو ایک کپ قہوہ دیا اور ہم ایک طرف جما ہو کر بات کرنا شروع  ہووے.


نوٹ:
محترم دوستوں، میرے اپر ٹیم آشیانہ کے بہت بری اور بھری زمہ داری ہے. میں ابہ فنڈز جما کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیم آشیانہ کی ضروریات کا خیال بھی  رکھتا ہوں. ساتھ ہی دتہ  خیل  میں ایک سکول اور مدرسہ بھی شروع  کیا ہے. میرے لئے دعا کریں کے الله پاک مجھ کو کامیابی دے آمین.

اپنی اگلی ڈائری میں   ذکر کروں گا کہ میں نی وہاں جا کر کیا کیا اور کیا دیکھا. 
الله پاک آپ کا اور ہم سب کا حامی اور  ناصر ہو، آمین. 
جزاک الله خیر.
آپ کا بھائی  
waziristandairy@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
 

Saturday, 21 April 2012

وزیرستان ڈائری: ٹیم آشیانہ اور دتہ خیل کے لوگوں سے تقریر

اسلام و علیکم،
سب سے پہلے گزشتہ شب بھوجا ائرلائن کے حادثے میں شہید ہوۓ افراد کے لواحقین سے تعزیت، الله پاک مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگا عطا فرماۓ، لواحقین کو صبر، تحمل، اور برداشت کا حوصلہ عطا فرماۓ، کوئی شک نہیں کے انسانی جانوں کا ایسے چلے جانا ایک قومی حادثہ ہے. الله پاک ہم سب کو ایسے حادثات سے محفوظ فرمایں، آمین.

گزشتہ ڈائری میں عرض کر رہا تھا کہ دتہ خیل میں میرا پہلا جمعہ مبارک کیسا گزرا. مگر شام تک حالات کافی بہتر ہو چکے تھے، عشا کی نماز کے بعد ٹیم آشیانہ کے ساتھ ایک میٹنگ رکھی گئی تھی اور میں اپنے سارے تجربے، حالات کو سامنے رکھتے ہوۓ اپنی ڈائری میں نوٹس لکھ رہا تھا. اچھی خاصی تقریر ہو چکی تھی.  ابہ یہی سوچ رہا تھا کہ مجھ کو اپنی بات کہنے اور سمجھنے کا وقت مل جاۓ، ابہ کوئی انہونی یا ہلچل نہ ہو. 

عدنان بھائی نے بلوا لیا اور میں اپنی ڈائری لے کر دل ہی دل میں دعا کرتا ہوا ساتھیوں کی طرف بڑھنے لگا. میں نے سب کو بلند آواز سے سلام کیا، رسماً حال وغیرہ دریافت کیا اور ایک طرف کھڑا ہو گیا. اکرم بھائی اور عدنان بھائی سے اجازت مانگی، اور اکرم بھائی سے کہا کہ جہاں جہاں میری بات کا پشتو میں ترجمہ کرنا ضروری ہو براہ کرم کریں اور اگر کوئی بات پشتو میں ہو تو مجھ کو اردو میں ترجمہ کر کے سمجھا دیں. اکرم بھائی نے اثبات میں سر ہلایا اور میں نے دل میں الله کا  نام aلیکر پنی بات (تقریر) شروع کری،
    "محترم عدنان بھائی، اکرم بھائی، ٹیم آشیانہ کے ساتھیوں، اور وزیرستان کے بھائی اور بزرگوں، آپ سب ہی اب مجھ کو اچھی ترہان جان گئے ہیں، میں ایک دفع پھر اپنا تعارف کرانا نہیں چاہتا، میں جو ہوں جیسا ہوں آپ سب کے سامنے ہوں، میں وزیرستان ٹیم آشیانہ کی دعوت پر آیا،کیوں کہ ٹیم آشیانہ میری دعوت پر سندھ کے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے iکراچی اور بدین (سندھ) آئ تھی. یہ میرا اخلاقی فرض اور ٹیم آشیانہ کے دوستوں سے محبت اور ان سب کا خلوص ہی تھا جس نے مجھ کو یہاں آنے پر مجبور کیا. میں اپنی مہمان نوازی پر، ٹیم آشیانہ اور دتہ خیل  کے سب دوستوں کا دل کی گہرایوں سے شکرگزار ہوں.  یہاں پر  رہتے ہوۓ ا کچھ زیادہ وقت تو نہیں گزرا مگر جتنا بھی وقت گزرا، اس سےبہت کچھ دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا. ٹیم آشیانہ کی مشکلات کا بھی احساس ہوا اور یہاں پر رہنے والوں کے دکھ اور کرب کو بھی بہت قریب سے محسوس کیا. میں اس وقت صرف دعا ہی کر سکتا ہوں کہ الله ہم سب کو صبر عطا فرماۓ اور ان مشکلات سے نکلنے کی ہمت اور توفیق عطا فرماۓ، آمین.
محترم دوستوں، آج جو باتیں میں آپ سے کر رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے بہت لوگ میری باتوں سے اتفاق نہ کریں، مگر انسان کو ہمیشہ حقیقت پسند ہونا چاہیے، اور حقیقت پسند انسان کی حثیت سے آپ کے سامنے کچھ باتیں رکھنا چاہتا  ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ سب ہی میری ان باتوں کو ٹھنڈے دل اور دماغ سے سنیں گے اور اپنی آراہ سے آگاہ کریں گے، اور اگر کہیں میری معلومات درست نہیں یا کمزور ہیں تو آپ اس میں اضافہ کریں گے.
آپ سب ہی  جانتے ہیں کہ وزیرستان شمالی یا جنوبی، یا ایسے ہی دوسرے علاقوں کہ حالات اتنے برے یا خراب کیوں ہیں؟ کیوں یہاں کہ لوگ مارے جا رہے ہیں؟ کیوں یہاں کے لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر کہی اور رہنے پر مجبور ہیں؟ کیوں یہاں پاکستان کے دوسرے علاقوں کی ترہان ترقی اور خوشحالی نہیں؟ اور بھی بہت سارے سوالات ہم سب کے ذہنوں میں ہیں. سب سے بڑھ کر یہ کے اتنے خراب موسم اور حالات میں کیوں کوئی بینلاقوامی فلاحی یا قومی فلاحی انجمن آکر آپ لوگوں کی مدد نہیں کر رہی؟ ان سب کا کون ذمے دار ہے یہ ایک الگ بحث ہے جس پر پھر کبھی بات ہو سکتی ہے. ہم کو اپنا آج دیکھنا ہے تا کہ ہم اپنے آنے والے کل کو محفوظ بنا سکیں. آج آپ کے مسائل کیا ہیں؟
آپ کے پاس رہنے کو گھر نہیں ہیں؟
آپ کے بچوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہے؟
آپ کے پاس زندگی کی بنیادی سہولیات موجود نہیں؟
آپ کی زندگیاں محفوظ نہیں؟ (کسی بھی وقت فوجی حملوں کا ڈر لگا رہتا ہے)
آپ کے پاس ادویات کی قلت ہے؟
آپ کے پاس کھانے پینے کے لئے غذائی اجناس نہیں؟     
یہی بہت بنیادی سوال ہیں  جن کا جواب حاصل کرنا کچھ مشکل کم نہیں. برسوں پہلے کچھ نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں کے ہاتھوں آپ نے خود کو سونپ ڈالا، ظاہر ہے آپ کے پاسس بنیادی رہنمائی ہی موجود نہیں تھی جس کا سبب آپ کا غیر تعلیم یافتہ ہونا تھا. اگر آپ کے پاس تعلیم ہوتی تو آپ کے پاس شعور ہوتا اور شعور ہوتا تو آپ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ضرور سوچتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط. ٹیم آشیانہ جیسے لوگ آخر کب تک آپ کے ساتھ یہاں بیٹھے رہے گئی، جہاں تک میں سمجھا ہوں ٹیم آشیانہ خود ہمیشہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑی لگتی ہے. آپ کو ابہ خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آخر آپ کو کرنا کیا ہے؟ کیا ہمیشہ ہی ایسے ہی جینا ہے، کہ کچھ لوگ بھیک مانگ مانگ کر، چندہ زکات، فطرہ صدقات اکھٹا کر کر یہاں لائیں اور آپ کو دیتے رہیں؟ میرے خیال میں یہ کوئی مستقل حال نہیں. آپ یہ دیکھیں کے پاکستان کے قومی ادارے، جیسے آرمی وغیرہ کے جوان آپ کی حفاظت کے لئے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں. اور پتا نہیں کتنے ہی جوان خود  اپنوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں. خود آپ لوگ بھی بہت نقصان اٹھا چکے ہیں، (tابھی میری بات جاری ہی تھی کے عدنان بھائی اور اکرم بھائی نے اشارے سے مجھ کو روکا اور کہا کے بھائی آپ ان باتوں کو پھر کبھی کر لائیں ابھی ہم کام کی بات کر لیتے ہیں) میں بہت اچھی ترہان سمجھ رہا تھا کہ کیوں روکا گیا ہے. آخر کسی نہ کسی کو تو منہ کھولنا ہوگا، کہی آسمان سے فرشتے تو نہیں اتریں گے ان لوگوں کو کچھ سمجھنے کے لئے نہ ہی ہمارے محترم سیاست دان صاحبان یہاں آکر ان لوگوں سے بات کریں گے. آرمی والوں کو یہ پتا نہیں کیوں اپنا دوست سمجھنے کو تیار نہیں. تو کون ان لوگوں سے بات کرے گا؟ کون ان کو سمجھنے کو کوشش کرے گا، کسی کو تو آگے بڑھنا ہوگا. پھر بھی میں نے اپنی بات کو مختصر کر کے بیان کرنے کی کوشش کری اور اپنا پلان پیش کرنا شروع کیا.t
محترم دوستوں، ہم سب کو مل کر ان حالات سے باہر نکلنے کی کوشش کرنا ہوگی، پاکستان میں رہنے والوں، اور دنیا کو احساس دلانا ہوگا کہ وزیرستان دہشت گردو کی پناہ گاہ نہیں ہے بلکے یہاں یہ نام نہاد اسلام کے ٹھیکے دار بندوق کی نوک پر دہشت دکھا کر سب کو یرغمال بنا لیتے ہیں. اور جب گھر محفوظ نہ ہوں تو وہ سب کرنا پڑھتا ہے جو دوسرے ہم سے چاہتے ہیں. ہم کو یہاں اپنی مسجدوں کو پھر سے آباد کرنا ہوگا، جہاں ہم اسلامی دہشت گردی کی تعلیم نہیں بلکے صحیح اسلام کی تعلیم دے سکیں، جس میں ہم جہاد کے سہی مسائل بیان کر سکیں، اپنے بچوں کو اسلام کا صحیح نظریہ سکھا سکیں. ہم کو اپنی پوری کوشش کرنا ہوگی کہ اب یہاں کا بچہ بچہ تعلیم حاصل کر سکے، اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا. میں وعدہ کرتا ہوں کہ بچوں کی تعلیم کی مدد کے لئے مجھ کو جو کچھ بھی کرنا پڑا میں کروں گا. میں یہاں کوئی سکول کھولنے کا وعدہ نہیں کر سکتا مگر آپ کی مسجدوں میں ہی سکول کی سہولیات دینے کی پوری کوشش کروں گا. آپ کے بچوں کے لئے کتابیں اور تعلیم کے لئے ضروری چیزوں کا بندوبست کرنے کے لئے محنت کروں گا، اور مجھ کو پورا یقین ہے کہ ٹیم آشیانہ کے کارکنان اور آپ سب اس مقصد میں میری مدد کریں گے.
تعلیم حاصل کرنے کا صرف ایک ہی  مقصد نہیں ہوتاکہ نوکری کرنی ہے بلکے تعلیم سے ہم میں شعور بیدار ہوتا ہے، سچ اور جھوٹ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، صحیح اور غلط بات کا فیصلہ کرنے کے لئے حوصلہ ملتا ہے اور ہماری زندگی میں رہنمائی ملتی ہے. آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کے اب آپ خود اور آپ کے بچے علم حاصل کرنے میں لگ جائیں. الله پاک ہم سب کی مدد کریں گے. انشا الله.

دوسرا بڑا مسلہ امن و امان، حفاظت کا ہے، مقامی لوگ مل کر آرمی اور پاکستان کے دوسرے اداروں سے اگر تعاون  کریں تو کسی کی مجال نہیں کہ آپ کا بال بھی بانکا کر سکے. یہاں ہم کو اپنے نوجوانوں کی مدد چاہیے ہوگی، جو بھٹک گئے ہیں، جن کو دوسروں نے اپنے جال میں پھنسا لیا ہے. ہم کو ان نوجوانوں سے بات کرنا ہوگی، ان نوجوانوں کو ان کی ذمے داری کا احساس دلانا ہوگا. سرحد پر سے اگر کوئی انجانا کسی بھی حوالے سے آپ کا مہمان بننے آتا ہے تو اس کے eبارے میں پہلے سے اچھی ترہان سوچنا ہوگا.  کہی یہ مہمان ہمارے لئے مشکل کا سبب نہ بن جائے، اس مہمان کے بارے میں مقامی سیکوریٹی کے اداروں کو اطلاع دیں، اور ایک ذمے دار انسان ہونے کا ثبوت دیں، ایک دفع پاکستان کے سیکوریٹی اداروں کا آپ پر اور آپ کا ان پراعتماد بحال ہو گیا تو آپ دیکھیں گے کی بہت جلد یہاں خوشحالی آنی شروع ہو جائے گی - انشا الله. اور ایک دفع یہاں سیکوریٹی کے معاملات ٹھیک ہونا شروع ہو گئے تو انشا الله یہاں کاروبار بھی شروع ہوگا، اور روزگار بھی ملنا شروع ہو جائے گا. یہ کوئی ایک دن کا کام نہیں بلکے اس کے لئے ہم سب ہی کو محنت اور خلوص سے پہلے خود سے، پھر اپنے مذھب سے اور اپنے وطن (پاکستان) سے مخلص ہوکر کام کرنا ہوگا.
ایک اور اہم مسلۂ غذائی قلت اور ادویات یا میڈیکل کی سہولتوں کا نہ ہونا ہے. میران شاہ میں تو کچھ اسپتال نظر آتے ہیں مگر یہاں (دتہ خیل) یا جہاں جہاں میں گیا ہوں  وہاں ایسا کچھ نہیں دیکھتا. یہ مسلہ بھی فورن حل طلب ہے. اس کے لئے ہم سب حکومت سے مدد مانگ سکتے ہیں، ویسے ہماری حکومت تو خود آپ کا نام لے لے کر دنیا سے مدد اکھٹا کر رہی ہے کچھ پتا نہیں کہ وہ کیا جواب دے، مگر مجھ کو اپنی آرمی پر پورا یقین اور بھروسہ ہے کہ اگر آرمی کی میڈیکل کور سے مدد مانگی جاۓ تو مل سکتی ہے، ٹیم آشیانہ جیسے ایک چھوٹے سے سوشل گروپ کے لئے اتنا بڑا انتظام کرنا ممکن نہی. آپ کو بلکل اندازہ نہیں، کہ جب ہم اپنے دوستوں، رشتےداروں اور دنیا والوں کے سامنے آپ کے لئے مدد مانگتے ہیں تو لوگ کتنی  حقارت سےہم کو دیکھتے ہیں. کچھ تو یہ کہتے ہیں "تم ان لوگوں کے لئے مدد مانگ رہے ہو جو پوری دنیا میں دہشت گردی hپھیلا رہے ہیں؟" کچھ لوگ ہم کو جھوٹا کہتے ہیں، کچھ ہم کو غلط سمجھتے ہیں، میں آپ کو  کس ترہان بتاؤں کے کتنی ذلت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑہتا ہے. مگر پھر بھی ہم آپ کو اپنا سمجھتے ہیں اور تھوڑا دیر تھک جانے کے بعد پھر سے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں. آپ اپنے بڑوں سے بات کریں کہ ہم کو یہاں ہمارے کام کی تصاویر، بنانیں دیں. تا کہ ہم وہ دنیا کو دکھا سکیں، اور ہماری مدد ہو سکے.
آپ سب ہی نے میری بات کو بہت خاموشی سے سنا، ہو سکتا ہے میری کچھ باتیں آپ کو اچھی نہ لگیں ہوں، اور آپ کو برا محسوس ہوا ہو جس کے لئے میں آپ سے معزرت اور معافی چاہتا ہوں. آپ سب کا بہت بہت شکریہ. اسلام و علیکم.
جزاک الله


Friday, 13 April 2012

Another Page of my dairy: وزیرستان ڈائری کا اگلا صفحہ

اسلام و علیکم دوستوں اور ساتھیوں، 
جہاں اپنی ڈائری ختم کی تھی وہی سے شروع کر رہا ہوں، مگر شروع کرنے سے پہلے ایک اپیل اپنے دوستوں سے، اپنے بھائی بہنوں سے، اپنے فمیلی ممبرز سے، اپنے پڑھنے والوں سے، یہ اپیل مجھ کو عدنان بھائی کی طرف سے آج ہی ملی ہے، اور میں اپنی طرف سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرنے کی کوشش میں ہوں، الله پاک مجھ کو ہدایت اور توفیق عطا فرماے اور ٹیم آشیانہ کی وزیرستان میں مشکلات کو آسان فرماے، آمین.
"ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں متاثرین "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے لئے فلاحی خدمات سر انجام دے رہی ہے، ٹیم آشیانہ بغیر کسی غرض، لالچ یا نام کے یہ خدمات ادا کر رہی ہے، ٹیم آشیانہ کی بنیادی ذمداری جنگ میں برباد ہوۓ خاندانوں اور یتیم، معذور بچوں کے لئے غذا، ادویات اور کپڑوں کی فراہمی ہے، ٹیم آشیانہ اپنے گھر والوں، دوستوں، احباب اور پڑھنے والوں کی مدد سے ہی یہ سارے کم سر انجام دیتی ہے. مہنگائی اور بگڑتے ہوۓ حالات کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کو ملنے والا فنڈ اب بہت کم رہ گیا ہے، شمالی وزیرستان میں اب بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، آی ڈی پی کمپ جلو زئی، کے حالات سے آپ سب ہی واقف ہیں، وہاں پر مقیم وزیرستان کے لوگ آہستہ آہستہ اب واپس آرہے ہیں. یہاں ایسے لوگوں کے رہنے اور کھانے پینے اور صحت جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، ہم کچھ زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر متسیریں کے لئے دو (٢) وقت کے کھانے اور بیماروں کے لئے ادویات کا انتظام ضرور کر سکتے ہیں، اسس کے علاوہ شدید بیمار افراد کو یہاں سے کسی بھی شہر منتقل کرنے کے لئے یہاں ایک بھی گاڑی موجود نہیں ہے، صرف آرمی کی گروں کو ہی استعمال کیا جا سکتا ہے جو ہر کسی کے لئے نہیں ہیں. ہم (ٹیم آشیانہ) انسانیت کے نام پر محترم جناب عبدلستار ایدھی صاحب، محترم انصار برنی صاحب، محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ اور دوسرے فلاحی اداروں کے سربراہوں اور نامی گرامی انسانیت کے ٹھیکیداروں سے اپیل کرتے ہیں، ان سے بھیک مانگتے ہیں کے یہاں ادویات کی قلت ہوتی جا رہی ہے، غذائی اجناس بھی بہت کم ہو جاتی ہے، بچوں اور خواتین کے لئے کپڑوں کی بھی کمی ہے. یہاں کے لوگ تنگ دست ہیں، یہاں کمی کا کوئی راستہ نہیں، یہاں سکول نہیں، یہاں میڈیکل سنٹر نہیں، یہاں مریضوں کو منتقل کرنے کے لئے گاڑیاں نہیں، آیئں آپ اور ہم مل کر تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں کے مفلس، تنگ دست، لاچار، بےبس، یتیم، مسکین، بیوہ، معزور لوگوں کے لئے کچھ انسانیت کا کام کریں، باتیں تو سب ہی کرتے ہیں آپ یہاں (شمالی  وزیرستان) میں آیئں  اور ہم سب مل کر ایک نیا وزیرستان بناتے ہیں، ہمارے پاس یہاں فلاحی کم کرنے کا ٢ سال کا تجربہ ہے، ہم یہاں کے لوگوں کو اور یہاں کے لوگوں کی حالات کو بہت بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں. ہم یہاں کسی بھی سیاسی، مذہبی یا بیرونی معملات کو کرنے نہیں آی ہیں، ہم صرف اور صرف اپنے پیارے وطن پاکستان کے لوگوں اور اپنے بھائی بہنوں کو یہ احساس دلانے کے لئے آے ہیں کے ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں، اور ابھی پاکستان میں بہت لوگ ایسے ہیں جو یہاں کے لوگوں کے لئے دل میں درد رکھتے ہیں اور اپنا مانتے ہوۓ ان کی مدد کر رہے ہیں. 
ٹیم آشیانہ کو آپ سب کی محبت، خلوص اور دعاؤں کی بہت ضرورت ہے، ساتھ ہی ہر قسم کی امداد کی بھی اشد ضرورت ہے ہم یہاں ذکر نہیں کر سکتے کے یہاں کے حالات کیسے سخت ہوتے جا رہے ہیں. اسس سے پہلے کے بہت دیر ہو جاۓ ہم سب کو مل کر یہاں کے لوگوں کے لئے کام کرنا ہوگا، خاص کر، عبدالستار ایدھی صاحب اگر ایک دفع یہاں آجائیں تو دوسرے فلاحی تنظیموں اور لوگوں میں بھی یہاں اکر فلاحی کام کرنے کے لئے ہمت اور حوصلہ ملے گا. ہم سب ہی لوگوں سے یہ اپیل اور درخواست کرتے ہیں کے آپ لوگ اپنے اپنے طریقے سے ایسی عظیم ہستیوں سے رابطہ کر کے ان کو ہمارا پیغم دیں، ہو سکتا ہے کہ کسی کی بات ان لوگوں کو دل میں اتر جاۓ اور یہاں موجود ہزاروں لوگوں کے لئے خوشی اور خوش حالی کا کچھ سامان ہو جاۓ، 
جزاک الله خیر، سید عدنان علی نقوی، ٹیم ممبر، ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان. 
رابطے کے لئے، 
+92 345 297 1618
+92 333 342 6031
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

محترم دوستوں اور بھائی بہنوں، اپر لکھا گیا پیغام مجھ کو جس ترہان ملا تھا بلکل اس کو ویسے ہی لکھ دیا ہے. میں نے پچھلے ایک ہفتے میں جو کچھ جمع کیا ہے، وہ صبح اپنے دوستوں، خاندان والوں اور عزیز احباب کی مدد سے، کیا ہے اور انشا الله کل کسی وقت یہ سامان لے کر میں ایک دفع پھر یہاں سے وزیرستان (شمالی) کے لئے روانہ ہو جاؤں گا، انشا الله.
الله پاک مجھ کو اور ہمت، توفیق اور حوصلہ عطا فرماے اور مجھ کو وزیرستان جا کر لوگوں کے لئے فلاحی کام کرنے کی توفیق عطا فرماے، آمین. 
==============================================
==============================================
اور اب میری ڈائری کا اگلا صفحہ،
  محترم نماز عشا سے فارغ ہوکر، ہم کچھ لوگ ایک ساتھ بیٹھ گئے، عدنان بھائی نے بھی اس میٹنگ کے لئے کچھ خاص لوگوں کو ہدایت دی تھی. اس لئے ٹیم آشیانہ کے خاص ممبرز اور کچھ مقامی دوست بھی اس میٹنگ میں شریک تھے، عدنان بھائی نے ایک اور ممبر کو ہم سب کے لئے چائے بنانے کا کہ دیا تھا. ابہ مجھ کو کہا گیا تھا کہ میں وہ سب کچھ کہ ڈالوں جو میرے دل می ہے اور دماغ میں چل رہا ہے. میں نے ایک گہری سانس لی اور ساری ہمت کو جوڑ کر اپنی بات کہنا شروع کری، میری پوری کوشش یہی تھی کے میرا لہجہ اور زبان کسی بھی لمحہ سخت نہ ہو. اور ماحول میں گرمی نہ آجاۓ.
 میں نے الله کا نام لے کر اپنی بات شروع کری، "محترم عدنان بھائی، اور ٹیم آشیانہ کے جانباز ساتھیوں، عزیز ترین، وزیرستانی بھائیوں، اسلام و علیکم، الله پاک مجھ کو میری بات سہی طریقے سے بیان کرنے کی اور آپ تک پہچانے کی توفیق، ہمت اور سمجھنے کی عقل عطا فرماے، آمین.
میں پچھلے ٧ برسوں سے عدنان بھائی کو جانتا ہوں، مجھ کو اچھی ترہان یاد ہے جب عدنان بھائی کا تقریبن پورا خاندان ہی زلزلے کی نظر ہو گیا تھا اور اس کے بعد عدنان بھائی کی والدہ محترمہ کی موت کے بعد عدنان بھائی نے خود کو ایک دم تبدیل کر لیا، کراچی میں رہنے والا ایک ایسا جوان جس کی زندگی، میں ہمیشہ خوشیاں، ہلا گلہ، موج مستی، وغیرہ شامل تھی ایسے مقصد کی تلاش میں لگ گیا جس کی سمجھ ابھی تک مجھ کو نہیں آرہی ہے. کیا عدنان مجھ کو تھوڑا تفصیل سے باتیں گے کہ اکھڑ یہ سب چل کیا رہا ہے، وہ بہت تعلم یافتہ انسان ہیں، ان کو ایک بہترین نوکری اور زندگی کی ساری آسائش مل سکتی ہیں، وہ اپنا گھر بسا سکتے ہیں، اور وہاں رہ کر بھی یہاں کے لوگوں کے لئے کچھ نہ کچھ تو کر ہی سکتے ہیں. اس کے علاوہ، کبھی کبھی مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کے عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے ممبرز کسی خاص مقصد کے لئے فلاحی کام کرتے ہیں، کہیں یہ اندرونی طور پر کسی خفیہ ادارے یا کسی بیرونی ادارے کے کارکن تو نہیں ہیں، کیوں فریال باجی کناڈا سے پاکستان آجاتی ہیں اور یہاں کے لوگوں کے لئے فنڈز جمع کرتی ہیں، اور ہفتوں وزیرستان کی پہاڑیوں میں گم ہو جاتی ہیں؟ کیوں عدنان بھائی، گلی گلی محلے محلے، جا کر خود بھی بھیک مانگتے پھرتے ہیں، اور باقی کارکنان سے بھی منگواتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر جب یہاں (وزیرستان) کے رہنے والے (معذرت) کے ساتھ ہم کو پاکستانی اور خود کو وزیری کہتے ہیں تو پھر ہم کو کسی غیر کی مدد کر کے کیا حاصل؟ کیوں کے اگر ہم پاکستانی ہیں تو ہم کو سب سے پہلے اپنے پاکستانی بھائی بہنوں کی مدد کرنا چاہیے، پاکستان میں بھی ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی اسی ترہان کی مدد کی ضرورت ہے. جتنی جلدی اور جتنی روانی سے میں اپنی بات کہنا چاہتا تھا کہ ڈالی اور مجھ کو صاف محسوس ہوا کے ٹیم آشیانہ کے ممبرز، اور مقامی لوگوں کے ماتھوں پر شکنی پڑھ چکی تھی. عدنان بھائی بھی کسی گہری سوچ میں تھے، اور جب انہوں نے اپنا چہرہ اپر کی جانب اٹھایا تو میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا عدنان بھائی کی آنکھیں نام ہو رہی تھی، اور چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا. میں عدنان بھائی کے قریب گیا اور ان سے اپنی باتوں کی سختی پر ندامت کا اظھار کیا اور معذرت چاہی تو انہوں نے اشارے سے مجھ کو سب ٹھیک ہے کہا اور خود کو نارمل ظاہر کرنے لگے. ٹیم آشیانہ کے چہروں پر خفگی اور مقامی لوگوں کے چہروں پر ناراضگی صاف محسوس کی جا سکتی تھی، اب مجھ کو اپنی باتوں کی گہری کا بہت اچھی ترہان احساس ہونے لگا تھا. اور ندامت کی وجہہ سے میں نے اپنا چہرہ نیچے کر لیا اور اشارے سے مزید کچھ کہنے سے انکار کردیا. 
اسی اثنا میں چائے بھی آگئی اور ہم سب چپ چاپ بیٹھ کر چائے پینے لگے، چائے پینے کے دوران عدنان بھائی نے کہا، اگر منصور بھائی اپنی بات مکمل کر چکے ہیں تو میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور اگر منصور بھائی کی بات مکمل نہیں ہے تو یہ پہلے اپنی بات مکمل کر لیں، میں نے اشارتاً کہا کا میری بات ختم ہو چکی ہے اگر آپ کی گفتگو کے دوران کسی بات کا پوچھنا مقصود ہوا تو آپ کی اجازت سے پوچ لوں گا. میں نے اپنے ساتھ اپنی عزیز ڈائری بھی رکھی ہوئی تھی جس پر میں نوٹس لیتا جا رہا تھا. 

دوستوں، یہاں بجلی کا معملات ٹھیک نہیں ہیں، کب اتی ہے اور کب جاتی ہے کچھ نہیں پتہ. اسی لئے ابھی تک کی ڈائری لکھ کر اجازت چاہتا ہوں، اور انشا الله اپنی ڈائری کا یہ صفحہ آج ہی مکمل کرنے کی کوشش کروں گا. ٹیم آشیانہ کے لئے جو سامان میں نے جمع کیا ہے ابہ اس کی پیکنگ کرنی ہے جس کے لئے میرے بھانجا بھانجی آگئے ہیں. تو مجھ کو ابھی کے لئے اجازت دیں، الله پاک آپکا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب پر سلامتی فرماے، آمین. 
جزاک الله
آپ کا بھائی، آپ کا دوست،
منصور احمد.
waziristandairy@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

    

    

Thursday, 12 April 2012

Childrens of D'tta Khel "North Waziristan"

اسلام و علیکم، کل جہاں ختم کیا تھا آج وہی سے شروع کر رہا ہوں. مگر اس سے پہلے میں اپنے دوستوں، ٹیم آشیانہ کے ممبرز اور سب پڑھنے والوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نی میری حوصلہ افزائی کری اور مجھ کو مزید لکھنے کا حوصلہ دیا. ساتھ ہی میں ٹیم آشیانہ کے لئے دعا کرتا ہوں کے الله پاک تمام ساتھیوں کو ہمت صبر اور حوصلہ اتا فرماے آمین.

مغرب کی نماز کے بعد میں نے عدنان بھائی کے سامنے اپنی بات رکھی اور ان سے کہا بھی کہ مجھ کو میرے سوالوں کے جواب چاہیے، آخر آپ کو اپنا گھر چھوڑ کر، زندگی کے آرام چھوڑ کر یہاں مل کیا رہا ہے؟ جو ایسے لوگوں کے درمیان کام کر رہے ہو جو نہ کسی کی سنتے ہیں نہ مانتے ہیں الٹا آپ لوگوں کی جانیں اور زندگیاں ہمیشہ خطروں سے گھری رہتی ہیں. جواب میں عدنان بھائی نے کہا " بھائی منصور، بہت ساری وجوہات ہیں میں آج رات انشا الله عشا کی نماز کے بعد صبح کچھ تفصیل سے بتاؤں گا، فلحال آپ کچھ دور موجود بچوں کے پاس جائیں اور ان سے باتیں کریں، ان کا ذہن کو آزمائیں، اور ان میں تعلیم کا شعور جگانے کی کوشش کریں."
ایک طرف میرا الجھا ہوا ذہن، دوسری طرف بچے اور ایک طرف ٹیم آشیانہ کے باقی ممبرز کل ایک اور لگاۓ جانے والے میڈیکل کمپ کی تیاری میں تھے، کہیں ادویات کی جانچ پڑتال ہو رہی تھی، کہیں ادویات کو الگ الگ ڈبوں میں رکھا جا رہا تھا، جو ادویات موجود تھی ان کی فہرست بنائی جا رہی تھی اور جو نہیں تھی ان کے لئے ڈیمانڈ کی فہرست. ایک اور طرف کچھ مقامی لوگ بچوں اور بڑوں کے کپڑوں کو ترتیب سے رکھ رہے تھے (مگر یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ، عطیات میں ملنے والے کپڑے اکثر ایسے تھے جو پہننے کے قبل نہیں تھے.) میں یہ سب ہوتا دیکھتے ہوے بچوں کی طرف بڑھ گیا.  
جب انسان کا ذہن کہی اور الجھا ہوا ہو تو کسی دوسرے کم میں دل کا لگنا نہ ممکن ہے، ممکن ہے میرے کھیلت کی وجہہ سے کچھ دوست مجھ کو پرو امریکن یا ماڈرن اسلام کے خیالات رکھنے والا سمجھتے ہوں مگر حقیقت میں میں ایسا نہیں ہوں، میں جو بھی دیکھتا ہوں اس کو عقل اور علم کی کسوٹی پر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، منافقت سے ہمیشہ دور رہنے کی کوشش کرتا ہوں، جبہ کوئی بات سمجھ آتی تو سیدھے سے پوچھنے پر ہی اسرار کرتا ہوں، شاید اسی لئے میرے اکثر دوست اور احباب مجھ کو پکاؤ یا پروفیسر کے نام سے مجھ کو یاد رکھتے ہیں. 
خیر، بچوں کے پاس گیا تو بچے جو کچھ کھیل کھیلنے میں مصروف تھے میری طرف متوجہ ہو گئے، میں نے سب کو بہت پیار اور خلوص سے سلام کیا جس کا جواب مجھ کو ہر بچے نے دیا اور پھر سارے بچوں سے خوش دلی کے ساتھ ہاتھ ملایا. یہی کوئی 1٠ - ١٢ بچے ہونگے جن کی عمریں، ٩-١٤ برس کی تھی. سب ہی بچے بہت پرانے کپڑوں میں تھے اور بال بھی دھول مٹی میں ہو رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا کے جیسے ہفتوں سے نہایا ہی نہ ہوں. میں نے سوچا کا تعلیم کا کیا پوچھو اور کہوں، پہلے ان بچوں کو صفائی کی تلقین کرنا ضروری ہے. ابہ دوسرا مثلا ووہی زبان کا تھا، میری پشتو نہیں تھی اور اکثر بچے اردو سے نابلد . میں نے آواز لگا کر اکرم بھائی جو کے کسی حساب کتاب میں مصروف تھے بولیا تو انہوں نے آکر میری  بات سنی اور ایک دوسرے مقامی لڑکے کو میرے ساتھ بیٹھا دیا جو میری بات کو سن کر بچوں تہ اور بچوں کی بات مجھ تک پہنچا رہا تھا. میری بچو سے گفتگو شروع ہوئی تو بچوں کے دماغ میں بھی بہت سوال تھے اور یہ بچے بہت بے باک ہو کر بات کر رہے تھے. میں بچوں کے سوالات سے پریشان ہوا کیوں کہ بہت ساری باتوں کے جواب تو میرے پاس بھی نہیں تھے. ایک بچے نے مجھ سے پوچھا، "دہشت گری کا مطلب کیا ہے؟ اور کیا ہم بھی دہشت گرد ہیں؟" میں نے اپنے انداز میں کوشش کری سمجھنے کی مگر صاف لگ رہا تھا کے بچے میری بات سمجھ نہیں رہے تھے یا مطمئن نہیں تھے، میں نے اپنے ساتھی کی مدد سے بچوں کو تعلیم اور اس کی اہمیت بتانا شروع کری تو ایک بچے نے جواب دیا، "یہاں سکول کہاں ہے؟ یہاں تو مدرسہ ہے جہاں ہم روز جاتے ہیں." اور جب میں نیں پوچھا کے مدرسوں میں کیا پڑھاتے ہیں تو جواب ملا "دین کی تعلیم". عجیب معملات ہیں، الجھن پر الجھن ہی ہوتی جا رہی ہے. کہاں سے شروع کروں اور کیا شروع کروں میں خود بہت الجھ کر رہ گیا تھا، یہاں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی دین کے بارے میں کوئی بھی بات سننے یا سمجھنے کو تیار نہیں تھے، ان کے لئے ان کے بڑوں کی باتیں، اور مولانا کا سکھایا ہوا سبق ہی دین ہے.  
میں نے کچھ باتیں اور کری، بچوں کے مسائل معلوم کرنے کی کوشش کری، بچوں کی خواہش معلوم کرنے کی کوشش کری اور وہاں سے اٹھ کر پھر سے کمپ میں آگیا. اور بچوں سے ہوئی ساری باتوں پر غور کرنا شروع کیا.
میں بہت زیادہ الجھ گیا تھا اور ابہ میرا دل کر رہا تھا کے یہاں سے چلا جاؤں، کیا فائدہ یہاں روکنے کا جہاں روک کر جن کو بھی خطرہ اور عزت کو بھی خطرہ. 
میں نے آج رات ہی ٹیم آشیانہ کے ممبرز سے بات کرنے کا فیصلہ کیا.   

Wednesday, 11 April 2012

دتہ خیل کی یادیں، بلی جیسے ڈرون اور ہم

اسلام و علیکم ،
گزشتہ سے شروع کرتے ہوۓ اپنی ڈائری لکھ رہا ہوں.

خان صاحب کے ہاں جس طریقے کی  دعوت کا انتظام کیا گیا تھا اس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے کسی جانور کو حلال کرنے سے پہلے اس کی اچھی ترہان خاطر مدارات کی جاتی ہیں وہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے، ابہ بس سہی وقت کا انتظار ہو رہا تھا کے کب گلے پر الله اکبر کا نعرہ لگا کر چھری پھیری جاۓ. پتا نہیں کیوں دل سے موت کا خوف کم ہو چکا تھا. یہ شاید یہاں کے حالات کی وجہہ سے تھا یا جانے کوئی اندر کا جانور جاگ گیا تھا. میں نے بھی خود کو حالات کے اوپر چھوڑ دیا ہے جو ہونا ہے وہ ہونا ہے، بس اب حق کا کلمہ نہیں چھوڑنا باقی جو الله پاک کی رضا وہی میری رضا.....
رات کے جانے کس پہر میری آنکہ لگ گے، سونے کا من تو نہیں تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے، یہی کچھ میرے ساتھ ہوا. 

اور ڈرون آدھمکے:
تھا جس کا انتظار وہ شہکار آگیا، مجھ کو ہمیشہ سے بلی جیسے ڈرون کو دیکھنے کا تجسس اور شوق ہی رہا ہے، یہ تو ٹیم آشیانہ کی مہربانی کے مجھ جیسے دنیا پرور انسان کو یہاں (وزیرستان - شمالی) آنے کی دعوت دے ڈالی اور آج میرا یہ شوق بھی پورا ہو ہی گیا، بس بہت دکھ اور ملال ہوا کے میرا کمیرہ میرے پاس نہیں تھا.
میں سو ہی رہا تھا کے اچانک بھاگم دوڑ کی آواز نے مجھ کو جگا دیا، ایک افراتفری ہر طرف تھی، یہاں یہ بھی یاد رہے کہ وزیرستان میں بجلی بیبی دور دور تک نہیں ہیں، یہاں زیادہ تر چراغ جلا کر ہی گزارا ہوتا ہے، گویا انسان پتھروں کے دور میں جی رہا ہو، اکرم بھی میری طرف ہے اور کہا کے اٹھو اور چلو ابھی، کچھ پوچھنے کا وقت نہیں تھا بس جس حال میں تھا اٹھ گیا. پھر کے ایک طرف سب جا رہے تھے،    میں بھی اکرم بھی کے پیچھے پیچھے ہی چل پر، قریب ٢ منٹ کے بعد ایک سیٹی جیسی آواز آی می سمجھا کے کوئی بچا یا انسان بجا رہا ہے مگر یہ تو آسمانی مخلوق تھی، نظر تھوڑا اوپر کری تو پتا لگا کے یہی تو ہیں میرے خوابوں کے اڑان کھٹولے، جن کو میں بلی جیسے ڈرون کے نام سے یاد کرتا ہوں، مگر بس ایک جھلک ہی دیکھ سکا، پھر پتا نہیں کہاں غایب ہو گے، ہم کو ایک کھولی نما غار میں لے جایا گیا، اور حکم ملا کہ جب تک کہا نہ جاۓ یہاں سے نکلنا نہیں ہے. ہم بھی بہت اچھے بچوں کی ترہان یہاں چپ چاپ بیٹھ گئے، غار کیا تھی بس ١٠-١٢ کا کھولی تھی، جہاں مجھ جیسے ٢٥ - ٣٠ کے قریب لوگوں کو ٹھونس دیا گیا تھا، میں کھسک کر اکرم بھی کے قریب ہونے کی کوشش کرتا رہا اور جب تھوڑا فاصلہ رہ گیا تو ان سے کہا، "اکرم بھی جن، یہ میڈیکل کمپ تو بہت بھاری پڑھ گیا،" انہوں نے مسکرا کر جواب دیا بھی "آپ کے لئے یہ سب نیا ہے ہم کو اب عادت ہو گے ہے، آپ اطمینان رکھو الله پاک سب بہتر کرے گا. انشا الله. ساتھ یہ بھی کہا کہ ڈرون کبھی بھی اتے ہی حملہ نہیں کرتے بلکے پہلے یہ یہاں کا چکر لگاتے ہیں اپنے بڑے باس کو یہاں کہ حالات بتاتے ہیں پھر جب ان کو حکم ملتا ہے تو آگ کی بارش کر کے بہت اطمینان سے واپس چلے جاتے ہیں." میں نے دل ہی دل میں سوچا، "وہ جی کیا بات ہے، پہلے آو، حالات دیکھو پھر حملہ کرو." کوئی بری بات نہیں." 

ایک گھنٹہ ایسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد میری ٹانگین سن ہونا شروع ہو گے تھی اور میری ٹوٹی تنگ میں شدید درد اب یا تو مجھ کو کھڑا ہونا تھا یا پھر اپنی ٹانگوں کو لمبا کرنا تھا جو ممکن نظر نہیں آرہا تھا، میں نے ہمت کر کے کھرے ہونے کا فیصلہ کیا اور سیر ایک طرف جھکا کر کھڑا بھی ہو گیا، تو میری اس حرکت پر سب ہی پریشن ہوۓ مگر اکرم بھی نے پشتو میں ان سے کچھ کہا تو مجھ کو آرام سے کھڑا ہونے کی جگا مل ہی گے، جیسے ہی کھڑا ہوا ایک اور سیٹی آی اس کی بعد ٢، ٣، ٤ آتی گے، میں دل ہی دل میں آیتلکرسی کا ورد کر رہا تھا، اور الله پاک سے دعا   بھی کہ  "مجھ کو جلا کر نہ مارنا اور نہ ہی میرا نام برے لوگوں میں کرنا، میں تو ایک نیک مقصد کے لئے یہاں آیا ہوں میری مدد کرنا." آدھا گھنٹہ کے بعد شاید ڈرون کے مالکان کو علم ہوا ہو کہ یہاں کوئی ایسی ویسی بات نہیں اور وہ ڈرون چپ چاپ بغیر آگ برساۓ واپس چلے گے، صبح کے ٤ بج رہے ہوں ہونگے. جب ہم کو حکم ملا کے ہم باہر آکر وضو کر سکتے ہیں، ہم نے وضو کیا نماز ادا کری اور دل کے ساتھ الله پاک کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہماری حفاظت کری. 
                         "اور بے شک، الله ہی بہتر حفاظت کرنے والا ہے." 
نیند تو بہت پہلے ہی کہی جا چکی تھی، صبح بھی ہو ہی چکی تھی ابہ آرام کا کوئی خیال نہیں تھا، بس ایک خیال اور فکر تھی کے سورج کے نکلتے ہی ہم یہاں سے روانہ ہوں اور دتہ خیل میں اپنی ٹیم سے جا ملیں. 
صبح ہوتے ہی ہم کو پر تکلف کھانا ناشتہ دیا گیا، خان صاحب کی مہربانی کی کوئی خاص وجہہ سمجھ نہیں آرہی تھی، اور سچی بات ہے کے مجھ کو تو کوئی بڑی گڑ بڑ محسوس ہو رہی تھی. خیر، خان صاحب نے ایک دفع پھر اپنے حجرہ نما کمرے میں ہم سب کو بولایا اور بہت اچھی اردو میں ہماری مہمان نوازی کا ذکر کیا اور کسی بھی قسم کی غلطی اور رات (ڈرون) والی بات پر ہوئی بے آرامی پر معزرت کری اور ہم کو رخصت کی اجازت دی. میں نے خاص کر ان کا شکریہ ادا کیا اور دل ہی دل میں بہت خوش تھا کا جن بچی تو لاکھوں پاۓ.
ہمارے ساتھ ادویات بھی تھی تو نکلتے نکلتے اکرم بھی نے خان صاحب سے پوچھا " محترم اگر ا کو ادویات کی ضرورت ہو یا آپ اپنے علاقے میں میڈیکل کمپ لگوانا چاہتے ہوں تو ہم کو ضرور یاد کریے گا،" جواب میں خان صاحب نے تیز آواز میں اور پشتو میں کچھ کہا جو میری سمجھ نہیں آیا. اور اکرم بھی نے سلام کر کے اجازت لی اور ہم ایک دفع پھر اپنے کندھوں پر بیگ ٹانگ کر اپنی منزل کی طرف چل پڑے. 
راستے میں میں نے اکرم بھی سے پوچھا کہ اکھڑ خان صاحب نے کیا جواب دیا تھا تو انہوں نے کہا ." خان صاحب نے فرمایا، ہم کو زکات، خیرات، بھیک اور فرنگیوں کی دی ہوئی امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اپ لوگ جو کر رہے ہو خاموشی سے کرتے رہو، یہی بہت ہے کے آپ لوگوں کو یہاں روکنے کی اجازت دی گی." 
میں نے سوچا یہ بھی کھلم کھلا دھمکی  یا تنبیہ ہی ہے. کا ہم (ٹیم آشیانہ) اپنی حدوں سے باہر نہ نکلے. ہمارا سفر بہت مشکل رہا، سارا راستہ پیدل اور کچے راستوں پر تھا، جگہ جگہ ہی کو میری وجہہ سے رکنا پڑ رہا تھا، کیوں کے میری ٹوٹی ٹانگ میں بہت جلدی درد ہونے لگتا تھا. 
راستے میں ہی ایک جگہ روک کر ہم سب نے ظہر کی نماز ادا کری اور تھوڑا کھایا. اس جگہ سے دتہ خیل صرف ٣٠-٣٥ منٹ کی دوری پر تھا مگر راستہ ٹھیک نہیں تھا جس کی وجہہ سے ہم کو شام ہی ہو جانی تھی. ایک جگہ کچھ لوگ ہم کو روک کر کھڑے ہو گے، اکرم بھی نے ایک دفع پھر اپنی پشتو زبان میں کچھ کہا تو ان لوگوں نے کچھ ادویات کا مطالبہ کیا اور ہم نے بغیر کسی حیل حجت کے ان کو ادویات فراہم کر دی. ایسے ہمارا بھی کچھ بوجھ کم ہوا اور اطمینان بھی کے ہماری ادویات کچھ اور لوگوں کے کام آسکتی ہیں. 
عصر کی نماز کے وقت ہم دتہ خیل میں اپنے کمپ تک پہنچے، بہت زیادہ تھکے ہوۓ تھے، عدنان بھی اور باقی کارکن ہمارے لئے بہت پریشاں تھے، اکرم بھی نے جتنا جلدی ہو سکتا تھا ہمارے ساتھ پیش آے واقعات ان کو بتاۓ، ہم نے ایک بار پھر وضو کیا اور میں نے نے نماز کے بعد چاۓ کا مطالبہ کیا جو فورن پورا کر دیا گیا. کچھ دوا کھائی، ایک درد کا انجکشن لگایا اور لیٹ گیا. پتا نہیں کب کی کب میں آنکہ لگ گی.
 ١٠ -١٥ منٹ سویا ہونگا کی مغرب کی نماز کے وقت مجھ کو اٹھا دیا گیا، نماز ادا کری کھانا کھایا اور سب کے ساتھ بیٹھ گیا، آج مجھ کو میرے ہر سوال کا جواب حاصل کرنا تھا،
 "عدنان بھی ان علاقوں میں پچھلے ٢- سالوں سے فلاحی کام کر رہے ہیں، مگر اس کی وجھہ کیا ہے. کیوں وہ یہاں پڑے ہوۓ ہیں، جہاں نہ زبان اپنی ہے نہ گھر اپنا، نہ ہی لوگ اپنے، یہاں رہنے والے ہم کو پاکستانی کہتے ہیں، اور ہم ان کو پاکستانی سمجھتے ہیں، یہاں کے لوگ ہم کو کام عقل مسلمان سمجھتے ہیں اور ہم یہاں کے لوگوں کو کٹر شدت پسند مسلمان، یہاں کے لوگ امریکا کو ہمارا دوست اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں. اور ہم امریکا کو ایک زمینی حقیقت مانتے ہوۓ اس سے روابط رکھتے ہیں. یہاں کے لوگ بلی جیسے ڈرون کو پاکستان اور امریکا کی دی ہوئی دین سمجھتے ہیں اور کم از کم میں اس کو جارحیت، مجھ کو ان سارے سوالات کے ضوابط آج ہی معلوم کرنے تھے بھلے اس کے بعد عدنان بھائی مجھ کو یہاں سے جانے کا حکم ہی دے ڈالیں."




Monday, 9 April 2012

وزیرستان ڈائری: دتہ خیل میں میڈیکل کمپ

اسلام وعلیکم
ایک بار پھر دیر ہونے  پر معافی، ایک تو یہاں بجلی کے بہت مسائل ہیں پھر کچھ ذاتی ذمہ داریاں، پھر انٹرنیٹ کا موجود ہونا. یہ سب ایسے مسلے ہیں جن کی وجہہ سے ہمیشہ دیر ہو جاتی ہے. میں مزید وقت لئے بغیر اپنی ڈائری وہی سے شروع کرتا ہوں جہاں ختم کری تھی. 
"نماز عشا کے بعد میں نے سوچا تھا کے یہ حضرت یہاں رک کے میری پوری بات سنیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ان حضرت نے ہم سے اجازت مانگی اور مجھ کو کہا کہ ہم پھر آیئں گے اور آپ سے بات کریں گے اور اسلام و علیکم کہ کر چلے گئے. 
میری رات بہت مشکل تھی، میں نے جو کچھ ان حضرات سے کہا تھا وہ کچھ ایسا تھا جو یہاں کے طالبان ٹائپ لوگوں کے لئے ٹھیک نہیں تھا. یہاں بس ایک ہی بات سنی جاتی ہے جو جہاد ہے، مگر جہاد کے مطلب شاید ہی کسی کو پتہ ہوں. اور جن کو علم ہے وہ کمزور لوگ ہیں جو ظلم، زبردستی کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے کیوں کہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کے خاندان اور گھر بار سب برباد کر دے جا سکتے ہیں. یہاں میں ایک دفع پھر پاکستان کی افواج اور سلامتی کے اداروں کو خراج تحسین پیش کروں گا کے یہاں جو کچھ بھی یہ لوگ کر رہے ہیں وہ کوئی معمولی کام نہیں     ہے، الله پاک ان جوانوں کو ہمت حوصلہ صبر اور استقامت عطا فرماے - آمین.

در بدر:
اگلی صبح، نامز فجر ادا کری، ساری رات نیند بھی نہی ہے تھی، سر بھی درد کر رہا تھا اور دماغ بھی بہت بوجھل تھا عدنان بھائی نے میری dشکل یخ کر کچھ اندازہ لگایا  ہوگا تومجھ کو اپنے پاس بلا کر کہا "منصور اتنا نہ سوچو، یہ لوگ جتنے خطرناک لگتے ہیں اتنے ہیں نہیں. یہ لوگ بھی اب سوچنے  لگے ہیں کہ کیا سہی ہے اور کیا غلط مگر اپنے مستقبل کو لے کر تھوڑا پریشان اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں. اور تم کو جو بہتر لگتا ہے bکرو، بس جذباتی ہونے سے گریز کرو اور خود کو سادگی سے بیان کرو. الله پاک مدد کرنے والا ہے."

میں ٹیم آشیانہ کی میڈیکل ٹیم کے ساتھ دتہ خیل سے تھوڑا آگے کی جانب روانہ ہوا. یہاں ہم کو بچوں کو ادویات دینا تھی. میرا تھوڑا بہت تجربہ رہا ہے ادویات سے متعلق اپنے اسی تجربے کا آج امتحان لینا تھا.
                             "اور الله پاک بہتر مدد کرنے والا کارساز ہے."
جیسے ہی ہم نیں اپنا کمپ لگایا، کچھ عجب حلیے والے لوگ ہم سے ملنے ہے اور سب سی پہلے اکرم بھائی سے ان کی شناخت پوچھی. پھر مجھ سے میری اور ٹیم کے باقی لوگوں سے بھی معلومات کری، پہلے میں سمجھا کے یہ لوگ پاکستان کے کسی ادارے کے جوان ہیں مگر ان سب کے حلیے سے ایسا کچھ نہیں لگ رہا تھا.    
وہ لوگ پشتو زبان میں بات کر رہے تھے جو میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی مگر ان کا انداز جارحانہ تھا جو  مجھ کوبالکل اچھا نہ لگا، ایک تو ہم اپنی جان جوکھم میں  ڈال کر  یہاں آے ہیں اور اپر سے ان لوگوں کا انداز، میں نے دل ہی دل میں سوچا مگر کہا کچھ نہیں. پھر اکرم بھائی نے ہم سب کو بتایا کہ یہ لوگ اس علاقے کے رکھوالے ہیں ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر یہاں کوئی کچھ نہیں کر سکتا. میں نے پوچھا اب کیا کرنا ہوگا؟ جواب ملا کہ بڑے خان سے اجازت لینی ہوگی.

عجب ماحول ہے، عجب حالات ہیں، خود کچھ کرتے نہیں، کوئی کچھ کرنا چاہتا ہے تو کرنے نہیں دیتے، میرا دل عجیب محسوس کررہا تھا، دل چاہ رہا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے واپس چلا جاؤں مگر اب یہ بھی میرے اختیار میں نہیں. آیا اپنی مرضی سے ہوں مگر جانا یہاں کے لوگوں کی مرضی سے ہوگا. خدا خدا کر کے بڑے خان کا کوئی آدمی آیا اور ہم کو چار گھنٹے کے لئے میڈیکل کمپ لگانے کی اجازت ملی وہ بھی خان کے آدمی ہمارے سروں پر تلوار بن کر کھڑے رہے گیں. 
ہمارے ساتھ کوئی خاتون نہیں تھی اس لئے ہم کو کسی بھی خاتون کا علاج کرنے یا دوا دینے کی کی اجازت نہیں تھی. ویسے بھی خان کے ہوتے ہووے یہاں کونسی خاتوں نے آجانا تھا. ہم بچوں سے ہی شروع ہووے، اکثر بچے ٣ سے ١٤ برس کے تھے، بہت پیارے، بہت سمجھدار، مگر کوئی بچی میرا مطلب ہے لڑکی نہیں آی یہ بھی خان انکل کی مہربانی کی وجہہ سے ہی ہوا. وزیرستانی ویسے تو بہت جفاکش، نڈر اور جانباز مشہور ہیں مگر نجانے کیوں ان خان ٹائپ کے لوگوں سے خوف زدہ  ہیں. خیر، چھوٹے بچوں کے ساتھ ان کے والد یا کوئی نہ کوئی رشتے دار تھا. اکثر بچوں کے ساتھ ان کے دادا یا نانا تھے، میں نے پوچھا تو پتا چلا کے اکثر کے والد علاقے میں موجود نہیں، یا پھر اس جہاد نما جنگ کے شکار ہو چکے ہیں بچوں کے دادا اپنے بیٹوں کی شدت پر بہت خوش اور مطمئن دکھے یہ ایک اور عجیب بات تھی جو مجھ کو سمجھ نہیں آرہی ہے. ایک بچے کے دادا، غلبان اکبر نام ہے ان کا، نے مجھ کو ادھر ادھر دیکھ کر پشتو میں کچھ کہا جو مجھ کو سمجھ نہیں آیا تو میں نے اکرم بھائی کو بولوا کر ان ان کی بات  سمجھنے کوکہا، اور جب بات سمجھ آی تو پتا لگا کے وہ اپنی بیٹی کے بخار کے لئے دوا مانگ رہے ہیں. میں نے اپنے ساتھ موجود ڈاکٹر شہریار سے کیفیت بتا کر دوا مانگی تو وہ مسکرا دے اور کہا iکی بھا میرے پاس ہی لوگ اسی ترہان سے دوا مانگ رہے ہیں. چلیں شکر ہے کے گھروں میں قید خواتین کو کسی نہ کسی طریقے سے دوا تو ملے. مگر بخار تو بہت سے ہوتے ہیں اور حالت یہ ہے کے خود باپ کو نہیں پتہ کی بیٹی کو کیسا بخار ہے شاید یہاں باپ بھی بیٹی کے لئے نامحرم ہوتا ہوگا. اے خدا، یہ کس راستے پر چل پڑی ہے تیری مخلوق؟
کچھ ہی دیر میں ہم قربان ٤٠ - ٥٠ بچوں سے فارغ ہو چکے تھے، اب کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا، مجھ کو پورا یقین تھا کے اب کوئی اور نہیں آنے والا تو میں نے اکرم بھائی سے کہا کے چلو واپس چلتے ہیں تو انہوں نے کچھ سوچ کے جواب دیا "بھائی ہم خان صاحب کی مرضی کےبغیرجا بھی نہیں سکتے." میرے تو تن بدن میں آگ لگ گی، کہ یہ کونسا طریقہ ہے کیا یہ بھی کراچی کے نو گو ایریا کے جیسا ہے کے آ تو گے ہو جانا مشکل ہے. توبہ ہے یار، میں نے اکرم بھائی سے کہا ایسا لگ رہا ہے کے ہم پاکستان میں نہیں کہیں اور ہی ہیں. اب صرف انتظار کرنے کے اور کچھ نہیں رہ گیا تھا اگر میں جذباتی ہوتا تو خود میرے لئے اور باقی ٹیم ممبرز کے لئے کوئی نہ کوئی پریشانی کھڑی ہو سکتی تھی. جب خان کے آدمیوں کو اندازہ ہوا کے ہم بلکل فارغ ہیں تو ہم کو کہا گیا کے اپنا سامان لپٹیں اور ان کے ساتھ چلے. کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے صرف ان کی بات ہی مانی جا سکتی تھی، ٹیم کے باقی ممبرز شاید ان سب باتوں کے عادی ہو چکے تھے میرے لئے یہ سب بلکل نیا تھا اسی لئے گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی. مجھ کو خوف زدہ کرنے کے لئے یہ لمبی لمبی ڈاری والے، بڑی پگڑی والے کیا کم تھے جو ابھ ان کے سردار مطلب خان صاحب سے بھی ملنا ہوگا جو نجانے کیا کیا سوال جواب کریں گے. ایک تو یہ پہاڑیاں، اپر سے ہر طرف سناٹا، سروں پر ڈرون کا خوف، زمیں پر طالبان کا خوف، یا الله یہ کیسا ملک ہے جہاں میں آزادی کے ساتھ کوئی فلاحی کام بھی نہیں کر سکتا؟ اس خوف سے تو موت ہی بھلی. پیدل چل چل کر میرا حشر نشر ہو چکا تھا، میری اک ٹانگ hپہلے  ہی معذوری سے دوچار ہے لگتا ہے یہاں پورا ہی لنگڑا ہو کر واپس جاؤں گا، اور کچھ پتہ نہیں کے جاؤں گا بھی کے نہیں. خدا خدا کر کے بڑے خان کا حجرہ نما گھر آیا، ہماری جامہ تلاشی لی گئی، شکر خدا کا کہ میرے پاس کیمرہ نہیں تھا جو میں بہت چھپا کر اپنے ساتھ یہاں تک لانے میں کامیاب ہو چکا تھا مگر عدنان بھائی نے استعمال سے سختی سے منع کر دیا تھا. ہمارا ایسا استقبال کیا گیا کے جیسے ہم کسی اور دنیا کی مخلوق ہوں، خاص کر میرے ساتھ تو الگ ہی رویہ تھا شاید میری ڈاری نہ ہونے کی وجہہ سے. ہم کو ایک کھنڈر نما کمرے میں بٹھایا گیا، جہاں سب سے پہلے پینے کے لئے پانی دیا گیا aاس dکی با وضو کا پانی اور نماز، ابھ بھوک بھی لگ پڑی تھی تو بغیر کہے کھانے کا بھی انتظام ہو چکا تھا. مگر میری ساری توجہ بڑے خان کی آمد پر تھی کے کب وہ رونق افروز ہوں اور مجھ کو ان کا دیدار نصیب ہو، میرے دماغ می بہت سوالات تھے اور مجھ کو خان صاحب سے کچھ نہ کچھ تو پوچھنا ہی تھا. اب یہاں تک آگیا ہوں تو اپنے دل کی تسلی کر کے ہی واپس جاؤں گا انجام چاہے کچھ بھی ہو. جیسے ہی کھانا لگا اک جانا  پہچانا چہرہ کمرے میں داخل ہوا میں نے تھوڑا غور سے  دیکھا تواندازہ ہوا کے ان صاحب سے ہم گزری ر ہی  ملاقات کرچکے ہیں. وہ بھی چپ چاپ کھانے میں شریک ہو گے، تھوڑا ہی دیر میں سب اچانک کھڑے ہونا شروع، میں سمجھا کے شاید یہاں کا رواج ہے کہ ایک  شخص نے کھانا ختم کر لیا تو پورا دستر خوان ہی اٹھ جاۓ، میں بھی سب کے دیکھا دیکھی کھڑا ہو گیا اور حسرت بھری نگاہوں سے دستر خوان کو دیکھنے لگا کیوں کہ  ابھی تک میرا پیٹ نہیں aبھرا تھ اور آج بہت دنوں کے بعد دستر خوان پر بہت لذیز اور عمدہ قسم کے کھانے تھے. میری شکل دیکھ کر اکرم بھائی نے کچھ اشارہ کیا جو میری سمجھ نہیں آیا. اس عجیب رواج پر بھی مجھ کو غصّہ آرہا تھا. مگر اگلے ہی لمحے ایک 35-٤٠ برس کا آدمی کمرے میں داخل ہوا، کوئی شک نہیں کے اس کی پوشاک بہت عمدہ تھی، اس نے سب کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور سب اچانک ہی ایک دفع پھر دستر خوان پر بیٹھ گے میں بھی بیٹھ گیا اور سب سے پہلے کھانے پر ہی ہاتھ صاف کرنے لگا. تھوڑا دیر میں ایک صدا آی، الحمد الاللہ. اور دسترخوان سمیٹا جانے لگا مگر میں الله کے فضل اور کرم سے اپنا پیٹ بہت اچھے سے بھر چکا تھا. ابھ اٹھاتے رہو دستر خوان. ایک بڑی بالٹی لیے گے جس میں پانی بھرا تھا اور ایک تھال نما چیز صبح بالٹی سے پانی نکلتے اور تھال میں ہاتھ دھوتے. سب کے دیکھا دیکھی میں نے بھی ایسا ہی کیا. اب کچھ کچھ سمجھ آنے لگا کہ یہ آنے والا کون ہے. کیوں کے سب ہی ان کا پاس جا رہے تھے اور مصاحفہ کر کے ایک طرف نیچے ہی بیٹھ رہے تھے ایک صرف خان ہی تھے جو اونچی جگہ پر تھے باقی ہم سب ہی نیچے.  دربار سج چکا تھا، عوام اور خواص بھی موجود تھے، ہم جیسے مسافر بھی ابھ دیکھنا یہ تھا کہ بادشاہ سرکار کی اعلان کرتی ہے. اکرم بھائی نے ہم سب کا تعارف کرایا، جب میرا نمبر لگا تو ایک انجانا خوف تھا کیوں کہ گزری رات والے صاحب اور میری باتیں سب ہی ان کو پتہ ہونگی. انہوں نے اشارے سے مجھ کو اپنی طرف بولایا، میں اٹھ کے جانے لگا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے مقتل میں جا رہا ہوں. میرے کندھے جھکے ہووے اور آنکھوں میں خوف تھا. کیوں کے میرے کھڑے ہوتے ہی خان کے محافظ ایک دم چوکننا ہو چکے تھے اور ان کے ایک دم جدید ہتھیار کسی بھی قسم کی غلط حرکت کا جواب دینے کے لئے ایک دم تیار. میں جیسے ہی خان صاحب کے تھوڑا قریب ہوا تو وہ اچانک کھڑے ہووے مجھ سے ہاتھ ملایا اور مجھ کو سینے سے لگا کر کہا، کیسے ہو منصور بھائی؟ ان کی اتنی صاف اردو سن کر حکا بکا تھا، کے اگلا جملہ انگریزی میں داغ دیا، How are you feeling in my area? یا الله پاک، یہ کیا ماجرا ہے، یہ کیسا خان ہے جو پشتو تو جانتا ہی ہے مگر اردو اور انگریزی بھی بہت اچھی ترہان جانتا ہے؟ میں نے ایک lزبردستی وی مسکراہٹ کہ ساتھ ان کی باتوں کا جواب اردو میں ہی دیا کہ باقی سارے لوگ بھی گواہ راہیں کہ میں کوئی بعد کلامی نہیں کر رہا، ان خانوں کا کیا پتہ کا کب پٹری سے اتر جائیں او کسی بھی بات کا فائدہ اٹھا کر مجھ کو کسی مشکل سے دو چار کر ڈالیں.
مجھ کو اپنے پاس بٹھایا مجھ سے کراچی کے حالت پوچھے، میری طبیت پوچھ گئی اور میرے یہاں آنے کا سبب پوچھا گیا. انہوں نے فرمایا، "بھی آپ کو اس ترہان در بدر کی ٹھوکریں کھا کر آخر مل کیا رہا ہے؟" شاید وہ سمجھ رہے ہو کے میں کسی پاکستانی  ادارے کا کارندہ ہوں جو یہاں جاسوسی کے مطلب سے آیا ہے، مگر  جلد ہی ماحول کافی دوستانہ ہوگا اور مغرب کی نماز کا وقت ہوتے ہی نماز کی تیاری شروع کر دی گے، اب یہ بات یقینی تھی کہ آج رات ہم کو خان صاحب کے اسی حجرے نما گھر میں رکنا ہوگا. کافی دیر سے مجھ کو اکرم بھائی سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا اسی لئے نماز کہ بعد ہی میں نے ان سے اپنے سارے شکوک کہ اظھار کر دیا. وہ بھی کچھ پریشان تھے مگر مجھ کو اچھی ترہان تسلی دی کے ہم جیسا سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہوگا،انشا الله.
مغرب کی نماز کہ بعد ہی خان صاحب ایک دفع پھر ہمارے درمیان تھے ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کے وہ بہت جلدی میں ہمارے بڑے میں سب کچھ جان لینا iچاہتے ہن، ہر بات کہ سوال اور میرے ہر جواب میں سے پھر ایک نیا سوال. کافی دیر ہونے کے بعد انہوں نے ہم کو اجازت دی کے اگر آرام کرنا چاہتے ہیں تو کریں نہیں تو نماز عشاء کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور بیٹھتے ہیں. میں نے تو لیٹنے کو ہی ترجیح دی، آج سارا دیں آرام کہاں ملا اور دماغ تو بہت بری ترہان الجھا ہوا ہی تھا.  
سہی کہا تھا خان صاحب نے کے میرے اس ترہان در بدر پھرنے سے آخر حاصل کیا ہو رہا ہے، یہ سوال کہ جواب اب مجھکو بھی معلوم کرنا ہے.  


دوستوں یہاں تک کہ حال تو لکھ ڈالاہے. آگے بھی انشا الله ضرور لکھوں گا. آپ لوگ  میری ڈائری کو ایک کہانی نہیں حقیقت سمجھ کر ہی پڑھیں، کیوں کہ وزیرستان جیسے علاقے میں خود وہاں کے لوگوں کے لئے جو خطرات ہیں اس سے کہی زیادہ ہم جیسے سوشل ورکر کے لئے بھی بہت مشکلات ہیں. ALLAH پاک ہم سب کو ہمت حوصلہ اور صبر عطا کرے، آمین.
اپنی آرہ سے آگاہ کرنے کے لئے مجھ کو لکھے :
waziristandairy@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
جزاک الله خیر
آپ کہ بھائی.
          

Thursday, 5 April 2012

وزیرستان (شمالی) دتہ خیل کی یادیں. Wazisitstan Dairy!

عزیز ساتھیوں اسلام و علیکم،
دتہ خیل تک آنا میرے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا. یہاں کا ماحول، یہاں کے لوگ، یہاں کے دن اور رات، سب کے سب میرے لئے حیران کر دینے والے تھے، دتہ خیل  کے رہنے والے لوگ ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے کسی انجانے خوف کا شکار ہیں. 
اگلی صبح، فجر کی نماز کے بعد تک میں خود کو کافی حد تک سنمبھال چکا تھا. سب سے بڑا مسلہ موبائل فون کی سروس کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہہ سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے میں زمین پر نہیں کسی اور دنیا میں موجود ہوں. اس کے بعد یہاں کے لوگوں کی زبان پشتو جو ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی، اردو بولنے یا سمجھنے والے بہت ہی کم لوگ ہیں، عدنان بھی نے یہاں بھی ایک صاحب کی خدمات میرے حوالے کری جو میری بات کو پشتو میں ترجمہ کر کے دوسرے لوگوں کو سمجھاتے اور مجھ کو لوگوں کی بات سمجھاتے، ابتدا میں تھوڑی مشکلات ہوئی مگر بعد منی آسانی ہونے لگی، یہاں میرا کام ساتھ لایی گئی امداد کو بچوں میں تقسیم کرنا اور بچوں کو جب تک یہاں ہوں تعلیم کی روشنی سے آگاہی دینا تھا. 
بچے ہمیشہ میری مجبوری رہے ہیں، بچو سے پیار ہر کسی کو ہوتا ہے. مگر کیوں کہ میرا پیشہ ٹیچنگ رہا ہے اسی لئے بچوں کے مزاج کو سمجھنا اور تعلیم دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے. 

تعلیم آخری حل: 
جہاں تک میرے تجربہ ہے چاہے وزیرستان ہو یا افغانستان، (یاد رہے میں ابھی تک افغانستان نہیں گیا ہوں) یا دنیا کا کوئی اور علاقہ، صرف اور صرف تعلیم ہی ایک واحد حل ہے جس کے ذرے لوگوں کے سوچنے کا طریقہ اور زندگی کا معیار تبدیل کیا جا سکتا ہے. گولی، لاٹھی، ڈرون، عسکری قوت سے حملہ کرنا، یا پھر خفیہ ایجینسیوں کی کارستانیاں، یہ سب کسی کام کی نہیں رہتی، ان سب سے وقتی طور پر تو کچھ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے مگر اس سے عوامی جذبات میں شدید غصہ شامل ہو جاتا ہے جو کی کسی بھی معاشرے کے تباہی کا سبب بن سکتا ہے. اور میری معلومات اور تجربے کے مطابق یہاں وزیرستان (شمالی) میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے. یقیناً ہمارے ملک کے عسکری ادارے بہت مضبوط ہیں اور ہمارے جوان بہت بہادری اور بیخوفی کے ساتھ شدت پسندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، جس کا سہی اندازہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں بیٹھ کر کرنا بہت مشکل ہے یہ تو یہاں اکر ہی پتا چلا کے ہمارے جوان کسی کسی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں. بہرحال یہ باتیں تو عسکری لوگ ہی جانتے ہیں کے کب کس کے خلاف کسی کاروائی کرنا ہے. میں صرف اتنا لکھنا چاہتا ہوں کہ، کچھ لوگوں کی گلتی کی سزا پوری قوم اور نسل کو دینا کہی کا انصاف نہیں. یہاں دتہ خیل میں بھی کچھ اس ہی محسوس ہو رہا ہے، یہاں کوئی پلاننگ ہی نہیں، بس لوگ صبح اٹھتے ہیں، کسی نہ کسی کیمپ کے سامنے جا کر بیٹھ جاتے ہیں جہاں ان کو کھانے کے لئے کچھ مل جاتا ہے، وہ خود کھاتے ہیں اور اپنے بچوں کے لئے لڑ جھگڑ کے بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسی بھاگم بھگ میں شام ہو جاتی ہے. کوئی یہاں بیٹھا ہوتا ہے کوئی وہاں بیٹھا ہوتا ہے. ایسے میں جب کسی کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا تو بچے، خواتین ، اور مرد جہادی تنظیموں میں شامل ہے ہونگے اور انجانے میں اسلام اور پاکستان کے خلاف کاروائی بھی کرے گے.
میں نے اپنے ان خیالات کا اظہار عدنان بھی اور کچھ مقامی لوگوں سے بھی کیا تو ان سب کا کہنا یہی تھا کہ، "منصور بھی، یہاں کوئی کام دھندھا نہیں ہے، ہم لوگ اگر یہاں سے پاکستان میں کہی بھی جاتے ہیں تو لوگ ہم کو بغیر کسی تصدیق کے دہشت گرد کہتے ہیں، کوئی ہم کو کام نہیں دیتا، کوئی ہم سے پوچھتا نہیں کے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں. الٹا پولیس اور دوسرے ادارے ہم لوگوں کو تنگ کرتے ہیں، ایسے میں ہم کیا کریں؟" یہ وہ سوال ہے جس کا مجھ کو جواب ڈھونڈھنا ہے، مگر میں تو صرف ایک فرد ہوں، یہ سوال تو پوری قوم کے لئے ہے. یہ سوال ہمارے اداروں کے لئے ہے، یہ سوال ہماری حکومت کے لئے ہے، کہ، "کیا وزیرستان (شمالی یا جنوبی) میں رہنے والا ہر انسان شدت پسند ہے، پاکستان اور اسلام مخالف ہے؟" میرے خیال میں ایسا بلکل نہیں ہے، کل تک میں بہت ڈرا ہوا سہما ہوا تھا. ہر آہٹ پر ڈر رہا تھا، انجانا خوف تھا، مگر صرف ٢ دن میں ہی یہاں کے لوگوں کی محبت، اور پیار اور اخلاص نے میرا سارا ڈر اور خوف دور کر ڈالا. میں بھی، لکھ کیا رہا تھا اور لکھ کیا ڈالا. 
میں صرف یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ یہاں کے لوگوں کے ایک نسل تو ہم اسس نہ سمجھ میں آنے والی جنگ میں برباد کر چکے ہیں مگر، ابہ جو نسل بری ہو رہی ہیں، جوان ہو رہی ہے، ہم کو اس کا سوچنا ہے، ان بچوں کے پاس بھی کرنے کی لئے کچھ نہیں، یہ بچے بہت سوال رکھتے ہیں، اور ہم سب کو مل کر ہی ان بچوں کے روشن مستقبل کے لئے کام کرنا ہوگا. ٹیم آشیانہ کے مہربانی سے یہاں اکر بہت کچھ سمجھنے کو ملا، میں خود وزیرستان کو کو دہشت گردی کا ادارہ ہی سمجھتا تھا، مگر ایسا نہیں ہے، جب انسان کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا تو کوئی بھی ان کو ورغلا سکتا ہے اور وطن دشمن بنا سکتا ہے. یہاں میری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے بھی ہوئی جو ہم کو پاکستانی اور خود کو وزیر کہلانا پسند کرتے ہیں. 

ہم پاکستان کے لوگوں کے اور پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں: 
آج شام ہی مغرب کی نماز کے بعد کچھ لوگ ٹیم آشیانہ سے ملنے آے، میں کھانا کھا کر فارغ ہوا ہی تھا کہ عدنان بھائی نہ بلوا لیا، میں جب ان کی طرف گیا تو ان میں سے ایک صاحب کھرے ہووے، سر پر بڑی سی کالے رنگ کی پگڑی، لمبے لمبے شلوار قمیض، سفید داڑھی، اور حلیہ سے ایک دم طالبان ٹائپ لگ رہے تھی، میں تھوڑا سا چونکا مگرخود کو سنمبھال کر اسی خلوص سے سلام اور مصاحفہ کیا جس ترہان انہوں نے مجھ سے کیا، میری طرف اشارہ کر کہ انہوں نے پشتو میں کچھ کہا جو میری سمجھ سے باہر تھا بعد میں ٹیم آشیانہ کہ ایک مقامی ساتھ نے بتایا کہ وہ میری ہمت اور بہادری کا کہ رہے تھے کہ میں خطروں کی سر زمین پر آیا ہوں. خیر، ان صاحب کو تھوڑا اردو بھی اتی تھی، انہوں نے جو کہا اس کی کچھ باتیں حذف کر کہ کچھ ہی باتیں یہاں لکھ رہا ہوں، 
"منصور بھائی، الله کے فضل اور کرم سے ہم سب مسلمان ہیں، اور آپس میں بھی بھائی بھائی ہیں، اور ایک مسلمان کا خوں دوسرے مسلمان پر حرام ہے، پھر بھی آپ کہ پاکستان والے مسلمان ہمارے وزیرستان والے مسلمان بھائی کا قتل کر رہے ہیں، اور ہمارے مہمانوں کو بھی بے دردی سے مر رہے ہیں، کیا ہم کو اپنے دفاع میں کچھ بھی کرنے کا حق نہیں؟ آپ کی پاکستانی فوج اور ----- امریکن ہمارے علاقوں میں گھس گے ہیں، اور ہمارے گھروں کو، ہمارے مال مویشیوں کو برباد کر دیا، ہمارے جوانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا. تو کیا ہم کو اس قتال کا بدلہ لینے کا حکم نہیں ہے؟ آیات کی تلاوت کری گی. اور ہم چاہتے ہیں ہم کو ہمارے جوانوں کا خوں بہا، اور ہماری املاک کے نقصان کی تلافی کری جاۓ، ہم کو ووہی عزت دی جاۓ جو دوسرے لوگوں کی ہے، ہم کو ہماری مرضی سے جینے کا حق دیا جاۓ - وغیرہ وغیرہ...."    
ان صاحب کے پرجوش تقریر کہ بعد ان کے ساتھ آے ہوۓ کچھ لوگوں نہیں دبے دبے الفاظ میں الله اکبر، اور جانے کون کون سی صدائیں بلند کری، مجھ کو سچی بات ہے بہت وحشت ہو رہی تھی، یہ تو کھلم خلا طالبان نظریے کا پرچار کرنا تھا. اور دوسرے لوگوں کو اکسانے کا سب سے آسان طریقہ. میں نے احتجاجی نظروں سے عدنان بھائی کی طرف دیکھا انہوں نے آنکھوں سے ہی جواب دیا کہ جواب دینا ہے مگر ان کے جذبات کو ختم ہونے دو، میں خاموش ہی بیٹھا رہا، ایک اور صاحب نے بھرپور پشتو زبان میں تقریر کر ڈالی، میں کیوں کے پشتو زبان سے نہ بلڈ ہوں تو میری سمجھ میں بہت کام ہی سمجھ آیا مگر میرے دوست اکرم بھائی صبح کچھ اردو میں لکھ رہے تھے جو ان صاحب کی تقریر ختم ہوتے ہی مجھ کو دے دیا اور جو کچھ اس میں لکھا تھا وہ میرے لئے نا قابل برداشت تھا. میں چاہے نماز نہ پڑھتا ہوں، لیکن ایک وفادار اور شعور رکھنے والا مسلم ہوں. جو جتنا بھی ترقی پسند کیوں نہ ہو جاۓ، مگر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انحراف نہیں کر سکتا. نہ ہی کسی ایسے عمل کی حمایت کر سکتا ہے جو کسی بھی طریقے سے اسلامی تعلیمات اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ہو. میں نے ہمت کر کے عدنان بھی اور ان سب حضرت سے اجازت لی کہ میں ان سب باتوں کے جواب میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، دل ہی دل میں الله کا نام پڑھا، درود پاک پڑھا اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کری، اس کہ بعد میں نے سورہ رحمان کی کچھ آیات پڑھی اور پاکستان میں پڑھائی جانے والی نہم جماعت کی انگریزی کی کتاب کے پہلے سبق " حضور پاک (س ع و) کا آخری خطبہ" والا مضمون جو مجھ کو ابھی تک بہت اچھی ترہان یاد ہے پڑھ ڈالا. میں شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا تھا، مجھ کو عدنان بھی کا اشارہ ملا اور ایک گلز پانی خاموشی سے دیا گیا جو میں نے بلکل اسلامی طریقے سے نیچے بیٹھ کر پیا. (الله مجھ کو معاف کرے، کراچی میں ایسا بہت کام ہوا ہے کے میں بیٹھ کر پانی پیتا ہوں). میں نے ان سب حضرات کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور جو کچھ کہا وہ کچھ اس ترہان سے ہے. ( یاد رہے کے ان کے پاس ایک چھوٹا سا ریکارڈر بھی تھا اور جو بھی میں کہ رہا تھا وہ اس کو ریکارڈ کر رہے تھے، اس لئے میرے جذبات سے زیادہ احتیاط لازم تھی).
" میرے محترم دوستوں، آپ سب کی آمد کا بہت شکریہ، آپ کے جذبات اور خیالات سے آگاہی ہوئی، اور جو کچھ میں نے آپ کی زبانی سنا مجھ کو کوئی شک نہیں کہ آپ لوگ بھی ایک مخصوص نظریہ اور خیالات کے حامل ہیں. اسلام ایک امن، محبت، اور خلوص سکھانے والا مذہب ہے، جس میں قتال، جہاد اور لوٹ مار کی اجازت بلکل نہیں، اگر ایسا ہوتا تو آج ساری دنیا ہی مسلمان ہوتی، مگر الله پاک نے جو بھی حکم دیا ان سب ہی میں انسانیت کا درس دیا، ساری قرانی آیات، حضور پاک کے اعمال، اور احادیث اس بات کا ثبوت ہیں کے سہی اسلامی تعلیمات کیا ہیں، یہاں (وزیرستان) یا دوسرے علاقوں میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے، اس سب کے ہم ہی ذمے دار ہیں، نہ ہی کوئی سہی رہنما ملا نہ ہی کوئی سہی ہدایت، ہم کو حالت اور وقت کے حساب سے جو بھی سہی لگا ہم کرتے گئے اور انجانے میں ایسے لوگوں کے غلام ہو گئے جو نہ تو ہمارے دوست تھے نہ ہی اسلام سے وفادار. آج یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ان سب میں ہمارا ہی قصور ہے. ہماری اس غلطی کے لئے انی والی نسلیں بھی ہم کو کبھی معاف نہیں کریں گی. وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوںمیں اسلامی شدت پسندوں نے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بہت زور و شور سے مہم چلائی، اور ان علاقوں کے سادہ لوح عوام ان لوگوں کی baton میں آگے کیوں کہ ہیں کا رواج ہے کے آپ کے علاقے کا برا یا کوئی مولوی جو بول دے وہی حق اور سچ ہے. مگر آج کے جدید دور میں یہاں نہ تو کوئی اور زریا ہے نہ ہی کوئی تعلم جو اپ لوگوں کو شعور دے، اسی وجہہ سے آج اپ لوگ ہم کو پاکستانی کہ رہے ہیں اور خود کو وزیری. آپ شاید بھول گئے ہیں کہ وزیرستان بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک حصہ ہے یہاں پر بھی حکومت پاکستان اور پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے بلکل اسی ترہان جیسے ملک کے دوسرے حصوں میں. یہاں کے لوگوں کو بھی بلکل وہی حقوق حاصل ہیں جو پاکستان کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں. بس یہاں کے نظام میں خان، ملک یا سردار شامل ہیں جو حکومت کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہیں، میرے حساب سے بری گر بار یہاں ہی ہوئی کہ خان یا سردار کہتے رہے اور آپ کرتے رہے کیوں کہ آپ لوگوں کے پاس (معزرت) کے ساتھ تعلیم نہیں تھی جس کی وجہ سے شعور کی بھی کمی تھی. جہد کا جو فلسفہ آپ کو سکھایا گیا وہ اسلام کے حقیقی فلسفے سے بلکل مختلف اور علیحدہ تھا. جتنے لوگ اس جہاد نما جنگ میں مارے گۓ خود ان کو نہیں پتا تھا کہ وہ شہید بھی ہیں کے نہیں. 
میرے اتنا کہنے کی دیر تھی کے امیر صاحب نے عشاہ کی نماز کا اعلان کر دیا اور ہم سب نے نماز کی تیاری شروع کر دی. 
دوران وضو، عدنان بھائی نے میرے جذبات کا احترام کرتے ہوۓ مجھ کو کچھ اور باتیں بتائیں اور مجھ کو مزید نرم لہجے میں بات کرنے کے لئے کہا. اور ہم نماز کی تیاری میں لگ گئے. 

محترم دوستوں، انشا الله اگر زندگی نے وفا کری تو آج ہی اپنی ڈائری کے کچھ اور صفحات بھی لکھ ڈالوں گا.
جزاک الله خیر
آپ کا دوست آپ کا بھائی 
منصور احمد