Showing posts with label Team Ashiyana Waziristan. Ashiyana Camp north waziristan. Show all posts
Showing posts with label Team Ashiyana Waziristan. Ashiyana Camp north waziristan. Show all posts

Wednesday, 11 July 2012

شمالی وزیرستان کے بچوں کے بدلتے ہوۓ ذہن اور ٹیم آشیانہ

محترم دوستوں اور ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان،
اسلام و علیکم.

گزشتہ روز ٹیم آشیانہ (دتہ خیل، شمالی وزیرستان) نے دتہ خیل کے قریب ہی ایک میڈیکل کیمپ لگایا تھا. جہاں ہم نی  پاس تمام ادویات کا استعمال کیا. ہمارا کیمپ بہت زیادہ لوگوں کی دوائی اور علاج کا انتظام نہیں کر سکا. کچھ تفصیل اور آنکھوں دیکھا حال تحریر کر کے روانہ کر رہا ہوں دوست اور احباب سے توجہ اور مدد کی درخواست ہے.

ہمارے کیمپ دتہ خیل سے کچھ ہی فاصلے پر لگایا گیا میران شاہ سے ہے ہوۓ دو (٢) ڈاکٹرز نے ہمارا ساتھ دیا ہم ڈاکٹر حسام اور ڈاکٹر توصیف کے شکر گزار ہیں کے اس مشکل وقت میں ٹیم آشیانہ کے کیمپ میں تشریف لاۓ اور یہاں موجود بچوں اور دیگر کا علاج کیا. ٹیم آشیانہ اور تمام لوگ آپ دونوں ڈاکٹرز کے لئے دعاگو ہیں. الله پاک آپ کو اس خدمت کے لئے اجرعظیم عطا فرماے، آمین.

ٹیم آشیانہ کے گزشتہ روز لگے میڈیکل کیمپ میں بخار، پیٹ کے امراض اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ١٠٠ سے زیادہ بچے لائے گئے. ان بچوں میں سے ١٠ -١٣ بچوں میں خسرہ کی بیماری تشخیص کی گئی ادویات اور سہولت نہ ہونے کے سبب ان بچوں کو میران شاہ کے مقامی اسپتال لے جانے کے لئے کہا گیا الله پاک ان بچوں کو زندگی عطا فرماے اور ہم کو انتے وسائل عطا فرماے کے ہم ٹیم آشیانہ کے کیمپ میں ہے ان بچوں کا سہی علاج کر سکیں، آمین.

میڈیکل کیمپ میں کچھ حاملہ خواتین کو بھی لایا گیا مگر ہمارے پاس حاملہ خواتین کے لئے کوئی ادویات نہیں تھی اس لئے ان کے علاج سے معذرت کر لی گئی. (ایک اور مسلہ ہمرے ساتھ کسی خاتون ڈاکٹر کا نہ ہونا تھا)

میڈیکل کیمپ میں کچھ اور خواتین اور مرد حضرت بھی لائے گئے جن کو مختلف امراض کی شکایات تھی جن کو دستیاب ادویات دے کر میران شاہ کے کسی اسپتال میں تفصیلی چیک اپ کرانے کا مشورہ دیا گیا. 

یہاں موسم اور حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں. پورے دتہ خیل میں صرف ایک ہی کلینک موجود ہے جہاں اکثر ادویات یا ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے. ٹیم آشیانہ ایک عرصے سے یہاں کے لوگوں کے لئے فری میڈیکل کیمپ لگا رہی ہے مگر ہم بھی فنڈز کے عدم دستیابی ، ڈاکٹرز کے عدم موجودگی ادویات کے نہ ہونے کے سبب اپنا میڈیکل کیمپ کی سہولت بار بار نہیں دے سکتے. اس دفع بھی ہم چاہ کر بھی ہم یہاں کے لوگوں کی مدد نہیں کر سکے، جس کے لئے ہم الله پاک کے حضور معافی اور توبہ  کرتے ہیں اور بہت شرمندہ ہیں. 

بلال محسود اور کچھ بچوں کے خیالات:
بلال محسود کا ذکر میں اکثر کرتا ہوں، میں جب بھی نادم  ہوتا ہوں، شرمندہ ہوتا ہوں، کچھ کر نہیں پاتا یا کچھ سمجھ نہیں آتا تو بلال کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں، بلال مجھ سے ہر بات کرتا ہے اور اس کے ذہن میں جو بھی ہوتا ہے کھ ڈالتا ہے، رات کو بلال کچھ بچوں کو لے کر میرے پاس آیا    ان بچوں کے کپڑے بہت میلے اور پورانے تھے، بچوں کو سہی سے اردو بولنا بھی نہیں آتی تھی، بچوں نے مجھ سے بہت محبت سے سلام کرا اور ایک طرف ادب سے بیٹھ گئے. بلال میرے اور بچوں کے درمیان مترجم کا کردار ادا کر رہا تھا. مجھ کو اب اکثر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کے جیسے بلال میرا چوتھا بھائی ہے جب وہ سامنے ہوتا ہے تو میں کچھ نہ کچھ سمجھاتا رہتا ہوں اور جب سامنے نہیں ہوتا  تو مجھ کو اس کی فکر ہونے لگتی ہے کہ وہ کہا ہوگا؟ کیا کر رہا ہوگا؟ پتا نہیں اس نے کھانا بھی کھایا ہے یا کس حل میں ہے؟ میں نی بلال کو ایک دفع پھر ٹیم آشیانہ کے حالات بتانا شروع کیے بلال کی حالت مجھ سے بھی زیادہ خراب ہونے لگی وہ اپنی ہے سوچ میں گم ہو گیا، میں نے بلال کو سمجھایا کے ہم اس ترہان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا. تو بلال نے جو جواب دیا اس نے مجھ کو دہلا کر رکھ دیا. 
اس نے مجھ سے کہا "بھائی آپ اپنے دوستوں کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو چلے جاؤ، ہم لوگ تو ویسے بھی زندگی کو بھول چکے ہیں، یہاں طالبان والے آتے جاتے رہتے ہیں، اور ہم کو جہاد پر جانے کا کہتے ہیں اور ہم کو لالچ دیتے ہیں کے جس گھر کا ایک بندہ جہاد پر جائے گا اس کے گھر والوں کے ہر بات کا خیال وہ لوگ کریں گے جو بندہ ایک امریکی کو مارے گا اس کو بہت پس اور عزت ملے گی، جو بندہ جہاد میں شہید ہوگا اس کے گھر والوں کے ساری زندگی خیال رکھا جائے گا اس ترہان کے بہت لالچ دیا جاتا ہے. حالات سے مجبور اور تنگ لوگ جہاد پر جانے کی حامی بھر لیتے ہیں اور ان کے گھر والوں کا یہ لوگ خیال رکھتے ہیں.  تو بھائی آپ واپس جاؤ ہم لوگ (بلال اور بچے) جہاد پر جانے والوں میں نام لکھوا لیتے ہیں اس طرھ ہمارے گھر والوں کی پریشانی اور تکلیفیں تو دور ہونگی ." 
میں بلال کی باتیں سن کر بہت زیادہ پریشان ہو گیا تھا، میں نے عدنان بھائی کو بلوایا اور ان کے سامنے ساری بات رکھی. عدنان  بھائی کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار نظر آرہے تھے، انہوں نی بہت شفقت اور محبت سے بلال کے سر پر ہاتھ پھیرا بلال رونے لگا تو اور بچے بھی رونے لگے مجھ کو اور عدنان بھائی کو بھی رونا آگیا. کچھ دیر بعد عدنان بھائی نے سورۂ فاتحہ تلاوت کری اس کا پشتو، اردو ترجمہ کیا. صبح بچوں کو سمجھایا کے الله پاک کیا فرماتے ہیں. پھر جہاد کے بارے میں کچھ بتایا کے جہاد کیا ہے؟ اور کس کس قسم کا ہوتا ہے؟ اور الله کی راہ میں جہاد کس کو کہتے ہیں. اور جو طالبان کہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں وہ کونسا اور کیسا جہاد  ہے؟ اور اس جہاد کو جہاد نہیں خودکشی کہا جاتا ہے. میں جب سے ٹیم آشیانہ کے ساتھ ہوں عدنان بھائی کو ہمیشہ بہت محتاط انداز میں بات کرتے دیکھا اور سنا ہے، وہ کبھی ایسی بات نہیں کرتے جس سے ٹیم آشیانہ یا مقامی لوگوں کو کوئی پریشانی ہو  مگر آج وہ بہت کھل کر طالبان اور شدت پسندوں کے خلاف اظہار کر رہے تھے، اور بچوں کو بچوں کے ہی انداز میں سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، میں سمجھ گیا تھا کے خود عدنان بھائی بھی بچوں کی بدلتی سوچ سے پریشان ہیں اور میں تو خوفزدہ ہی تھا. وہ کچھ دیر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر واپس دوسرے ساتھیوں کے پاس چلے گئے. اور مجھ کو بچوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہنے کا اشارہ کر دیا. میں نی ایک دفع پھر دل سے الله کو یاد کیا اپنے گناہوں پر معافی مانگی توبہ کاری اور دعا کاری کے میرا رب (الله) مجھ کو اتنی ہمت اور طاقت دے کے میں ان بچوں کے بدلتے ہووے ذہنوں کو بدل سکوں اور ان کے خیالات کو سہی کر سکوں. آمین.

میں نے بلال کے ذریے باقی بچوں کو مخاطب کیا اور بچوں کو تعلیم کی طرف توجہ دینے کا کہا بچوں کو تعلیم کے فوائد اور آسانی کے بارے میں بتایا اور کوشش کاری کے بچوں میں پڑھنے لکھنے کا شعور بیدار ہو. جب میری بات مکمل ہوئی تو بلال پھر سے بولا، "بھائی جب ایک انسان دن بھر کا بھوکا ہو، اور اس کی ماں، بہن، بھائی یا باپ بیمار ہو اور دوا نہ ہو، سر پر ڈرون ہوں اور زمیں پر فوج حملے کر رہی ہو تو کوئی بھلا کیسے کتاب کھول کر بیٹھ سکتا ہے؟ بلال کی یہ بات غلط نہیں تھی اور بلکل سہی تھی،  ہم (ٹیم آشیانہ) ان حالات کا سامنا کر رہی ہے، ہم کسی بھی فلاحی کو پوری دلجمعی سے نہیں کر پا رہے ہیں تو ان بچوں کی سوچ سہی ہے یہ لوگ تو یہاں کے رہنے والے ہیں اور ان سب مشکلات میں گھرے ہوے ہیں. یہ بھلا کیسے پڑھیں گے؟ میرے دل میں ایک خیال آیا میں نی بچوں سے کہا کے وہ اپنے اپنے گھروں یا ٹھکانے پر جائیں اور کل صبح پھر میرے پاس ہے ہم کم از کم مل کر بیٹھ تو سکتے ہیں بات تو کر سکتے ہیں. اور الله کو یاد کرتے رہیں. الله پاک ضرور کوئی نہ کوئی راستہ دکھائے گے.
 سب چلے گئے مگر بلال نہیں گیا کچھ بولا بھی نہیں مگر اس کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کے اس کی سوچ کس راستے پر چل پڑی ہے، اور یہی سوچ کر مجھ کو خوف محسوس ہو رہا تھا. میں نے بلال سے ادھر ادھر کی باتیں کرنا شروع کاری مگر وہ کچھ نہیں بول رہا تھا بس کبھی آسمان کی طرف دیکھتا کبھی میری طرف کبھی زمیں کی طرف بول کچھ نہیں رہا تھا. میری معلومات کے مطابق وہ شدید نفسیاتی دباؤ میں تھا یا پھر پچھلے دنوں میں شدت پسندوں کا کوئی رہنما بلال کی ذہن پر اچھی ترہان کم کر چکا تھا اور اگر ایسا تھا تو بلال بھی، میں اس سے آگے کچھ اور سوچنا نہیں چاہتا تھا، مجھ کو جو بھی کرنا تھا بہت جلدی کرنا ہوگا، یہی سوچ کر میں نی بلال کو ساتھ لیا اور عدنان بھائی کی طرف چلا گیا. میں بلال کو لے کر بہت زیادہ پریشان  ہوں. 

عدنان بھائی سے مل کر کیا باتیں ہوئی؟ میں کیا سوچ رہا ہوں یہ سب میں انشا الله اگلی ڈائری میں لکھوں گا. فلحال مجھ کو کم از کم بلال کو بچانا ہے، بلال کو حرام موت نہیں مرنے دینا، اور میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کے مجھ کو کیا کرنا ہے. آپ سب میرے لئے، بلال کے لئے اور ٹیم آشیانہ کے لئے دعا کریں کے ہم ثابت  قدم رہیں، اگر ہم غلط ہیں، ہماری سوچ اور فکر غلط ہے تو الله پاک ہم کو  ہدایت دے، ہم کو سیدھا راستہ دکھائے جس پر چل کر ہم سب اپنے بچوں کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روک سکیں، ملک دشمن اور اسلام دشمن لوگوں سے محفوظ رکھ سکیں. آمین.

کارکن،
ٹیم آشیانہ، دتہ خیل، شمالی وزیرستان.  

Sunday, 20 May 2012

وزیرستان (شمالی) کے لئے میرا دوسرا سفر:

محترم دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم،

الله کی ذات سے امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہونگے، پورا ایک ماہ ہوا نہ ہی ڈائری اپ ڈیٹ  ہوئی نہ ہی ٹیم آشیانہ کا کوئی صفحہ لکھا  گیا. حالت ہمارا اکثر ساتھ نہیں دیتے. جن صحتوں کی ذمہ داری لگی تھی کے وہ اپنے گھروں پہ بیٹھ کر ہم سے رابطے میں رہیں یا پھر خود ہی ہم سے ہمارے کام کی تفصیلات لے کر ہمارے دوستوں کو اپ ڈیٹ  کرتے رہا کریں. مگر ہر کسی کی کوئی نہ کوئی مجبوری رہا کرتی ہے. الله پاک ہم سب کو صبر اور استقامت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق دے اور ہم سب کو ہمت حوصلہ دی کے ہم اور  بھی ہمارے ساتھی  اپنے پاکستانی بھائی،  بہنوں کی مدد کرتے رہیں.
مجبورن مجھ کو ایک ماہ کے لئے وزیرستان (شمالی) جانا پڑا . جن حالات  میں پہلے ہو کر آیا تھا، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی. اب  سمجھ سے باہر ہے کے میں   پہلے کی ڈائری کو مکمل کروں یا اب  کچھ دیکھ کر اور کر کے آیا ہوں وہ لکھوں. میں خود اتنا مضبوط نہیں جتنا کے وزیرستان میں رہنے والے لوگ ہیں یا ٹیم آشیانہ کے ممبرز ہیں. میں ایک  انسان ہوں جو کبھی بھی ایسے  حالت سے نہیں گزرا  مگر ابہ ٹیم آشیانہ کی مہربانی سے اور الله پاک کی دی ہوئی ہمت سے میں بھی وزیرستان کے حالت کا عادی  ہوتا جا رہا ہوں. مگر آخر کبه تک؟ ہم لوگوں کے  مانگتے رہیں؟ یا ان  لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ  کر اپنے اپنے گھروں میں جا کر بیٹھ جائیں اور زندگی کے مزے لوٹیں جیسے ہمارے حاکم  اور دوسرے لوگ کر رہے ہیں. ایک  جانور کے لئے تو ایسا کرنا آسان ہے مگر ایک انسان کے لئے سب کچھ دیکھ کر ایسا کرنا  نہ ممکن. 
میں سلام کرتا ہوں عدنان بھائی  کو، فریال بہن کی، فیصل بھائی، اکرم بھی، اور ٹیم آشیانہ کے ایک ایک ممبر کو جو کسی بھی قسم کی پرواہ کئے بغیر انسانیت کی خدمات کے مشن پر لگے ہووے ہیں اور پوری تندہی اور محنت سے وزیرستان (شمالی) کے لوگوں کی خدمات کر رہے ہیں. میں اپنی اس ڈائری میں ابہ پوری کوشش کروں گا کہ جو کچھ بھی حالات میں  وہاں دیکھے ہیں اور جو کچھ مجھ پر وہاں گزری ہے وہ تفصیل سی لکھوں. میری اس ڈائری کو پڑھنے والے لوگوں سی گزارش ہے کہ ٹیم آشیانہ، اور شمالی وزیرستان میں موجود لوگوں کے لئے دعا کریں کے الله پاک ہم سب کو ایک اچھا اور نیک مسلمان بننے کی توفیق دے اور ہمارے اپر سے مشکلات کا خاتمہ کرے، آمین.

میرا وزیرستان کے لئے دوسرا سفر:   
گزشتہ ماہ ١٩ تاریخ (اپریل). کو مجھے فریال بہن کی فون کال ملی مجھ کو کہا گیا کے اگر میری طبیت کچھ بہتر ہے اور اگر میں ایک دفع پھر وزیرستان جا کر ٹیم آشیانہ کے لئے کچھ خدمات  انجام دے سکتا ہوں تو ضرور جاؤں. میں نی اپنی امی سے بات کری ، سکول میں چھٹی کے لئے درخواست 
دی اور ایک دفع پھر شمالی وزیرستان کے لئے تیاری کرنے لگا. تیاری کیا کرنا تھی بس کچھ کپڑے ہی ساتھ رکھنے تھے، پہلے سوچا کے جہاز سے پشاور جاؤں اور وہاں سے ٹیم آشیانہ کا کوئی نہ کوئی ممبر مجھ کو آگے لے جاۓ گا. مگر مری امی نی کہا " جتنا خرچہ تم جہاز سے جانے میں لگا رہے ہو اس کے ادھے میں تم چلے جو گے اور بچی ہوئی رقم سے تم وزیرستان کے بچوں کے لئے  کچھ لیتے جاو." امی کا مشورہ بہت اچھا تھا. میں نی بس سے ایبٹ آباد تک جاؤں اور وہاں سے ٹیم آشیانہ کا کوئی ممبر مجھ کو لے کر آگے  جاۓ گا. میں نیں ٢٢ تاریخ (اپریل) کو سفر کا آغاز کیا اور اپنے   دوستوں، رشتےداروں اور مہربانوں کی مدد سے جمع کیا ہوا کچھ سامان لے کر اپنی منزل کی جانب بڑھنا شروع کیا. سارا راستہ  سوچتے ہووے گزرا میں وہاں جا کر کیا کروں گا؟ عدنان بھائی سے کیا بات کرنا ہے اور می وہاں کیا خدمات سر انجام دے سکتا ہوں؟ 
یہ ایک حقیقت ہے کی میں زیادہ وقت تک شمالی وزیرستان میں نہیں رہ سکتا. میرے اپر میرے گھر کی زمہ داری ہے، میری امی خود کینسر کی مریض ہیں. ایک بہن اور اس کے بچوں کی کفالت کرنا بھی میرے اپر ہے. لیکن میں اپنی ان زمہ داریوں کے ساتھ ایک پاکستانی بھی ہوں اور مسلمان بھی اور اسی حثیت سے مجھ کو اپنے فرض کا بھی اندازہ ہے. روز حشر الله پاک کے سامنے اور نبی کے سامنے شرمندہ نہ رہوں. میرے لئے میری امی میری دنیا ہیں، میری زندگی ہیں. اور مجھ کو فخر ہے کے امی میرے ہر کام می میرا ساتھ دیتی ہیں میری حوصلہ افزائی کرتی ہیں.
میں سارا راستہ سوچتے ہووے  ایبٹ آباد پہنچا وہاں میرے دوست اکرم بھائی  میرے منتظر تھے. وقت کا زیاں کئیے  بغیر ہم لوگ اگلی منزل کی جانب روانہ ہووے. مجھ کو اندازہ تھا کے راستے میں ہم کو کن مشکلات کا  کرنا ہو.گا . میں پوری ترہان  تیار تھا. ٢ دن کے بعد میں کراچی سے وزیرستان شمالی پہنچ گیا. 

پاک فوج کے جوانوں کو سلام:
ایک دفع پھر اور رہتے  دم تک میں سلام کرتا ہوں، پاکستان کے فوجی جوانوں کو، پاکستان کی سیکورٹی کے جوانوں کو کو صرف اور صرف پاکستان کے عوام کے جان اور مال کی حفاظت کے لئے وزیرستان جیسے علاقوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں. ہم میں سے کسی کو اندازہ تک نہیں کے ہمارے یہ جوان کسی کسی مشکلات کا  شکار ہیں.خود ان کے جان غیر  محفوظ ہیں. مگر یہ جوان صرف ہمارے لئے اور ہماری بقا کے لئے، پاکستان کے لئے  موجود ہیں. الله پاک ہمارے ان جوانوں کو اور ہمت، حوصلہ، صبر اور استقامت دے اور ہم کو بھی توفیق دے کے ہم بھی اپنے فوجی جوانوں کے جیسے  سکیں اور وطن کے لئے کسی بھی حد تک گزر سکیں. آمین. 

دتہ خیل میں استقبال:
میں یہاں کچھ وجوہات کی بنا پر دن اور تاریخ کا ذکر نہیں کر  سکوں گا.ہم جیسے ہی دتہ  خیل  میں داخل ہووے سب کچھ ایسا محسوس ہوا کے جیسے میرا ہی گھر ہے اور میں اپنے گھر  واپس آیا ہوں. عدنان بھائی  اور ٹیم آشیانہ کے ممبر کے ساتھ بلال محسود بھی میرے استقبال کے لئے موجود تھے. مجھ کو سب نے گلے لگا، عدنان بھی اور بلال کی آنکھوں میں  آنسو تھے، میری بھی آنکھیں  بھرگیں. میں نی خود کو ہمت دی اور پھر سب کو ہمت دی. میں نی ابہ ایک بھی لمحہ کا زیاں کے بغیر ٹیم آشیانہ کے ممبرز کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کرنے کا کہا جس پر عدنان بھائی  نے کہا "آپ بہت کر لمبا سفر کر کے آے  ہو تھوڑا آرام کر لو" میں نی انکار کیا اور کہا "نہیں بھائی، بہت ہو گیا آرام، پتا نہیں زندگی میں کتنے دن اور لکھے  ہیں ابہ صرف کام ہوگا صرف کام". میری اس بات پر سب لوگوں نے الله اکبر کی صدا  لگی اور مجھ کو ایک کپ قہوہ دیا اور ہم ایک طرف جما ہو کر بات کرنا شروع  ہووے.


نوٹ:
محترم دوستوں، میرے اپر ٹیم آشیانہ کے بہت بری اور بھری زمہ داری ہے. میں ابہ فنڈز جما کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیم آشیانہ کی ضروریات کا خیال بھی  رکھتا ہوں. ساتھ ہی دتہ  خیل  میں ایک سکول اور مدرسہ بھی شروع  کیا ہے. میرے لئے دعا کریں کے الله پاک مجھ کو کامیابی دے آمین.

اپنی اگلی ڈائری میں   ذکر کروں گا کہ میں نی وہاں جا کر کیا کیا اور کیا دیکھا. 
الله پاک آپ کا اور ہم سب کا حامی اور  ناصر ہو، آمین. 
جزاک الله خیر.
آپ کا بھائی  
waziristandairy@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
 

Wednesday, 11 April 2012

دتہ خیل کی یادیں، بلی جیسے ڈرون اور ہم

اسلام و علیکم ،
گزشتہ سے شروع کرتے ہوۓ اپنی ڈائری لکھ رہا ہوں.

خان صاحب کے ہاں جس طریقے کی  دعوت کا انتظام کیا گیا تھا اس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے کسی جانور کو حلال کرنے سے پہلے اس کی اچھی ترہان خاطر مدارات کی جاتی ہیں وہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے، ابہ بس سہی وقت کا انتظار ہو رہا تھا کے کب گلے پر الله اکبر کا نعرہ لگا کر چھری پھیری جاۓ. پتا نہیں کیوں دل سے موت کا خوف کم ہو چکا تھا. یہ شاید یہاں کے حالات کی وجہہ سے تھا یا جانے کوئی اندر کا جانور جاگ گیا تھا. میں نے بھی خود کو حالات کے اوپر چھوڑ دیا ہے جو ہونا ہے وہ ہونا ہے، بس اب حق کا کلمہ نہیں چھوڑنا باقی جو الله پاک کی رضا وہی میری رضا.....
رات کے جانے کس پہر میری آنکہ لگ گے، سونے کا من تو نہیں تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے، یہی کچھ میرے ساتھ ہوا. 

اور ڈرون آدھمکے:
تھا جس کا انتظار وہ شہکار آگیا، مجھ کو ہمیشہ سے بلی جیسے ڈرون کو دیکھنے کا تجسس اور شوق ہی رہا ہے، یہ تو ٹیم آشیانہ کی مہربانی کے مجھ جیسے دنیا پرور انسان کو یہاں (وزیرستان - شمالی) آنے کی دعوت دے ڈالی اور آج میرا یہ شوق بھی پورا ہو ہی گیا، بس بہت دکھ اور ملال ہوا کے میرا کمیرہ میرے پاس نہیں تھا.
میں سو ہی رہا تھا کے اچانک بھاگم دوڑ کی آواز نے مجھ کو جگا دیا، ایک افراتفری ہر طرف تھی، یہاں یہ بھی یاد رہے کہ وزیرستان میں بجلی بیبی دور دور تک نہیں ہیں، یہاں زیادہ تر چراغ جلا کر ہی گزارا ہوتا ہے، گویا انسان پتھروں کے دور میں جی رہا ہو، اکرم بھی میری طرف ہے اور کہا کے اٹھو اور چلو ابھی، کچھ پوچھنے کا وقت نہیں تھا بس جس حال میں تھا اٹھ گیا. پھر کے ایک طرف سب جا رہے تھے،    میں بھی اکرم بھی کے پیچھے پیچھے ہی چل پر، قریب ٢ منٹ کے بعد ایک سیٹی جیسی آواز آی می سمجھا کے کوئی بچا یا انسان بجا رہا ہے مگر یہ تو آسمانی مخلوق تھی، نظر تھوڑا اوپر کری تو پتا لگا کے یہی تو ہیں میرے خوابوں کے اڑان کھٹولے، جن کو میں بلی جیسے ڈرون کے نام سے یاد کرتا ہوں، مگر بس ایک جھلک ہی دیکھ سکا، پھر پتا نہیں کہاں غایب ہو گے، ہم کو ایک کھولی نما غار میں لے جایا گیا، اور حکم ملا کہ جب تک کہا نہ جاۓ یہاں سے نکلنا نہیں ہے. ہم بھی بہت اچھے بچوں کی ترہان یہاں چپ چاپ بیٹھ گئے، غار کیا تھی بس ١٠-١٢ کا کھولی تھی، جہاں مجھ جیسے ٢٥ - ٣٠ کے قریب لوگوں کو ٹھونس دیا گیا تھا، میں کھسک کر اکرم بھی کے قریب ہونے کی کوشش کرتا رہا اور جب تھوڑا فاصلہ رہ گیا تو ان سے کہا، "اکرم بھی جن، یہ میڈیکل کمپ تو بہت بھاری پڑھ گیا،" انہوں نے مسکرا کر جواب دیا بھی "آپ کے لئے یہ سب نیا ہے ہم کو اب عادت ہو گے ہے، آپ اطمینان رکھو الله پاک سب بہتر کرے گا. انشا الله. ساتھ یہ بھی کہا کہ ڈرون کبھی بھی اتے ہی حملہ نہیں کرتے بلکے پہلے یہ یہاں کا چکر لگاتے ہیں اپنے بڑے باس کو یہاں کہ حالات بتاتے ہیں پھر جب ان کو حکم ملتا ہے تو آگ کی بارش کر کے بہت اطمینان سے واپس چلے جاتے ہیں." میں نے دل ہی دل میں سوچا، "وہ جی کیا بات ہے، پہلے آو، حالات دیکھو پھر حملہ کرو." کوئی بری بات نہیں." 

ایک گھنٹہ ایسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد میری ٹانگین سن ہونا شروع ہو گے تھی اور میری ٹوٹی تنگ میں شدید درد اب یا تو مجھ کو کھڑا ہونا تھا یا پھر اپنی ٹانگوں کو لمبا کرنا تھا جو ممکن نظر نہیں آرہا تھا، میں نے ہمت کر کے کھرے ہونے کا فیصلہ کیا اور سیر ایک طرف جھکا کر کھڑا بھی ہو گیا، تو میری اس حرکت پر سب ہی پریشن ہوۓ مگر اکرم بھی نے پشتو میں ان سے کچھ کہا تو مجھ کو آرام سے کھڑا ہونے کی جگا مل ہی گے، جیسے ہی کھڑا ہوا ایک اور سیٹی آی اس کی بعد ٢، ٣، ٤ آتی گے، میں دل ہی دل میں آیتلکرسی کا ورد کر رہا تھا، اور الله پاک سے دعا   بھی کہ  "مجھ کو جلا کر نہ مارنا اور نہ ہی میرا نام برے لوگوں میں کرنا، میں تو ایک نیک مقصد کے لئے یہاں آیا ہوں میری مدد کرنا." آدھا گھنٹہ کے بعد شاید ڈرون کے مالکان کو علم ہوا ہو کہ یہاں کوئی ایسی ویسی بات نہیں اور وہ ڈرون چپ چاپ بغیر آگ برساۓ واپس چلے گے، صبح کے ٤ بج رہے ہوں ہونگے. جب ہم کو حکم ملا کے ہم باہر آکر وضو کر سکتے ہیں، ہم نے وضو کیا نماز ادا کری اور دل کے ساتھ الله پاک کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہماری حفاظت کری. 
                         "اور بے شک، الله ہی بہتر حفاظت کرنے والا ہے." 
نیند تو بہت پہلے ہی کہی جا چکی تھی، صبح بھی ہو ہی چکی تھی ابہ آرام کا کوئی خیال نہیں تھا، بس ایک خیال اور فکر تھی کے سورج کے نکلتے ہی ہم یہاں سے روانہ ہوں اور دتہ خیل میں اپنی ٹیم سے جا ملیں. 
صبح ہوتے ہی ہم کو پر تکلف کھانا ناشتہ دیا گیا، خان صاحب کی مہربانی کی کوئی خاص وجہہ سمجھ نہیں آرہی تھی، اور سچی بات ہے کے مجھ کو تو کوئی بڑی گڑ بڑ محسوس ہو رہی تھی. خیر، خان صاحب نے ایک دفع پھر اپنے حجرہ نما کمرے میں ہم سب کو بولایا اور بہت اچھی اردو میں ہماری مہمان نوازی کا ذکر کیا اور کسی بھی قسم کی غلطی اور رات (ڈرون) والی بات پر ہوئی بے آرامی پر معزرت کری اور ہم کو رخصت کی اجازت دی. میں نے خاص کر ان کا شکریہ ادا کیا اور دل ہی دل میں بہت خوش تھا کا جن بچی تو لاکھوں پاۓ.
ہمارے ساتھ ادویات بھی تھی تو نکلتے نکلتے اکرم بھی نے خان صاحب سے پوچھا " محترم اگر ا کو ادویات کی ضرورت ہو یا آپ اپنے علاقے میں میڈیکل کمپ لگوانا چاہتے ہوں تو ہم کو ضرور یاد کریے گا،" جواب میں خان صاحب نے تیز آواز میں اور پشتو میں کچھ کہا جو میری سمجھ نہیں آیا. اور اکرم بھی نے سلام کر کے اجازت لی اور ہم ایک دفع پھر اپنے کندھوں پر بیگ ٹانگ کر اپنی منزل کی طرف چل پڑے. 
راستے میں میں نے اکرم بھی سے پوچھا کہ اکھڑ خان صاحب نے کیا جواب دیا تھا تو انہوں نے کہا ." خان صاحب نے فرمایا، ہم کو زکات، خیرات، بھیک اور فرنگیوں کی دی ہوئی امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اپ لوگ جو کر رہے ہو خاموشی سے کرتے رہو، یہی بہت ہے کے آپ لوگوں کو یہاں روکنے کی اجازت دی گی." 
میں نے سوچا یہ بھی کھلم کھلا دھمکی  یا تنبیہ ہی ہے. کا ہم (ٹیم آشیانہ) اپنی حدوں سے باہر نہ نکلے. ہمارا سفر بہت مشکل رہا، سارا راستہ پیدل اور کچے راستوں پر تھا، جگہ جگہ ہی کو میری وجہہ سے رکنا پڑ رہا تھا، کیوں کے میری ٹوٹی ٹانگ میں بہت جلدی درد ہونے لگتا تھا. 
راستے میں ہی ایک جگہ روک کر ہم سب نے ظہر کی نماز ادا کری اور تھوڑا کھایا. اس جگہ سے دتہ خیل صرف ٣٠-٣٥ منٹ کی دوری پر تھا مگر راستہ ٹھیک نہیں تھا جس کی وجہہ سے ہم کو شام ہی ہو جانی تھی. ایک جگہ کچھ لوگ ہم کو روک کر کھڑے ہو گے، اکرم بھی نے ایک دفع پھر اپنی پشتو زبان میں کچھ کہا تو ان لوگوں نے کچھ ادویات کا مطالبہ کیا اور ہم نے بغیر کسی حیل حجت کے ان کو ادویات فراہم کر دی. ایسے ہمارا بھی کچھ بوجھ کم ہوا اور اطمینان بھی کے ہماری ادویات کچھ اور لوگوں کے کام آسکتی ہیں. 
عصر کی نماز کے وقت ہم دتہ خیل میں اپنے کمپ تک پہنچے، بہت زیادہ تھکے ہوۓ تھے، عدنان بھی اور باقی کارکن ہمارے لئے بہت پریشاں تھے، اکرم بھی نے جتنا جلدی ہو سکتا تھا ہمارے ساتھ پیش آے واقعات ان کو بتاۓ، ہم نے ایک بار پھر وضو کیا اور میں نے نے نماز کے بعد چاۓ کا مطالبہ کیا جو فورن پورا کر دیا گیا. کچھ دوا کھائی، ایک درد کا انجکشن لگایا اور لیٹ گیا. پتا نہیں کب کی کب میں آنکہ لگ گی.
 ١٠ -١٥ منٹ سویا ہونگا کی مغرب کی نماز کے وقت مجھ کو اٹھا دیا گیا، نماز ادا کری کھانا کھایا اور سب کے ساتھ بیٹھ گیا، آج مجھ کو میرے ہر سوال کا جواب حاصل کرنا تھا،
 "عدنان بھی ان علاقوں میں پچھلے ٢- سالوں سے فلاحی کام کر رہے ہیں، مگر اس کی وجھہ کیا ہے. کیوں وہ یہاں پڑے ہوۓ ہیں، جہاں نہ زبان اپنی ہے نہ گھر اپنا، نہ ہی لوگ اپنے، یہاں رہنے والے ہم کو پاکستانی کہتے ہیں، اور ہم ان کو پاکستانی سمجھتے ہیں، یہاں کے لوگ ہم کو کام عقل مسلمان سمجھتے ہیں اور ہم یہاں کے لوگوں کو کٹر شدت پسند مسلمان، یہاں کے لوگ امریکا کو ہمارا دوست اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں. اور ہم امریکا کو ایک زمینی حقیقت مانتے ہوۓ اس سے روابط رکھتے ہیں. یہاں کے لوگ بلی جیسے ڈرون کو پاکستان اور امریکا کی دی ہوئی دین سمجھتے ہیں اور کم از کم میں اس کو جارحیت، مجھ کو ان سارے سوالات کے ضوابط آج ہی معلوم کرنے تھے بھلے اس کے بعد عدنان بھائی مجھ کو یہاں سے جانے کا حکم ہی دے ڈالیں."