Showing posts with label Bilal Mehsood. Show all posts
Showing posts with label Bilal Mehsood. Show all posts

Tuesday, 20 November 2012

عدنان کی ڈائری: شمالی وزیرستان میں گزرتے دن

اسلام و علیکم 

شمالی وزیرستان سے بھیجے گئے بلال خان محسود کے پیغامات کو فلحال یہاں نہی  جا رہا ہے جس کی وجہہ یہ ہے کے کچھ دوست اور پڑھنے والے شاید یہ سمجھ رہی ہیں کہ ہم (ٹیم آشیانہ) بلال محسود کے پیغامات کو اپنے لئے فنڈز جمع کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہ رہے  ہیں. جبکہ حقیقت حال کچھ  الگ ہے. ہم نے صرف شمالی وزیرستان کے بچوں کی سوچ وفکر اور شمالی وزیرستان کے زمینی حقائق کو منظرعام پر لانے کی غرض سے بلال محسود کے پیغامات کو یہاں جگہ دینا شرو کری تھی. بلال محسود آشیانہ کیمپ شمالی وزیرستان میں موجود ہے اور کیمپ کے ساتھیوں کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لے رہا ہے. ساتھ ساتھ کیمپ میں قائم اسکول / مدرسہ مے جو بھی پڑھایا جا سکتا ہے پڑھ رہا ہے. بلال محسود اور اس کے بہت سارے دوست امن پسند اور پاکستان کو سمجھنے لگے ہیں. انشا الله بلال محسود کے پیغامات کو بہت جلد یہاں لکھنا شرو کر دیا جاۓ گا. 

جیسا کے آپ کے علم مے ہے، شمالی وزیرستان میں فلاحی کاموں میں مصروف ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان عدنان بھائی کے ہمراہ یہاں پشاور آئے ہوۓ ہیں. عدنان بھائی بھیک مشن میں مصروف ہیں اور ہم کچھ مقامی کارکنان اپنے طور پر ان ساتھیوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں، الله پاک ہماری اس محنت اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان کے کاموں میں برکت فرماۓ - آمین.

کراچی اور لاہور سے ہمارے دوستوں اور ساتھیوں نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے شہروں میں بھیک مشن کے تحت شمالی وزیرستان کے پریشان حال، مجبور اور بے بس بھائی، بہنوں اور بچوں کے لئے سامان جمع کررہے ہیں اور بہت جلد کچھ ساتھی جمع کے گئے سامان کے ساتھ شمالی وزیرستان میں موجود ہونگے.

ہماری عزیز بہن سیدہ فریال زہرہ جو کہ کینیڈا سے یہاں تشریف لائیں تھی اب واپس کینیڈا پہنچ چکی ہیں اور ان کا پیغام بھی ہم کو ملا ہے کہ وو بھی اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہاں (شمالی وزیرستان) کے لوگوں کے لئے امداد جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں. الله پاک ہمت، صبر، حوصلہ اور استقامت عطا فرماۓ - آمین.

عدنان بھائی خود بھی بہت اچھا لکھنے والے ہیں اور گزشتہ رات جب ہماری ان سے بات ہوئی تو انہوں نے ہم کو اپنی ڈائری کے کچھ صفحات دکھاۓ. ہم نے عدنان بھائی سے بہت درخواست کری کہ ہم کو ان صفحات میں سے کچھ صفحات کو دوسرے ساتھیوں  اور پڑھنے والوں کے سامنے پیش کرنے دیں تو بہت مشکل سے کچھ صفحات کو لکھنے اور آپ سب کے سامنے رکھنے کی اجازت ملی ہے. 

ہم عدنان بھائی کی ڈائری کے صفحات کو لکھ رہے ہیں اور قابل ذکر باتیں آپ سب کے سامنے ضرور رکھیں گے. ان صفحات کو پڑھ کر  ہم سب کو شمالی وزیرستان اور وہاں کے لوگوں کے ذہن، فکر حالات اور ٹیم آشیانہ کی کارکردگی کے بارے میں بھی بہتر اندازہ ہو سکے گا. 

کراچی سے ہمارے کچھ دوست ایک، دو (١،٢) دن میں کچھ امدادی سامان کے ساتھ یہاں پہنچنے والے ہیں جن میں عدنان بھائی کے بہت قریبی دوست اور ساتھ احمد بھائی بھی شامل ہونگیں. احمد بھائی کہ یہاں آنے سے ٹیم آشیانہ کو بہت بڑی ڈھارس میل گی. کیونکہ وہ (احمد بھائی) بچوں کی نفسیات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور شمالی وزیرستان کے بچوں میں بہت اچھی طرح گھل مل جاتے ہیں. الله پاک احمد بھائی اور دیگر ساتھیوں کے سفر کو آسان فرماۓ اور ان کے اندر خدمات انسانیت کے جذبے کو ہمیشہ کی طرح  موجود رکھے.

انشا الله آج سے ہی عدنان بھائی کی ڈائری کو لکھنے کا کام شروع کر دیا جاۓ گا اور ہم کو امید ہے کہ آپ اس ڈائری کو پڑھ کر شمالی وزیرستان کے حالت اور معملات  کو بہتر سے بہتر سمجھ سکیں گیں.

 ٹیم آشیانہ برائے شمالی وزیرستان اور عدنان بھائی کی هیدیٹ کے مطابق یہ صفحہ (بلاگ) اب صرف اور صرف ڈائری کو شایع  کرنے کے لئے ہی استعمال کیا جاۓ گا. ٹیم آشیانہ کے معملات، فلاحی خدمات، امداد کی تفصیلات ابھی صرف ٹیم آشیانہ کے الگ صفحہ (بلاگ) پر دستیاب ہونگی. 

ڈائری کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے آپ ہم سے درج ذیل رابطہ کر سکتے ہیں .
waziristan.dairy@gmail.com

جزاک الله خیر 
ساتھ کارکن 
ٹیم آشیانہ برائے شمالی وزیرستان.
پشاور - پاکستان 

Saturday, 20 October 2012

وزیرستان ڈائری: بلال محسود کی آج کی ڈائری- ٢٠ اکتوبر، ٢٠١٢

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
 اسلام و علیکم 

الله پاک ہم سب پر اپنا رحم و کرم فرماۓ - آمین. 
عدنان بھائی اور بلال محسود پشاور میں بھیک مشن کے سلسلے میں موجود ہیں، کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں بھی مقامی ساتھ اور کارکنان بھیک مشن کے زریعے شمالی وزیرستان میں متاثرہ اپنے بھائی بہنوں کے لئے امدادی اشیاء جمع کر رہے ہیں. آج پشاور میں عدنان بھائی، بلال محسود اور دیگر کارکنان کا دن کیسا گزرااور دیگر شہروں میں موجود کارکنان کی کارکردگی کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں جو کہ مکمل ہوتے ہی آشیانہ کیمپ کے لنک (بلاگ) پر ڈال دی جائیں گی. 

آج کا دن بلال خان محسود کے لئے کیسا رہا اس بارے میں بلال نے  کچھ ہی دیر قبل ہم کو لکھوایا ہے جو ہم تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ یہاں لکھ رہے ہیں.


=====================================================
بھائی میں تو پہلی دفع یہاں (پشاور) آیا ہوں، یہ تو بہت بڑا شہر ہے. کتنی گاڑیاں ہیں، کتنے لوگ ہیں، میں تو جن لوگوں سے ملا سب نے مجھ کو بہت دیا. مگر یہاں کچھ بھی اچھا نہی لگ رہا. ایسا لگتا ہے جیسے ہم لوگ وزیرستان سے ہیں تو اسی لئے ہم بھی کوئی بم لے کر آیا ہوگا. ان کو سمجھاؤ کے ایسا نہیں ہے. ہم بھی انسان ہیں. ہاں ہم کو کھانا بہت اچھا ملا روٹی، نان، دال اور مرغی کا سالن سب بہت اچھا تھا الله ان لوگوں کو خوش رکھے. ابھی ہم کو اپنی امی اور بہن کا فکر ہے وہ لوگ ہمارے ساتھ یہاں نہیں آیا ہے پتا نہیں وہاں کہ کر رہا ہوگا؟
کیمپ والے کہتے ہیں کی ہم کل یہاں سے واپس وزیرستان جائیں گے بس جلدی سے کل ہو جاۓ تو ہم اپنی امی اور بہن کے پاس جائیں.
ابھی اور لوگ امداد دینے آنے والے ہیں ہیں. وہ جو بڑے سکول میں پڑھتے ہیں وہ بھی ہم سے ملنے آئے تھے مجھ کوہ بہت کتابیں دے کر گئے ہیں. دعا کرو کے بڑا خان ماں جاۓ اور ہم کو وہاں پڑھنے کا اجازت دے. ہم بھی پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا چاہتے ہیں. کراچی والا بھائی سہی کہتے ہیں کی پڑھنے سے انسان کا عزت بڑھتا ہے اور مقام بھی ملتا ہے.
بس جلدی جلدی امداد جمع کرو اور واپس علاقے میں چلو. ہم کو تو ڈرون سے زیادہ یہاں کہ لوگوں سے اور پولیس سے خوف لگ رہا ہے.
ابھی اور کیا بولے؟
ابھی کچھ نہیں بس ہم کو امداد دو اور ہم روانہ ہو یہاں سے.
=================================================   

شمالی وزیرستان سے بلال محسود کا پیغام: ١٨ اکتوبر، ٢٠١٢

اسلام و علیکم،

ہم کو اپنے کارکنان اور ساتھیوں کے جو پیغامات موصول ہوتے ہیں ان میں سے کچھ پیغامات کچھ تدوین (ایڈیٹنگ) کر کے پبلک کر دیے جاتے ہیں، انہی پیغامات میں سے کچھ پیغامات آشیانہ  کیمپ میں مقیم بلال محسود کے بھی ہوتے ہیں. ابھی جو پیغام یہاں لکھا جا رہا ہے ووہ بلال محسود کے پشاور آنے سے پہلے ہم کو موصول ہوا تھا. 
بلال محسود، اس وقت پشاور میں موجود ہیں اور ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکنان کے ہمراہ بھیک مشن میں حصہ لے رہے ہیں. 


===============================================================
اسلام و علیکم،
آپ لوگ مجھ سے کہتے ہو کہ میں یہاں (وزیرستان) کے حالات لکھ کر بھیجوں؟ کیا لکھ کر بھیجوں؟ مجھ کو یہ تو بتاؤ؟ مجھ کو سمجھ نہیں آتا کی لکھنا کیا ہے؟ ابھی جو بھی میں لکھتا ہوں، اس میں عدنان بھائی کو سمجھ نہیں آتا، کبھی کہتے ہیں کہ ایسا لکھو، کبھی کہتی ہیں کہ ویسا لکھو، ہمارا دماغ کام نہیں کرتا. آپ ہم کو صاف صاف بتاؤ کی لکھنا کیا ہے. سچ لکھنے کی اجازت دو ہم کو. مگر ہم بےغیرت نہیں ہیں. اپنی بہن اور ماں کی مجبوری کا نہیں لکھ سکتا. 

آج ہم کو بہت افسوس ہوا. کیمپ میں خانے کو کچھ نہیں تھا ہم لڑکے لوگ خان کے پاس گئی، اس نے کہا کے جرگے والوں کے پاس جاؤ. جرگے والوں کے پاس گئے تو وہ بولا مسجد والوں کے پاس جاؤ، ہم مسجد والوں کے پاس گئے تو وہ بولا جس نے تم کو سکول بنا کر دیا ہے، تم کو پڑھتا ہے اسی سے کھانا مانگو. ہم کو بہت غصہ آگیا مگر ہم ابھی کچھ کر نہیں سکتے، ہم مجبور لوگ ہیں. کس کی بات ماننا ہے اور کس کی بات نہیں ہم کو سمجھ نہیں آتا. ابھی ہم ایک دن میں ایک وقت کھانا کھاتے ہیں. ابھی تو ہم نے سبھی لڑکوں سے کہدیا ہے کہ بسس سمجھ لو رمضان آگیا ہے اور روزہ رکھنا شروع کر دو. شاید الله کو ہماری حالات پر کچھ رحم آجائے. ابھی یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ بس ایک دفع فوج آجاۓ تو سبھی ٹھیک ہو جاۓ گا. فوج کبھی آئے گی؟ جبھی ہم لوگ مر جاۓ گے؟ یا یہ ملا لوگ ہمارے کو بھی ملا بنا دیں گے؟ 
ابھی ہمارا دل سچی بات ہے پڑھائی میں نہیں لگتا. ابھی ہم کو اپنی امی اور بہن کا فکر ہوا ہے، کراچی والا بھائی تو ہم کو بھول ہی گیا ہے. شاید یہاں کے لوگ سچ کہتے ہیں کہ پاکستان والے بیوفا ہوتے ہیں. 
ابھی کیمپ والے لوگ بولتے ہیں کہ ہم لوگ پشاور جائیں گے. میں بھی ساتھ جاؤں گا میں نی کوئی شہر نہیں دیکھا دکھوں گا کہ پشاور کیسہ شہر  ہے اور پشاور والے کیسہ ہیں. 
ہمارے لئے دعا کرنا.
آپ کا بھائی 
بلال 
================================================================

محترم دوستوں،
بلال نے اور بھی بہت کچھ لکھا مگر ہم کو اور آپ کوہ اسس تحریر سی اچھی طرح اندازہ ہو سکتا ہے کہ بلال اور اسس جیسے بچوں کی سوچ کیسس طرح تبدیل ہوتی جا رہی ہے. یہ سب ہماری غفلت اور نہ انصافی کی وجہہ سے ہو رہا ہے. ہم سب وزیرستان والوں سے ڈرتے ہیں اور وہ ہم کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں، ایسے میں ایک مخصوص طبقہ ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ان کو کبھی مذہب اور کبھی فرقے کے نام پر استعمال کر رہا ہے.

آج ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان، شمالی وزیرستان سے یہاں پشاور آئے ہیں جہاں ہم سب مل کر جی، ٹی روڈ پر بھیک مانگ رہے ہیں. تاکہ اپنے پریشان حال وزیری بھائی، بہنوں کے لئے کچھ سامان اکھٹا کر سکیں. ہم کچھ زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر ٹھوڑی بہت مدد ضرور کر سکتے ہیں.  انشا الله ایک دن ہمارے وزیرستانی بھائی بہنوں کے حالات بھی سہی ہونگے. آمین.

پشاور میں بلال محسود نے کیا دیکھا، اور کیسا محسوس کیا؟ ہم بلال کے خیالات جان کر بہت جلد تحریر کریں گے.
الله پاک آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو - آمین!
کارکن ٹیم آشیانہ 
پشاور  

    

Thursday, 18 October 2012

شمالی وزیرستان سے بلال محسود کا پیغام

اسلام و علیکم دوستوں.

شمالی وزیرستان سے آئے ہوے پیغامات کے ساتھ حاضر ہوں،

بلال محسود کا بھیجا ہوا پیغام:
عدنان بھائی اب بس ایک طرف بیٹھ کر ہم کو پڑھاتے ہیں، کچھ لوگوں نے کیمپ میں آکر بہت ہنگامہ کیا. کیمپ میں پہلے ہی سامان نہیں تھا جو تھا وہ بھی توڑ پھوڑ دیا. وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے ایجنٹ ہیں. اور یہاں ڈرامہ کر رہے ہیں. عدنان بھائی اور اکرم بابا نے بہت کہا کہ ہم یہاں صرف آپ کی خدمات کے لئے ہیں مگر کوئی نہیں مانا. یہاں سے لوگوں کو بھی نکلنے کا کہہ رہے ہیں ابھی یہاں سے لوگ کہاں جایئں گے؟ یہاں سے پاکستان جا نہیں سکتے، ہمارے اپنے گھر جنگ میں ختم ہو گئی ہیں. امداد کا کوئی پتا نہیں. آپ لوگ جو کتابیں دے کر گے تھے وہ ہم کیسے پڑھیں؟ کتابوں سے کبھی پیٹ نہیں بھرتا. میری بہن اور امی کو بھوک لگتی ہے تو وہ مجھ سے کہتی ہیں میں دوسرے لوگوں سے کھانا لے کر امی کو اور بہن کو کہلاتا ہوں. جو بچ جاتا ہے تو خود کھا لیتا ہوں. 
کیا ہم انسان نہیں ہیں؟   

Saturday, 14 July 2012

شمالی وزیرستان: بلال محسود کی باتیں، میں اور آج کا دن


دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم،

گزشتہ رات پہلے بلال محسود اور اس کے دوستوں سے ملاقات پھر ساری رات عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان کے ساتھ میٹنگ اور اس کے بعد نماز فجر سری رات کیسے گزر گئی کچھ پتہ ہی نہ چلا. نماز کے بعد مجھ کو تھوڑی تھکن کا احساس ہوا اور میں اپنے بستر کی طرف چل پڑا کے تھوڑا  کرلوں. ابھی لیٹا ہی تھا کے بلال آگیا اور کہا
 "بھائی آج میرے لئے کوئی کام ہے؟"
بلال کا لہجہ کچھ بدلہ سا تھا، میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور بلال کو اپنے پاس بیٹھا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا، 
"بلال آخر بات کیا ہے؟ تم کیوں اتنا پریشان ہو؟ وجہہ کیا ہے؟"
بلال نے اپنا سر میری گود میں رکھ دیا اور رونے لگا. یہ سب میرے کو حیران کرنے کے لئے کافی تھا، میں نے اس سے وجہہ جاننے کی کوشش کری اور کچھ سمجھ نہ آنے پر میں نے زور سے عدنان بھائی کو  آواز دی، وہ کچھ فاصلے پر ہی کھڑے تھے اور کارکنان کو ہدایت دے رہے تھے. میری آواز سن کر وہ میرے پاس آئے اور بلال کو روتا دیکھ کر مجھ سے وجہہ پوچھنے لگے، مجھ کو تو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کے آخر وجہہ کیا ہے؟ بلال بس روتا ہی جارہا تھا کچھ بتا نہیں رہا تھا. 
آخر عدنان بھائی نے اکرم بھائی جو ٹیم آشیانہ کے بہت پرانے اور مقامی کارکن ہیں کو بلوایا وہ مقامی زبان جانتے ہیں اور بلال سے مقامی زبان میں بات کر سکتے ہیں. انہوں نیں بلال سے مقامی زبان میں کچھ کہا تو جواب ملا کے بلال صرف مجھ سے ہی بات کرنا چاہتا ہے اور کچھ بتانا چاہتا ہے. عدنان بھائی اور اکرم بھائی ہم سے دور چلے گئے. میں نے بلال کو اٹھا کر اپنے ساتھ بٹھایا اس کو پانی پلایا اور اس کے ہاتھوں کو تھام کر اس سے کہا، 
"بلال، میرے بھائی، میرے بچے، مجھ کو بتاؤ ہوا کیا ہے؟ کیوں اتنا پریشان ہو؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟"                
جواب میں جو کچھ بھی بلال نے کہا وہ گزری رات کے باتوں سے بھی زیادہ خطرناک اور مشکل تھا. میں اس کی کہی ساری باتیں تو لکھ کر نہی بھیج سکتا مگر کچھ باتیں لکھ رہا ہوں شاید ان باتوں سے آپ کو اندازہ ہو جاۓ کہ بلال جیسا معصوم بچہ  اور پتا نہیں کتنے معصوم بچے اس طرح کے عذاب کو جھل رہے ہونگے. 
بلال محسود نے بتایا،
"بھائی، آپ نے میری بہن کو دیکھا ہے، (بلال کی بہن کو سہی سی تو نہیں دہکا مگر اس کی امر ١٦-١٧ برس کی ہوگی، اور وہ یہاں کے ماحول کے مطابق بلکل پردے میں رہتی ہے، میرے خیال سے اس بیچاری کو تو باہر کی  دنیا کا کچھ نہیں پتہ، اردو بھی نہیں جانتی وہ)، جب آپ (میں) کراچی چلا گیا تھا تو اس وقت بلال کی ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی جو اکثر اس علاقے میں میں آتے جاتے رہتے ہیں، بظاھر وہ لوگ میران شاہ جاتے ہوے راستے میں یہاں (دتہ خیل) کچھ وقت کے لئے روکتے ہیں اور لگتا ایسا ہے کے جیسے وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے گھر کی ضرورت کا سامان وغیرہ خریدنے جاتے ہیں مگر ان کی باتیں کبھی میری سمجھ میں نہیں آتی ہیں. کبھی وہ اسلام کی تبلیغ شروع کردیتے ہیں کبھی جہاد کی تلقین، کبھی پاکستانی حکومت اور افواج کے خلاف الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں اور کبھی ہم کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور کبھی کچھ بھی نہیں کہتے. ان لوگوں نی یہاں (دتہ خیل) کے بزرگوں اور بڑوں سے تعلقات بنا لئے ہیں اور اب وہ چاہتے ہیں کے میں (بلال) ان لوگوں کے ساتھ رہا کروں. ان کی باتوں کو سمجھا کروں اور وہ چاہتے ہیں کے میں (بلال) اپنی  کی شادی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ کر دوں. میرے (بلال کے) حالات ایسے نہیں کے اپنی پاگل ماں اور جوان بہن کو سمبھال سکوں اور یہاں کوئی کام بھی نہیں ہے، پاکستان جاؤں گا تو وہاں کے لوگ مجھ کو مار دیں گے کیونکے میں وزیرستانی ہوں. میرے نام کے ساتھ محسود لگا ہوا ہے. اور یہاں رہوں گا تو یہ لوگ میری بہن کے ساتھ پتہ نہیں کیا  کریں گے. آپ (ٹیم آشیانہ والے) ہم کو صبر کرنے کا کہتے ہو، ہم کو پڑھنے لکھنے کا کہتے ہو، اب میں کیا کروں؟ سب سے آسان راستہ تو وہی ہی جو ہم نے آپ کو  گزشتہ رات بتایا تھا، کہ ہم لڑکے ان لوگوں کے ساتھ جہاد پر چلے جاتے ہیں جس سے ہمارے گھر والوں کو بہت سہارا مل سکتا ہے. اور میری بہن کی شادی بھی کر دیتے ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ محفوظ تو رہےگی."

بلال محسود، جب سے مجھ کو ملا ہے میں یہی چاہتا ہوں کے کسی بھی طرح اس کو یہاں سے کراچی لے جاؤں، مگر بلال کی کہی ہوئی باتیں بھی بلکل سہی ہیں ایک وزیرستانی جب پاکستان کے کسی بھی شہر میں جاۓ گا تو خود اس کے لئے اور اس کو لے جانے والے کے لئے بھی مشکلات بڑھ  جائیں گے. میں بلال کی باتیں سن کر ایک دفع پھر ایک بند گلی میں کھڑا ہو گیا ہوں. عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے کارکنان کے ساتھ جو بھی میٹنگ ہوئی تھی اور اس کے بعد جو باتیں ہوئی تھی ان کے بعد کچھ سکوں تو ضرور ملا تھا مگر ہم جو کام کر رہے ہیں یہ تو آہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھانے والے ہیں بلال اور بلال جیسے لڑکوں کو تو فوری مدد اور سہارے کی ضرورت ہے. اب میں کیا کروں؟ کم از کم بلال کے لئے تو مجھ کو فوری طور پر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا نہیں تو بات بہت بگڑ سکتی ہے.  
بلآخر میں نے ایک مشکل فیصلہ کر ہی لیا ہے، اگر بلال کی بہن راضی ہو تو ہم میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ شادی کرے گا، یہ شادی کوئی سمجھوتہ یا مجبوری نہیں ہوگی بلکے دو تہذیبوں کا ملن ہوگا، مگر بلال کی بہن ابھی ١٦-١٧ برس کی ہے یہ امر بہت کم ہے کم اس کم ١٨-١٩ کو ہو تو اس کو کچھ شعور ہو، میں نی ایک دفع پھر عدنان بھائی سے بات کرنے کا سوچا ہو سکتا ہے کہ وہ بلال اور اس کے خاندان کے لئے کوئی اچھا مشورہ دےسکیں. میں نے بلال محسود کو اپنے ستہ کھڑا کیا اس کو گلے سے لگایا اور اس کو کہا،
"بلال، میرے بھائی تم اکیلے نہیں ہو، میں تمہارا بھائی بھی ہوں، تمہارا دوست بھی ہوں اور ساتھی بھی ہوں. میں تم کو کسی بھی حال میں اکیلا نہیں چھوڑوں گا الله پر بھروسہ رکھو اور مجھ پر اعتماد رکھو انشا الله سب بہتر ہوگا."
میری ساری تھکن اور نیند ایک دم ختم ہو چکی تھی. میں چاہتا تھا کے بلال کے لئے جو بھی ہو سکتا ہے ابھی کے ابھی ہو. جب میں اور بلال عدنان بھائی کی طرف گئے تو وہ لوگ دتہ خیل کے بازار جانے کی تیاری کر رہے تھے، میں نے عدنان بھائی کو اشارہ کیا تو وہ ایک طرف آگئے. بلال ہمارے لئے چائے لینے کے بہانے چلا گیا میں نے بلال سے ہوئی ساری   بات عدنان بھائی کو بتائی اور ان سے درخواست کری کہ جو بھی ہو سکتا ہے فوری کریں. عدنان بھائی نے مجھ کو تھوڑا صبر سے کام  لینے کے لئے کہا اور کہا، 
"یہاں (شمالی وزیرستان) کے حالات ایسے ہیں کے ہم اپنے سائے پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتے، مجھ (عدنان) کو بلال کی صداقت پر کوئی شک شبہ نہیں ہے  مگر ہم کو بلال کے بارے میں مکمل معلومات کرنا ہوگی، اور یہ سب معلوم کرنا ہوگا کے بلال  لوگوں سے  رہا ہے وہ کون لوگ ہیں؟ بلال سے کیا چاہتے ہیں؟ بلال یہ ساری باتیں تم سے ہی کیوں کر رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ. اس کے لئے کچھ وقت چاہیے میں مقامی لوگوں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تم اس وقت تک بلال کو اپنے ساتھ ہی رکھو ہم (ٹیم آشیانہ) ابھی بلال سے کسی بھی قسم کا کوئی وعدہ نہیں کر سکتے ہماری تسلی اور معلومات مل جانے پر  ہی ہم کوئی سہی فیصلہ کر سکیں گے،  میں اٹھایا گیا کوئی بھی قدم ہماری محنت اور خدمت کے سلسلے کو بدنام کر سکتا ہے اور پوری ٹیم آشیانہ کو کسی بڑی مشکل میں ڈال سکتا ہے. لہذا ہم سب کو تھوڑا صبر اور احتیاط سے کم لینا چاہیے." 

اب عدنان بھائی کی باتوں نے مجھ کو  کر رکھ  دیا تھا، وہ (عدنان بھائی) بلال پر شک کا اظہار بھی نہیں کر رہے تھے مگر بلال کو مشکوک بھی سمجھ رہے تھے. تھوڑا دیر میں بلال ہمارے لئے چائے لے آیا اور ساتھ میں ایک خوشخبری بھی کے پشاور سے ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان امدادی سامان لے کر میران شاہ تک آچکے ہیں اور آج کسی بھی وقت یہاں (دتہ خیل) پہنچ جائیں گے. 

===============================================================
اہم اور ضروری بات، 
ٹیم آشیانہ کے جو کارکن یہ ڈائری لکھ رہے ہیں وہ ہم کوکاغذ پر لکھی ہوئی ملتی ہے، ڈائری میں لکھی ہوئی  بات کو ہم یہاں نہیں لکھ سکتے، اس لئے ضروری تدوین اور ایڈیٹنگ کے بعد وہ ڈائری یہاں لکھ دی جاتی ہے. 
تمام پڑھنے والوں سے درخواست ہے کے وہ ڈائری  وقت ٹیم آشیانہ کے بارے میں غلط رائے قائم نہ کریں. ٹیم آشیانہ صرف اور صرف انسانی خدمت کے جذبے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے پریشان حال بھائی،  بہنوں اور بچوں کی خدمات سر انجام دینے کی غرض سے شمالی وزیرستان جیسے تباہ حال علاقے میں  ہے. اس کے علاوہ ٹیم آشیانہ یا ٹیم کے کسی بھی کارکن کا کوئی مقصد اور غرض نہیں.
آپ کی دعاؤں کے محتاج 
ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان. 

        

Wednesday, 11 July 2012

شمالی وزیرستان کے بچوں کے بدلتے ہوۓ ذہن اور ٹیم آشیانہ

محترم دوستوں اور ساتھیوں، ٹیم آشیانہ کے کارکنان،
اسلام و علیکم.

گزشتہ روز ٹیم آشیانہ (دتہ خیل، شمالی وزیرستان) نے دتہ خیل کے قریب ہی ایک میڈیکل کیمپ لگایا تھا. جہاں ہم نی  پاس تمام ادویات کا استعمال کیا. ہمارا کیمپ بہت زیادہ لوگوں کی دوائی اور علاج کا انتظام نہیں کر سکا. کچھ تفصیل اور آنکھوں دیکھا حال تحریر کر کے روانہ کر رہا ہوں دوست اور احباب سے توجہ اور مدد کی درخواست ہے.

ہمارے کیمپ دتہ خیل سے کچھ ہی فاصلے پر لگایا گیا میران شاہ سے ہے ہوۓ دو (٢) ڈاکٹرز نے ہمارا ساتھ دیا ہم ڈاکٹر حسام اور ڈاکٹر توصیف کے شکر گزار ہیں کے اس مشکل وقت میں ٹیم آشیانہ کے کیمپ میں تشریف لاۓ اور یہاں موجود بچوں اور دیگر کا علاج کیا. ٹیم آشیانہ اور تمام لوگ آپ دونوں ڈاکٹرز کے لئے دعاگو ہیں. الله پاک آپ کو اس خدمت کے لئے اجرعظیم عطا فرماے، آمین.

ٹیم آشیانہ کے گزشتہ روز لگے میڈیکل کیمپ میں بخار، پیٹ کے امراض اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ١٠٠ سے زیادہ بچے لائے گئے. ان بچوں میں سے ١٠ -١٣ بچوں میں خسرہ کی بیماری تشخیص کی گئی ادویات اور سہولت نہ ہونے کے سبب ان بچوں کو میران شاہ کے مقامی اسپتال لے جانے کے لئے کہا گیا الله پاک ان بچوں کو زندگی عطا فرماے اور ہم کو انتے وسائل عطا فرماے کے ہم ٹیم آشیانہ کے کیمپ میں ہے ان بچوں کا سہی علاج کر سکیں، آمین.

میڈیکل کیمپ میں کچھ حاملہ خواتین کو بھی لایا گیا مگر ہمارے پاس حاملہ خواتین کے لئے کوئی ادویات نہیں تھی اس لئے ان کے علاج سے معذرت کر لی گئی. (ایک اور مسلہ ہمرے ساتھ کسی خاتون ڈاکٹر کا نہ ہونا تھا)

میڈیکل کیمپ میں کچھ اور خواتین اور مرد حضرت بھی لائے گئے جن کو مختلف امراض کی شکایات تھی جن کو دستیاب ادویات دے کر میران شاہ کے کسی اسپتال میں تفصیلی چیک اپ کرانے کا مشورہ دیا گیا. 

یہاں موسم اور حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں. پورے دتہ خیل میں صرف ایک ہی کلینک موجود ہے جہاں اکثر ادویات یا ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے. ٹیم آشیانہ ایک عرصے سے یہاں کے لوگوں کے لئے فری میڈیکل کیمپ لگا رہی ہے مگر ہم بھی فنڈز کے عدم دستیابی ، ڈاکٹرز کے عدم موجودگی ادویات کے نہ ہونے کے سبب اپنا میڈیکل کیمپ کی سہولت بار بار نہیں دے سکتے. اس دفع بھی ہم چاہ کر بھی ہم یہاں کے لوگوں کی مدد نہیں کر سکے، جس کے لئے ہم الله پاک کے حضور معافی اور توبہ  کرتے ہیں اور بہت شرمندہ ہیں. 

بلال محسود اور کچھ بچوں کے خیالات:
بلال محسود کا ذکر میں اکثر کرتا ہوں، میں جب بھی نادم  ہوتا ہوں، شرمندہ ہوتا ہوں، کچھ کر نہیں پاتا یا کچھ سمجھ نہیں آتا تو بلال کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں، بلال مجھ سے ہر بات کرتا ہے اور اس کے ذہن میں جو بھی ہوتا ہے کھ ڈالتا ہے، رات کو بلال کچھ بچوں کو لے کر میرے پاس آیا    ان بچوں کے کپڑے بہت میلے اور پورانے تھے، بچوں کو سہی سے اردو بولنا بھی نہیں آتی تھی، بچوں نے مجھ سے بہت محبت سے سلام کرا اور ایک طرف ادب سے بیٹھ گئے. بلال میرے اور بچوں کے درمیان مترجم کا کردار ادا کر رہا تھا. مجھ کو اب اکثر ایسا محسوس ہونے لگا تھا کے جیسے بلال میرا چوتھا بھائی ہے جب وہ سامنے ہوتا ہے تو میں کچھ نہ کچھ سمجھاتا رہتا ہوں اور جب سامنے نہیں ہوتا  تو مجھ کو اس کی فکر ہونے لگتی ہے کہ وہ کہا ہوگا؟ کیا کر رہا ہوگا؟ پتا نہیں اس نے کھانا بھی کھایا ہے یا کس حل میں ہے؟ میں نی بلال کو ایک دفع پھر ٹیم آشیانہ کے حالات بتانا شروع کیے بلال کی حالت مجھ سے بھی زیادہ خراب ہونے لگی وہ اپنی ہے سوچ میں گم ہو گیا، میں نے بلال کو سمجھایا کے ہم اس ترہان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا. تو بلال نے جو جواب دیا اس نے مجھ کو دہلا کر رکھ دیا. 
اس نے مجھ سے کہا "بھائی آپ اپنے دوستوں کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو چلے جاؤ، ہم لوگ تو ویسے بھی زندگی کو بھول چکے ہیں، یہاں طالبان والے آتے جاتے رہتے ہیں، اور ہم کو جہاد پر جانے کا کہتے ہیں اور ہم کو لالچ دیتے ہیں کے جس گھر کا ایک بندہ جہاد پر جائے گا اس کے گھر والوں کے ہر بات کا خیال وہ لوگ کریں گے جو بندہ ایک امریکی کو مارے گا اس کو بہت پس اور عزت ملے گی، جو بندہ جہاد میں شہید ہوگا اس کے گھر والوں کے ساری زندگی خیال رکھا جائے گا اس ترہان کے بہت لالچ دیا جاتا ہے. حالات سے مجبور اور تنگ لوگ جہاد پر جانے کی حامی بھر لیتے ہیں اور ان کے گھر والوں کا یہ لوگ خیال رکھتے ہیں.  تو بھائی آپ واپس جاؤ ہم لوگ (بلال اور بچے) جہاد پر جانے والوں میں نام لکھوا لیتے ہیں اس طرھ ہمارے گھر والوں کی پریشانی اور تکلیفیں تو دور ہونگی ." 
میں بلال کی باتیں سن کر بہت زیادہ پریشان ہو گیا تھا، میں نے عدنان بھائی کو بلوایا اور ان کے سامنے ساری بات رکھی. عدنان  بھائی کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار نظر آرہے تھے، انہوں نی بہت شفقت اور محبت سے بلال کے سر پر ہاتھ پھیرا بلال رونے لگا تو اور بچے بھی رونے لگے مجھ کو اور عدنان بھائی کو بھی رونا آگیا. کچھ دیر بعد عدنان بھائی نے سورۂ فاتحہ تلاوت کری اس کا پشتو، اردو ترجمہ کیا. صبح بچوں کو سمجھایا کے الله پاک کیا فرماتے ہیں. پھر جہاد کے بارے میں کچھ بتایا کے جہاد کیا ہے؟ اور کس کس قسم کا ہوتا ہے؟ اور الله کی راہ میں جہاد کس کو کہتے ہیں. اور جو طالبان کہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں وہ کونسا اور کیسا جہاد  ہے؟ اور اس جہاد کو جہاد نہیں خودکشی کہا جاتا ہے. میں جب سے ٹیم آشیانہ کے ساتھ ہوں عدنان بھائی کو ہمیشہ بہت محتاط انداز میں بات کرتے دیکھا اور سنا ہے، وہ کبھی ایسی بات نہیں کرتے جس سے ٹیم آشیانہ یا مقامی لوگوں کو کوئی پریشانی ہو  مگر آج وہ بہت کھل کر طالبان اور شدت پسندوں کے خلاف اظہار کر رہے تھے، اور بچوں کو بچوں کے ہی انداز میں سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، میں سمجھ گیا تھا کے خود عدنان بھائی بھی بچوں کی بدلتی سوچ سے پریشان ہیں اور میں تو خوفزدہ ہی تھا. وہ کچھ دیر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر واپس دوسرے ساتھیوں کے پاس چلے گئے. اور مجھ کو بچوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہنے کا اشارہ کر دیا. میں نی ایک دفع پھر دل سے الله کو یاد کیا اپنے گناہوں پر معافی مانگی توبہ کاری اور دعا کاری کے میرا رب (الله) مجھ کو اتنی ہمت اور طاقت دے کے میں ان بچوں کے بدلتے ہووے ذہنوں کو بدل سکوں اور ان کے خیالات کو سہی کر سکوں. آمین.

میں نے بلال کے ذریے باقی بچوں کو مخاطب کیا اور بچوں کو تعلیم کی طرف توجہ دینے کا کہا بچوں کو تعلیم کے فوائد اور آسانی کے بارے میں بتایا اور کوشش کاری کے بچوں میں پڑھنے لکھنے کا شعور بیدار ہو. جب میری بات مکمل ہوئی تو بلال پھر سے بولا، "بھائی جب ایک انسان دن بھر کا بھوکا ہو، اور اس کی ماں، بہن، بھائی یا باپ بیمار ہو اور دوا نہ ہو، سر پر ڈرون ہوں اور زمیں پر فوج حملے کر رہی ہو تو کوئی بھلا کیسے کتاب کھول کر بیٹھ سکتا ہے؟ بلال کی یہ بات غلط نہیں تھی اور بلکل سہی تھی،  ہم (ٹیم آشیانہ) ان حالات کا سامنا کر رہی ہے، ہم کسی بھی فلاحی کو پوری دلجمعی سے نہیں کر پا رہے ہیں تو ان بچوں کی سوچ سہی ہے یہ لوگ تو یہاں کے رہنے والے ہیں اور ان سب مشکلات میں گھرے ہوے ہیں. یہ بھلا کیسے پڑھیں گے؟ میرے دل میں ایک خیال آیا میں نی بچوں سے کہا کے وہ اپنے اپنے گھروں یا ٹھکانے پر جائیں اور کل صبح پھر میرے پاس ہے ہم کم از کم مل کر بیٹھ تو سکتے ہیں بات تو کر سکتے ہیں. اور الله کو یاد کرتے رہیں. الله پاک ضرور کوئی نہ کوئی راستہ دکھائے گے.
 سب چلے گئے مگر بلال نہیں گیا کچھ بولا بھی نہیں مگر اس کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کے اس کی سوچ کس راستے پر چل پڑی ہے، اور یہی سوچ کر مجھ کو خوف محسوس ہو رہا تھا. میں نے بلال سے ادھر ادھر کی باتیں کرنا شروع کاری مگر وہ کچھ نہیں بول رہا تھا بس کبھی آسمان کی طرف دیکھتا کبھی میری طرف کبھی زمیں کی طرف بول کچھ نہیں رہا تھا. میری معلومات کے مطابق وہ شدید نفسیاتی دباؤ میں تھا یا پھر پچھلے دنوں میں شدت پسندوں کا کوئی رہنما بلال کی ذہن پر اچھی ترہان کم کر چکا تھا اور اگر ایسا تھا تو بلال بھی، میں اس سے آگے کچھ اور سوچنا نہیں چاہتا تھا، مجھ کو جو بھی کرنا تھا بہت جلدی کرنا ہوگا، یہی سوچ کر میں نی بلال کو ساتھ لیا اور عدنان بھائی کی طرف چلا گیا. میں بلال کو لے کر بہت زیادہ پریشان  ہوں. 

عدنان بھائی سے مل کر کیا باتیں ہوئی؟ میں کیا سوچ رہا ہوں یہ سب میں انشا الله اگلی ڈائری میں لکھوں گا. فلحال مجھ کو کم از کم بلال کو بچانا ہے، بلال کو حرام موت نہیں مرنے دینا، اور میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کے مجھ کو کیا کرنا ہے. آپ سب میرے لئے، بلال کے لئے اور ٹیم آشیانہ کے لئے دعا کریں کے ہم ثابت  قدم رہیں، اگر ہم غلط ہیں، ہماری سوچ اور فکر غلط ہے تو الله پاک ہم کو  ہدایت دے، ہم کو سیدھا راستہ دکھائے جس پر چل کر ہم سب اپنے بچوں کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روک سکیں، ملک دشمن اور اسلام دشمن لوگوں سے محفوظ رکھ سکیں. آمین.

کارکن،
ٹیم آشیانہ، دتہ خیل، شمالی وزیرستان.