Showing posts with label Ashiyana Camp North Waziristan. Show all posts
Showing posts with label Ashiyana Camp North Waziristan. Show all posts

Sunday, 2 June 2013

میرانشاہ، شمالی وزیرستان: احمد بھائی کی ڈائری

محترم دوستوں، اسلام و علیکم....

جب سے یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) آیا ہوں نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت ملی ہے نہ ہی کوئی اور ایسا راستہ جس سے میں اپنی امی (والدہ)، دوست احباب و دیگر سے رابطے میں رہ سکوں، بہن فریال ہمارے ساتھ یہاں (آشیانہ کیمپ) میں مقیم نہیں ہیں وہ میرانشاہ شہر میں ہیں اور وہاں ان کو کبھی کبھار انٹرنیٹ اور فون جیسی سہولیات میسر آجاتی ہیں جس سے وہ جتنا بھی ممکن ہو یہاں (میرانشاہ) کے حالات سے اپنے دوست احباب و دیگر کو آگاہ کر دیتی ہیں. 

گزشتہ ماہ میں یہاں آیا تھا تو آشیانہ کیمپ میں ہر طرف پریشانی اور بدحالی موجود تھی، ہر طرف پریشانی ہی پریشانی تھی، عدنان بھائی ہمیشہ کی طرح ایک طرف بیٹھے رہ کر آسمان کی جانب منہ کر کے دعاؤں میں مشغول رہتے اور باقی کارکنان ادھر ادھر رہتے، یہاں کے قوانین اور رواج کے مطابق فریال باجی کو آشیانہ کیمپ میں مقیم رہنے کی اجازت نہیں وہ پتا نہیں کس حال میں اور کدھر ہونگی ان کی خیر خبر ملتی رہتی ہے. 

عدنان بھائی نے فلاحی خدمات کا جو سفر آج سے برسوں پہلے شروع کیا تھا آج بھی وہ سفر جیسے تیسے کر کے جاری ہے اور اس سفر میں ہمیشہ کی طرح اونچ نیچ آتی جاتی رہتی ہے. میں کراچی سے اپنے ساتھ جو کچھ امدادی سامان لا سکتا تھا لے آیا، جن میں زیادہ تر کتابیں کاپیاں اور پڑھنے لکھنے کا سامان موجود تھا. دیگر میں مقامی طور پر راشن اور ادویات کی خریداری کری. یہاں آج کل بدلتے موسم کی وجہہ سے مختلف بیماریوں کا بہت زیادہ اثر ہے، بچوں میں بخار، خسرہ اور دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں جبکہ خواتین میں سے اکثر ہیپاٹٹس (پیلیا) کی بیماری میں ہیں، مرد حضرت بھی اکثر بیمار ہیں. 

میرانشاہ میں جہاں ایک طرف غذائی قلت کا سامنا ہے وہی جو غذائی اجناس دستیاب ہیں ان کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی نظر آرہی ہیں. دوسری طرف پورے میرانشاہ میں صرف اور صرف ٢ اسپتال کام کر رہے ہیں جن میں ادویات و دیگر کی شدید کمی ہے. مجھے ایسا لگا تھا کہ حالات کچھ بہتر ہوۓ ہونگے اور یہاں کچھ تو بہتری آئی ہوگی مگر ایسا کچھ بھی نہیں. ایک دفع پھر سے رونے، جلنے اور پریشان ہونے کے سوا میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے. 

ٹیم آشیانہ کو ملنے والے فنڈز، غذائی اجناس، ادویات و دیگر امداد اب نہ ہونے کے برابر ہے. صرف کچھ مقامی اور ہم دوستوں کے اہل کخانہ جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کر رہے ہیں، مگر یہ سب اتنا آسان اور کافی نہیں ہے. عدنان بھائی بھی اب ایسا معلوم ہوتا ہے کے جیسے تھک سے گئے ہیں ، تمام تر کوشش اور محنت کے باوجود ہم یہاں کے لوگوں کی مدد نہیں کر پا رہے ہیں. دوسری طرف کچھ ایسے لوگ جن کو ٹیم آشیانہ کی جانب سے کیے جانے والے فلاحی کام  پسند نہیں، یا پھر جو ایسا سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ یہاں کسی ایجنڈے یا کسی کی ترجمانی کرنے آئے ہیں ہم لوگوں کو ہر طرح سے یہاں (شمالی وزیرستان) میں فلاحی کام کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں. عدنان بھائی کی ثابت قدمی اور مقامی لوگوں کی جانب سے دیے گئے حوصلے کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کے کارکنان ابھی تک کسی نہ کسی طرح یہاں (میرانشاہ شمالی وزیرستان) میں فلاحی کام  سر انجام دے رہے ہیں.

ٹیم آشیانہ کی جانب سے روزانہ دو (٢) وقت کے کھانے (غذا) کی فراہمی کا نیک کام گزشتہ ٢ ماہ سے رکا ہوا ہے، جس کی صرف ایک ہی وجھہ ہے فنڈز کا نہ ہونا. اکثر لوگ جو شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے امن، سکون، روزگار کی تلاش میں یہاں (میرانشاہ) آئے ہیں، ان کے پاس نہ ہی سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ ہے اور نہ ہی دو (٢) وقت کی روٹی کا کوئی انتظام ہے، ایسے میں آشیانہ کیمپ میں ایسے لوگوں کو وقتی طور پر سر چھپانے اور کھانے پینے کی سہولت مل جایا کرتی تھی جو کہ ابھی ممکن نہیں رہی ہے. 

ٹیم آشیانہ، ہر ماہ ٢ سے ٣ دفع فری میڈیکل کیمپ لگایا کرتی تھی، جہاں پر یہاں (میرانشاہ) کے مقامی لوگوں کو کچھ طبی امداد اور ادویات مل جایا کرتی تھیں مگر فنڈز کی شدید کمی اور دیگر مجبوریوں کی بنا پر ہفتواری فری میڈیکل کیمپ نہیں لگایا جا رہا ہے. 

آشیانہ  کیمپ کے زیر اہتمام، مقامی لوگوں (وزیرستانی) کی اجازت اور ان کی مدد سے ایک اسکول شروع کیا گیا جہاں پہلے ہے دن ٤٠ (چالیس) سے زیادہ مقامی بچوں نے داخلہ لیا، یہ اسکول ایک ٹینٹ میں بنایا گیا ہے. اس میں فالحال ٢ بلیک بورڈ اور ٤ اساتذہ موجود ہیں اور آج تک اس اسکول میں ٦٠ سے زیادہ بچے داخل ہو چکے ہیں. مقامی افراد اپنے بچوں کو پڑھانا لکھنا چاہتے ہیں مگر ہم کو اس اسکول کو بھی جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے. یہاں کی مقامی آبادی لڑکوں کو تو اسکول بھیجنے پر راضی ہے مگر لڑکیوں (بچیوں) کو کسی بھی طرح اسکول بھیجنے پر راضی نہیں ہو رہی ہے. اس سلسلہ میں عدنان بھائی اور دیگر کارکنان مقامی آبادی کے ساتھ روزانہ ہی بات چیت کرتے ہیں، کچھ مقامی افراد جو اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے پر راضی ہوۓ ہیں مگر انجانے خوف سے عمل کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں. 

میری بنیادی ذمہ داری میں آشیانہ اسکول کے انتظام اور بچوں کو تعلیم دینا شامل ہے. میں کیونکہ پیشے کے حساب سے ایک استاد ہوں اور اپنے زمانہ طالبعلمی سے ہی پڑھاتا رہا ہوں تو عدنان بھائی اور دیگر کارکنان نے مجھ کو آشیانہ اسکول کا نگران منتخب کیا ہے اور مجھ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ جب تک یہاں مقیم ہوں یہاں کے بچوں کو بہتر سے بہتر انداز میں تعلیم دوں اور یہاں کے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی تربیت کر کے اساتذہ بنا جاؤں تاکہ میرے یہاں سے جانے کے بعد یہاں کے لوگوں میں علم حاصل کرنے کا جوش بر قرار رہے، جس کے لئے میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں اور پوری محنت و لگن کے ساتھ چاہتا ہوں کہ یہاں کے بچوں میں علم حاصل کرنے کی جستجو پیدا ہو سکے، یہاں کے بڑے، بزرگ علم کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے بچوں کو درسگاہوں میں بھیجیں. (انشا الله ہم سب ایک نہ ایک دن اپنی اس کوشش میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے)

پاکستان کے دیگر شہروں کے برخلاف یہاں کے مقامی لوگ جو برسوں سے میرانشاہ میں مقیم ہیں. یا شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں سے امن و سکون اور روزگار کی تلاش میں میرانشاہ میں آکر مقیم ہو رہے ہیں کے ذہنی حالت بہت زیادہ  خراب ہے.یہاں کے مقامی لوگ ہمیشہ کسی نہ کسی انجانے خوف کا شکار رہتے ہیں. خاص کر یہاں کے جوان، اور بچے، خواتین کی حالت بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے، یہاں خواتین کو صنف نازک سے کچھ زیادہ ہی سمجھا جاتا ہے، بہت کم عمری میں شادی کردینا عام بات ہے خواتین نہایت پردے میں رکھی جاتی ہیں جس کی وجہہ سے ان میں شعور موجود نہی. کچھ خواتین جو کچھ زیادہ سوال جواب کرتی ہیں یا باہر کی دنیا سے آشنا ہونا چاہتی ہیں ان کو سزا کے طور پر کمروں میں قید کر دیا جاتا ہے. یا پھر میرانشاہ سے کہی دور بھیج دیا جاتا ہے. 

ایک بات جو یہاں قبل ذکر مجھ کو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں مذہبی رواداری بہت اچھی ہے. مقامی لوگ ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ہیں، ایک دوسرے کے خوشی یا غم میں شریک ہوتے ہیں، علاقہ غیر یا کسی انجان شخص کے میرانشاہ میں داخل ہوتے ہی ہر کسی کو اس کی فکر ہوتی ہے. ایک روٹی کو آپس میں تقسیم کر کے کھاتے ہیں. صبح فجر پر اٹھ جاتے ہیں اور رات جلدی سو جاتے ہیں. خالص دیسی ماحول!

سیکورٹی  ادارے جس جانفشانی سے یہاں کام کر رہے ہیں، اس کی جتنی تعریف کاری جائے کم ہے. اپنی جانوں کو ہمیشہ خطروں میں ڈال کر یہاں کے مقامی افراد کو ہر طرح کی سیکورٹی دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں. مگر پھر بھی یہاں ایک انجان خوف جو یہاں کے رہنے والے ہر فرد کے چہروں پر دیکھا جا سکتا ہے یہاں تک کے میرے چہرے پر بھی ہر وقت چھایا رہتا ہے. یہ خوف شاید موت کا ہے یا پھر ایسی اذیت کا جس کے ہم کسی بھی طرح متحمل نہی ہو سکتے. خاص کر جب کبھی شمالی وزیرستان کے کسی بھی علاقے میں ڈرون حملہ ہوتا ہے اس کے بعد یہاں میرانشاہ میں ہلچل مچ جاتی ہے ہر طرف ایک سناٹا چا جاتا ہے. لوگ آپس میں بھی باتیں کرنا ختم کر دیتے ہیں. اور خود کو گھروں تک محدود کر لیتے ہیں. ایسے میں ہماری حالت بھی بہت خراب ہوتی ہے اور ہم سب ایک طرف بیٹھ کر یہی سوچتے ہیں کہ اب ہمارا کیا ہوگا؟ کہیں ہم پر بھی کوئی غلط اور جھوٹا الزام نہ لگا دیا جائے.

ایک مسلم کی حثیت سے موت سے ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ موت تو برحق ہے مگر پتا نہیں کیوں مجھ کو ایک انجان خوف نے جکڑ رکھا ہے، اور شاید میری جیسی حالت یہاں کے مقامی لوگوں اور ٹیم آشیانہ کے دیگر کارکنان کی بھی ہے بس کوئی اظہر کر دیتا ہے اور کوئی نہیں کرتا. 

فلحال  کے لئے اتنا ہی امید کرتا ہوں آج نہیں تو کل میری یہ ڈائری میرے گھر والوں، دوستوں اور آپ سب تک پہنچ ہی جائے گی. آپ سب سے بس ایک ہی درخواست ہے. آپ ہماری (ٹیم آشیانہ) کی مدد کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہے. مگر شمالی وزیرستان جیسے خطرناک علاقے میں فلاحی خدمات سر انجام دینے والے میرے ساتھیوں کے لئے دعا ضرور کریں کہ الله ہم سب کو ہمت دے، حوصلہ دے، صبر دے کہ ہم اس آزمائش سے نبرد آزماں ہو سکیں. باقی اگر ہم میں سے کسی کی موت یہاں لکھی ہے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کو نہیں روک سکتی. دعا ہے تو بس فلاح کی، امن کی، سکوں کی اور عزت والی موت کی. 

میں  اس وقت بھی آشیانہ کیمپ میں مقیم ہوں، کراچی میں تو لائٹ (بجلی) آ ہی جاتی ہے، یہاں تو کافی دن ہوۓ بلب ضرور دیکھیں ہیں مگر جلتے کب ہیں یہ نہیں پتہ. دن کے وقت گرمی اور رات میں تھوڑا بہتر موسم ہوتا ہے. کھانے کے لئے جو کچھ ملتا ہے الله کا شکر ادا کر کے صبر سے کھا لیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کے الله پاک عزت کی زندگی دے - آمین.

کراچی اور جہاں کہیں بھی لوگ مجھے پڑھ رہے ہیں سب کو سلام دوستوں کو بہت دعا.

اسلام و علیکم 
احمد 
کارکنان و نگران 
آشیانہ اسکول، میرانشاہ، شمالی وزیرستان.
پاکستان

Saturday, 1 June 2013

میرانشاہ، شمالی وزیرستان: آشیانہ کیمپ اور اسکول کا سفر جاری

محترم دوستوں اور ساتھیوں اسلام و علیکم، 

ایک دفع پھر آپ کی خدمات میں حاضر ہیں، الله پاک کے فضل و کرم سے اور آپ سب کی دعاؤں سے ہم آج اس مقام پر ہیں کہ جس پر ٹیم آشیانہ کے ایک ایک کارکن، مددگار، ٹیم آشیانہ کے کارکنان کے خاندان والے دوست احباب اور جو جو ہم کو جانتے ہیں وہ سب الله پاک کے شکر گزار ہیں کے ہم کو آشیانہ کیمپ اور اسکول کے سلسلہ میں مدد ملی اور آج آشیانہ کیمپ اور اسکول میرانشاہ، شمالی وزیرستان میں مختصر ہی سہی مگر ایک منظم طور پر فلاحی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ ٦٥ بچوں میں علم کی شمع روشن کر رہا ہے. الله پاک کی اس مدد پر ہم سب جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے. 

دوستوں، میرانشاہ، شمالی وزیرستان میں اسکول کھولنا کوئی آسان کام نہیں ہے. یہاں کے لوگ قدامت پسند اور جدید تعلیم کو اسلام کے منافی سمجھنے لگے ہیں. اور یہ سبھی صرف اور صرف اسلام کے نام پر ہو رہا ہے، اس بحث  میں جانا ہمارا مقصد نہیں ہے مگر ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے اپنی پوری کوشش کری اور یہاں (شمالی وزیرستان) میں رہتے ہوۓ ہم نے یہاں کے مقامی لوگوں کو یہ بات سمجھانا چاہی کہ ان کے بچوں کے لئے تعلیم کی کیا اہمیت ہے؟ اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگا جس کی مخالفت میں ہم کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم کو مختصر طور پر آشیانہ کیمپ میں اسکول کھولنے کی اجازت مل گئی اور آج ٢ ماہ سے آشیانہ کیمپ میں اسکول قائم ہو چکا ہے جس میں ٦٥ مقامی بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں. 

آپ سب سے بار بار رابطہ ٹوٹنے کی بنیادی وجہہ میرانشاہ میں بجلی کی عدم  فراہمی، انٹرنیٹ اور موبائل کمنیکشن جیسی سہولیات کا دستیاب نہ ہونا ہے. ہم کو جب جب رابطے کی کوئی بھی صورت ملی ہم نے پوری کوشش کری کہ ہم اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو اپنے فلاحی کام اور دیگر حالات سے آگاہ رکھ سکیں.

دوستوں، ہم نے اپنے فلاحی مشن کے دوران بار بار کوشش  کری کہ  بھی  پاکستانی اور بینالاقوامی میڈیا کو دعوت دیں کے وہ کسی بھی طرح میرانشاہ آئیں اور یہاں کے حالات کو سری دنیا کے سامنے پیش کریں مگر افسوس کبھی امن و امان کی صورت حال اور کبھی دیگر مسائل کو سامنے رخ کر ہماری کسی بھی کوشش پر عمل نہی کیا گیا مگر ہم کو پورا یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن ساری دنیا شمالی وزیرستان کے لوگوں کے مسائل اور زمینی حقائق سے ضرور آگاہ ہوگی. 

گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹیم آشیانہ اور آشیانہ کیمپ کو فنڈز کی عدم دستیابی، غذائی اجناس و ادویات کی شدید کمی کا سامنا رہا ہے جس کی وجہہ سے ہم آشیانہ کیمپ اور اسکول کے سوا باقی کوئی بھی فلاحی کام سر انجام نہی دے سکیں ہیں جس کا ہم کو افسوس ہے. 

کراچی سے تشریف لائے ہوۓ ہمارے ساتھ کارکن روزانہ اپنی ڈائری لکھتے ہیں مگر افسوس کے انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہہ سے ہم وو ڈائری آپ تک نہی پہنچا سکے جس سے آپ کو ہماری روزمرہ کے کام اور حالات کا علم ہوتا. 

ہم نے اپنے طور پر ایک متبادل تلاش کیا ہے جس کے ذریعے ہمارے پیغامات پہلے یہاں (شمالی وزیرستان) سے پشاور جائیں گے وہاں سے انٹرنیٹ و دیگر سے آپ تک پہنچ سکیں گے. 

بہت  جلد آپ کی خدمات میں آشیانہ کیمپ کے زیر اہتمام چلائے جانے والے آشیانہ اسکول اور دیگر فلاحی کاموں کی تفصیلات پیش کر دی جائیں گی. 

آپ سب کی مدد اور دواؤں کے لئے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں آپ کی مدد ہمرے ساتھ رہے گی. 

جزاک الله 
کارکنان 
ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ، ١.٥ کلومیٹر. میرانشاہ، 
شمالی وزیرستان، پاکستان. 

ہم سے رابطے کے لئے اور ہمارے فلاحی کاموں میں حصہ لینے کے لئے درج لنک کو وزٹ کریں. 

Wednesday, 8 May 2013

ایک دفع پھر شمالی وزیرستان کا سفر. نئی ہمت، نیا حوصلہ

دوستوں اور ساتھیوں، 
اسلام و علیکم 

الله پاک نے ہمت دی ہے اور توفیق بھی دی ہے. تو ایک دفع پھر سے آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان جانے کے لئے کمر بستہ ہو چکا ہوں. جس وقت میں یہ ڈائری لکھ رہا ہوں میری تیاری مکمل ہے، تمام ضروری سامان جن میں اسس دفع میں بہت بڑی تعداد میں درسی کتابیں، لکھنے کے لئے کاپیاں، قلم و دیگر سامان شامل ہے، اس کے علاوہ بچوں، خواتین اور مرد حضرت کے لئے کچھ کپڑے، کچھ ادویات بھی شامل ہیں میرے امدادی سامان میں جو کچھ بھی شامل ہے یہ سب میں اور میرے خاندان کے لوگوں اور میرے چند قریبی دوستوں نے مل کر پچھلے ٢ ماہ میں جمع کیا ہے. عدنان بھائی بار بار اپیل کرتے رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں قائم آشیانہ کیمپ اور اسکول کو دوستوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے، وہاں سب سے زیادہ ادویات کی ضرورت ہے، ادویات کی کمی کی وجہہ سے میرانشاہ اور ارد گرد کے علاقوں میں مقیم بیمار بچوں، خواتین اور دیگر کا علاج نہ ممکن ہوتا جو رہا ہے. پاک افواج اور کچھ نجی اسپتال اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ بیمار لوگوں کو علاج و معالجے کو سہولت مہیا کریں مگر یہ ناکافی ہیں. مزید وہاں قائم کے گئے آشیانہ اسکول کو ہم سب کی مدد اور ماونٹ کی اشد ضرورت ہے. یہ اسکول نہ صرف عدنان بھائی بلکہ میرا ایک خواب ہے، میں اس سے پہلے بھی جب بھی وہاں گیا ہوں میں نے سب کو ایک ہی بات کہی ہے کہ ہم کو سب سے پہلے شمالی وزیرستان کے بچوں میں علم پھیلانا ہوگا صرف یہی ایک راستہ ہے جس سے ہم وہاں کے لوگوں میں سچ اور جھوٹ، حق و باطل، سہی و غلط کے درمیان فیصلہ کرنے کا شعور بیدار کر سکتے ہیں. جو لوگ بگاڑ چکے ہیں، جو لوگ پاکستان اور اسلام کو منفی طور پر استعمال کر رہے ہیں ان کو سمجھانا یا ان سے بات کرنا ہمارے بس میں نہیں نہ ہی ہمارا اختیار ہے، مگر فلاحی  و سماجی خدمات  کے اس سفر میں ہم کو اپنی بنیادی ذمہ داری کو نہ صرف سمجھنا ہوگا بلکہ سب سے پہلے خود عمل بھی کرنا ہوگا. 

میرا جب آخری رابطہ عدنان بھائی اور وہاں (شمالی وزیرستان) میں موجود ساتھیوں سے ہوا تو معلوم ہوا کے ایک دن میں دو (٢) دفع مفت کھانا فراہم کرنے والا سلسلہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بند کیا جا چکا ہے، آشیانہ کیمپ میں مقیم بے بس و بے سہارا وزیر بھائی بہن اب میرانشاہ اور اس پاس کے علاقوں میں جا کر کھانا مانگ کر کھانے پر مجبور ہیں. میں نے اپنی پوری کوشش کری ہے کہ میں جتنا بھی راشن کا انتظام کر سکتا ہوں کروں، بہن فریال جو گزشتہ کئی ہفتوں سے آشیانہ کیمپ میرانشاہ میں مقیم تھیں، خسرہ جیسی کسی بیماری کا شکار رہی اور گزشتہ ہفتے ان کو پشاور منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت کافی بہتر ہے، میری پوری کوشش ہوگی کہ شمالی وزیرستان جانے سے پہلے بہن فریال کی عیادت بھی کر سکوں. الله پاک آشیانہ کیمپ میں مقیم ہمارے ساتھ کارکنان، مقامی بھائی بہنوں اور دیگر پر امن لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے میں ہماری مدد کرے. اور تمام لوگوں کے دلوں میں رحم ڈالے کہ ہم سب مل کر وہاں کے مظلوم، بھوک و افلاس، تنگدستی سے نڈھال اور بیمار لوگوں کے لئے جزبہ ایمانی کہ ساتھ فلاحی اور سماجی خدمات سر انجام دے سکیں. 

ہمیشہ کی طرح میری والدہ میرے لئے اور تمام ساتھیوں کے لئے دیں کر رہی ہیں، میری بہنیں، عزیز و اقرباء، دوست سب ہی موجود ہیں. اور آشیانہ کیمپ، ٹیم آشیانہ اور مجھ کو اپنی دعا دے رہے ہیں.  دیگر احوال جب جب موقع ملا ضرور لکھ کر روانہ کرتا رہوں گا. 

کراچی سے راشن لے کر جانا نہ صرف کافی مہنگا پڑتا ہے بلکہ راستے میں چھینے جانے کا بھی خدشہ رہتا ہے اسی لئے کچھ رقم  ساتھ رکھی ہے اور باقی روانہ کردی ہے تاکہ مقامی طور پر جیسا بہتر لگے راشن کی خریداری کے لئے استعمال کی جا سکے. 

الله پاک ا دعا کر رہا ہوں کے جس جذبۂ سے جا رہا ہوں اس میں استقامت دے، مجھ کو ہمت دے، مجھ کو صبر دے، وزیرستان کے مشکل حالت ا سامنا کرنے کی توفیق دے. اور مجھ پر اپنا رحم و کرم کرے - آمین.

آپ سب سے بھی یہی درخواست ہے کہ مجھ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں. 

جزاک الله 
آپ کا دوست، آپ کا بھائی 
ایک انسان، ایک مسلمان، ایک پاکستانی 
منصور احمد. 
کراچی  

Friday, 5 April 2013

Syed Adnan Ali Naqvi (A Dairy from Miranshah, North Waziristan)

With the name of Almighty ALLAH who is most merciful and beneficial. 
Respected Readers,
اسلام و علیکم

Mutram doston,
Main "Syed Adnan Ali Naqvi" ek dafa phir aap ki khidmat main hazir hon. Buhat din howe apne dil ki baat kahe howe, aur likhe howe. Aaj ALLAH Pak ne yea moqa diya hai toh socha main ap ko Ashiyana Camp, Miranshah, North Waziristan, ke halaat se agah karon.

Guzishta month meri har dil aziz behen "Syeda Faryal Zehra" Canada se wapas tashref laa kar Team Ashiyana ke flahi kamon main sharik hoin. Karachi, Lahore, Abotabad, Rawalpindi aur Karachi se bhi degar Dost, Family Members, Ahbab aur degar kisi na kisi tarhan Team Ashyana ke North Waziristan ke flahi kamon "Social work" main hissa lete hi rehte hain. ALLAH Pak sab ko Ajr-e-Azim atta farmaye - Ameen. 

North Waziristan, ke hallat se buhat kaam he logon ko agahi hasil hoti hai. Main jab bhi Ashiyana Camp Miranshah main hota hon esa mehsoos hota hai ke jese iss dunya main nahi balke kisi aur Planet ke kisi hisse main muqem hon. jahan ghurbat, aflas, bhook, daar aur khoof hamesha mojood rehta hai. kabhi apnon ke hathon qatal ho jane ka khoof, kabhi gheron ke hathon mare jane ka khoof. iss par mushkil ye hai ke mujh ko aur yahan (Miranshah, North Waziristan) main mojood buhat hi kaam logon ko yeah ilm (maloom) hota hai ke akhir kis jurm ki saza pai hai. Kiun kar qatal howe, buss mare jane par khamoshi se tamam rasomat adda karo aur phir se zindagi ki talash main lag jao.

Buhat lamba waqt howa keh Karachi main muqim apne gher walon se baat hoi ho. Yahan (Miranshah) ajane ke baad jese tamam dunya se rabita he khatam ho gaya hai. Zindagi jese ek muqam par tham se gai hay. Roz jeeta hon aur roz marta hon. kabhi khud ko buhat khush qismat (lucky) samjhta hon keh aik azim maqsad ke liye nikla hon aur kabhi khud ko buhat he bad qismat (unlucky) ke mujh ko bhi zindagi ki tamam tar khushiyan aur aram mayasar asakte hain toh main ye kin chakaron main par gaya hon. kabhi kabhi yar dost mujh ko ahsas dilate hain kai buhat ho gaya abhi gher wapas ajao phir khayal aata hai ke agar main bhi gher wapas chala gaya toh jo thode buhat logon ki maddad ho rahi hai inn ka kia hoga. 

Main ne yahan buhat bachon ko bigarte dekha hai. Yahan logon ki majborian kharidi jati hain aur phir in zaindagiun ko kuch log ghalat kam main istimal karte hain. khud in bachon aur logon ko pata nahi hota kai akhir in ke sath ho kia raha hai. Taleem na hone ke sabab yahan ke logon main sochne aur samjhne ki slahiyat hi khatam ho chuki hai aur kuch maqsoos halat ki wajha se yahan ke log khud kuch sochne aur samjhne ke qabil hi nahi rahe. bus jo inn ke baron (sardaron, khan aur Malik) ne keh dia wohi in ke liye hurf -e- akhir hota hai. Aur phir yahan (North Waziristan) ke loog wohi karte hain jo inn ke bare chahte aur behter samjhte hain. Jo koi in ke khilaf jata hai woo kafir ho jata hai ya phir ghadar aur iss ki saza sirf aur sirf mout hai. 

Guzishta barson se flahi kamon ke mission ke doran mujh ko buhat dafa in baron se milne ka itifaq howa, kabhi mujh ko apne muslim hone ka yain dilana para kabhi mujh ko yahan ke logon ka wafadar hone ka yaqin dilana para. Magar main ne aik baat sabhi ke samne buhat khul kar kahi kai hum sab ka mustaqbil Pakistan ki salamti say hai aur main yahan sirf aur sirf yahan ke logon ki maddad karne ke gharz se aya hon. Ab zindagi aur mout to ALLAH Pak ne te kar rakhi hai jab tak aur jahan tak zindagi ka safar hona hay woh ho kar hi rahe ga. aur jo jo mushkilat raste main aani hain unn ka samna pori diyanatdari aur mehnat, himat sabar aur istiqamat se karna hoga. iss ke elawa na koi rasta hai aur na hi koi sabeel.

Social work ke iss safar main kabhi bachon ko muhhtalif bemariun se marte dekha, kabhi khwateen ko zachgi ke doran marte dekha, kabhi buzurgon ko dawa ki kami ke sabab marte dekha. Aur jab jab main khud ko kamzoor samjhta apne RAB se ek hi dua karta, "Aye Mere RAB, mujh ko hosla Aata Farma". aur mere RAB ne mujh ko hosla dia. aur kuch na kuch behtri aye. Main yahan sare ke sare logon ko toh tabdil nahi karsaka magar kuch loog aise sathi zaroor ban gaiye jin ke sath yahan mera rehna kafi assaan ho gaya. magar phir bhi har lamha aik khoof rehta hai ke agar meri koi baat, koi harkat yahan ke logon ko nagawar guzri toh kia hoga. 

Main apni har subh ka aghaz isi dua ke sath karta hon "Aaj ka din behter aur umid afza guzre" aur jab raat hoti hai tu yehi dua hoti hai "Ye raat jitna jaldi guzar sakti hai guzar jae."


Likhne ko aur bhi buhat kuch hai magar himat nahi kar paa raha hon. kiun ke akasar doston ko yehi shiykayat rehti hai keh main yahan ke logon ke dukh bhari kahani suna kar un ko bhi ranjida kar deta hon. magar aisa na karon toh aur kia karon? 

Aap sab mere haq main dua karen, Team Ashiyana ke haq main dua karen, Yahan (North Waziristan) ke logon ke haq main dua karen k ALLAH Pak hum sab ko himat de, sabar de, hosla de, aur istiqamat de ke hum yahan ke mushkil tareen aur pareshan kun halat ke bawajood yahan ke logon ke darmiyan reh kar in ko jinene ka maqsad bata saken. Yahan ke logon main taleem ki ahmiyat ko jaga saken, yahan ke logon main haq aur sach ka faraq phela saken.

In Sha ALLAH buhat jald aur bhi likhon gaa.
Team Ashiyana (Miranshah, North Waziristan) ke flahi kamon main jis qadar bhi madad mere doston, sahtiun, rishtedaron aur ahbab ne kari hai un sab ka dil ki gehraiun se shukar guzar hon . Aur umid karta hon k aane wale waqt main aap log kisi na kisi tarhan mera sath dete rahen gain. ALLAH Pak aap ko Ajr -e- Azim de. Ameen.

Jazak ALLAH
Aap ka bhai / Dost
Syed Adnan Ali Naqvi



Thursday, 7 March 2013

وزیرستان ڈائری: شمالی وزیرستان سے عدنان بھائی کی ڈائری

اسلام و علیکم 

ڈائری بہت لمبی ہے اور وقت کی کمی اکثر رہتی ہے، پھر بھی کوشش کرتا ہوں کے جتنا لکھ سکتا ہوں لکھوں. آج میں اپنے الفاظ نہیں لکھ رہا ہوں. بلکہ عدنان بھائی کے الفاظ لکھ رہا ہوں جنہوں نے ہم کو فلاحی کام کرنے کی ترغیب دی. ہم کو فلاحی کاموں کی اہمیت سے آگاہ کیا اور آج میں اور ہم سب ہی دوست عدنان بھائی کے ساتھ فلاحی کاموں میں جس قدر حصہ لے سکتے ہیں لے رہے ہیں.

عدنان بھائی کی ڈائری جو گزشتہ روز ہی مجھ کو ملی ہے. 

جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں ویسے ہی ہمارے فلاحی کاموں میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے. کراچی سے آنے والے ہمارے دوستوں نے جو مشورے یہاں (میرانشاہ) سے روانہ ہوتے وقت ہم کو دے تھے ہم تمام کارکنان نے ان سب ہی مشوروں پر بہت غور کیا اور آخر کر اسی نتیجے پر پہنچے کہ ہم کو یہاں (میرانشاہ) میں جاری فلاحی کاموں کو مزید تیز اور بہتر انداز میں کرنے کے لئے اپنے طریقے اکار میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کرنا ہونگی. تمام مقامی کارکنان اور دوستوں کے ساتھ بار بار کے بیٹھک (میٹنگ) کے بعد ہم نے کچھ نتائج اخذ کے ہیں اب ہم انہی کو استعمال کرتے ہوۓ اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھیں گے. 
آج ایک بہت لمبے وقت کے بعد کراچی اور کینیڈا میں مقیم اپنی فیملی (خالہ، خالو، کزن، بھائی، بہن، اور بھانجے بھانجیوں سے بات کرنے کا موقع ملا) پتا نہیں کیوں پوری ہمت کرنے کے باوجود بھی دل بھر آیا اور میرے ساتھ ساتھ میری فیملی کے لوگ بھی جی بھر کے رو پڑے. شاید ہم سب ایک دوسرے کو بھول ہی چکے تھے. برسوں سے فلاحی کاموں سے منسلک ہونے کے بعد کبھی سکوں سے بیٹھ کر اپنے بارے میں اور اپنی فیملی (خاندان) کے بارے میں سوچنے کا موقع بھی نہیں ملا. ہر دن اور ہر رات بس اسی فکر میں گزرتی جا رہی ہے کہ اب کیا ہوگا؟ میں جس کام کو مختصر مدت کا سمجھ رہا تھا یہ فلاحی کام تو چلا ہی جا رہا ہے. اور فلاح کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی ہے. بس الله پاک سے یہی دعا ہے کہ مجھ کو ہمت دے اور حوصلہ، استقامت دے کہ میں اسی جذبے کے ساتھ فلاحی کاموں سے منسلک رہوں. نہیں تو میں بھی ایک انسان ہوں اور یہ حد تک ہی دباؤ برداشت کر سکتا ہوں. میں تو اپنے دوستوں، خاندان والوں، اور احباب کا دل سے شکر گزر ہوں جو ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں. اور شاید یہی وجہہ ہے کہ میں ابھی تک یہاں موجود ہوں. 

ڈائری لکھنا بھی ایک بہت بڑی ذمہداری ہے، جس میں روز گزرتے حالات کے ساتھ ساتھ مجھ کو خود بھی اپنی شخصیت  اور اپنے فلاحی کاموں کا موازنہ  کرنے کا موقع ملتا ہے. اور آنے والے وقت کے لئے بہتر پلاننگ کرنے کے لئے بھی ایک اچھی دستاویز موجود رہتی ہے. 

یہاں (میرانشاہ) کے حالات کے بارے میں اگر کچھ لکھوں تو صرف اتنا کے برسوں سے (جب سے میں شمالی وزیرستان آیا ہوں) زندگی پر جمود طاری ہے. سب کچھ روز کی طرح ہی ہوتا ہے. لوگ صبح اٹھتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ معملات زندگی کے مطابق اپنا دن گزارتے ہیں. سردی ہو یا گرمی    سب کے معملات بلکل اسی انداز میں جاری رہتے ہیں. 

آشیانہ کیمپ کے معملات بھی کبھی کبھی جمود کا شکار ہو جاتے ہیں. فنڈز کی کمی تو اپنی جگہ رہتی ہی ہے مگر سماجی اور معاشرتی مسائل بھی ہمیشہ سے ہی موجود رہتے ہیں. جو لوگ شمالی وزیرستان کی تہذیب و تمدن سے آگاہ ہیں تو وہ یہ بھی جانتے ہونگے کہ یہاں مختلف قبائل رہتے ہیں اور ہر قبیلے کے رسم و رواج، طور طریقے الگ الگ ہیں. اور ہم جیسے سمجی کارکنان کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنا کبھی کبھی مشکل ہو جاتا ہے، پھر بھی مقامی لوگوں کے تعاون سے ہم کسی نہ کسی حد تک  اپنے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں. 

الله پاک کے فضل و کرم سے ہم یہاں (میرانشاہ) میں مقامی لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کے ہم کو یہاں ایک اسکول کھولنے کی اجازت دی جائے جہاں ہم یہاں بچے اور بچوں کو تعلیم دے سکیں، آشیانہ کیمپ کے ٹینٹ کو ہی آشیانہ اسکول کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے. آج پہلے دن قریب ٢٢ بچے اور بچیاں اس اسکول میں داخل ہوۓ ہیں اور ہم کو پورا یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اسکول میں آنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوگا. ہم جب سے یہاں (شمالی وزیرستان) میں ہیں یہی محسوس کر رہے ہیں کہ یہاں کے اصل رہنے والے مقامی لوگ بہت پرامن ہیں اور یہاں کی بگڑتی صورت حال سے بہت پریشان ہیں. مشاب یا مسلک کا یہاں کوئی مثلا نہیں ہے صرف اور صرف سمجھی اقدار کا مسلہ ہے جو سب قبول نہیں کر پا رہے ہیں. ہم بھی یہاں کے لوگوں کو یہی بتانے اور سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ہم اپنے بچوں کو تعلیم دینا شروع کر دیں تو شاید ہم کسی حد تک یہاں کے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کر لیں. اور انشا الله جس طرح ہم یاں پر معمولی سی تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں کہ لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے بہت فکرمند ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بھی کچھ کریں تو ایک دن یہی تبدیلی یہاں پر امن اور یہاں کے لوگوں کے حالت بدلنے میں بہت مدد گار ثابت ہوگی. انشا الله 

تفصیلات بہت طویل  ہیں، بشرط زندگی اگلی دفع میں تحریر کروں گا. 

عاجز 
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ 
١٥ کلومیٹر 
میرانشاہ، شمالی وزیرستان.
  

Tuesday, 26 February 2013

وزیرستان ڈائری: ایک اور دن کی ڈائری

محترم دوستوں 
اسلام و علیکم 

کچھ دن تھودا آسانی اور سہی گزرے سردی بہت زیادہ ہے کبھی کبھی بارش بھی ہو جاتی ہے. مگر ہمارے ٹینٹ اور شیلٹرز اتنے بہتر نہیں جو مستقل ہوتی بارش کا سامنا کر سکیں، اس بارے میں ہممقمی لوگوں سے مدد لینے کی پوری کوشش کر رہے ہیں. مگر افسوس اکثر مقامی لوگ تو خود مدد کے مستحق ہیں. بلال محسود پچھلے ٣-٤ دن سے نظر نہیں آرہا ہے. کچھ دن سے وو بہت بجھا بجھا اور خاموش نذر آرہا تھا کیمپ میں جاری فلاحی کاموں میں بھی بہتر انداز میں حصہ نہیں لے رہا تھا. مجھ کو اس کی بہت فکر ہو رہی ہے، کہیں وقت اور حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر بلال کسی غلط ہاتھوں میں چلا گیا ہو. میں نے باقی کارکنان سے بھی بلال کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے کہا ہے. الله کرے کوئی بہتر خبر مل جائے - آمین.

گزشتہ دنوں میں جو آئیڈیاز اور خیالات میں نے عدنان بھائی اور دیگر کارکنان کے سامنے رکھے تھے عدنان بھائی سے روزانہ ہی ان تمام پر بہت بات ہو رہی ہے. عدنان بھائی اور دیگر کارکنان میرے تمام خیالات اور ایدیز سے پوری طرح متفق نظر آتے ہیں مگر ایک تو یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں امن و  امان کی بگڑتی صورت حال پھر ٹیم آشیانہ کے فنڈز کے حالات ہم کو کسی بھی طرح کی مستقل منصوبہ بندی کی کوئی اجازت نہیں دے رہے ہیں. الله پاک آسانی کرے. مگر ایک بات سب کو بہتر لگی ہے کے ہم یہاں بھی ایک اسکول کا آغاز کر سکتے ہیں. جہاں ہم آشیانہ کیمپ میں مقیم بچوں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے بچوں کو بھی مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ علم کی روشنی پھیلا سکتے ہیں. اک اسکول کھولنے کا تجربہ  ہم دتہ خیل میں بھی کر چکے ہیں. جہاں علم اور تعلیم کا مقصد وہاں موجود بچوں کو شعور دینے کا تھا مگر مقامی آبادی اور کچھ کم عقل لوگوں نے بہت مزاحمت کری اور ہم کو اسکول کے ساتھ ساتھ ایک مدرسه کا بھی آغاز کرنا پڑا. ہم نے دتہ خیل سے میرانشاہ منتقلی سے قبل آشیانہ اسکول اور مدرسه کا انتظام مقامی لوگوں کے ذمہ کیا تھا اور ابہ صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ دتہ خیل میں جو آغاز ہم کر کے آئے ہیں وہ اپنے انجام تک موجود رہے - آمین.

ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان مقامی کارکنان کی مدد سے یہاں (میرانشاہ) میں ایک ایسا اسکول کھولنے کی کوشش میں ہیں جہاں ہم بچوں کو مستقل بنیادوں پر تعلیم دے سکیں اور علم کی اہمیت سے آگاہ کر سکیں. الله پاک ہماری مدد کرے. اس کے علاوہ عدنان بھائی اور دیگر کارکنان روزانہ دو (٢) وقت کے کھانے (دسترخوان) کی تجویز پر بھی متفق ہیں. یہ ایڈیا میں نے کراچی میں موجود چھیپا کے دستر خوان کو دیکھ کر دیا تھا. مگر اس کو شروع کرنے کے لئے اور جاری رکھنے کے لئے بھی بہت بارے فنڈ کی ضرورت ہے جبکہ آشیانہ کیمپ کو جاری رکھنے کے لئے بھی دستیاب فنڈز ناکافی ہیں. الله پاک بہتر کرے.   آمین. 

گزشتہ رات کا ایک واقعہ:
گزشتہ شب جب ہم لوگ نماز عشاء اور کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے تھے تو ایک بزرگ جن کو میں نے اور شاید دیگر کارکنان میں سے بھی کسی نے پہلے نہیں دیکھا تھا ہمارے قریب آئے اور ہمارے کو سلام کر کے ہمارے ساتھ بیٹھنے کی اجازت مانگی، لہجہ مقامی تھا اور انداز دوستانہ تھا. وو بزرگ ہمارے ساتھ بیٹھ گئے اور ہماری جاری گفتگو کو پوری توجھ کے ساتھ سننے لگے ہم ایک انجن بزرگ کی موجودگی میں اپنی گفتگو کو پہلے جیسے انداز میں جاری نہیں رکھ سکے. عدنان بھائی نے ہمت کر کے ان بزرگ سے ان کے آنے کا مقصد پوچھا تو تو ان بزرگ نے فرمایا کے الله کا بندا ہوں اور یہاں آپ لوگوں کو دیکھا تو ملاقات کی غرض سے چلا آیا. پھر میں نے ان بزرگ کا نام پوچھا تو پھر فرمایا کہ "الله کا بندا" ہوں. مزید کچھ پوچھنا مناسب نہیں لگ رہا تھا. کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ان بزرگ نے اپنا نام بتایا نام سن کر مجھ سمیت باقی ساتھیوں کو بھی ایک جھٹکا لگا، یہ نام ہم پہلے بھی سن چکے تھے، یہاں شمالی وزیرستان میں محترم کو بہت عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے. میں بوجھ ان بزرگ کا نام نہیں لکھ سکتا ہوں. ان کے تعارف کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ بزرگ یہاں (شمالی وزیرستان) کے اکثر حلقوں میں بہت عزت و احترام کی نذر سے دیکھے جاتے ہیں. یہ بزرگ ہم سے پہلی دفع مل رہے تھے جس کی وجہہ سے ہم سب لوگ کم ہی گفتگو کر پا رہے تھے. محترم نے ہم کو خاموش دیکھ کر خود ہی گفتگو کا آغاز کیا بہت پرسکوں آواز، دھیما لہجہ اور شفقت بھری آواز میں ہم کو اور ہمارے فلاحی کاموں کو سراہا، اور کچھ کاموں کو بہتر کرنے، روکنے کے بارے میں اپنی رائے دی. میں نے ہمت کر کے سوال پوچھ ہی لیا کہ آپ اکیلے یہاں کیسے؟ تو محترم نے فرمایا کے وو بہت دنوں سے ہم سے ملاقات کرنا چاہتے تھے مگر کچھ ذاتی مصروفیت اور کچھ ہمرے موجود نہ ہونے کے سبب ملاقات نہیں ہو پا رہی تھی. اور آج موقع مل ہی گیا. عدنان بھائی نے بھی اشارہ کر دیا تھا ک میں کوئی زیادہ بات نہ کروں اور نا ہی اپنی رائے دینے کی کوشش کروں، جس کے بعد میں نے خود کو سمجھایا کے مجھ کو خاموش ہی رہنا ہے.

محترم بزرگ نے ہمارے ساتھ ایک (١) گھنٹے کا وقت گزارا اور اس کے بعد ہم سے رخصت ہوے ہمارے حق میں بہت  دعا کر اور ہم کو صبر سے کام لینے اور ہمت و استقامت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کری ساتھ ہی ایسے لوگوں سے مہتات رہنے کی ہدایت بھی دی جو نہیں چاہتے کے یہاں (شمالی وزیرستان) میں استحکام ہو اور کسی بھی طرح کے فلاحی کام ہوں. عدنان بھائی اور دیگر ساتھیوں نے محترم کی باتوں کو بہت غور سے سنا اور بزرگ کو نہایت عزت و احترام سے رخصت کیا.  
           
    

Saturday, 23 February 2013

Team Ashiyana, North Waziristan is looking for Volunteer

Respected Friends,
اسلام و علیکم 

Team Ashiyana is working for the poor, hunger and suffer of North Waziristan. Ashiyana Camp is an example presently at Miranshah, North Waziristan.
We are looking for some local (Waziri, Pakhtoon) Volunteer to work and assist Team Ashiyana.
We are working in Education Sector, Health and Food Supply. 

Interested personals who wants to be a part of Team Ashiyana, Miranshah, North Waziristan, Please feel free to contact at on the given;

team.ashiyana@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

Who can be Volunteer?
Age of above 18 years and holding Pakistani National Identity.
Can Speak and understand Urdu, Waziri, Pashtoo / Persian language.   
Capable to stay in tents and work with the local in friendly environment.
Local's are highly encourage to be volunteer themselves.

محترم دوستوں، 
اسلام و علیکم،
ٹیم آشیانہ جو کہ گزشتہ کئی برسوں سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں فلاحی خدمات سر انجام دے رہی ہے. جن میں بچوں میں تعلیم کا شعور اجاگر کرنا مفت طبی کیمپ کا قیام اور نادار لوگوں میں مفت غذائی اجناس کی تقسیم شامل ہیں. 
ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں ایک فلاحی کیمپ "آشیانہ کیمپ" چلا رہی ہے. 
ہم کو اپنی فلاحی خدمات کو جاری رکھنے کے لئے مقامی کارکنان کی بطور والنٹیر ضرورت ہے. 
ٹیم آشیانہ میں شامل ہونے کے لئے: 
آپ کی عمر ١٨ برس سے زائد ہونا چاہیے 
پاکستانی شہریت رکھتے ہوں 
آپ اردو، وزیری ، پشتو / فارسی زبان بول سکتے ہوں اور سمجھ سکتے ہوں. 
آپ آشیانہ کیمپ میں موجود خیموں میں رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں 
مقامی لوگوں کے ساتھ دوستانہ انداز میں فلاحی خدمات سر انجام دے سکتے ہوں 
مقامی افراد کو ترجیح دی جاۓ گی. 

مزید تفصیلات یا ٹیم آشیانہ میں بطور کارکن شامل ہونے کے لئے ہم سے رابطہ کریں 
آشیانہ کیمپ، ١.٥ کلومیٹر، میرانشاہ، شمالی وزیرستان 
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca
faryal.zehra@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com

Sunday, 27 January 2013

Waziristan Dairy: آشیانہ کیمپ کی کچھ یادیں

محترم دوستوں 
اسلام و علیکم 

الحمد الله، میں اور میرے دوسرے ساتھ دوست جو کہ لاہور اور راولپنڈی سے ٹیم آشیانہ کا حصہ بننے آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان گئے تھے گزشتہ ہفتے (ویک) واپس اپنے اپنے گھروں کو ساتھ خیریت کے پہنچ گئے ہیں، یہ الگ بات ہے کے ہم میں سے اکثر دوست اور ساتھی شمالی وزیرستان کے سخت سرد موسم اور نہایت ہی خراب حالات کی وجہہ سے مختلف بیماریوں کے شکار ہوۓ جن میں مجھ کو نمونیا، فیصل بھائی کو سینے (چیسٹ) انفیکشن اور ندیم بھائی کو سخت بخار کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا. مگر یہ ایک حقیقت ہے کے ساتھ خیریت کے اپنے اپنے گھروں کو پہنچ جانے کے بعد کم از کم میری ادھ بیماری تو ختم ہو گئی اور باقی کی ادھ بیماری کے علاج کے لئے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات اور علاج کا سلسلہ جاری ہے اور بہت امید ہے کے میری طرح باقی ساتھیوں کو جو بھی بیماری لاحق ہوئی ہے وہ بہت جلد شفایاب ہو جائیں گے - انشا الله.


دوستوں،  میں آج سے ایک مہینہ قبل جب شمالی وزیرستان کے لئے کچھ امدادی سامان (جن میں بچوں اور خواتین کے لئے گرم کپڑے، جوتے، چپلیں، کچھ ادویات، کمبل وغیرہ شامل تھے) لے کر روانہ ہوا تھا تو اس وقت مجھ کو بلکل اندازہ نہیں تھا کہ شمالی وزیرستان کی سردی مجھ جیسے شہری انسان کے لئے کس قدر مضر اور پریشان کن ثابت ہو سکتی ہے. اپنے طور پر تمام تر اسباب اور سامان سے لیس ہو کر جب میں ٹیم آشیانہ کے کارکنان سے دتہ خیل، میں آشیانہ کیمپ میں ملا تو سب ہی حیران تھے کہ ہم اس سرد موسم میں وہاں کیا لینے گئے ہیں؟ مگر دل انسانی اور فلاحی خدمات کے جذبۂ سے سرشار تھا. سروں پر مسلسل ڈرون پرواز کر رہے تھے مگر دل اور دماغ اس اندیشے سے بلکل خالی تھا کہ یہ بلی جیسے ڈرون ہم جیسے لوگوں پر کسی قسم کا حملہ، کاروائی یا ہم سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کریں گے. مجھ کو پورا یقین تھا اور ہے کہ یہ بلی جیسے ڈرون صرف اور صرف ان لوگوں کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جو سرکار صاحب کی نظر میں غیر اخلاقی اور دنیا کے امن کے لئے خطرہ بن چکے ہیں اور ہم جیسے لوگ تو امن ہی کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں. تو اس دفع بلی جیسے ڈرون کا کوئی زیادہ خوف یا دبدبہ نہیں رہا مگر انتہائی سرد موسم نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا میں اور میرے دیگر ساتھی اس کے لئے ہر گز تیار نہیں تھے، اور سچ بات یہ ہے کہ آشیانہ کیمپ کی میرانشاہ منتقلی کے بعد مجھ کو اس بات کی بہت امید ہو چلی تھی کے اب ہم شرپسند لوگوں اور سرد موسم سے کافی حد تک محفوظ ہو چکے ہیں مگر میرے دونو ہی اندازے بلکل غلط ثابت ہوۓ. آشیانہ کیمپ کی دتہ خیل  سے میرانشاہ منتقلی کے بعد ہماری کوئی بھی پریشانی نا ہی ختم ہوئی نا ہی کم، بلکہ کچھ نئی طرز کی پریشانیوں نے گھیر لیا، کچھ ایسی پریشانیاں جن کا تعلق انتظامی اور فلاحی امور سے تھا (ان پریشانیوں کا ذکر آئندہ لکھوں گا). مگر سلام ہو ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکنان، آشیانہ کیمپ میں مقیم مقامی افراد جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں کو اور ٹیم آشیانہ کے سرپرست اور آشیانہ کیمپ کے نگران سید عدنان علی نقوی بھائی کے تدبر، فہم اور انسانیت دوستی پر کہ ہر لمحہ ثابت قدم رہے اپنے مقصد سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے، ہر طرح کے حالات کا نہ صرف سامنا کیا بلکہ کر رہی ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان سب کے حوصلے اور محبت اور فلاحی مشن میں تیزی ہی آتی جا رہی ہے. میں، میرے گھر والے میرے دوست و احباب اور ساتھ سب ہی عدنان بھائی کی صحت، تندرستی اور ان کی لمبی عمر کے لئے دعاگو ہیں، الله پاک عدنان بھائی، ان کے تمام ساتھیوں، آشیانہ کیمپ میں مقیم بزرگوں، بچوں، خواتین، اور تمام وزیرستان میں رہنے والوں کی مشکلات کو آسان کرے اور فلاحی مشن کو جاری و ساری رکھے - آمین. ہم سب لوگ بھی انشا الله ہمیشہ اپنا حصہ ڈالتے رہیں گیں.

ہم دتہ خیل میں رہے یا میرانشاہ میں ماحول وہی تھا جو سارے وزیرستان کا ہے. وہی سوال و جواب، طنز و تیر کے نشتر، وہی لوگوں کا مذھب اور مسلک سے متعلق پوچھنا، میرا خیال کے کہ جب تک میں وہاں مقیم رہا تب تک وہاں کے دیگر لوگ ہم کو کسی بیرونی تنظیم کا رکن ہی سمجھتے رہے. (ایسا شاید ان لوگوں کے ساتھ گزرتے حالات کی وجہہ سے ہے). مگر ان سب باتوں کے باوجود میرا اپنی (پاکستانی) افواج اور سیکورٹی اور سلامتی کے اداروں پر اعتماد، بھروسہ اور فخر اور بڑھ گیا ہے کہ جو ہم سے بھی زیادہ بہت مشکل، برے اور سخت ترین حالات میں مقامی شرپسندوں کی تمام تر مخالفت کے باوجود اپنے اپنے مورچوں پر ڈٹے ہوۓ ہیں. ان جوانوں کو نہ ہی غذا کی پروا ہے نہ ہی دوا کی فکر ان کا مقصد صرف اور صرف پاک سر زمین کی حفاظت اور جزبہ محبت پاکستان و اسلام ہے. میں ان جوانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں جو نہ صرف شمالی وزیرستان میں اپنی جان کی پروا یا فکر کے بغیر مادر وطن کی حفاظت پر مامور ہیں. مجھ کو ہر پاکستانی کو اپنی افواج اور سیکورٹی کے اداروں کے ایک ایک جوان پر فخر ہونا چاہیے کہ اپنے گھروں سے دور جذبہ شدت سے لبریز یہ جوان کس قدر مشکل حالات میں پاک سر زمیں کی حفاظت پر مامور ہیں. الله پاک ان جوانوں کو صبر، حوصلہ استقامت عطا فرماۓ اور ہم سب (پاکستانیوں) کو بھی وطن سے وہی محبت عطا کرے جو ان جوانوں کا لباس اور سرمایا ہے - آمین 

دوستوں،  میرا اور میرے دوسرے ساتھیوں کا جتنا بھی وقت آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان میں گزرا اس کا ایک ایک لمحہ میرے لئے ایک نیا تجربہ ثابت ہوا، ہر لمحہ میں نے کچھ نہ کچھ نیا سیکھا اور الله پاک کا شکر ہے کہ اس فلاحی مشن میں بہت دفع میرے قدم ڈگمگائے ضرور مگر میں گرا نہیں اور نہ ہی ہار مانی. اب اگر میں وہاں گزرے ایک ایک دن کی یادداشت لکھنے بیٹھوں گا تو یہ صفحات بھی کم پڑھ جائیں گے اور شاید میں بھی لکھ نہ سکوں. کیوں کے شمالی وزیرستان کی یادوں میں صرف اور صرف غم، افسوس، ملال، فکر و پریشانی کی باتیں ہی شامل ہیں. مگر کچھ ضروری باتیں انشا الله آنے والے وقت میں ضرور تحریر کروں گا جس سے شاید بیرونی دنیا کے لوگوں کو شمالی وزیرستان کے زمینی حقائق کو سمجھنے اور وہاں کے لوگوں کے مسائل کا اندازہ لگانے میں آسانی حاصل ہو. باقی کچھ باتیں اور مسائل ایسے ہیں جن کا ذکر کرنا مناسب نہ ہوگا کیاکہ ان باتوں کا تعلق میرے وقت پاکستان کی سلامتی سے ہے. 

ابھی کے لئے اتنا ہی، انشا الله بہت جلد (بشرط وقت کی دستیابی) اپنی یادداشت ضرور تحریر کروں گا. آج سے ہم کچھ دوست اور ساتھی آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان کے لئے بھیک مشن کا مقامی سطح پر آغاز کر رہے ہیں جس کے لئے کچھ دیر میں مجھے بھی باہرنکلنا ہوگا. تو اجازت دیں انشاء الله بہت جلد پھر ملاقات ہوگی. 

نوٹ: عدنان علی نقوی بھائی، کچھ مقامی ساتھیوں کے ساتھ اس وقت پشاور میں موجود ہیں اور بھیک مشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ فریال بہن (کینیڈا) کل رات ہی کراچی پہنچی ہیں اور مقامی ساتھیوں کے ہمراہ بھیک مشن کے سلسلے میں اس وقت راشد منہاس روڈ، گلشن اقبال میں موجود ہیں اور لاہور میں فیصل بھائی، راولپنڈی میں ندیم بھائی ملتان میں ڈاکٹر عرفان بھی اپنے اپنے طور پر بھیک مشن سر انجام دے رہے ہیں. الله پاک مدد کرے اور ہم کو اپنے فلاحی مشن میں کامیاب کرے. آمین 

جو دوست اور ساتھی بھیک مشن کے سلسلے میں یا کسی طرح کی امداد کے لئے ٹیم آشیانہ کے کارکنان سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں براہ کرم درج ذیل لنک استعمال کریں.
http://teamashiyana.blogspot.com 

جزاک الله 
آپ کا دوست اور ساتھ 
احمد، کارکن ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ، ١٥ کلومیٹر، میرانشاہ، شمالی وزیرستان     
     
  

Sunday, 20 January 2013

I'm back in town

محترم دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم 

آشیانہ کیمپ، میران شاہ، شمالی وزیرستان میں ایک مہینہ سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد میں اور میرے کچھ ساتھی  واپس اپنے اپنے شہروں (کراچی، لاہور، راولپنڈی) پہنچ چکے ہیں. انشا الله بہت جلد میں اور میرے ساتھی آشیانہ کیمپ، میرانشاہ میں گزرے وقت کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کریں گے.

میں اپنی طرف سے اور آشیانہ کیمپ میں موجود تمام ساتھیوں اور سید عدنان علی نقوی بھائی اور ٹیم آشیانہ کے تمام کارکنان کی طرف سے آپ سب کا شکر گزار ہوں کہ آپ لوگوں نے ہماری ہر مشکل وقت میں مدد کری. الله پاک آپ کو جزاۓ خیر دے. آمین.

منصور احمد 
کارکن، ٹیم آشیانہ، 
آشیانہ کیمپ، میران شاہ، شمالی وزیرستان.
 
ٹیم آشیانہ سے رابطے کے لئے:
http://teamashiyana.blogspot.com 

Tuesday, 8 January 2013

سید عدنان علی نقوی، آشیانہ کیمپ، شمالی وزیرستان سے ایک اپیل

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم

الله پاک کی ذات سے امید کرتے ہیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہونگے، الله پاک کی رحمت اور برکت کے سائے تلے ہونگے، الله پاک ہم سب پر اپنا رحم، کرم فرماۓ - آمین .
 مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ بہت محدود وسائل میں رہتے ہوۓ آپ اور اپ کے ساتھ ہماری مدد کرتے رہے ہیں، ہم بھی اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کے آپ کو کسی بھی طرح سے تکلف اور زحمت نہ دیں، انتہائی مجبوری اور بے بسی کے عالم میں ہی آپ سے رابطہ کرتا ہوں کے الله پاک نے آپ کو جو بھی توفیق دی ہے شاید اس سے ہم جیسے فلاحی کارکنان کی کوئی مدد ہو سکے. میں نے اپنے پورے فلاحی مشن کے دوران کبھی بھی رقم وغیرہ کا مطالبہ نہیں کیا نہ ہی اپنے لئے کچھ چاہا جو بھی آشیانہ کیمپ میں سب لوگوں کو میسر ہوتا ہے میں بھی ووہی استعمال کرتا ہوں اور اپنے آپ کو یہان مقیم لوگوں  سے الگ تصور نہیں کرتا. باقی حالت کا میں آپ کو بتاتا ہی رہتا ہوں.
  
محترم، جیسا کے آپ سب کے علم میں ہے کہ یہاں شمالی وزیرستان میں آج کل پاکستانی سیکورٹی ادارے ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں جس کی وجہہ سے میرانشاہ اور آس پاس کے علاقوں میں میں بار بار کرفیو نافذ ہو رہا ہے. پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں بھی بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور دیگر کمونیکشن (انٹرنیٹ، موبائل فون، اور دیگر سروس) بھی بار بار معطل ہو رہی ہیں. جس کی وجھہ سے ہمارا اپنے گھر والوں جو کہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں مقیم ہے سے رابطہ بھی ممکن نہی ہو پا رہا ہے. 

شدید سردی نے ہم کو بہت محدود کر دیا ہے. یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں مقیم لوگوں نے تو خود کو شاید حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے مگر ہم جیسے لوگ جو اس طرح کے موسم اور حالات کے عادی نہی ہیں کے لئے ان حالات میں خود کو محفوظ رکھنا بہت مشکل ہو رہا ہے. پھر بھی الله پاک نے جو ہمت، حوصلہ، صبر اور استقامت ہم سب دوستوں اور ساتھیوں کو عطا کری ہے اس کہ مطابق ہم اپنے طور پر یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں پریشان حال، گھروں سے بے دخل، بھوک سے نڈھال اور بیمار مقامی لوگوں کے لئے اپنی فلاحی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوۓ ہیں. اور الله پاک کے حضور دعا گو ہیں کہ ہم کو ہمت اور حوصلہ عطا کرے کہ ہم مزید استقامت کے ساتھ اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھ سکیں. آمین.

محترم ، ہمرے بہت سارے ساتھی اور احباب جو کہ یہاں موجود نہہ ہیں کہ ساتھ ہمارا رابطہ منقطع ہے جس کوجہہ سے ہمرے دوست اور ساتھی ہماری ضرورت اور حالات سے آگاہ نہیں رہ پا رہے ہیں. ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہر ممکن طریقے سے اپنے دوستوں سے رابطے میں رہیں. الله پاک ہمارے لیے آسانی فرماۓ - آمین.

گزشتہ کچھ دنوں میں ہم کو جو کچھ بھی امداد ملی ہمنے اس امداد کو آشیانہ کیمپ میں مقیم مقامی افراد کے لئے استعمال کیا. کیمپ میں گزشتہ کچھ دنوں سے کیمپ میں غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. اس کے علاوہ کیمپ میں ادویات موجود نہی ہیں جس کی وجھہ سے کیمپ میں مقیم افراد کو میرانشاہ   کے مقامی اسپتالوں میں جانا پڑھ رہا ہے ان اسپتالوں میں بھی ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں. 

ہم اپنی اکثر پوسٹ اور رابطوں میں اپنے دوستوں، ساتھیوں، احباب، گھر والوں اور پڑھنے والوں سے یہی اپیل کرتے رہے ہیں کہ آپ لوگ ہماری مدد کریں. ہم لوگ یہاں صرف اور صرف دکھی انسانیت کی خدمات کے غرض سے موجود ہیں. ہم یہاں کب اور کیا کرتے رہے ہیں ان کی تفصیلات سے ہم آپ سب کو آگاہ بھی کرتے رہے ہیں اور یہ بلاگ بھی اس بات کا سبوت ہے جو ہمنے ٢٠٠٩ سے قائم کر رکھا ہے جس میں ہم کو ملنے والی تمام امداد، امدادی رقوم اور اخراجات کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں. 

ہم یھاں پر ہیں، یہ حوصلہ آپ لوگوں کا ہی دیا ہوا ہے. آشیانہ کیمپ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم یہاں کے مشکل ترین حالت کا سامنا کرتے ہوۓ محدود پیمانے پر ہی سہی مگر یہاں کے بچوں، بوڑھوں، خواتین کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور ہر دم یہی دعا کرتے ہیں کہ الله پاک ہم کو مزید توفیق عطا فرماۓ. غیب سے ہماری مدد کے لئے وسائل مہیا کرے کہ جس سے ہم یہاں کے لوگوں کے لئے مزید فلاحی خدمات سر انجام دے سکیں. 

محترم،  گزشتہ کچھ دنوں سے ہم آپ کو یہاں درکار اشیاء کی تفصیلات بھیجتے رہے ہیں اور یه بھی بتاتے رہے ہیں کہ شدید سردی کی وجہہ سے یہاں کے لوگ کس طرح کی مشکلات کا شکار ہیں. کراچی اور لاہور سے آیے ہوۓ ہمارے فلاحی کارکن اس صورت حال سے بہت دل برداشتہ ہیں اور شاید واپس جانا چاہتے ہیں مگر جب تک سیکورٹی ادارے ہمرے کارکنان کو یہاں سے نکلنے کے لئے نہیں کہتے یہ کارکنان یہاں سے نہیں نکل سکتے. الله پاک ہم سب کو مدد و نصرت فرماۓ - آمین.

ہماری بہن فریال زہرہ جو یہاں کینیڈا سے تشریف لائی تھی اور واپس چلی گئی تھی وو بھی واپس آرہی ہیں الله پاک بہن فریال کے جذبہ انسانیت کو سلامت رکھے اور دکھی انسانیت کی خدمات کرنے کی توقیف اور ہمت عطا فرماۓ. آمین.

محترم، ہمیشہ کی طرح آج بھی ہم آپ کی خدمت میں صرف اور ضروری سامان کی تفصیلات رکھ رہے ہیں اس امید پر کہ الله پاک نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے کچھ آپ ہم کو روانہ کر سکیں اور ہم ان اشیا کو یہاں کے پریشان حال لوگوں کے لئے استعمال کر سکیں. 

ہم اس کے بدلے میں کسی بھی قسم کا وعدہ نہیں کر سکتے مگر یہ ضرور کہ سکتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح آپ کی دی ہوئی ایک ایک چیز اور عطیہ صرف اور صرف یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں موجود بے گھر لوگوں، یتیم بچوں، بیواؤں کے لئے ہی استعمال کیا جاۓ گا. ٹیم آشیانہ کا ایک ایک کارکن عطیہ کی گئی رقم اور سامان کو الله پاک کی امانت سمجھتا ہے اور اس امانت کو اس کے حقدار تک پہچانے کے لئے اپنی پوری کوشش کرتا ہے اور الله پاک کے فضل و کرم سے ہم اسس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں. الحمد الله   

محترم، درج ذیل سامان جن کی ہم کو اشد ضرورت ہے جس کے بغیر ہم یہاں خود کو بے مصرف اور ناکام تصور کرتے ہیں کی فہرست لکھ رہا ہوں، اور اس امیدپر کہ الله پاک آپ کو توفیق اور اجر عظیم عطا  فرماۓ - آمین 

١ - غذائی اجناس (ہر طرح کی اور جس مقدار میں دستیاب ہوں)
٢- بچوں، خواتین کے لئے گرم کپڑے (ہر طرح کے اور جس مقدار میں دستیاب ہوں)
٣ - ادویات (ہر طرح کی ادیوت جو موسمی اور دیگر بیماریوں کے لئے دستیاب ہوں)
٤- لکڑی، کوئلہ اور ایندھن کے دیگر استعمال میں ہونے والے اجزا 
٥- پینے کے لئے پنج کو صاف کرنے والی ادویات وغیرہ 

محترم، مندرجہ بالا اشیا ہم کو فوری طور پر درکار ہیں. جسکے لئے ہم اپنے تمام رابطوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. میں اور میرے ساتھ آپ سے ہاتھ جوڑ کر، الله پاک کے لئے اور انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں ہم کو تنہا نہ چھوڑیں. آپ لوگوں نے ہمیشہ کسی نہ کسی طرح ہماری مدد کری ہے، ہم کو ناکام نہیں ہونے دیا ہے. الله پاک کے نام پر کی جانے والی مدد کے لئے ہم کو اور آپ الله پاک کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہیے.میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ روز حشر  آپ کو الله پاک  کےحضور شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا. 

یہاں کے حالت کس طرح کے ہیں؟ اور یہاں کے شب و روز کس طرح گزر رہے ہیں اس برم این ہمرے ایک ساتھ کارکن ڈائری تحریر کر رہے ہیں  جو آپ ملاحظہ بھی کرتے رہے ہونگے. 

میں آپ کی آگاہی کے لئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ، گزشتہ کچھ دنوں سے یہاں (شمالی وزیرستان) میں سیکورٹی ادارے بہت کامیابی  سے ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کے خلاف مہم چلا رہے ہیں. الله پکحق اور سچ کی مدد کرے - آمین. اس طرح کی کاروائی کے دوران جہاں دیگر لوگوں کا نقصان ہوتا ہے وہیں سب سے بڑا نقصان مقامی آبادی اور لوگوں کے جان و مال کا ہوتا ہے. میں اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کیونکہ یہ میرا کام نہیں ہے. میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ، میر علی، شوال، دتہ خیل اور دیگر علاقوں سے پریشان حال لوگ اب میرانشاہ کا رخ کر رہے ہیں جن افراد کے کوئی عزیز و رشتےدار میرانشاہ میں موجود ہیں وہ ان کے گھروں پر رک رہے ہیں جبکہ باقی افراد مساجد یا دیگر جگہوں پر روکنے پر مجبور ہیں. میں تو چاہتا ہوں کہ ان تمام لوگوں کو اپنے آشیانہ کیمپ میں جگہ دوں مگر بہت مجبور ہو کر مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو آشیانہ کیمپ میں قیام کی غرض سے آنے والے لوگوں کو انکار کرنا پڑھ رہا ہے. جس کے لئے میں اور میرے ساتھی الله پاک کے حضور بہت شرمندہ ہیں. مجھکو پورا یقین ہے کے جو لوگ اب دوسرے علاقوں سے یہاں مجبوری میں آرہے ہیں یہ صرف عارضی قیام کریں گے اور حالات اور موسم کے بہتر ہوتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے. 

میں اور میرے ساتھ کارکن الله پاک کے حضور دعا گو ہیں کے الله پاک شمالی وزیرستان.جنوبی وزیرستان اور سارے پاکستان میں    امن و امان قائم رکھنے میں ہماری مدد و نصرت فرماۓ اور سارے پاکستان کو امن، دوستی اور خوشالی کا ایک نمونہ بناۓ، الله پاک ہمارے سیکورٹی اداروں کی مدد کرے کے وہ ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کو ختم کر سکیں. آمین .

محترم. میں ایک دفع پھر آپ سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ ہماری (ٹیم آشیانہ برائے شمالی وزیرستان) کی مدد کریں. مدد چھوٹی ہو یا بڑی ہمارے لئے بہت ہوتی ہے. ایک ایک زرہ کا احساس یہاں (شمالی وزیرستان) میں بہت اچھی طرح ہوتا ہے.   

میں آپ کو آپ کی کاری ہوئی مدد کے بدلے میں مچ دینے کا وعدہ تو نہیں کر سکتا ہن مگر یہ یقین ضرور دلاتا ہوں کہ آپ اور مجھے کبھی بھی اورکہی بھی الله پاک کا حضور شرمندہ نہیں  ہونا پڑے گا، انشا الله.
 آپ کی کری ہوئی مدد انشا الله مستحق اور حقدار لوگوں افراد میں صحیح طریقے تقسیم کی جائے گی. انشا الله 

بہت جلد آشیانہ کیمپ اور ٹیم آشیانہ کو رجسٹر کرنے کا انتظام ہو جائے گا کچھ دوستوں نے اس دفع یقین دہانی کروائی ہے کہ ٹیم آشیانہ کو ایک رجسٹر ادارہ بنانے میں جس قسم کی مدد کی ضرورت ہوئی کی جائے گی. الله پاک ان دوستوں کی اس محنت کو کامیاب کرے - آمین.

جزاک الله 
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ 
١.٥ کلومیٹر، میرانشاہ.
شمالی وزیرستان. پاکستان.
 میرا مختصر تعارف، اس لنک پر کلک کریں: http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/4420388.stm

آشیانہ کیمپ میں مقیم افراد کی مدد کرنے کے لئے:



For all of those who wants to contribute anything such as like, Warm Clothes, Tent, Food Stuff, Medicines, Books etc or wanna support us in logistic / transportation of relief goods for the victims / poor / hunger.  

Or

If anyone wanna be a part of Team Ashiyana as Volunteer.



Please contact us at on the following;

(0092) 0345 297 1618
(0092) 0323 846 6089





Or email us at following;

team.ashiyana@gmail.com

s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

faryal.zehra@gmail.com



For online contribution use the following:


 “Ashiyana”

Ms. Badar un Nissa.

A/c # 0100-34780-0.

United Bank Limited.

Gulistan e Joher Branch. (1921)

Karachi, Pakistan.

Swift Code: UNILPKKA
http://waziristandairy.blogspot.com
http://teamashiyana.blogspot.com
http://ashiyanacamp.blogspot.com 

Friday, 4 January 2013

وزیرستان ڈائری: مشکلات مگر فلاحی کاموں کو جاری رکھنا ہے


محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم 

آج کی ڈائری:

گزشتہ کچھ دنوں سے جس ذہنی خلفشار اور پسماندگی کا شکار ہوں اس کا اظھار یہاں (آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں موجود اپنے دیگر ساتھیوں سے بھی کر چکا ہوں. اپنی اسکفیت کو میں کیا نام دوں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا. بہرحال، یہی سیکھا ہے کے یہ بھی الله پاک کا ایک امتحان ہے اور ہم سب کو اس میں پورا اورکامل اترنا ہے. الله مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہمت، صبر، حوصلہ اور استقامت عطا کرے - آمین.

عدنان بھائی سے بات کر کے بہت سکوں ملتا ہے. عدنان بھائی مجھ کو اور کیمپ میں مقیم دیگر لوگوں کو اللہ کی رحمت اور ہمرے فرض سے ہم کو اس طرح آگاہ کرتے ہیں کہ دل میں ایک نیا جذبہ اور ہمت جاگ اٹھتی ہے. اور مجھ میں فلاحی کم کرنے کا ایک جذبہ جاگ جاتا ہے. جب سے میں یہاں آیا ہوں. ہر طرح کے حالت کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. تنگدستی فقر و فاقہ میں کس طرح گزارا کرنا ہے؟ یا بیماری میں بغیر ادویات کے کیسے خود کو سنمبھالنا ہے؟ یہ سب یہاں آکر ہی سیکھنے کو مل رہا ہے. ایک روٹی میں ٢ افراد کیسے گزارا کرتے ہیں. شدید سردی میں خود کو کس طرح محفوظ کرنا ہے. ہر طرف موت کے سائے موجود ہوں تو خود کو کس طرح سے محفوظ رکھنا ہے. یہ سب یہاں آکر ہی سیکھنے کو ملا. میں تو بس ایک ہی امید لے کر روز جاگتا ہوں اور اپنا دن گزرتا ہوں کہ ایک دن مجھ کو اپنے گھر واپس کراچی چلے ہی جانا ہے جہاں زندگی کی تمام تر سہولیات موجود ہیں. اور یہی ایک احساس مجھ میں جینے کی ایک امنگ جگا دیتا ہے. اور میں پہلے سے زیادہ جذباتی ہو کر ٹیم آشیانہ کے دیگر کارکنان کے ساتھ یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں فلاحی کاموں میں مصروف ہو جاتا ہوں. 
فنڈز کی کمی، ادویات کی کمی، غذائی اجناس کی کمی، ہمارا صرف یہی مثلا ہے. اگر کوئی ہم کو ادویات کی فراہمی کر دے، غذائی اجناس کی فراہمی کر دے، ہم کو گرم کپڑے فراہم کر دے تو مجھ کو پورا یقین ہے کہ ٹیم آشیانہ کے کارکنان دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی فلاحی کاموں کی ایک طریق رقم کر دیں گے - انشا الله. 

دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی ہم کو لوگوں کے عجیب عجیب سوالوں کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. ایک بہت الگ سوال ہے کہ ہمرا تعلق کس تنظیم یا ادارے سے ہے؟ میں تو اس سوال کا جواب دے نہیں سکتا کہ جب بھی میں بولتا ہوں تو الگ ہی بولتا ہوں اور میری باتیں لوگوں کو بہت آسانی سے سمجھ نہیں آتا. اور عدنان بھائی ہی لوگوں کو یہاں کی زبان میں جواب دیتے ہیں جو زیادہ بہتر ہے. میں تو صرف اتنا کہوں گا کے اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں. جو ہر طرح کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں. یہ صرف ہمارا ذاتی کردار اور عمل ہوتا ہے جس سے ہم پہچانے جاتے ہیں. افسوس کے اتنے سالوں سے یہاں (شمالی وزیرستان) کے لوگوں کی محدود پیمانے پر فلاحی خدمات سر انجام دینے کے بعد بھی یہاں کے لوگ اس طرح کے سوالات کرتے ہیں.  میرا ارادہ بہت جلد یہاں سے رخصت لینے کا ہے. میرا خیال یہی ہے کے میں کراچی میں رہ کر فنڈز کی مستقل فراہمی کا بندوبست کرتا رہوں اور یہاں (میرانشاہ) بھیجتا رہوں، یہاں کے مقامی لوگ اور عدنان بھی ہی یہاں پر زیادہ بہتر طریقے سے فلاحی کاموں کو سر انجام دے سکتے ہیں. ہم کچھ بھی کر لیں یہاں کے حالات ابھی اس قابل نظر نہیں آتے کہ ہم جیسے لوگ یہاں آکر فلاحی کام سر انجام دیں. (یہ میرا ذاتی تجربہ ہے،ہو سکتا ہے کے میں غلط ہوں).

دتہ خیل سے میرانشاہ آنا بہرحال تھوڑا آسان رہا، میں یہی سوچتا ہوں کہ اگر آج بھی ہم دتہ خیل میں ہوتے تو جانے کیا حال ہوتا؟ اور کیا حشر ہوتا، میرانشاہ ایک چھوٹا شہر ہے جہاں کچھ انسان تو نظر آتے ہیں دتہ خیل تو بس پہاڑوں کے درمیان تھا جہاں بنیادی سہلویات پانی جیسی چیز تک آسانی سے میسر نہیں تھی. 

گزشتہ کچھ دنوں میں بار بار یہاں کرفیو نافذ ہو رہا ہے. سنا ہے کی آگے کے علاقوں میں ڈرون حملے بھی ہو رہے ہیں. کہی کہی پاکستانی افواج بھی  پاکستان کے دشمن لوگوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہیں. میں اس بارے میں کچھ بھی لکھنا نہیں چاہتا کیوں کے یہ سیکورٹی اور پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ہے اور جہاں کہی پاکستان اور اسلام کا نام ہو تو وہاں مجھ جیسا کم عقل انسان بھی اپنی زندگی کو قربان کرنے سے باز نہیں رہ سکتا.  الله پاک ہم سب کو ایک سچا اور پکا مسلم اور پاکستانی بننے کی توفیق دے، آمین.

گزشتہ دن انٹرنیٹ سے ہی پتہ چلا کے سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں معصوم بچے بہت بری تعداد میں خسرہ جیسی مہلک بیماری کا شکار ہو کر  ہلاک ہو رہے ہیں. الله اکبر 
مجھے یاد ہے کے کچھ ماہ قبل جب میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ہمراہ کندھکوٹ، راجن پور، (سندھ) اور نصیرآباد (بلوچستان) میں سیلاب زدگان پاکستانی بھائی، بہنوں کے لئے فلاحی خدمات سر انجام دے رہا تھا تو اس وقت بھی میں اور میرے ساتھ بار بار اپنی تحریروں کے ذریعے اور ذاتی روابط سے تمام لوگوں سے بار بار اپیل کر رہے تھے کے سلب زدہ علاقوں میں  کسی بھی وقت کوئی موزی مرض پھوٹ سکتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں اور بچوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں. مگر اس وقت بھی ہماری اس پکار اور اپیل پر بہت کم لوگوں نیں کان دھرے تھے.  شاید ہم پاکستانی لوگ ہمیشہ سے کسی حادثے کے منتظر رہنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اب جب ہلاکتیں ہو رہی ہیں تو لوگ شور مچا رہے ہیں. عمل کتنا ہو رہا ہے یہ الله حیح جانتا ہے یا وہ لوگ جن پر اس بیماری اور سیلاب کی وجہہ سے ایک قیامت ٹوٹ پڑی ہوگی. الله پاک ہم سب پر اپنا رحم اور کرم فرماۓ - آمین. اور مخلص لوگوں،مخیر لوگوں کو یہ توفیق دے کہ وہ خود متاثرہ علاقوں میں جائیں اور فلاحی خدمات اپنے ہاتھوں سے سر انجام دیں.  کوئی ادارہ، کوئی حکومت، خود سے کچھ بھی کرے جب تک آپ خود  سے اپنے آپ کو فلاحی خدمات کے کاموں میں شامل نہہ کریں گے آپ کو اندازہ نہیں ہو سکے گا کہ دکھ اور تکلیف ہوتی کیا ہے. میں ایک دفع پھر سے اپیل کروں گا کہ جو لوگ کراچی اور دوسرے شہروں میں مقیم ہیں وہ اپنے اپنے طور پر ایک میڈیکل ٹیم بنائیں اور سلب سے متاصرہ علاقوں میں جا کر مفت میڈیکل کیمپ لگیں چاہے ایک دن کا ہو یا ایک ہفتے کا. الله نے چاہا تو ہم سب مل کر اس مشکل سے نجات حاصل کر لیں گے. انشا الله 

یہاں ، (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) کے لئے کیا لکھوں، کچھ لوگوں نے اور ہمارے قبل احترام میڈیا نے پورے وزیرستان کو ایک ایسا علاقہ بنا دیا ہے جہاں رہنے اور بسنے والا شاید ایک ایک شقص پاکستان مخالف ہے. اسلام مخالف ہے. لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے. یہاں کے لوگ بہت مجبوری اور بےبسی کے عالم میں جی رہے ہیں. ان لوگوں کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں ہے. پاکستان میں یہاں کے لوگوں کو دہشت گرد اور شدت پسند سمجھا جاتا ہے. جبکہ صرف کچھ لوگ ہی ایسے ہونگے جو لاٹھی اور ہتھیاروں کے بل پر یہاں کے غریب مجبور اور بے بس لوگوں کو ڈرا دھمکا کر رہ رہے ہیں. اکھڑ کو ہماری بہادر افواج بھی تو کتنے ہی مشکل حالات میں یہاں موجود ہیں. اور اپنی جنوں کی پروا کے بغیر پاکستان کی حفاظت کا کام سر انجام دے رہے ہیں. یہاں کے مسائل کا کیا حل ہے یہ مجھ کو نہیں پتہ مگر یہاں کے مقامی لوگوں کے مسائل کا حل ہم سب لوگوں کے پاس ہے. یہاں کے لوگوں کو روزگار، تعلیم، اور زندگی کی بنیادی سہولیات دے کر ہم ان سب کو پاکستان کی ترقی میں شامل کر سکتے ہیں. اور ایک نہ ایک دن ایسا ضرور ہوگا. آج ایک عدنان یہاں موجود ہے. کل انشا الله اور بھی لوگ یہاں فلاحی خدمات کی غرض سے ضرور آئے گے. اور ہم سب مل کر شمالی وزیرستان کو امن اور محبت کا گہوارہ بنا دیں گے. 

میں آخر میں اپنے گھر والوں، اپنی امی، اپنی بہنوں اور دوستوں سے یہی کہوں گا، کہ میں الله کے فضل و کرم سے ٹھیک ہوں، پریشن ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. کچھ مشکلات کی وجھہ سے بہت تھک گیا تھا. اور خود کو ہارتا محسوس کر رہا تھا. مگر ابھی خود کو سمبھال لیا ہے. اور سنا ہے کے موبائل سروس بھی بھال ہونے والی ہے. یا پھر انٹرنیٹ سے رابطہ بھی ممکن ہے. آپ سب اپنا خیال رکھے اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنی دواؤں میں یاد رکھیں.

الله حافظ 
آپ کا بیٹا، آپ کا بھائی، آپ کا دوست.


نوٹ:
دوستوں، اگر آپ آشیانہ کیمپ،میرانشاہ، شمالی وزیرستان، میں موجود ہماری ٹیم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں یا اپنا کوئی پیغام  ان تک پہچانا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک کا استعمال کریں. 
http://teamashiyana.blogspot.com

آشیانہ کیمپ میں جاری فلاحی کاموں کی تفصیل اور کیمپ کو درکار فنڈز اور سامان کی تفصیلات کے بارے میں معلومات کے لئے درج ذیل  لنک استعمال کریں. 
http://ashiyanacamp.blogspot.com

جزاک الله 

Wednesday, 2 January 2013

وزیرستان ڈائری: مشکلات اور پریشانیاں.

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم 

گزشتہ روز شایع کی جانی والی ڈائری میں ہمارے ساتھی یہاں  (آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان) کی بگڑی ہوئی صورت حال سے بہت پریشان اور مشکل کا شکار نظر آئے، ہم سب دوستوں اور ساتھیوں کی دعا ہے کہ الله پاک ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان کے ساتھیوں اور آشیانہ کیمپ میرانشاہ میں مقیم تمام لوگوں کی مشکلات، پریشانی اور مصائب کو آسان کرے اور ہم سب کو اپنے ساتھیوں کی مدد کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائیں (آمین).

آج ملنے والی ڈائری:

جو بھی لکھا اور لکھ رہا ہوں ایک ایک لفظ میری ذاتی سوچ، فکر اور میرے اوپر بیت رہے یہاں کے حالات کے مطابق لکھ رہا ہوں. 
مجھے نہیں پتہ کے ٹیم آشیانہ کے دیگر ساتھی اور خود عدنان بھائی، اس طرح کے مشکل حالات میں کس طرح سے خود اپنی ذہنی کیفیت کو سنمبھال رہے ہیں، مگر اپنی ڈائری میں وہی لکھ رہا ہوں جو میں محسوس کر رہا ہوں اور لکھنا چاہتا ہوں. 

میں جس دن سے یہاں آیا ہوں، صرف ایک ہی بات بہت شدت سے محسوس کر رہا ہوں، وہ یہ کے ہم بہت مجبور اور بے بس لوگ ہیں جو یہاں (شمالی وزیرستان) آکر پھنس گئے ہیں اور اب سسک سسک کر، بھوکے رہ کر، بیمار رہ کر اپنی موت کا انتظار کر رہے ہیں جیسا کہ یہاں کے دیگر لوگ کر رہے ہیں. یہاں کے لوگ پہلے ہی غذائی اجناس کی قلت، ادویات کی کمی جیسی پریشانیوں سے نبرد آزما ہیں اب سیکورٹی اداروں نے یہاں امن و امان اور دیگر وجوہات کی بنا پر کرفیو نافذ کر رکھا ہے. جس کی وجھہ سے اب ہم صرف آشیانہ کیمپ کے اسس احاطے تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں. اب اور کیا لکھوں؟ اتنا مجبوری اور لاچاری تو شاید ہم کو دور غلامی میں بھی نہ ہوئی ہو. کم از کم انسان مر تو سکوں سے سکتا تھا. میں تو خود کافی دنوں سے آسان موت کے طریقوں پر غور کر رہا ہن مگر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا. 

میری تحریر اب مایوسی کا شکار نظر آرہی ہے، میرے ساتھ موجود میرے دوست اور کارکنان اب میری طرف ایسی نظروں سے دیکھنے لگے ہیں کہ جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہو گیا ہوں. یہ تو بھلا ہو کچھ مقامی دوستوں کا کہ کچھ نہ کچھ کر کے ایک انٹرنیٹ مل جاتا ہے اور میں جلدی جلدی اپنی والدہ محترمہ کو اپنے خیریت اور یہاں کے حالت کے بارے میں اطلاع دے دیتا ہوں نہیں تو کچھ دنوں سے یہاں موبائل فون سروس بھی موجود نہیں ہے اور جہاں ہے وہاں ہماری رسائی نہیں.

میں نے اپنی والدہ کو لکھا کہ میں اور میرے ساتھ یہاں خیریت سے ہیں، اور جب وہ یہ ڈائری پڑھیں گی تو جانے غصہ کریں گی یا پیار کچھ سمجھ نہیں آرہا. 
  حقیقت حال یہ ہے کہ یہاں کچھ بھی سہی نہیں ہے، میں گزشتہ ٢ ہفتوں سے نہا نہیں سکا ہوں. پینے کا پانی ہی بہت مشکل سے دستیاب ہو رہا ہے. ایک ہفتے سے زیادہ ہوگیا ہے کہ میں اور کچھ دوسرے لوگ بخار، نزلہ اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں مگر ہمارے پاس صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے ایک پیناڈول کی گولی،اور کوئی دوا میسر ہی نہی، ایک کمبل میں ہم ٣-٤ افراد کو خود کو سردی سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے. گرم کپڑے بس میسر ہیں، ٢٤ گھنٹوں میں صرف ایک وقت کا کھانا وہ بھی نہایت مشکل سے میسر ہو رہا ہے، جی ہاں، یہ ہیں آشیانہ کیمپ شمالی وزیرستان کے اصل حالات. ایسے میں اگر کوئی مجھ سے کہے کے کسی سڑک کنارے کھڑے ہو کر اپنے لئے بھیک مانگو تو شاید میں یہ بھی کر گزروں. مگر یہاں میرانشاہ میں تو صرف سیکورٹی اداروں کے جوان ہیں یا پھر وو لوگ جن کو ہم جیسے بے بس لوگ نظر نہیں آتے، یا پھر وہ لوگ جو ہماری طرح یا ہم سے بھی زیادہ بے بسی کا شکار ہیں. 
الله اکبر، بس اب تو انتظار ہے کسی اور مسیحا کا، الله کرے کے وہ مسیحا بہت جلد آجائے نہیں تو سچ میں بہت دیر ہو جائے گی. 

الله پاک ہم سب پر اپنا کرم کرے، اپنا رحم کرے، اور ہم کو ہمت عطا فرماۓ - آمین.

اسلام و علیکم 
کارکن، ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، 
شمالی وزیرستان. 



نوٹ:
آشیانہ کیمپ اور ٹیم آشیانہ کے بارے میں معلومات / جاننے کے لئے درج ذیل لنک وزٹ کریں: Ashiyana Camp - Miranshah - North Waziristan - Pakistan
   
 








 

Tuesday, 1 January 2013

وزیرستان ڈائری: کوئی تو ہماری مدد کو آؤ

محترم دوستوں اور ساتھیوں 
اسلام و علیکم 

کافی عرصے سے جو بھی لکھ رہا ہوں وہ نہ تو کسی کو دکھا پا رہا ہوں نہ ہی اور لکھ پا رہا ہوں. بار بار اپنی قسمت کو اور اپنی سوچ کو کوس رہا ہوں کہ میں آخر کیوں کر یہاں (شمالی وزیرستان) آیا. اپنے گھر ہی رہتا تو کتنا اچھا ہوتا، گھر کا کھانا، امی کی شفقت، گھر کا سکوں اور آرام سردی سے محفوظ رہنے کے لئے گرم کپڑے، شام میں دوستوں کے ساتھ چائے پراٹھا کی محفلیں، سب کچھ چھوڑ کر میں محترم عدنان بھائی سے ملنے اور اس فلاحی خدمت کا حصہ بننے کے لئے ان پہاڑوں میں چلا آیا، جہاں نہ بجلی ہے نہ پانی، نہ ہی سکوں سے سونا ملتا ہے، نہ ہی ایک وقت کا پیٹ بھر کھانا. یہاں (شمالی وزیرستان) کے لوگ تو شاید اس طرز زندگی کے عادی ہو گئے ہیں مگر ہم جیسے کراچی شہر میں رہنے والے جو خود کو انسان اور مسلمان اور پاکستانی کہتے ہیں کے لئے یہ سب کسازب سے کم ہر گز نہی ہے. 

  مجھے نہیں پتہ کہ یہاں (شمالی وزیرستان) کے لوگ گھروں کے بغیر،کچی دیواروں کے سائے میں، بھوکے پیاسے، تنگ دست و بدحالی کا شکار، بھوک سے نڈھال اور بیماریوں میں مبتلا ہو کر کس طرح زندہ رہ رہے ہیں؟ مجھ جیسے انسان کہلانے والی مخلوق کے لئے یہ جگہ کسی بھی طرح کالے پانی کی سزا سے کم یا گونتاناموبے کی اسیری سے بھی مشکل نظر آرہی ہے.

مجھے معاف کرنا شمالی وزیرستان والوں، کہ میں خود کو بہت ہی کمزور محسوس کر رہا ہوں، میں خود کو اس قبل نہیں سمجھتا کہ میں یہاں (میرانشاہ) میں رک کر کسی بھی طرح کے فلاحی کام میں حصہ لے سکوں، میں بہت جلد تھک گیا ہوں. 
میں اپنے سامنے بچوں کو بھوک اور بیماری سے سسکتا بلکتا نہی دیکھ سکتا، میں اپنے سامنے یہاں کے لوگوں کو بغیر کفن کے دفن ہوتا نہیں دیکھ سکتا، میں اپنے سامنے لوگوں کو مجبوری اور بے بسی کی تصویر بنے نہی دیکھ سکتا. اسی لئے میں اب اپنے گھرکراچی واپس جانا چاہتا ہوں جہاں بیٹھ کر میں یہاں سے ملنے والی اچھی یا بری خبروں کو سن کر بس افسوس کر سکتا ہوں اور دیگر پاکستانی لوگوں کی طرح یہ تو کہ سکتا ہوں "کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ یہ سب دیکھنا تو حکومت کا کام ہے، ہم تو صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں." یہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ کچھ ملی مدد جمع کر کے یہاں (شمالی وزیرستان) میں عدنان بھی کو روانہ کر دیں. یہاں (شمالی وزیرستان) میں بے بس، بے سہارا، بھوکے پیاسے اور بیمار بیٹھنے سے کراچی جانا ہی بہتر ہے. 

مجھے تو اس بات کا بھی بہت افسوس ہو رہا ہے کہ اتنے سرد موسم میں اپنے ساتھ بیچارے فیصل بھائی اور ندیم بھائی کو بھی اپنے ساتھ لے آیا ہوں. ابھی تک تو ان دونوں نہیں اپنے منہ سے کچھ نہیں کہا مگر مجھے پورا یقین ہے کہ دل ہی دل مے مجھے ضرور کوستے ہونگے. بس الله پاک ہم کو یہاں (شمالی وزیرستان) سے زندہ سلامت اور ساتھ خیریت کے نکالے. میں اور میرے ساتھی یہاں بے بسی کی گمنام موت کا شکار ہونا ہر گز نہی چاہتے.

پیاری امی جن سے بات ہوۓ پتہ نہی کتنے دن ہو گئے ہیں. مگر میں اپنی آنکھیں بند کر کے تصور میں دیکھتا ہوں کہ امی نماز پڑھ پڑھ کر میرے اور میرے ساتھیوں کے لئے دعا کر رہی ہیں. الله پاک امی کو میرے سر پر سلامت رکھے اور امی کی دعاؤں کو قبول کرے - آمین.

یہاں (میرانشاہ) میں سردی میری ہڈیوں میں اتر چکی ہے. آشیانہ کیمپ جس کو میں اپنے لئے سب سے محفوظ ترین پناہ گاہ سمجھ رہا تھا سب سے کمزور نکلا. ہم جس ٹینٹ میں موجود ہیں پہلی ہی بارش میں ٹوٹ گیا تھا. مقامی لوگوں نے بری مشکل سے جوڑ جاڑ کر اس ٹینٹ کو پھر سے کھڑا کیا. ہم اپنے ساتھ جو امدادی اشیاء لے کر آئے تھے وہ تو دو ہفتے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی. بس الله الله چل رہا ہے. لوگ امداد کا وعدہ تو کرتے ہیں مگر اپنے وعدے کو بھول جاتے ہیں. اور اس طرح سے بھولتے ہیں کے جب بھی وعدہ یاد دلایا جائے ہم کو پہچانتے تک ہی نہیں. اب ہم کوئی بھتہ خور لوگ تو ہیں نہیں جو ہمارے ایک فون یا خط پر ہم کو امداد ہمارے کیمپ تک پہنچا دی جائے. ہم تو بس لوگوں سے التجا کر سکتے ہیں، زیادہ سے زیادہ بھیک مانگ سکتے ہیں اور کیا کر سکتے ہیں. اگر کوئی بتا دے کے ہم اس سے زیادہ کیا کریں تو میں ذاتی طور پر اپنے دوستوں کا شکر گزار ہونگا.

یہاں (آشیانہ کیمپ، میرانشاہ،  شمالی وزیرستان) میں بیٹھا ہوں، اور میرے اس پاس بلال محسود، ندیم بھائی، فیصل بھائی، اور دیگر لوگ موجود ہیں اور بار بار یہی کہ رہے ہیں کہ "بھائی، آپ (میں) پاکستان والوں کو یہاں کے حالت کا بتائیں، شاید کوئی الله کا بندا ہماری مدد کو یہاں آجائے." اب میں ان لوگوں کو کیسے یقین دلوں کے جس پاکستان کا یہ لوگ ذکر کر رہے ہیں اس پاکستان میں آج بہت نفسہ نفسی ہے. ہر طرف صرف ذاتی مفادات کی جنگ چل رہی ہے. ہر کوئی اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے، ایسے میں کوئی بھلا میری آواز کیسے سنے گا. اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محترم عدنان بھائی، جنہوں نہیں اپنی زندگی کو دکھی انسانیت کی خدمات کے لئے وقف کر دیا. اپنا گھر، اپنی گاڑی، اپنا مال سب کچھ قربان کر ڈالا اور آج بھی اپنی زندگی کی پروا کے بغیر ہر طرح کی فلاحی خدمات سر انجام دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں، جیسے انسان کی کوئی نہیں سنتا تو مجھ جیسے بندے کی کس نے سن لینی ہے. 
میں نے تو اب مجبور ہوکر میڈیا تک کو لکھ ڈالا کہ وہی کچھ کر سکیں، صرف ایک رپورٹ یہاں کے لوگوں کے حالت پر چلا دیں تو شاید کتنے ہی نیک لوگ یہاں کے لوگوں کے لئے مدد کر سکیں گے مگر کیا کروں؟ میڈیا بھی بے ہسی اور بے بسی کی تصویر بنا دکھائی دیتا ہے. اور جو عدنان بھائی کہتے ہیں کہ جو دیکھتا ہے وہی بکتا ہے. تو ہمارے پاس تو بچنے والی کوئی ترکیب بھی نہیں ہے، نہ ہی کوئی ایسا طریقہ جس سے ہم میڈیا کے ذریے دنیا والوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں. 
بس ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم بلاگ لکھتے رہیں اور لکھتے رہیں. یہاں تک کے ہمارا بلاگ کوئی الله کا بندا پڑھے اور ہماری مدد کو آجائے، شرط یہی ہے کے جب تک ہم زندہ ہوں، نہیں تو ہم کو پورا یقین ہے کہ ہماری شاندار موت کے بعد اگر ہمارے اس حال میں مرنے کی خبر میڈیا والوں کی ملی تو ہم ہر طرح سے قومی ہیرو کہلاۓ جائیں گے، ہمارے نام کے سیمینار ہونگے، کچھ دن ہم پر پروگرام چلیں گے. یہیں کہیں (میرانشاہ ، شمالی وزیرستان) میں ہمرے نام کا ایک یادگاری چوک بنا دیا جائے گا. اور شاید کوئی الله کا بندا ہمارے نام سے ملتا جلتا یا ایسا ہی فلاحی ادارہ قائم کر دے.  الله اکبر. 

یا الله مجھ کو اور میرے دوستوں کو معاف کرنا کے آج ایسی مایوسی کی باتیں کر رہا ہوں. کیوں، میری ہمت اور حوصلہ ختم ہو رہا ہے؟   کیوں عدنان بھائی کا سکھایا ہوا درس کے صبر ہی کامیابی کی ضمانت ہے مجھ میں سے ختم ہوتا جا رہا ہے؟ شاید اس لئے کے یہاں کا ماحول اور حالات مجھ کو بہت بری طرح خوفزدہ کر چکے ہیں. موت سے پہلے لمحہ لمحہ موت کا احساس مجھ کو جینے نہیں دے رہا.

یا الله! میری اس سوچ کو مجھ میں سے ختم فرما، میری مدد فرما، مجھے حوصلہ، ہمت، صبر اور استقامت عطا فرما. میں مزید اور کچھ نہیں لکھ سکتا. کیونکہ مجھ کو پورا یقین ہے کہ کراچی میں میری ماں، روز ہی میرے کسی پیغام کا انتظار کرتی ہونگی، اور جب ان کو میری یہ تحریر ملے گی تو مجھ سے زیادہ بری حالت میری امی کو ہو جائے گے. 

اپنے دوستوں کو یہاں کے بارے میں بتانے کے لئے صرف کچھ باتیں لکھ رہا ہوں.
گزشتہ ایک ہفتے سے میں اور آشیانہ کیمپ میں مقیم تمام ساتھ اور مقامی افراد پورے دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھا رہے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس غذائی اجناس نہ ہونے کے برابر ہیں. میں اور کچھ دیگر ساتھ شدید سرد موسم کی وجھہ سے بیمار ہیں اورصرف پیناڈول کی گولی پر اکتفا کے ہوے ہیں. 

گزشتہ ایک ہفتے میں ٢ بچے شدید بیماری کی وجھہ سے ہلاک ہو چکے ہیں. جن کو ہم سب نے مل کر دفنایا ہے. مزید کچھ بزرگ، بچے اور خواتین علیل ہیں جن کا علاج فلحال ممکن نہیں ہے. ادویات ہی نہیں ٹوہ کہاں سے علاج؟ غذائی اجناس ہی نہیں تو کیسا کھانا؟ گرم بستر کا حال ایسا ہے کہ ہم چار افراد ایک وقت میں کمبل یا رضائی استعمال کر رہے ہیں. خود کو گرم رکھنے کے لئے لکڑیاں جلاتے ہیں مگر ابھی لکڑیاں بھی ملنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے. مہنگائی اس قدر ہے کے الفاظ نہیں ہے کیا لکھوں. 

تو دوستوں باقی حالات آپ خود بھی بہت بہتر طرح سے سمجھ سکتے ہیں. ابھی تو دل سے دوا نکلتی ہے کے بس ایک بلی جیسا ڈرون  بھولے بھٹکے ہی ہمرے سروں پر آجائے اور میرے ساتھ ساتھ آشیانہ کیمپ میں مقیم مقامی لوگوں کو اسس دنیا سے نجات دلا دے کے کچھ لوگوں کے لئے ہم شہید اور کچھ کے لئے ..... باقی عقل کا استعمال کریں. 

گزشتہ ایک ہفتے سے میرانشاہ اور اس پاس کے علاقوں میں سیکورٹی کی وجوہات کی بنا پر بار بار کرفیو نافذ کیا جا رہا ہے جس کی وجھہ سے ہم لوگ ایک ہی جگہہ محصور ہو کر رہ گئے ہیں. 
باقی حالات اور واقعات کے بارے میں لکھتے رہنے کی کوشش کرتا رہوں گا. 
بشرط زندگی! 
 بس آخر میں اتنا کہنا ہے کہ "کوئی تو یہاں کے لوگوں اور ہماری مدد کو آؤ.....

عدنان بھائی، اب سے کچھ ہی دیر میں اپنا پیغم لکھنے والے ہیں اور مزید تفصیلات سے آگاہ کرنے والے ہیں. 

آپ سب کی دعاؤں  کے طلبگار 
ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ، ١.٥ کلومیٹر،
میرانشاہ، شمالی وزیرستان. 
 

نوٹ: 
ٹیم آشیانہ سے رابطہ کرنے کے لئے درج ذیل لنک کا استعمال کریں.