Showing posts with label Appeal for Waziristan. Show all posts
Showing posts with label Appeal for Waziristan. Show all posts

Tuesday, 8 January 2013

سید عدنان علی نقوی، آشیانہ کیمپ، شمالی وزیرستان سے ایک اپیل

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم

الله پاک کی ذات سے امید کرتے ہیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہونگے، الله پاک کی رحمت اور برکت کے سائے تلے ہونگے، الله پاک ہم سب پر اپنا رحم، کرم فرماۓ - آمین .
 مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ بہت محدود وسائل میں رہتے ہوۓ آپ اور اپ کے ساتھ ہماری مدد کرتے رہے ہیں، ہم بھی اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کے آپ کو کسی بھی طرح سے تکلف اور زحمت نہ دیں، انتہائی مجبوری اور بے بسی کے عالم میں ہی آپ سے رابطہ کرتا ہوں کے الله پاک نے آپ کو جو بھی توفیق دی ہے شاید اس سے ہم جیسے فلاحی کارکنان کی کوئی مدد ہو سکے. میں نے اپنے پورے فلاحی مشن کے دوران کبھی بھی رقم وغیرہ کا مطالبہ نہیں کیا نہ ہی اپنے لئے کچھ چاہا جو بھی آشیانہ کیمپ میں سب لوگوں کو میسر ہوتا ہے میں بھی ووہی استعمال کرتا ہوں اور اپنے آپ کو یہان مقیم لوگوں  سے الگ تصور نہیں کرتا. باقی حالت کا میں آپ کو بتاتا ہی رہتا ہوں.
  
محترم، جیسا کے آپ سب کے علم میں ہے کہ یہاں شمالی وزیرستان میں آج کل پاکستانی سیکورٹی ادارے ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں جس کی وجہہ سے میرانشاہ اور آس پاس کے علاقوں میں میں بار بار کرفیو نافذ ہو رہا ہے. پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں بھی بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور دیگر کمونیکشن (انٹرنیٹ، موبائل فون، اور دیگر سروس) بھی بار بار معطل ہو رہی ہیں. جس کی وجھہ سے ہمارا اپنے گھر والوں جو کہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں مقیم ہے سے رابطہ بھی ممکن نہی ہو پا رہا ہے. 

شدید سردی نے ہم کو بہت محدود کر دیا ہے. یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں مقیم لوگوں نے تو خود کو شاید حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے مگر ہم جیسے لوگ جو اس طرح کے موسم اور حالات کے عادی نہی ہیں کے لئے ان حالات میں خود کو محفوظ رکھنا بہت مشکل ہو رہا ہے. پھر بھی الله پاک نے جو ہمت، حوصلہ، صبر اور استقامت ہم سب دوستوں اور ساتھیوں کو عطا کری ہے اس کہ مطابق ہم اپنے طور پر یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں پریشان حال، گھروں سے بے دخل، بھوک سے نڈھال اور بیمار مقامی لوگوں کے لئے اپنی فلاحی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوۓ ہیں. اور الله پاک کے حضور دعا گو ہیں کہ ہم کو ہمت اور حوصلہ عطا کرے کہ ہم مزید استقامت کے ساتھ اپنے فلاحی کاموں کو جاری رکھ سکیں. آمین.

محترم ، ہمرے بہت سارے ساتھی اور احباب جو کہ یہاں موجود نہہ ہیں کہ ساتھ ہمارا رابطہ منقطع ہے جس کوجہہ سے ہمرے دوست اور ساتھی ہماری ضرورت اور حالات سے آگاہ نہیں رہ پا رہے ہیں. ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہر ممکن طریقے سے اپنے دوستوں سے رابطے میں رہیں. الله پاک ہمارے لیے آسانی فرماۓ - آمین.

گزشتہ کچھ دنوں میں ہم کو جو کچھ بھی امداد ملی ہمنے اس امداد کو آشیانہ کیمپ میں مقیم مقامی افراد کے لئے استعمال کیا. کیمپ میں گزشتہ کچھ دنوں سے کیمپ میں غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. اس کے علاوہ کیمپ میں ادویات موجود نہی ہیں جس کی وجھہ سے کیمپ میں مقیم افراد کو میرانشاہ   کے مقامی اسپتالوں میں جانا پڑھ رہا ہے ان اسپتالوں میں بھی ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں. 

ہم اپنی اکثر پوسٹ اور رابطوں میں اپنے دوستوں، ساتھیوں، احباب، گھر والوں اور پڑھنے والوں سے یہی اپیل کرتے رہے ہیں کہ آپ لوگ ہماری مدد کریں. ہم لوگ یہاں صرف اور صرف دکھی انسانیت کی خدمات کے غرض سے موجود ہیں. ہم یہاں کب اور کیا کرتے رہے ہیں ان کی تفصیلات سے ہم آپ سب کو آگاہ بھی کرتے رہے ہیں اور یہ بلاگ بھی اس بات کا سبوت ہے جو ہمنے ٢٠٠٩ سے قائم کر رکھا ہے جس میں ہم کو ملنے والی تمام امداد، امدادی رقوم اور اخراجات کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں. 

ہم یھاں پر ہیں، یہ حوصلہ آپ لوگوں کا ہی دیا ہوا ہے. آشیانہ کیمپ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم یہاں کے مشکل ترین حالت کا سامنا کرتے ہوۓ محدود پیمانے پر ہی سہی مگر یہاں کے بچوں، بوڑھوں، خواتین کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور ہر دم یہی دعا کرتے ہیں کہ الله پاک ہم کو مزید توفیق عطا فرماۓ. غیب سے ہماری مدد کے لئے وسائل مہیا کرے کہ جس سے ہم یہاں کے لوگوں کے لئے مزید فلاحی خدمات سر انجام دے سکیں. 

محترم،  گزشتہ کچھ دنوں سے ہم آپ کو یہاں درکار اشیاء کی تفصیلات بھیجتے رہے ہیں اور یه بھی بتاتے رہے ہیں کہ شدید سردی کی وجہہ سے یہاں کے لوگ کس طرح کی مشکلات کا شکار ہیں. کراچی اور لاہور سے آیے ہوۓ ہمارے فلاحی کارکن اس صورت حال سے بہت دل برداشتہ ہیں اور شاید واپس جانا چاہتے ہیں مگر جب تک سیکورٹی ادارے ہمرے کارکنان کو یہاں سے نکلنے کے لئے نہیں کہتے یہ کارکنان یہاں سے نہیں نکل سکتے. الله پاک ہم سب کو مدد و نصرت فرماۓ - آمین.

ہماری بہن فریال زہرہ جو یہاں کینیڈا سے تشریف لائی تھی اور واپس چلی گئی تھی وو بھی واپس آرہی ہیں الله پاک بہن فریال کے جذبہ انسانیت کو سلامت رکھے اور دکھی انسانیت کی خدمات کرنے کی توقیف اور ہمت عطا فرماۓ. آمین.

محترم، ہمیشہ کی طرح آج بھی ہم آپ کی خدمت میں صرف اور ضروری سامان کی تفصیلات رکھ رہے ہیں اس امید پر کہ الله پاک نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے کچھ آپ ہم کو روانہ کر سکیں اور ہم ان اشیا کو یہاں کے پریشان حال لوگوں کے لئے استعمال کر سکیں. 

ہم اس کے بدلے میں کسی بھی قسم کا وعدہ نہیں کر سکتے مگر یہ ضرور کہ سکتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح آپ کی دی ہوئی ایک ایک چیز اور عطیہ صرف اور صرف یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں موجود بے گھر لوگوں، یتیم بچوں، بیواؤں کے لئے ہی استعمال کیا جاۓ گا. ٹیم آشیانہ کا ایک ایک کارکن عطیہ کی گئی رقم اور سامان کو الله پاک کی امانت سمجھتا ہے اور اس امانت کو اس کے حقدار تک پہچانے کے لئے اپنی پوری کوشش کرتا ہے اور الله پاک کے فضل و کرم سے ہم اسس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں. الحمد الله   

محترم، درج ذیل سامان جن کی ہم کو اشد ضرورت ہے جس کے بغیر ہم یہاں خود کو بے مصرف اور ناکام تصور کرتے ہیں کی فہرست لکھ رہا ہوں، اور اس امیدپر کہ الله پاک آپ کو توفیق اور اجر عظیم عطا  فرماۓ - آمین 

١ - غذائی اجناس (ہر طرح کی اور جس مقدار میں دستیاب ہوں)
٢- بچوں، خواتین کے لئے گرم کپڑے (ہر طرح کے اور جس مقدار میں دستیاب ہوں)
٣ - ادویات (ہر طرح کی ادیوت جو موسمی اور دیگر بیماریوں کے لئے دستیاب ہوں)
٤- لکڑی، کوئلہ اور ایندھن کے دیگر استعمال میں ہونے والے اجزا 
٥- پینے کے لئے پنج کو صاف کرنے والی ادویات وغیرہ 

محترم، مندرجہ بالا اشیا ہم کو فوری طور پر درکار ہیں. جسکے لئے ہم اپنے تمام رابطوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. میں اور میرے ساتھ آپ سے ہاتھ جوڑ کر، الله پاک کے لئے اور انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں ہم کو تنہا نہ چھوڑیں. آپ لوگوں نے ہمیشہ کسی نہ کسی طرح ہماری مدد کری ہے، ہم کو ناکام نہیں ہونے دیا ہے. الله پاک کے نام پر کی جانے والی مدد کے لئے ہم کو اور آپ الله پاک کی ذات پر پورا یقین ہونا چاہیے.میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ روز حشر  آپ کو الله پاک  کےحضور شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا. 

یہاں کے حالت کس طرح کے ہیں؟ اور یہاں کے شب و روز کس طرح گزر رہے ہیں اس برم این ہمرے ایک ساتھ کارکن ڈائری تحریر کر رہے ہیں  جو آپ ملاحظہ بھی کرتے رہے ہونگے. 

میں آپ کی آگاہی کے لئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ، گزشتہ کچھ دنوں سے یہاں (شمالی وزیرستان) میں سیکورٹی ادارے بہت کامیابی  سے ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کے خلاف مہم چلا رہے ہیں. الله پکحق اور سچ کی مدد کرے - آمین. اس طرح کی کاروائی کے دوران جہاں دیگر لوگوں کا نقصان ہوتا ہے وہیں سب سے بڑا نقصان مقامی آبادی اور لوگوں کے جان و مال کا ہوتا ہے. میں اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کیونکہ یہ میرا کام نہیں ہے. میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ، میر علی، شوال، دتہ خیل اور دیگر علاقوں سے پریشان حال لوگ اب میرانشاہ کا رخ کر رہے ہیں جن افراد کے کوئی عزیز و رشتےدار میرانشاہ میں موجود ہیں وہ ان کے گھروں پر رک رہے ہیں جبکہ باقی افراد مساجد یا دیگر جگہوں پر روکنے پر مجبور ہیں. میں تو چاہتا ہوں کہ ان تمام لوگوں کو اپنے آشیانہ کیمپ میں جگہ دوں مگر بہت مجبور ہو کر مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو آشیانہ کیمپ میں قیام کی غرض سے آنے والے لوگوں کو انکار کرنا پڑھ رہا ہے. جس کے لئے میں اور میرے ساتھی الله پاک کے حضور بہت شرمندہ ہیں. مجھکو پورا یقین ہے کے جو لوگ اب دوسرے علاقوں سے یہاں مجبوری میں آرہے ہیں یہ صرف عارضی قیام کریں گے اور حالات اور موسم کے بہتر ہوتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے. 

میں اور میرے ساتھ کارکن الله پاک کے حضور دعا گو ہیں کے الله پاک شمالی وزیرستان.جنوبی وزیرستان اور سارے پاکستان میں    امن و امان قائم رکھنے میں ہماری مدد و نصرت فرماۓ اور سارے پاکستان کو امن، دوستی اور خوشالی کا ایک نمونہ بناۓ، الله پاک ہمارے سیکورٹی اداروں کی مدد کرے کے وہ ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کو ختم کر سکیں. آمین .

محترم. میں ایک دفع پھر آپ سے انسانیت کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ ہماری (ٹیم آشیانہ برائے شمالی وزیرستان) کی مدد کریں. مدد چھوٹی ہو یا بڑی ہمارے لئے بہت ہوتی ہے. ایک ایک زرہ کا احساس یہاں (شمالی وزیرستان) میں بہت اچھی طرح ہوتا ہے.   

میں آپ کو آپ کی کاری ہوئی مدد کے بدلے میں مچ دینے کا وعدہ تو نہیں کر سکتا ہن مگر یہ یقین ضرور دلاتا ہوں کہ آپ اور مجھے کبھی بھی اورکہی بھی الله پاک کا حضور شرمندہ نہیں  ہونا پڑے گا، انشا الله.
 آپ کی کری ہوئی مدد انشا الله مستحق اور حقدار لوگوں افراد میں صحیح طریقے تقسیم کی جائے گی. انشا الله 

بہت جلد آشیانہ کیمپ اور ٹیم آشیانہ کو رجسٹر کرنے کا انتظام ہو جائے گا کچھ دوستوں نے اس دفع یقین دہانی کروائی ہے کہ ٹیم آشیانہ کو ایک رجسٹر ادارہ بنانے میں جس قسم کی مدد کی ضرورت ہوئی کی جائے گی. الله پاک ان دوستوں کی اس محنت کو کامیاب کرے - آمین.

جزاک الله 
سید عدنان علی نقوی 
آشیانہ کیمپ 
١.٥ کلومیٹر، میرانشاہ.
شمالی وزیرستان. پاکستان.
 میرا مختصر تعارف، اس لنک پر کلک کریں: http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/4420388.stm

آشیانہ کیمپ میں مقیم افراد کی مدد کرنے کے لئے:



For all of those who wants to contribute anything such as like, Warm Clothes, Tent, Food Stuff, Medicines, Books etc or wanna support us in logistic / transportation of relief goods for the victims / poor / hunger.  

Or

If anyone wanna be a part of Team Ashiyana as Volunteer.



Please contact us at on the following;

(0092) 0345 297 1618
(0092) 0323 846 6089





Or email us at following;

team.ashiyana@gmail.com

s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

faryal.zehra@gmail.com



For online contribution use the following:


 Ashiyana”

Ms. Badar un Nissa.

A/c # 0100-34780-0.

United Bank Limited.

Gulistan e Joher Branch. (1921)

Karachi, Pakistan.

Swift Code: UNILPKKA
http://waziristandairy.blogspot.com
http://teamashiyana.blogspot.com
http://ashiyanacamp.blogspot.com 

Friday, 4 January 2013

وزیرستان ڈائری: مشکلات مگر فلاحی کاموں کو جاری رکھنا ہے


محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم 

آج کی ڈائری:

گزشتہ کچھ دنوں سے جس ذہنی خلفشار اور پسماندگی کا شکار ہوں اس کا اظھار یہاں (آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں موجود اپنے دیگر ساتھیوں سے بھی کر چکا ہوں. اپنی اسکفیت کو میں کیا نام دوں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا. بہرحال، یہی سیکھا ہے کے یہ بھی الله پاک کا ایک امتحان ہے اور ہم سب کو اس میں پورا اورکامل اترنا ہے. الله مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہمت، صبر، حوصلہ اور استقامت عطا کرے - آمین.

عدنان بھائی سے بات کر کے بہت سکوں ملتا ہے. عدنان بھائی مجھ کو اور کیمپ میں مقیم دیگر لوگوں کو اللہ کی رحمت اور ہمرے فرض سے ہم کو اس طرح آگاہ کرتے ہیں کہ دل میں ایک نیا جذبہ اور ہمت جاگ اٹھتی ہے. اور مجھ میں فلاحی کم کرنے کا ایک جذبہ جاگ جاتا ہے. جب سے میں یہاں آیا ہوں. ہر طرح کے حالت کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. تنگدستی فقر و فاقہ میں کس طرح گزارا کرنا ہے؟ یا بیماری میں بغیر ادویات کے کیسے خود کو سنمبھالنا ہے؟ یہ سب یہاں آکر ہی سیکھنے کو مل رہا ہے. ایک روٹی میں ٢ افراد کیسے گزارا کرتے ہیں. شدید سردی میں خود کو کس طرح محفوظ کرنا ہے. ہر طرف موت کے سائے موجود ہوں تو خود کو کس طرح سے محفوظ رکھنا ہے. یہ سب یہاں آکر ہی سیکھنے کو ملا. میں تو بس ایک ہی امید لے کر روز جاگتا ہوں اور اپنا دن گزرتا ہوں کہ ایک دن مجھ کو اپنے گھر واپس کراچی چلے ہی جانا ہے جہاں زندگی کی تمام تر سہولیات موجود ہیں. اور یہی ایک احساس مجھ میں جینے کی ایک امنگ جگا دیتا ہے. اور میں پہلے سے زیادہ جذباتی ہو کر ٹیم آشیانہ کے دیگر کارکنان کے ساتھ یہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں فلاحی کاموں میں مصروف ہو جاتا ہوں. 
فنڈز کی کمی، ادویات کی کمی، غذائی اجناس کی کمی، ہمارا صرف یہی مثلا ہے. اگر کوئی ہم کو ادویات کی فراہمی کر دے، غذائی اجناس کی فراہمی کر دے، ہم کو گرم کپڑے فراہم کر دے تو مجھ کو پورا یقین ہے کہ ٹیم آشیانہ کے کارکنان دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی فلاحی کاموں کی ایک طریق رقم کر دیں گے - انشا الله. 

دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی ہم کو لوگوں کے عجیب عجیب سوالوں کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے. ایک بہت الگ سوال ہے کہ ہمرا تعلق کس تنظیم یا ادارے سے ہے؟ میں تو اس سوال کا جواب دے نہیں سکتا کہ جب بھی میں بولتا ہوں تو الگ ہی بولتا ہوں اور میری باتیں لوگوں کو بہت آسانی سے سمجھ نہیں آتا. اور عدنان بھائی ہی لوگوں کو یہاں کی زبان میں جواب دیتے ہیں جو زیادہ بہتر ہے. میں تو صرف اتنا کہوں گا کے اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں. جو ہر طرح کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں. یہ صرف ہمارا ذاتی کردار اور عمل ہوتا ہے جس سے ہم پہچانے جاتے ہیں. افسوس کے اتنے سالوں سے یہاں (شمالی وزیرستان) کے لوگوں کی محدود پیمانے پر فلاحی خدمات سر انجام دینے کے بعد بھی یہاں کے لوگ اس طرح کے سوالات کرتے ہیں.  میرا ارادہ بہت جلد یہاں سے رخصت لینے کا ہے. میرا خیال یہی ہے کے میں کراچی میں رہ کر فنڈز کی مستقل فراہمی کا بندوبست کرتا رہوں اور یہاں (میرانشاہ) بھیجتا رہوں، یہاں کے مقامی لوگ اور عدنان بھی ہی یہاں پر زیادہ بہتر طریقے سے فلاحی کاموں کو سر انجام دے سکتے ہیں. ہم کچھ بھی کر لیں یہاں کے حالات ابھی اس قابل نظر نہیں آتے کہ ہم جیسے لوگ یہاں آکر فلاحی کام سر انجام دیں. (یہ میرا ذاتی تجربہ ہے،ہو سکتا ہے کے میں غلط ہوں).

دتہ خیل سے میرانشاہ آنا بہرحال تھوڑا آسان رہا، میں یہی سوچتا ہوں کہ اگر آج بھی ہم دتہ خیل میں ہوتے تو جانے کیا حال ہوتا؟ اور کیا حشر ہوتا، میرانشاہ ایک چھوٹا شہر ہے جہاں کچھ انسان تو نظر آتے ہیں دتہ خیل تو بس پہاڑوں کے درمیان تھا جہاں بنیادی سہلویات پانی جیسی چیز تک آسانی سے میسر نہیں تھی. 

گزشتہ کچھ دنوں میں بار بار یہاں کرفیو نافذ ہو رہا ہے. سنا ہے کی آگے کے علاقوں میں ڈرون حملے بھی ہو رہے ہیں. کہی کہی پاکستانی افواج بھی  پاکستان کے دشمن لوگوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہیں. میں اس بارے میں کچھ بھی لکھنا نہیں چاہتا کیوں کے یہ سیکورٹی اور پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ہے اور جہاں کہی پاکستان اور اسلام کا نام ہو تو وہاں مجھ جیسا کم عقل انسان بھی اپنی زندگی کو قربان کرنے سے باز نہیں رہ سکتا.  الله پاک ہم سب کو ایک سچا اور پکا مسلم اور پاکستانی بننے کی توفیق دے، آمین.

گزشتہ دن انٹرنیٹ سے ہی پتہ چلا کے سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں معصوم بچے بہت بری تعداد میں خسرہ جیسی مہلک بیماری کا شکار ہو کر  ہلاک ہو رہے ہیں. الله اکبر 
مجھے یاد ہے کے کچھ ماہ قبل جب میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ہمراہ کندھکوٹ، راجن پور، (سندھ) اور نصیرآباد (بلوچستان) میں سیلاب زدگان پاکستانی بھائی، بہنوں کے لئے فلاحی خدمات سر انجام دے رہا تھا تو اس وقت بھی میں اور میرے ساتھ بار بار اپنی تحریروں کے ذریعے اور ذاتی روابط سے تمام لوگوں سے بار بار اپیل کر رہے تھے کے سلب زدہ علاقوں میں  کسی بھی وقت کوئی موزی مرض پھوٹ سکتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں اور بچوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں. مگر اس وقت بھی ہماری اس پکار اور اپیل پر بہت کم لوگوں نیں کان دھرے تھے.  شاید ہم پاکستانی لوگ ہمیشہ سے کسی حادثے کے منتظر رہنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اب جب ہلاکتیں ہو رہی ہیں تو لوگ شور مچا رہے ہیں. عمل کتنا ہو رہا ہے یہ الله حیح جانتا ہے یا وہ لوگ جن پر اس بیماری اور سیلاب کی وجہہ سے ایک قیامت ٹوٹ پڑی ہوگی. الله پاک ہم سب پر اپنا رحم اور کرم فرماۓ - آمین. اور مخلص لوگوں،مخیر لوگوں کو یہ توفیق دے کہ وہ خود متاثرہ علاقوں میں جائیں اور فلاحی خدمات اپنے ہاتھوں سے سر انجام دیں.  کوئی ادارہ، کوئی حکومت، خود سے کچھ بھی کرے جب تک آپ خود  سے اپنے آپ کو فلاحی خدمات کے کاموں میں شامل نہہ کریں گے آپ کو اندازہ نہیں ہو سکے گا کہ دکھ اور تکلیف ہوتی کیا ہے. میں ایک دفع پھر سے اپیل کروں گا کہ جو لوگ کراچی اور دوسرے شہروں میں مقیم ہیں وہ اپنے اپنے طور پر ایک میڈیکل ٹیم بنائیں اور سلب سے متاصرہ علاقوں میں جا کر مفت میڈیکل کیمپ لگیں چاہے ایک دن کا ہو یا ایک ہفتے کا. الله نے چاہا تو ہم سب مل کر اس مشکل سے نجات حاصل کر لیں گے. انشا الله 

یہاں ، (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) کے لئے کیا لکھوں، کچھ لوگوں نے اور ہمارے قبل احترام میڈیا نے پورے وزیرستان کو ایک ایسا علاقہ بنا دیا ہے جہاں رہنے اور بسنے والا شاید ایک ایک شقص پاکستان مخالف ہے. اسلام مخالف ہے. لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے. یہاں کے لوگ بہت مجبوری اور بےبسی کے عالم میں جی رہے ہیں. ان لوگوں کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں ہے. پاکستان میں یہاں کے لوگوں کو دہشت گرد اور شدت پسند سمجھا جاتا ہے. جبکہ صرف کچھ لوگ ہی ایسے ہونگے جو لاٹھی اور ہتھیاروں کے بل پر یہاں کے غریب مجبور اور بے بس لوگوں کو ڈرا دھمکا کر رہ رہے ہیں. اکھڑ کو ہماری بہادر افواج بھی تو کتنے ہی مشکل حالات میں یہاں موجود ہیں. اور اپنی جنوں کی پروا کے بغیر پاکستان کی حفاظت کا کام سر انجام دے رہے ہیں. یہاں کے مسائل کا کیا حل ہے یہ مجھ کو نہیں پتہ مگر یہاں کے مقامی لوگوں کے مسائل کا حل ہم سب لوگوں کے پاس ہے. یہاں کے لوگوں کو روزگار، تعلیم، اور زندگی کی بنیادی سہولیات دے کر ہم ان سب کو پاکستان کی ترقی میں شامل کر سکتے ہیں. اور ایک نہ ایک دن ایسا ضرور ہوگا. آج ایک عدنان یہاں موجود ہے. کل انشا الله اور بھی لوگ یہاں فلاحی خدمات کی غرض سے ضرور آئے گے. اور ہم سب مل کر شمالی وزیرستان کو امن اور محبت کا گہوارہ بنا دیں گے. 

میں آخر میں اپنے گھر والوں، اپنی امی، اپنی بہنوں اور دوستوں سے یہی کہوں گا، کہ میں الله کے فضل و کرم سے ٹھیک ہوں، پریشن ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. کچھ مشکلات کی وجھہ سے بہت تھک گیا تھا. اور خود کو ہارتا محسوس کر رہا تھا. مگر ابھی خود کو سمبھال لیا ہے. اور سنا ہے کے موبائل سروس بھی بھال ہونے والی ہے. یا پھر انٹرنیٹ سے رابطہ بھی ممکن ہے. آپ سب اپنا خیال رکھے اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو اپنی دواؤں میں یاد رکھیں.

الله حافظ 
آپ کا بیٹا، آپ کا بھائی، آپ کا دوست.


نوٹ:
دوستوں، اگر آپ آشیانہ کیمپ،میرانشاہ، شمالی وزیرستان، میں موجود ہماری ٹیم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں یا اپنا کوئی پیغام  ان تک پہچانا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک کا استعمال کریں. 
http://teamashiyana.blogspot.com

آشیانہ کیمپ میں جاری فلاحی کاموں کی تفصیل اور کیمپ کو درکار فنڈز اور سامان کی تفصیلات کے بارے میں معلومات کے لئے درج ذیل  لنک استعمال کریں. 
http://ashiyanacamp.blogspot.com

جزاک الله 

Wednesday, 2 January 2013

وزیرستان ڈائری: مشکلات اور پریشانیاں.

محترم دوستوں اور ساتھیوں،
اسلام و علیکم 

گزشتہ روز شایع کی جانی والی ڈائری میں ہمارے ساتھی یہاں  (آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، شمالی وزیرستان) کی بگڑی ہوئی صورت حال سے بہت پریشان اور مشکل کا شکار نظر آئے، ہم سب دوستوں اور ساتھیوں کی دعا ہے کہ الله پاک ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان کے ساتھیوں اور آشیانہ کیمپ میرانشاہ میں مقیم تمام لوگوں کی مشکلات، پریشانی اور مصائب کو آسان کرے اور ہم سب کو اپنے ساتھیوں کی مدد کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائیں (آمین).

آج ملنے والی ڈائری:

جو بھی لکھا اور لکھ رہا ہوں ایک ایک لفظ میری ذاتی سوچ، فکر اور میرے اوپر بیت رہے یہاں کے حالات کے مطابق لکھ رہا ہوں. 
مجھے نہیں پتہ کے ٹیم آشیانہ کے دیگر ساتھی اور خود عدنان بھائی، اس طرح کے مشکل حالات میں کس طرح سے خود اپنی ذہنی کیفیت کو سنمبھال رہے ہیں، مگر اپنی ڈائری میں وہی لکھ رہا ہوں جو میں محسوس کر رہا ہوں اور لکھنا چاہتا ہوں. 

میں جس دن سے یہاں آیا ہوں، صرف ایک ہی بات بہت شدت سے محسوس کر رہا ہوں، وہ یہ کے ہم بہت مجبور اور بے بس لوگ ہیں جو یہاں (شمالی وزیرستان) آکر پھنس گئے ہیں اور اب سسک سسک کر، بھوکے رہ کر، بیمار رہ کر اپنی موت کا انتظار کر رہے ہیں جیسا کہ یہاں کے دیگر لوگ کر رہے ہیں. یہاں کے لوگ پہلے ہی غذائی اجناس کی قلت، ادویات کی کمی جیسی پریشانیوں سے نبرد آزما ہیں اب سیکورٹی اداروں نے یہاں امن و امان اور دیگر وجوہات کی بنا پر کرفیو نافذ کر رکھا ہے. جس کی وجھہ سے اب ہم صرف آشیانہ کیمپ کے اسس احاطے تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں. اب اور کیا لکھوں؟ اتنا مجبوری اور لاچاری تو شاید ہم کو دور غلامی میں بھی نہ ہوئی ہو. کم از کم انسان مر تو سکوں سے سکتا تھا. میں تو خود کافی دنوں سے آسان موت کے طریقوں پر غور کر رہا ہن مگر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا

میری تحریر اب مایوسی کا شکار نظر آرہی ہے، میرے ساتھ موجود میرے دوست اور کارکنان اب میری طرف ایسی نظروں سے دیکھنے لگے ہیں کہ جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہو گیا ہوں. یہ تو بھلا ہو کچھ مقامی دوستوں کا کہ کچھ نہ کچھ کر کے ایک انٹرنیٹ مل جاتا ہے اور میں جلدی جلدی اپنی والدہ محترمہ کو اپنے خیریت اور یہاں کے حالت کے بارے میں اطلاع دے دیتا ہوں نہیں تو کچھ دنوں سے یہاں موبائل فون سروس بھی موجود نہیں ہے اور جہاں ہے وہاں ہماری رسائی نہیں.

میں نے اپنی والدہ کو لکھا کہ میں اور میرے ساتھ یہاں خیریت سے ہیں، اور جب وہ یہ ڈائری پڑھیں گی تو جانے غصہ کریں گی یا پیار کچھ سمجھ نہیں آرہا. 
  حقیقت حال یہ ہے کہ یہاں کچھ بھی سہی نہیں ہے، میں گزشتہ ٢ ہفتوں سے نہا نہیں سکا ہوں. پینے کا پانی ہی بہت مشکل سے دستیاب ہو رہا ہے. ایک ہفتے سے زیادہ ہوگیا ہے کہ میں اور کچھ دوسرے لوگ بخار، نزلہ اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں مگر ہمارے پاس صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے ایک پیناڈول کی گولی،اور کوئی دوا میسر ہی نہی، ایک کمبل میں ہم ٣-٤ افراد کو خود کو سردی سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے. گرم کپڑے بس میسر ہیں، ٢٤ گھنٹوں میں صرف ایک وقت کا کھانا وہ بھی نہایت مشکل سے میسر ہو رہا ہے، جی ہاں، یہ ہیں آشیانہ کیمپ شمالی وزیرستان کے اصل حالات. ایسے میں اگر کوئی مجھ سے کہے کے کسی سڑک کنارے کھڑے ہو کر اپنے لئے بھیک مانگو تو شاید میں یہ بھی کر گزروں. مگر یہاں میرانشاہ میں تو صرف سیکورٹی اداروں کے جوان ہیں یا پھر وو لوگ جن کو ہم جیسے بے بس لوگ نظر نہیں آتے، یا پھر وہ لوگ جو ہماری طرح یا ہم سے بھی زیادہ بے بسی کا شکار ہیں. 
الله اکبر، بس اب تو انتظار ہے کسی اور مسیحا کا، الله کرے کے وہ مسیحا بہت جلد آجائے نہیں تو سچ میں بہت دیر ہو جائے گی. 

الله پاک ہم سب پر اپنا کرم کرے، اپنا رحم کرے، اور ہم کو ہمت عطا فرماۓ - آمین.

اسلام و علیکم 
کارکن، ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ، میرانشاہ، 
شمالی وزیرستان. 



نوٹ:
آشیانہ کیمپ اور ٹیم آشیانہ کے بارے میں معلومات / جاننے کے لئے درج ذیل لنک وزٹ کریں: Ashiyana Camp - Miranshah - North Waziristan - Pakistan
   
 








 

Wednesday, 12 December 2012

Waziristan Dairy: Our first Day at Ashiyana Camp

اسلام و علیکم،
محترم دوستوں اور ساتھیوں....

گزشتہ کچھ دن بہت مصروفیت کے گزرے، آشیانہ کیمپ کو دتہ خیل سے میران شاہ منتقل کرنا کوئی آسان کام نہی تھا. بہت مشکل سے تمام ساتھیوں (ٹیم آشیانہ کے کارکنان)، کیمپ میں مقیم مقامی لوگوں کو سمجھانا پڑا، سب سے مشکل کام عدنان بھائی کو سمجھانا اور راضی کرنا تھا، اور وہ مشکل مرحلہ بھی ہم سب نے مل کر طے کر ہی لیا. 

جس دن ہم آشیانہ کیمپ (دتہ خیل) میں داخل ہوۓ تھے، ہر طرف ویرانی، اداسی نظر آرہی تھی، عدنان بھائی کی تو طبیت بہت خراب تھی مگر کیمپ میں موجود دیگر ساتھی کارکنان اور مقامی افراد صورت حال سے کافی دل آزار اور مایوس نظر آرہے تھے. پہلی رات تو ہم نے جیسے تیسے کر کے گزار ہی لی مگر صبح نماز فجر کے بعد جب ہم سب ایک ساتھ بیٹھے تو عدنان بھائی نے کیمپ کے معملات کا ذکر بہت تفصیل سے کیا، ہمارے علم میں لیا گیا کہ کافی عرصے سے ادویات نہ ہونے کے سبب میڈیکل کیمپ نہیں لگایا گیا ہے، دو (٢) وقت کے کھانے کی جگہ اب ایک (١) وقت کا کھانا کیمپ میں مقیم لوگوں کو دیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ سردی سے بچنے کے لئے کوئی معقول انتظام ابھی تک نہیں کیا جا سکا ہے. ہم (دوسرے شہروں میں مقیم کارکنان نے) جو کچھ امدادی سامان جمع کیا تھا وہ ایک، دو دن میں یہاں (دتہ خیل) پہنچنے والا تھا مگر مجھ کو اب اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ امدادی سامان بکافی ہے (بلکل اونٹ کہ منہ مے زیرے والی مثال کے مصداق)، بہرحال جو کچھ بھی ہے ہم کو فلحال ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا ہے. ہم کیونکہ ابھی آئے ہیں ٹوہ جوش اور ہوش میں ہیں جو لوگ یہاں پہلے سے موجود ہیں وہ شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں. نفسیاتی دباؤ تو خیر سے میں، اور میرے ساتھ آئے ہوۓ ندیم بھائی، فیصل بھائی اور احمد بھائی بھی شدید محسوس کر رہے ہیں مگر ابھی ہم خود سے انجان بنے بیٹھے رہے. 

صبح اکرم بھائی ہم سب کے لئے چائے اور رات کی روٹی کا ناشتہ لے آئے اور ہم سب نے مل کر الله کا شکر ادا کرتے ہوۓ وہی کھانا کھایا. جب پیٹ میں کچھ گیا تو اوسان کچھ اور بحال ہوۓ، اور قوت فیصلہ پھر سے جاری ہوئی. میں نے اکرمبھائ اور اپنےآس پاس موجود تمام ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوۓ اعلان کیا کہ عدنان بھائی کی طبیت کافی ناساز ہے اور ان کو فوری طور پر اسپتال اور اچھے علاج کی ضرورت ہے، جب ٹیم کا سربراہ ہی بیمار ہو اور کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہو تو ٹیم کے باقی ارکان سے کس طرح  سے خیر کی کوئی امید کی جاسکتی ہے؟ (میرا انداز کافی حد تک تحکمانہ تھا، انجانے میں خود کو شید ٹیم آشیانہ کا سربراہ سمجھ بیٹھا تھا) عدنان بھائی نے مجھ کو کافی خفت بھری نظروں سے دیکھا مگر منہ سے کچھ نہ بولے. (عدنان بھائی کی اندر دھنسی ہوئی آنکھیں، کمزور پڑتا جسم اور لڑکھڑاتی زبان سے بس ایک ہی جملہ نکلا "الله مالک ہے"). میں نے بھی جواب دیا کہ  "بلکل جناب الله ملک ہے اور الله نے ہی ہم سب کو اپنا خیال رکھنے کا حکم بھی دیا ہے. ہم سب آپ (عدنان بھائی) کو کسی صورت ابھی اور یہاں روکنے نہیں دیں گے، آپ کو آج ہی بلکے ابھی میران شاہ کے لئے روانہ ہونا ہے. بس یہی ہم سب کا آخری فیصلہ ہے." عدنان بھائی نے کافی مضطرب نظروں ا ادھر ادھر دیکھا کہ میں نیں یہ فیصلہ اکھڑ کیا کبه؟ کس وقت میری سارے ساتھیوں سے بات ہوئی؟ مگر کوئی بھی کچھ بھی نہیں بولا. اکرم بھائی نے ہی کہا کہ "ہم سب بھی یہی چاہتے ہیں کہ عدنان بھائی علاج کے لئے میران شاہ چلیں مگر عدنان بھائی کہتے ہیں کہ اگر میرا علاج وہاں ہو سکتا ہے تو باقی لوگوں کا کیوں نہیں؟ اب ہم میران شاہ کو تو یہاں لانے سے رہے." اکرم بھائی کا جواب کافی معقول اور درست تھا. میں نے بلال محسود اور فیصل بھائی کی طرف دیکھا اور کہا کہ تمام کارکنان اور بزرگ لوگوں کو ابھی یہاں بلوائیں میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں. عدنان بھائی اب بول ہی پڑے "بھائی آپ کیا چاہتے ہو تھوڑا مجھ کو بھی تو بتائیں"، میں نے عرض کری "عدنان بھائی، میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ آپ جلد از جلد صحتمند ہو کر دوبارہ اپنی ذمداریاں سمبھال لیں، آپ کی گرتی ہوئی صحت دیکھ کر مجھ کو شبہ ہے کے کہیں آپ کو کراچی ہی نہ لے جانا پڑے اور اگر ایسا ہوا تو یہاں (آشیانہ کیمپ) اور یہاں کے لوگوں کا کیا ہوگا؟ دکھی انسانیت کی خدمات اور فلاحی کاموں کا کیا ہوگا؟ آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں، اور کچھ دنوں کے لئے میران شاہ چلے جائیں وہاں آپ کا علاج ہو سکے گا اور اسس سامنے میں آپ کیمپ کی ذمہ داریاں ہم میں سے کسی کو بھی سونپ دیں، آپ کے ساتھ رہتے رہتے ہم میں سے کچھ لوگ اس قابل ہو چکے ہیں کہ کچھ عرصے کے لئے کیمپ کو چلا سکیں." میں نے ایک ہی سانس میں اپنی سری بات  کرنے کی  کری تھی. اکرم بھائی بھی سب کو جمع کر کے لے آئے تھے. اب عدنان بھائی بہت گہری سوچ میں تھے، مجھ کو ایک طرف آنے کا اشارہ کیا اور خود لڑکھڑاتے ہوۓ کھڑے ہوۓ تو پاس بیٹھے ندیم بھائی نے ان کو سہارہ دیا. میں ان کا ہاتھ تھام کر مجمع سے تھوڑا دور گیا انہوں نے اپنی بات سمجھائی کہ وہ کیوں نہیں جا رہے اور کیمپ کے معملات کس حد تک خراب ہو چکے ہیں. میں نے ان کو کہا کے آپ پورا بھروسہ رکھیں الله پاک ہمیشہ کی طرح ہماری مدد ضرور کرے گا انشا الله. میری بات کی گہرائی کو سمجھ کر انہوں نے کچھ سوچا اور ان کے چہرے کو دیکھ کر اندازہ ہوا کے وو بھی کوئی فیصلہ کر چکے ہیں یا کرنے ہی والے ہیں. پھر ہم واپس مجمع کی طرف آئے. عدنان بھائی نے مجھ کو اشارے سے خاموش رہنے کا کہا اور مجمع کی طرف دیکھتے ہوۓ باقی لوگوں سے کچھ کہنے کی اجازت طلب کری، مجمع سے کچھ آوازیں  آئی جو مقامی زبان میں تھی شاید ان آوازوں کا مطلب تھا کہ ارشاد....
اب عدنان بھائی شروع ہوۓ، کمزور آواز میں پہلے سب کو سلام کہا اور اس کے بعد کہا کہ "جیسا آپ سب لوگ جانتے ہیں کے کافی دنوں سے بخار میں مبتل ہوں اور کمزوری کا عالم یہ ہے کہ اب اٹھنے بیٹھنے سے بھی جا رہا ہوں، ایسے میں یہ لوگ (ہماری طرف اشارہ کر کہ کہا) آگئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں علاج کی غرض سے میران شاہ جاؤں مگر یہاں کے حالات دیکھتے ہوۓ یہاں سے جانے کا دل نہی کر رہا مگر سارے کارکنان ساتھ بضد ہیں کے اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے مجھ کو میران شاہ جا کر اپنا علاج کروانا چاہیے،" ابھی عدنان بھی آگے کچھ کہنا ہی چاہتے تھے کہ ایک لڑکا عمر کوئی ١٥- ١٦ برس کی ہوگی اچانک سے آیا اور کہا کے پچھلے دو (٢) دن سے ڈرون کچھ علاقوں میں ہیں اور کل ہی ایک ڈرون حملہ ہوا ہے تفصیلات آج شام تک مل جائیں گی. ڈرون حملوں کا سن کر ہم سب کے دل دہل گئے، میں نہیں سہمی نظروں سے فیصل بھائی، اور ندیم بھائی کی طرف دیکھا تو وہ بھی کچھ سہمے نظر آئے. عدنان بھائی کچھ دیر بعد بولے "جس کا جو کام ہے وہ کر رہا ہے، ہمارا جو کام ہے ہم کو وہی کرنا چاہیے - الله مالک ہے. تو کہہ میں رہا تھا کہ ایسے میں مجھ کو کیا کرنا چاہیے آپ لوگ ہی بتائیں؟" مجھ کو عدنان بھائی کا یہ انداز بلکل پسند نہیں آیا، جب ہم ایک فیصلہ کر چکے ہیں تو اب عدنان بھائی کو کسی اور سے پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ مبادہ کوئی غلط مشورہ ہو گیا تو؟ مگر تمام ہی لوگ کہنے لگے کہ عدنان بھائی کو میران شاہ روانہ ہونا چاہیے، یہ سن کر میری جان میں جان آئ. اس کے بعد عدنان بھائی نے اچانک سے کہا کہ، "میں آج ہی جا رہا ہوں اور بہت جلد واپس آجاؤں گا، اکرم بھائی آپ جانے کے لئے اگر کوئی سواری کا انتظام کر سکتے ہیں تو کریں نہیں کل دیکھتے ہیں، اکرم بھائی تو جیسے عدنان بھائی کے یہی کہنے کے انتظار میں تھے، اکرم بھائی نے کہا آپ فکر نہ کریں آپ اپنے کپڑے تبدیل کر لیں میں کچ کرتا ہوں اور ہم آج ہی میران شاہ جا رہے ہیں. میری بھی جان میں جان آئی . اب سب سے اہم بات، عدنان بھائی نے ہم سب کو چونکا دیا. پھر کچھ دیر بعد بولے "میری غیر حاضری میں (جب تک عدنان بھائی میران شاہ میں ہونگے) یہاں (کیمپ) کے سارے انتظام آپ سب مل کر کریں گے، جو ہو رہا ہے ہوتا رہے گا، آپ کی نگرانی کے لئے میرے یہ ساتھی (ہماری طرف اشارہ کر کے کہا) آپ کی خدمات کے لئے یہاں موجود ہونگے. ہم نے سکوں کا سانس لیا. عدنان بھائی پھر سے بول پڑے، اور یہاں کہ نگران کہ لئے اگر آپ کے ذہن میں کوئی نام ہیں تو باتیں نہیں تو میں بتاتا ہوں. سب لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے. جب کسی کی سمجھ میں کچھ نہی آیا تو عدنان بھائی نے خود ہی کہا، یہاں کہ نگران بابا ہونگے اور ان کا ساتھ بھائی (میری طرف اشارہ کیا) اور فیصل بھائی، بلال محسود، جلال خان (ایک مقامی ساتھی) زوہیب خان (ایک اور ١٥-١٦ برس کی عمر کے لڑکے کی طرف اشارہ   کر کے کہا) اکرم بھائی اور ندیم بھائی میرے (عدنان بھائی) کے ہمراہ میران شاہ جائیں گے اور اگر ممکن ہوا تو ان دونوں میں سے کوئی ایک واپس آجائے گا. ٢-٣ دن میں ہمارا امدادی سامان بھی یہاں (دتہ خیل) پہنچنے والا ہے اس کے بعد دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے. آخر میں عدنان بھائی نے کہا کہ آپ سب مل بات کر رہنا اور پوری کوشش کرنا کہ یہاں کے حالات سے مجھ کو آگاہ کرتے رہیں، آپ سب کا الله ہی بہتر نگران اور انتظام کرنے والا ہے."
   اتنا کہنے کے بعد عدنان بھائی اٹھے اور اپنے ٹینٹ کی طرف گئے تھوڑا دیر میں باہر نکلے ان کے ہاتھ میں کچھ فائلز تھی وہ لے کر ہم سب کو سمجھایا کہ کیمپ میں کون کون مقیم ہے. اور کس طرح سے معملات کو چلانا ہے. ہم سب نے الله کی مدد سے اپنی پوری اور بہتر سے بہتر کوشش کرنے کا عہد کیا اور اکرم بھائی کافی دیر کے جا چکے تھے.           
وقت  حالات انسان کو بہت کچھ سکھا دیتے ہیں بس جستجو، لگن، ہمت اور حوصلہ انسان میں ہمیشہ رہنا چاہیے. میرے سوشولوجی کے استاد کی ایک بات ہمیشہ مجھ کو یاد رہتی ہے وہ اکثر کہا کرتے تھے "زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جب انسان میں جدوجہد کی امنگ ختم ہو جاۓ سمجھو کے  انسان کی معاشرتی موت ہو چکی." میں بھی عمل پر پورا یقین رکھتا ہوں اور یہی چاہتا ہوں  کہ جہاں بھی ہوں مسلسل عمل کے ساتھ زندہ رہوں.

آشیانہ کیمپ آنے سے پہلے یہی سوچتا تھا کہ وہاں جا کر کرنا کیا ہوگا مگر یہاں آنے کے بعد یہی سوچتا ہوں کہ بس تھوڑا سا وقت اور مل جائے. عدنان بھائی مستقل محنت اور فکر سے بہت تھک گئے ہیں. ایک بہت بڑا مقصد لے کر نکلے تو کتنے ہی برس گزر گئے اپنے آپ کو ہی بھول چکے ہیں. اب عدنان بھائی کو کچھ آرام کی سخت ضرورت ہے اور اس طرح کہ وہ ہر طرح کی فکر سے آزاد ہوں. میں نے دل ہی دل میں ارادہ کیا کھ جب تک یہاں ہوں عدنان بھائی کو کسی بات کی فکر نہ ہونے دوں گا - انشا الله.....

ابھی بہت کام کرنے باقی تھے. سب سے پہلا کام عدنان بھی کو میران شاہ رخصت کرنا تھا اس کے بعد جن لوگوں کے ساتھ مجھ کو یہاں کام کرنا ہے ان کے ساتھ ایک تفصیلی نشست کی بہت سخت ضرورت تھی تاکہ ہم ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کے کام کرنے کے انداز کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں. بلال نے مجھ کو بتایا کے غذائی اجناس کے سٹاک میں  صرف آلو، پیاز وغیرہ ہی موجود ہیں. اب مج کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آج رات کے خانے میں کیا پکنا ہے تاکہ ابھی سے کام شروع کیا جا سکے، کھانا پکانے کا ذمہ کیمپ میں مجود کچھ لوگوں کے پاس پہلے سے موجود تھا. میں نے دوسرے لوگوں سے معلوم کیا تو پتہ لگا کہ کافی عرصے سے صرف آلو اور دالوں پر ہی گزارا ہے. میں نے آج رات کے کھانے میں ایک دفع پھر سے آلو پکانے کی ہدایت کر دی (اس کے سوا ابھی کچھ اور کیا بھی نہیں جا سکتا تھا).
ظہر کی نماز تک میں عدنان بھائی کے بتائے ہوۓ لوگوں کے ساتھ بہت اچھی طرح گھل مل گیا تھا، فیصل بھائی بچوں میں مشغول رہے. نماز ظہر کے دوران ہی پتہ لگا کے ایک گاڑی میران شاہ جا رہی ہے اور اکرم بھائی نے اسی گاڑی میں عدنان بھائی اور دیگر کے جانے کا انتظام کر دیا ہے. عدنان بھائی نے جو یہاں سے روانہ ہونے کی اطلاع سنی تو ایک دم سے اداس ہو گئے. میں نے ان کو ہمت دی، عدنان بھائی جاتے وقت تک یہی کہتے رہے کہ بہت انکساری سے کام لینا، سختی نہیں کرنا،  یہ لوگ پہلے ہی دکھی ہیں کوئی بھی ایسی بات نہیں کرنا جس سے ان کے دکھوں میں اور اضافہ ہو، بہت ساری ہدایت حاصل کر کے ہم سب نے مل کر دعاؤں کے سایہ میں عدنان بھائی کو کیمپ سے رخصت کیا، کیمپ کی فضا پہلے ہے سوگوار تھی مزید ہو گئی . میں نے صورت حال کو دیکھتے ہوۓ اپنے ساتھیوں کو ایک طرف بلایا اور کہا کے کیمپ میں موجود ایک ایک شخص سے ملنا چاہتا ہوں، بابا جن کا نام رحمت تھا اور سب ہی ان کو بابا کہ رہے تھے مجھ سے وضاحت چاہی کہ کیا میں خواتین سے بھی ملنے کا ارادہ رکھتا ہوں؟ تو میں نے انکار میں سر ہلا دیا کیونکہ میں یہاں کے رسم و رواج اور طور طریقوں سے کافی اچھی طرح واقف ہوں اور کوئی بھی ایسا کام یا بات نہی کرنا چاہتا جس سے ماحول میں کسی بھی طرح کا تناؤ پھیلے. جب تک بابا اور کچھ اور لوگ کیمپ میں موجود لوگوں کو بلانے گئے میں نے بلال اور فیصل بھائی کے ساتھ اپنے قائم کردہ آشیانہ اسکول کا رخ کیا مگر بلال کافی بے چین تھا میرے بار بار پوچھنے پر بھی وہ کچھ نہی بتا رہا تھا. اسکول کیا تھا بس ایک ٹینٹ میں طلباء کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا ٢عدد بلیک بورڈ رکھے گئے تھے ایک طرف کچھ تختوں  کو جوڑ کر الماری بنائی گئی تھی جن میں طلباء اور اساتذہ کے استعمال میں آنے والی کتب اور دیگر اشیاء رکھی گئی تھی. صفائی اچھی خاصی تھی مگر ٹینٹ میں جا کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ جیسے ہفتوں سے یہاں کوئی پڑھنے یا پڑھانے نہیں آیا ہے. میں یہ سب دیکھ کر حیران نہیں ہوا مگر فکرمند ضرور ہوا. اب مجھ کو بلال کی بیچنی کا مطلب بھی سمجھ آنے لگا اور ساتھ سات بلال کی تحریروں میں موجود پیغام بھی سمجھ گیا. میں نے دل ہی دل میں نیت کر کہ ایک دفع پھر سے اس اسکول کو آباد کرنا ہے - انشا الله. ٹینٹ سے نکلا تو ایک بچے نے مقامی زبان میں کچھ کہا جواب میں بلال نے بھی کچھ کہا بچا بھاگتا ہوا جس طرف سے آیا تھا وہی چلا گیا، بلال نے کہا کہ چلیں بھائی سب لوگ مسجد کے باہر جمع ہیں. مجھ کو حسب ضرورت سگریٹ کی طلب محسوس ہو رہی تھی مگر میں وقت اور شاید سگریٹ دونوں کا زیاں نہیں کرنا چاہتا تھا. بلال اور فیصل دونوں ہی میری اس کیفیت کو کافی اچھی طرح سمجھ چکے تھے مگر کچھ بولے نہی. ہم بلال کی نیابت میں مسجد کی طرف چلنے لگے، میرا خیال تھا کہ جہاں ہم نے فجر اور ظہر کی نماز ادا کری ہے اسی جگہ کو مسجد کہتے ہیں مگر ایسا نہیں تھا بلال ہم کو آشیانہ کیمپ کے بلکل آخری کونے کی طرف لے کر جا رہا تھا، ابھی تک میرا اس طرف دیکھنے کا اتفاق بھی نہیں ہوا تھا.  جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے تھے ایک چار دیواری جیسا خدوخال نمایاں ہوتا جا رہا تھا. جلد ہی ہم وہاں پہنچ گئے. وہاں کچھ لوگ باہر جمع تھے اور مسجد کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ "آشیانہ مسجد - دتہ خیل" میں نے سب کو سلام کیا اور کسی سے کچھ کہے بغیر ہی مسجد میں داخل ہوگیا. ١٢٠ گز کا رقبہ ہوگا شاید...
مسجد کے چاروں طرف چہار دیواری کوئی ٣-٤ فٹ کی موجود تھی مسجد کے اندر درختوں کی لکڑی سے ستون کھرے کر کے اس کے اپر لکڑی کی مدد سے چیٹ ڈالی گئی ہے. بہت سادہ انداز مگر بہت خوبصورت. ماشا الله ....  


جاری ہے ....


Friday, 7 December 2012

وزیرستان ڈائری: کراچی سے دتہ خیل، شمالی وزیرستان تک کا سفر

اسلام و علیکم،

اظہار تشکر!
دوستوں اور ساتھیوں، آپ سب کو علم ہوگا کہ عدنان بھائی (سید عدنان علی نقوی) گزشتہ دنوں شدید بیمار رہے ہیں، مستقل بخار کی وجہہ سے نہایت کمزوری کے عالم میں عدنان بھائی کو میران شاہ کے ایک مقامی اسپتال میں داخل کروایا گیا. دو دن کے علاج اور طبی سہولیات ملنے کے بعد اب عدنان بھائی الله پاک کے فضل و کرم سے کافی بہتر ہیں اور دو، تین دن میں واپس آشیانہ کیمپ، دتہ خیل آجائیں گے. ہم (ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان) کے تمام کارکنان، اور آشیانہ کیمپ میں مقیم تمام مقامی ساتھی اور احباب الله پاک کے شکر گزار ہیں کہ الله پاک نے عدنان بھائی کو صحت عطا فرمائی. ہم سب آپ تمام دوستوں، ساتھیوں، کارکنان کے گھر والوں اور تمام پڑھنے والوں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ہم سے رابطہ کیا اور عدنان بھائی کے لئے خصوصی دعا کری. الله پاک آپ سب کو بھی صحت، تندرستی اور خوشالی عطا فرماۓ آمین.

آشیانہ کیمپ (دتہ خیل، شمالی وزیرستان) کے بارے میں کچھ باتیں:
دوستوں، کیا لکھوں اور کیا بتاؤں سب کچھ تو ویسا ہی ہے جیسا میں چھوڑ کر گیا تھا بلکہ حالت پہلے سے بھی کہیں زیادہ مشکل اور کٹھن. مجھ کو تو اب سچ میں یہاں آکر بہت ہی وحشت کا احساس ہو رہا ہے. مگر کچھ باتیں ایسی ہیں جو یہاں اکر دل کو چھو گیں.

ٹیم آشیانہ کے کراچی اور لاہور سے آئے ہوۓ کارکنان کا استقبال:
  ہم جب کراچی سے چلے اور لاہور آئے پھر لاہور سے پنڈی پھر پشاور تو یہ احساس بلکل نہیں تھا کہ آشیانہ کیمپ میں مقیم مقامی لوگوں کو ہماری آمد یا ہماری طرف سے کچھ مدد بھیجنے کی کوئی امید ہے یا اطلاع ہے. لیکن جیسے ہی ہم میران شاہ پہنچے (ہم میران شاہ، شمالی وزیرستان تک کیسے پہنچے؟ یہ بھی ایک بہت دکھ بھری اور مشکلات سے بھرپور کہانی ہے، لیکن میں کچھ وجوہات کی بنا پر وہ سب باتیں یہاں لکھنے سے قاصر ہوں بلکہ ایسا سمجھ لیں کہ وسی تر ملکی مفاد میں کچھ باتوں کا سب کے سامنے بیان ہونا یا ظاہر ہونا نقصان دے ہو سکتا ہے) تو میران شاہ پہنچنے پر ہم کو یہ معلوم ہوا کہ جناب اکرم بھائی اور بلال خان محسود کو اور آشیانہ کیمپ میں موجود لوگوں کو کسی نہ کسی طرح ہماری آمد کے بار میں اطلاع  مل چکی تھی اور یہ دونوں (بلال اور اکرم بھائی) ہمارے استقبال کے لئے میران شاہ میں ہی موجود تھے.  بلال تو مجھ سے ایسے ملا کے جیسے میں کہیں گم ہو گیا ہوں اور بہت مشکل کے بعد اس کو ملا ہوں، اس بچے (بلال) کے محبت اور خلوص  دیکھ کر میں دل ہی دل میں خود سے شرمندہ ہو گیا (کیونکہ پچھلی دفع کراچی واپسی کے بعد شاید صرف ایک یا دو بار ہی میں بلال سے رابطہ کر پایا تھا، اور اپنی مصروفیت میں کچھ اس طرح مگن ہو گیا تھا کہ جیسے میں وزیرستان یا اپنے دوستوں کو جانتا تک نہیں ہوں). اکرم بھائی بھی والہانہ انداز میں ملے اور ہم کو خوش آمدید کیا. یہاں کوئی ڈھول یا شادیانے تو نہیں بجائے گئے لیکن جتنے لوگ مقامی تھے سب ہی بہت ہی محبت اور خلوص کے ساتھ ہم سے پیش آئے. (الله پاک یہ محبت، خلوص اور اخلاق کا جذبہ ہم سب میں سلامت رکھے - آمین)

میران شاہ (شمالی وزیرستان) میں گزرا ہوا کچھ وقت:
 کیونکہ جس وقت ہم میران شاہ پہنچے شام  ختم بلکہ رات شروع ہونے ہی والی تھی، اور سیکورٹی کی وجوہات کی بنا پر ہم کو آگے (دتہ خیل) تک جانے کی اجازت ملنا ممکن نہی تھی. عدنان بھائی اور دیگر ساتھیوں کی بھی یہی ہدایت تھی کہ ہم کسی بھی قیمت پر رات کو سفر نہیں کریں گے اور اپنی مصروفیات سے مقامی انتظامیہ کو بھی پوری طرح آگاہ رکھیں گے. انہی ہدایات کے پیش نظر اکرم بھائی اور دیگر مقامی دوستوں نے میران شاہ میں ہمارے روکنے کا انتظام پہلے سے ہی کر رکھا تھا. کراچی سے روانہ ہوتے وقت ہم کو بتلا دیا گیا تھا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں اور خصوصاً جہاں ہم ابھی (شمالی وزیرستان) موجود ہیں میں سردی بہت زیادہ ہے تو اپنے آپ کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے جس قدر انتظام کر سکتے تھے ہم لوگ کر کے چلے تھے. وہ امدادی سامان جو ہم کراچی سے لے کر روانہ ہوۓ تھے اور وو امدادی سامان جو لاہور اور دوسرے شہروں سے بھیک مشن کے تحت جمع کیا گیا تھا ہمارے ساتھ نہیں تھا بلکہ مختلف راستوں سے ہوتا ہوا کچھ دن میں پہلے میران شاہ اور پھر آشیانہ کیمپ پہنچنے والا تھا. 
ہم نے سب سے پہلے خود کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے جو کچھ کر سکتے تھے کیا اور مقامی دوستوں نے ہمارے لئے رات کے کھانے کا انتظام کیا، بلال محسود تو جیسے مجھ کو کچھ کرنے ہی نہی دے رہا تھا میرا ہر کام بغیر بولے خود ہی کیے جا رہا تھا. بلال کی آنکھوں میں ایک چمک تھی کے جیسے اس کے ہاتھ کوئی خزانہ لگ گیا ہو اور میں دل ہی دل میں بہت خوفزدہ تھا کہ پتہ نہیں بلال نے مجھ سے کس قسم کی امیدیں وابستہ کر لی ہیں؟ الله نہ کرے اگر میں بلال کی کوئی امید یا اس نے جو سوچ رکھا ہے پر پورا نہ اترا تو یہ لڑکا میرے اور ٹیم آشیانہ کے کرککن کے بارے میں کیا سوچ بیٹھے گا. (میں خود بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ جب امیدیں ٹوٹتی ہیں تو انسان کہاں جا گرتا ہے). میں نے دل ہی دل میں ارادہ کیا کے جو کچھ بلال نے مجھ سے وابستہ کر رکھا ہوگا انشا الله پورا کرنے کی پوری کوشش کروں گا اور اگر کچھ نہی کر سکا تو بلال کو کسی بھی طرح سے اندھیرے میں نہیں رکھوں گا. میرا بلال کے ساتھ برتاؤ بہت مشفقانہ رہا تھا اور اس دفع میں اور بھی نرمی اور شفقت کہ ساتھ پیش آنے کی پوری کوشش کر رہا تھا. 
ہم نے ساتھ ہی پہلے مغرب اور پھر عشاہ کی نماز پڑھی. میں نی الله پاک کا شکر ادا کیا کے ہم ساتھ خیریت اور عزت کے ساتھ یہاں (میران شاہ ) تک پہنچ گئے ہیں اور دعا کری  کہ اب جتنا بھی وقت یہاں رہیں الله پاک عزت و آبرو کے ساتھ اور انسانیت کی خدمات ادا کرتے ہوۓ ساتھ گزرے - آمین. 
نماز کے بعد یہاں کچھ اور مقامی لوگ بھی جمع ہو گئے سب ہی ہم سے ملنا چاہتے تھے، ہم کو جاننا چاہتے تھے اور ہماری آمد کا سبب معلوم کرنا چاہتے تھے. یہاں (میران شاہ) میں ایک بنیادی تاثر یہی ہے کے اگر کوئی بندہ یا کوئی ادارہ اگر کسی بھی طرح کے فلاحی کام سر انجام دے رہا ہو تو وو کام صرف مقامی لوگوں سے ہی کروایا جائے، باہر (پاکستان یا بیرون ملک) سے آنے والے لوگ ہو سکتا ہے کے کسی کے ایجنٹ ہوں وغیرہ وغیرہ)، میں کیوں کہ پہلے ایک دفع یہاں آکر جا چکا ہوں ٹوہ میرا لوگوں سے برتاؤ یہاں کے رواج کے مطابق ہی رہا مگر محترم احمد بھائی، ندیم بھائی اور فیصل بھائی بہت زیادہ گھبرائے ہوۓ اور تھوڑا پریشان لگ رہے تھے. میں اپنی پوری کوشش کر رہا تھا کہ مقامی لوگ جو ہم کو نہی جانتے کے ساتھ بہت دوستانہ رویہ رکھوں اور ہر بات کا جواب آسان الفاظ میں اور سیدھے طریقے سے دوں، میں اپنی اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا. اور اکرم بھائی اور بلال نے بھی ہماری ہر موقع پر مدد کر خاص کر جب ہم سے کوئی بات پشتو یا وزیر زبان میں کہی جاتی تو یہ دونوں ہی بہت آسان اردو میں ترجمہ کرتے اور ہمر بات کو بھی مقامی زبان میں مقی لوگو کو بتاتے.

سفر کی تھکن اور پیش آنے والے حالات کی سوچ میں ہی تھے کہ نیند نے آ لیا اور میں نے اکرم بھائی کو اشارہ کیا کہ ہم اب سونا چاہتے ہیں تاکہ صبح فجر میں آرام سے جاگ سکیں تو اکرم بھائی نے تمام لوگوں کو کہ دیا کہ مہمانوں کو اب آرام کرنا ہے باقی باتیں اگلے دن کے لئے چھوڑ دی جائیں. مقامی لوگ جب رخصت ہو چکے تو ہم زمیں پر لگے ایک بستر میں گھس گئے اور سونے کی کوشش کرنے لگے. فیصل بھائی، ندیم بھائی اور دیگر ساتھی آس پاس ہی تھے. بلال ایک طرف بیٹھا ہوا کچھ سوچ رہا تھا اور اکرم بھائی پانی لینے کے لئے باہر گئے ہوۓ تھے کہ اچانک بلال بولا "بھائی اب کی دفع آپ مجھ کو اپنے ساتھ لے کر جو گے نا؟" یہ سوال اچانک اور غیر متوقع تھا. میرا جو بھی جواب ہوتا وہی جواب ہونا چاہیے تھا جو سچ ہو اور میں پورا کر سکوں، میں نے کہا " ابھی کراچی کہ حالت ایسے نہیں بلال کہ میں تم کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں مگر میں یہ وعدہ کرتا ہوں کے اب کی دفع تم کو پہلے کی طرح تنہا نہیں چھوڑوں گا اور مجھ سے جو بھی ہو سکا کم از کم تمہارے لئے ضرور کروں گا انشا الله." بلال میرے جواب سے مطمئن نظر نہیں آرہا تھا الجھن اس کے چہرے سے صاف دکھائی دے رہی تھی. پتہ نہیں آشیانہ کیمپ، دتہ خیل کے کیا حالت ہیں جو بلال اب یہاں رہنا یا رکنا نہیں چاہتا، میں نے دل میں سوچا اور فیصلہ کیا کے بلال کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہوگا. اس بچے کے ساتھ میری دوستی بہت نامناسب حالات  میں ہوئی تھی اب جو بھی ہو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا.  تھوڑا دیر میں میری بھی آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا.

اگلی صبح:
آنکھ کھلی تو سورج کا کچھ پتہ نہیں تھا، جلد ہی یہ احساس ہو گیا کے نماز فجر کا وقت ہو گیا ہے، اور مجھ کو اکرم بھائی نے جگایا ہے. (سچی بات کہوں تو جب میں پچھلی دفع یہاں آیا تھا تو مکمل نماز پڑھنے لگا تھا مگر کراچی جاتے ہی آہستہ آہستہ سری نمائن جاتی رہیں اور میں صرف جمعہ کی مناظ تک محدود ہو گیا، الله پاک مجھ بے نمازی کو نماز پڑھنے والا بنا دے - آمین)، باقی ساتھ جیسے فیصل بھائی، ندیم بھائی اور احمد بھائی اتنا جلدی اٹھنے کے عادی نہی ہیں مگر تھوڑا کوشش کے بعد یہ لوگ بھی جاگ گئے. بلال نے اور جس گھر میں ہم مہمان تھے اس گھر میں رہنے والوں نے ہمارے لئے تھوڑا گرم پانی کا انتظام کر دیا تھا. ہم نے جلدی جلدی وضو کیا اور نماز کی ادائیگی کری. الله و اکبر. کیا سکون اور لذت ملی اس نماز میں اس کا اظہر الفاظ میں کرنا نا ممکن ہے. میں تو بار بار یہی دعا کروں گا کے اللہ پاک نماز میں ایسی لذت مجھ کو بار بار عطا فرماۓ - آمین. نماز کی ادائیگی کے دوران ہی جو تھوڑا بہت نیند کا خمار تھا وہ بھی چلا گیا مگر فیصل  بھائی تھوڑا نیند سے تنگ نظر آرہے تھے. میں نہیں فیصل بھائی کو اشارہ کیا کہ ہماری منزل میران شاہ نہیں ہے بلکہ اب ہم کو دتہ کھیل کے لئے روانہ ہونا ہے اور وہاں جا کر آپ کو جتنا آرام کرنا ہے کر لینا تو فیصل بھائی مسکرائی ایک دفع اور مون ہاتھ دھویا اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے. سورج بھی تھوڑا نکل چکا تھا اور میران شاہ کے زندگی کے طریقوں کے مطابق لوگ اب گھروں سے نکل کر اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو رہے تھے. جن لوگوں کو ہماری آمد کا پتہ چل رہا تھا ہم سے ملنے ضرور آرہا تھا. اکرم بھائی نے کہا کے اس سے پہلے کے سارا بازار اور میران شاہ یہاں جما ہو ہم کو یہاں سے نکلنا ہوگا. میران شاہ  سےدتہ خیل تک کا سفر بہت دشوار گزار راستوں اور خطروں سے بھرپور ہے خاص کر ہم جیسے لوگوں کے لئے جو داڑھی والے نہیں ہیں اور  مقامی حلیہ نہیں رکھتے. اکرم بھائی نے ہم کو کہا کہ ہم  لوگ اب شلوار قمیض پہن لیں (گزشتہ رات جب ہم یہاں آئے تھے جب سے اب تک صرف فیصل بھائی نے ہی اپنے کپڑے تبدیل کیے تھے، ہم لوگ جن کپڑوں میں آئے تھے وہی پہنے ہوۓ تھے). 
ہم نے اپنے کپڑے تبدیل کیے اور خیل کی طرف روانگی کے لئے تیار ہو گئے. مقامی میزبان نے ہمارے لئے کچھ کھانے پینے کا انتظام کر دیا تھا جو راستے کے لئے استعمال کرنا تھا. ہم سب نے ان کا شکریہ ادا کیا،اکرم بھائی ایک گاڑی کا انتظام کر چکے تھے جو دتہ خیل کی جانب جا رہی تھی. جب ہم اس گاڑی میں سوار ہو رہے تھے تو ایک ہی خیال بار بار آرہا تھا کے اگر کہی سے بلی جیسے ڈرون آ گئے تو کیا ہوگا؟ ہم کیسے خود کو محفوظ رکھ سکیں گے؟ پھر خود ہی کو تسلی دیتا تھا کہ ڈرون سے حملہ کرنے والے پوری معلومات اور تصدیق کے بعد ہی کوئی حملہ کرتے ہونگے ہم جیسے نہتے لوگوں پر کوئی بھلا کیوں حملہ کرے گا؟ ڈرون سے زیادہ مج کو مقامی شدت پسند اور مسلح گروہوں کی فکر تھی جو جہاں جہاں زور چلا وہیں اپنی حکومت چلا رہے تھے. تمام دعائیں پڑھ کر ہم سب ایک پرانی ہائی لکس گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل آشیانہ کیمپ، دتہ خیل کی جانب روانہ ہوۓ. میران شاہ سے دتہ خیل کا سفر نہت دشوار گزار راستوں سے ہو کر کرنا پڑھتا ہے مقامی لوگ تو اب ان راستوں کے عادی ہو چکے ہیں مگر ہم جیسے لوگ ان پر خطر راستوں سے ناواقف ہے اور خوفزدہ بھی ہیں. 
ہمارا سفر صوبۂ ٨ بجے شروع ہوا اور ہم کو عصر یا مغرب تک ہر صورت میں دتہ خیل پہنچنا تھا. اس گری میں اور بھی مقامی لوگ سوار تھے جو راستے میں مختلف علاقوں کے مسافر تھے دتہ خیل کے لئے بس چند ہی لوگ تھے جن میں ہم لوگ اور ٢ اور تھے. 
سارا راستہ صرف دعائیں پڑھتے اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کی خیر و آفیت مانگتے ہوۓ سفر گزرا. ایک جگا روک کر نماز ظہر ادا کری، اور اکرم بھائی نے پوری کوشش کری کے ہم وقت سے پہلے ہی اپنی منزل تک پہنچ جائیں.دتہ خیل سے تھوڑا پہلے ایک جگہ مقامی لوگوں (اب میں ان لوگوں کے بارے میں کیا لکھوں؟ شدت پسند، طالبان، انتہا پسند یا پاکستانی یا وزیری؟ میری تو کچھ سمجھ نہی آرہا) کے ایک گروپ نے ہماری گاڑی کو روکا اور ہم سے پوچھا کہ ہماری آمد کا کیا مقصد ہے اور ہم کب تک کے لئے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ، اکرم بھائی اور بلال ہماری ترجمانی کر رہے تھے. شکر الله پاک کا کہ یہ لوگ آشیانہ کیمپ سے واقف تھے اور ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان سے بھی واقف تھے. مگر تلاشی پوری لی گئی. تلاشی کے دوران میرا، ندیم بھائی کا اور فیصل بھائی کا موبائل فون جس میں ویڈیو بنانے کی سہولت تھی ہم سے لے لیا اور صاف کہ دیا کہ اگر ہمارے پاس اس طرح کی کوئی اور چیز ہے تو وہ ہم ان کو امانت کے طور پر دے دیں، سچی بات ہے کہ اس دفع میں اپنے ساتھ ایک ڈیجیٹل کیمرہ بھی لے کر آیا تھا مگر میں نے ان کو دے دیا کے کہیں میری وجہہ سے ساری ٹیم پر کوئی مشل یا آفت نا آجائے.  ان لوگوں نے کچھ دیر بعد ہم کو آگے جانے کی اجازت دے دی تو ہماری جان میں جان  آئی. ایسا ابھی تک پہلی دفع نہیں ہوا کے مقامی لوگ تلاشی اور پوچھ گچھ کریں. پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ نئے آنے والے لوگوں کو پوری چھان بین کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت ملتی ہے.  میران شاہ سے روانہ ہونے کے بعد کافی جگہوں پر سیکورٹی اداروں کے جوان ہم کو روکتے رہے اور ہم کو پوری معلومات اور تصدیق کے بعد ہی ہم کو مزید آگے جانے کی اجازت دیتے رہے. اور ایک پاکستانی کی حثیت سے یہ ہمارا فرض بھی تھا کے ہم اپنے سیکورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں. 
خیر، خدا خدا کر کے ہم دتہ خیل میں داخل ہوۓ. یہاں ہماری آمد کی اطلاع پہلے سے ہی تھی. ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں کوئی بھی بات یا حرکت چھپی نہی رہ سکتی. مقامی لوگ دتہ کھیل کی سڑکوں پر اپنے کاموں اور بات چیت میں مصروف تھے. کچھ سفر ہم کو گاڑی سے اترکر پیدل بھی کرنا تھا. لہذا گاڑی والے بھائی صاحب کو فارغ کیا، یہی نماز عصر ادا کری. مقامی لوگوں سے بات چیت کری اور اپنے آشیانہ کیمپ کی جانب چل پڑے، آشیانہ کیمپ میں داخل ہوتے ہی سارے بچے اور بزرگ ہم سے ملنے بھاگے چلے آئے. مگر آشیانہ کیمپ کے حالت بہت زیادہ خراب لگ رہے ہیں. ٹینٹ بہت بری حالت میں ہیں. اور بھی کچھ بگڑا ہوا لگ رہا ہے. ابھی کیا حالات ہیں یہ تو یہاں رک کر ہی پتا لگے گا. عدنان بھائی ہم سے پہلے یہاں پہنچ چکے تھے اور ہماری آمد کی اطلاع سن کر ہمارے استقبال کے لئے آچکے تھے. مگر عدنان بھائی کی  خراب لگ رہی تھی یہ پہلے سے بھی بہت زیادہ کمزور ہو چکے ہیں. ہم نے سب سے باری باری ہاتھ ملایا اتنی دیر میں بلال اور اکرم بھائی ہمارا سامان ایک ٹینٹ میں پہنچا چکے تھے. ندیم بھائی اور فیصل بھائی بہت خاموش تھے اور خود کو یہاں کے حالت کو سمجھنے اور آنے والے وقت کے لئے تیار کر رہے تھے. عدنان بھائی نے ایک طرف اشارہ کیا اور کہا کہ آپ لوگ (ہم لوگ جو سفر سے آئے ہیں) تھوڑا فرش ہو کر مغرب کی نماز ادا کرتے ہیں پھر ایک ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں. 
ہم نے جلدی جلدی خود کو فریش کیا، وضو کر کے نماز مغرب ادا کری اور ہمارے آنے کے بعد عدنان بھائی نے جس طرف اشارہ کیا تھا اس طرف چل پڑے یہ آشیانہ کیمپ کے اندر ہی ایک چبوترا جیسا تھا جس کے اوپر ایک چھتری جیسا چیٹ بنا گیا تھا جو درختوں کی مدد سے بنایا گیا تھا. سردی بہت زیادہ لگ رہی تھی مگر جذبہ گرم ہے تو سردی سے کیا لینا؟ ہم سب ایک ساتھ بیٹھے، میران شاہ سے جو کچھ کھانے پینے کے لئے لیا تھا وہ بچوں میں تقسیم کیا، آشیانہ کیمپ میں موجود ہر انسان ہم سے ملنا اور بات کرنا چاہتا تھا اور اکرم بھائی ایک ایک کو سمجھا کر لوگوں کو ہم سے تھوڑا دور رکھنے کی کوشش کر رہے تھے.  ہم نے عدنان بھائی کیصحت کے بارے میں دریافت کیا تو بلال نے بتایا کے عدنان بھائی کافی دنوں سے بخار میں مبتلا ہیں اور پیناڈول کی گولی کھاتے ہیں بس. ہم نے عدنان بھائی کو کہا کے کسی ڈاکٹر کی دکھاتے ہیں تو صاف منع کر دیا کے کوئی ضرورت نہی یہاں اتنے لوگ بیمار ہے کس کس کو دکھاؤ گے؟
ہم اپنے ساتھ جو تھوڑی بہت ادویات لائے تھے منگوائی اور عدنان بھائی کا بخار دیکھا، جو کچھ ہم ایک پیرا میڈیک کر سکتے تھے وہ کیا مگر عدنان بھائی کو ڈاکٹر کی سخت ضرورت تھی جو ہم پوری نہی کر سکتے تھے.
اب آگے لکھنے کی نہ ہی ہمت ہے نہ ہی سکت. ہم نے جلدی جلدی کھانا کھایا. نماز عشاہ ادا کری اور جو جگہ ہم کو سونے کے لئے فراہم کر گئی تھی وہاں جا کر لٹ گئے، سونے سے پہلے میں عدنان بھائی کی شت اور آشیانہ کیمپ کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ آنکہ لگ گئی. ....


نوٹ: یہ ڈائری کراچی سے جانے والے ایک کارکن لکھ رہے ہیں جو انشا الله جب تک وہ لکھتے رہے یہاں لکھی جاتی رہے گی.

اسلام و علیکم 
کارکن ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ، دتہ خیل، شمالی وزیرستان.

آشیانہ کیمپ کے بارے میں معلومات اور دیگر تفصیلات کے لئے آپ درج ذیل لنک پر کلک کریں:
        

   

Saturday, 20 October 2012

شمالی وزیرستان سے بلال محسود کا پیغام: ١٨ اکتوبر، ٢٠١٢

اسلام و علیکم،

ہم کو اپنے کارکنان اور ساتھیوں کے جو پیغامات موصول ہوتے ہیں ان میں سے کچھ پیغامات کچھ تدوین (ایڈیٹنگ) کر کے پبلک کر دیے جاتے ہیں، انہی پیغامات میں سے کچھ پیغامات آشیانہ  کیمپ میں مقیم بلال محسود کے بھی ہوتے ہیں. ابھی جو پیغام یہاں لکھا جا رہا ہے ووہ بلال محسود کے پشاور آنے سے پہلے ہم کو موصول ہوا تھا. 
بلال محسود، اس وقت پشاور میں موجود ہیں اور ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکنان کے ہمراہ بھیک مشن میں حصہ لے رہے ہیں. 


===============================================================
اسلام و علیکم،
آپ لوگ مجھ سے کہتے ہو کہ میں یہاں (وزیرستان) کے حالات لکھ کر بھیجوں؟ کیا لکھ کر بھیجوں؟ مجھ کو یہ تو بتاؤ؟ مجھ کو سمجھ نہیں آتا کی لکھنا کیا ہے؟ ابھی جو بھی میں لکھتا ہوں، اس میں عدنان بھائی کو سمجھ نہیں آتا، کبھی کہتے ہیں کہ ایسا لکھو، کبھی کہتی ہیں کہ ویسا لکھو، ہمارا دماغ کام نہیں کرتا. آپ ہم کو صاف صاف بتاؤ کی لکھنا کیا ہے. سچ لکھنے کی اجازت دو ہم کو. مگر ہم بےغیرت نہیں ہیں. اپنی بہن اور ماں کی مجبوری کا نہیں لکھ سکتا. 

آج ہم کو بہت افسوس ہوا. کیمپ میں خانے کو کچھ نہیں تھا ہم لڑکے لوگ خان کے پاس گئی، اس نے کہا کے جرگے والوں کے پاس جاؤ. جرگے والوں کے پاس گئے تو وہ بولا مسجد والوں کے پاس جاؤ، ہم مسجد والوں کے پاس گئے تو وہ بولا جس نے تم کو سکول بنا کر دیا ہے، تم کو پڑھتا ہے اسی سے کھانا مانگو. ہم کو بہت غصہ آگیا مگر ہم ابھی کچھ کر نہیں سکتے، ہم مجبور لوگ ہیں. کس کی بات ماننا ہے اور کس کی بات نہیں ہم کو سمجھ نہیں آتا. ابھی ہم ایک دن میں ایک وقت کھانا کھاتے ہیں. ابھی تو ہم نے سبھی لڑکوں سے کہدیا ہے کہ بسس سمجھ لو رمضان آگیا ہے اور روزہ رکھنا شروع کر دو. شاید الله کو ہماری حالات پر کچھ رحم آجائے. ابھی یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ بس ایک دفع فوج آجاۓ تو سبھی ٹھیک ہو جاۓ گا. فوج کبھی آئے گی؟ جبھی ہم لوگ مر جاۓ گے؟ یا یہ ملا لوگ ہمارے کو بھی ملا بنا دیں گے؟ 
ابھی ہمارا دل سچی بات ہے پڑھائی میں نہیں لگتا. ابھی ہم کو اپنی امی اور بہن کا فکر ہوا ہے، کراچی والا بھائی تو ہم کو بھول ہی گیا ہے. شاید یہاں کے لوگ سچ کہتے ہیں کہ پاکستان والے بیوفا ہوتے ہیں. 
ابھی کیمپ والے لوگ بولتے ہیں کہ ہم لوگ پشاور جائیں گے. میں بھی ساتھ جاؤں گا میں نی کوئی شہر نہیں دیکھا دکھوں گا کہ پشاور کیسہ شہر  ہے اور پشاور والے کیسہ ہیں. 
ہمارے لئے دعا کرنا.
آپ کا بھائی 
بلال 
================================================================

محترم دوستوں،
بلال نے اور بھی بہت کچھ لکھا مگر ہم کو اور آپ کوہ اسس تحریر سی اچھی طرح اندازہ ہو سکتا ہے کہ بلال اور اسس جیسے بچوں کی سوچ کیسس طرح تبدیل ہوتی جا رہی ہے. یہ سب ہماری غفلت اور نہ انصافی کی وجہہ سے ہو رہا ہے. ہم سب وزیرستان والوں سے ڈرتے ہیں اور وہ ہم کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں، ایسے میں ایک مخصوص طبقہ ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ان کو کبھی مذہب اور کبھی فرقے کے نام پر استعمال کر رہا ہے.

آج ٹیم آشیانہ کے کچھ کارکنان، شمالی وزیرستان سے یہاں پشاور آئے ہیں جہاں ہم سب مل کر جی، ٹی روڈ پر بھیک مانگ رہے ہیں. تاکہ اپنے پریشان حال وزیری بھائی، بہنوں کے لئے کچھ سامان اکھٹا کر سکیں. ہم کچھ زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر ٹھوڑی بہت مدد ضرور کر سکتے ہیں.  انشا الله ایک دن ہمارے وزیرستانی بھائی بہنوں کے حالات بھی سہی ہونگے. آمین.

پشاور میں بلال محسود نے کیا دیکھا، اور کیسا محسوس کیا؟ ہم بلال کے خیالات جان کر بہت جلد تحریر کریں گے.
الله پاک آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو - آمین!
کارکن ٹیم آشیانہ 
پشاور  

    

Thursday, 18 October 2012

شمالی وزیرستان سے بلال محسود کا پیغام

اسلام و علیکم دوستوں.

شمالی وزیرستان سے آئے ہوے پیغامات کے ساتھ حاضر ہوں،

بلال محسود کا بھیجا ہوا پیغام:
عدنان بھائی اب بس ایک طرف بیٹھ کر ہم کو پڑھاتے ہیں، کچھ لوگوں نے کیمپ میں آکر بہت ہنگامہ کیا. کیمپ میں پہلے ہی سامان نہیں تھا جو تھا وہ بھی توڑ پھوڑ دیا. وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے ایجنٹ ہیں. اور یہاں ڈرامہ کر رہے ہیں. عدنان بھائی اور اکرم بابا نے بہت کہا کہ ہم یہاں صرف آپ کی خدمات کے لئے ہیں مگر کوئی نہیں مانا. یہاں سے لوگوں کو بھی نکلنے کا کہہ رہے ہیں ابھی یہاں سے لوگ کہاں جایئں گے؟ یہاں سے پاکستان جا نہیں سکتے، ہمارے اپنے گھر جنگ میں ختم ہو گئی ہیں. امداد کا کوئی پتا نہیں. آپ لوگ جو کتابیں دے کر گے تھے وہ ہم کیسے پڑھیں؟ کتابوں سے کبھی پیٹ نہیں بھرتا. میری بہن اور امی کو بھوک لگتی ہے تو وہ مجھ سے کہتی ہیں میں دوسرے لوگوں سے کھانا لے کر امی کو اور بہن کو کہلاتا ہوں. جو بچ جاتا ہے تو خود کھا لیتا ہوں. 
کیا ہم انسان نہیں ہیں؟   

Sunday, 14 October 2012

وزیرستان ڈائری: صحبت پور میں، شمالی وزیرستان سے آیا بلال محسود کا خط

محترم دوستوں اور ساتھیوں اسلام و علیکم،

ایک عرصہ بعد آپسے یہاں ملاقات کرنے کا شرف  حاصل ہو رہا ہے، یہ ملاقات ایک ایسے موقے پر ہو رہی ہے جب میں ایک اور فلاحی مشن پر یہاں صحبت پور - نصیرآباد، بلوچستان میں موجود ہوں. جبہ اپنے گھر سے نکلا تھا تو ہم صرف ٤ افراد تھے، میں (منصور)، فریال زہرہ باجی، ندیم بھائی اور فیصل بھائی، ہم نے یہی سوچا تھا کہ جو کچھ سامان اور امدادی اشیاء ہم نے جمع کری ہیں ان کو کندھکوٹ (سندھ) کے بارش سے متاثرہ لوگوں میں تقسیم کر کے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے، مگر ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا، اور کچھ ایسا ہوا کہ "ہم سفر ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا"، الله پاک کے کرم سے ہم نے کندھکوٹ (سندھ) میں ٤ فری میڈیکل کیمپ لگائے، جن میں ١٠٠٠ کے قریب سندھی بھائی، بہنوں اور بچوں کو فری طبی امداد ادویات کی فرہمی کے ساتھ دی. پھر ہمارے بہت عزیز دوست، اور فلاحی کارواں کے رہنما سید عدنان علی نقوی بھائی بھی ایک موقعے پر ہم سے آکر ملے اور ہماری ہمت بڑھائی، اور ہمارے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ بھی لیا. ہم نے اپنے ساتھ لائے ہوے امدادی سامان کے ختم ہونے پر ایک دفع پھر اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے رابطہ کیا یہاں کے حالت بتاۓ اور گزارش کر کہ اگر ہمارے دوست اور احباب ہماری مدد کرتے ہیں تو ہم کچھ عرصۂ اور یہاں روک کر مزید فلاحی کام  انجام دے سکتے ہیں. کچھ ساتھیوں نے حالات بہتر نہ ہونے اور وقت نہ ہونے کا کہا اور کچھ ستھائیں نے اپنی بساط کے مطابق ہماری مدد کری، اور ہم کنھدکوٹ (سندھ) سے آگے نکل کر نصیرآباد آگۓ، جس وقت ہم نصیرآباد میں داخل ہوے یھاں ٤ سے ٥ فٹ تک پانی موجود تھا، ڈسٹرکٹ نصیرآباد کا علاقہ صحبت پور حالیہ بارشوں سے اور بارش کے بعد آنے والے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا. یہاں کی جتنی آبادی تھی سب کی سب پانی سے متاثر، تاحال یھاں کوئی امدادی کاروائی نظر نہیں آتی. ہاں کچھ لوگ آتے ہیں لوگوں کے اعداد و شمار جمع کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں وہ لوگ لوٹ کر کب آئیں گے کچھ نہیں پتہ. 

بہرحال دوستوں، آج میرے یہاں آنے کا مقصد یھاں کے حالات کا رونا رونا نہیں ہ  بلکہ کوشش یہی ہے کہ ہم اپنی ذات سے جو کچھ کر سکتے ہیں کریں باقی لوگوں کو الله پاک ہی ہدایت دینے والے ہیں.

آج کی اسس ملاقات کا مقصد کچھ اور ہے، اور وہ ہے آشیانہ کیمپ سے ملنے والا میرے عزیز بلال محسود کا خط، خط کیا ہے، میری پوری زندگی کو بری طرح جھنجھوڑ کر رخ دیا ہے، وہ خط میں یھاں تحریر کر رہا ہوں، تاکہ سند رہی اور میرے دوستوں کے علم میں حالات کیا ہیں کا اضافہ ہو. . . .

 بلال محسود کا بھیجا ہوا خط کچھ اس طرح سے ہے کہ:
========================================
"بھائی، اسلام و علیکم، 
آپ کیسے ہو؟ آپ تو مجھ سے اور میرے دوستوں سے یہاں بہت وعدے کر کے گئے تھے، کہ آپ ہم کو پڑھو گے، لکھاؤ گے، ہم کو ایک اچھا اور نیک انسان بناؤ گے، ہم کو وزیرستان سے نکل کر اپنے شہر لے کر جاؤ گے. مگر آپ جب سے گئے ہو ہم کو آپ کا کوئی خبر نہیں ملا ہے. یھاں کیمپ کا کیا حالات ہیں آپ کو کچھ پتہ ہے؟ ہم کو ابھی دو (٢) وقت کا روٹی بھی نہیں ملتا. باقی لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان والے جھوٹے ہیں، دھوکے باز ہیں. غیرت مند نہیں ہیں.  جواب نہیں دے پاتا ہوں. بس الله سے یہی دعا کرتا ہوں کہ آپ جہاں بھی ہوں الله آپ کو خوش رکھے اور ہماری ملاقات جلدی جلدی کرواۓ.
بھائی، یہاں کہ حالت جیسا آپ گئے تھے اس سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہیں. یہاں ابھی بیماروں کو دوا نہیں مل سکتا، اور ہمارا اسکول تو بس چل رہا ہے. ہمارے دوست آپ کو کبھی اچھا کہتے ہیں کبھی برا. میں بھی کبھی کبھی دل میں آپ کو برا کہتا ہوں مگر جب آپ کی یاد آتی ہے تو ایک جگا بیٹھ کر رو لیتا ہوں. آپ مجھ کو بتاؤ کہ میں کیا کروں؟ اس اسکول میں پڑھتا رہوں جہاں ابھی آپ بھی نہیں ہو. یہاں روز  لوگ آتے ہیں کوئی کہتا ہے کیا پڑھ لکھ کر کونسا بابو صاحب  بننا ہے؟ کوئی کہتا ہے ہے کہ کونسا سرکاری نوکر لگ جانا ہے؟ کوئی کہتا ہے کہ بلال تو وزیرستانی ہے کچھ بھی کر لے رہے گا دہشت گرد، یہ پاکستان والے کبھی تجھ کو  حق نہیں دیں گے، تجھ سے نفرت کرے گیں.  بھائی مجھ کو بتاو میں کیا کروں؟ آپ نے مجھ کو بہت امید دلاۓ تھی. بہت اچھے اچھے خواب دیکھے تھے. ابہ میرا کیا ہوگا میرے دوستوں کا کیا ہوگا. یہاں جرگہ والے لوگ کبھی کبھی کہتے ہیں کہ یہ اسکول ابھی بند ہونے والا ہے. ابھی اگر یہ بھی بند ہو گیا تو میرا کیا ہوگا؟ میرے دوستوں کا کیا ہوگا؟ ہمارے پاس کرنے کے لئے کوئی کام بھی نہیں. جب تک آپ تھے تو ہم آپ کے ساتھ کام کرتا تھا تو دن گزر جاتا تھا. مگر جب سے آپ لوگ گیا ہے یہاں کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں. ہم بچا لوگ سارا دن یا تو یھاں کیمپ میں کھیلتا رہتا ہے یا پھر کبھی کبھی کتاب لے کر پڑھنے کی کوشش کرتا ہے. کیمپ کا حال ہی بہت برا ہے. ابھی کوئی دوا نہیں، کپڑا بھی ختم ہو گیا ہے، کھانے کے لئے بس ایک ٹائم ملتا ہے. کھانے کا فکر بھی نہیں ہم لوگوں کو بس ہم کو یہ بتا دو کہ یھاں کہ لوگ جو کہ رہے ہیں وہ سہی ہے یا غلط؟ عدنان بھائی ابھی واپس آگیا ہے اور دن رات کچھ نہ کچھ کرنے کا سوچتا ہے مگر وہ بھی مجبور ہو گیا ہے، ابھی عدنان بھائی نے  بتایا ہے کہ آپ اور آپ کے دوست بلوچستان والوں کی  کے لئے نکلے ہوے ہو، ہم دعا کرتا ہے کہ ہمارا بھلا ہو نہ ہو ان لوگوں کا ہی بھلا ہو جن کی مدد آپ کرتے ہو. 
بھائی، مجھ کو اپنے پاس  بلا لو، میرے کو ابھی یہاں نہیں رہنا. میری امی کا حالت بہت خراب ہے، ان کے پاس دوا نہیں ہیں. میری بہن پاگل ہے آپ کو پتا ہے، بسس آپ کسی طرح میرے کو اپنے پاس بلا لو، ہم قسم کھاتا ہے کہ آپ کو ہم سے کوئی تکلف نہیں ہوگا، میرانشاہ والے اکرام چچا نے بتایا ہے کہ کراچی میں پٹھان ہر کام کرتا ہے، خدا کھود لیتا ہے، جوتا چپل کا کم کرتا ہے. ہم ہر کام کرے گا. ہم کو یھاں نہیں رہنا ابھی. آپ کچھ بھی کر کہ ہم کو یہاں سے بلاؤ. ہم آپ کو شکایات کا کوئی موقع نہیں دے گا. یہ ہمارا آپ سے وعدہ ہے. میرے کوجواب ضرور دینا ہم انتظار کرے گا. ہم کو ابھی کچھ نہ کچھ کرنا ہے. آپ کچھ کرو نہیں تو ہم خد کرے گا. 
آپ کو بہت یاد کرتا ہے. ہم سب دوست آپ کو بہت یاد کرتا ہے. آپ ایک  ضرور یہاں آؤ اور ہم کو ملو اور ہم کو یہاں سے لے کر جاؤ. ابھی یہاں سب کہ رہے ہیں کہ یہاں جنگ ہونے والا ہے. کس کہ ساتھ ہونے والا ہے کیوں ہونے والا ہے ہم کو بس یہی کہتے ہیں کہ کافر ہم پر حملہ کرنے والا ہے. یہاں تو روز ہی حملہ ہوتا ہے. ڈرون آتا ہے اور بم مار کر چلا جاتا ہے. بھائی آپ کچھ کرو ہم کو بچاؤ. ہم ابھی پڑھنا چاہتا ہے. ہم کو یہاں نہیں رہنا.
 آپ کا بھائی 
الله حافظ"
==========================================

Friday, 13 July 2012

Team Ashiyana: Adnan Bhai speech & Line of action. عدنان بھائی کی تقریر اور آیندہ کا کام کرنے کی تلقین


اسلام و علیکم 

یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ خود مجھ کو نہیں پتا کے میں ان بچوں کے لئے کیا کر سکتا ہوں، مگر اتنا جانتا ہوں کہ میں ان بچوں کو کسی بھی طرح ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں جانےدوں گا جو ان بچوں کو ایک ڈھال کی طرح استعمال کریں اور ان بچوں کی زندگی ختم کر دیں، میں اپنی یہی سوچ لے کر ٹیم آشیانہ کے سربراہ عدنان بھائی کے پاس گیا وہ بھی جب سے بچوں سے مل کر گئے تھے بہت فکرمند اور پرشان تھے، ہم لوگوں نے تمام کارکنان کو جمع کیا اور اس بات پر بحث شروع کری. بات چھوٹی نہیں تھی بلکے بہت بڑی تھی، ہم سب کو فکر تھی کے اگر بچوں کی سوچ ایسے ہی رہی تو یہاں کا کیا ہوگا؟ ہم کس طرح سے بچوں کو اور ان کے گھر والوں کو سمجھائیں کہ جو راستہ اختیار کرنے کا یہ لوگ سوچ رہے ہیں وہ راستہ کسی بھی طرح سے سچائی، حق اور اسلام کا راستہ نہیں ہے. ٹیم آشیانہ کے سارے کارکنان افسوس کا اظہار کر رہے تھے مگر ہم میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں جو ان بچوں اور ان کے گھر والوں کی ذمداری اٹھا سکے ہم سب اپنی اپنی مجبوریوں اور ضرورتوں کے محتاج ہیں. میں نے سب ہی دوستوں کی اجازت سے اپنی بات کہنی چاہی تو عدنان بھائی نے مجھ کو روک دیا اور کہا کے وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں، انہوں نے جو کہا وہ کچھ اس طرح تھا،

"عزیز دوستوں، میں (عدنان) نے جب زلزلے میں اپنے گھر والوں اور پیاروں کے چلے جانے کے بعد فلاحی کم شروع کے تو اندازہ نہیں تھا کے میں انہی کاموں میں لگ جاؤں گا، الله کا شکر ہے کے الله پاک نے مجھ کو ان لوگوں میں رکھا جو اس (الله) کے بندوں کی خدمت الله کی رضا کے لئے کرتے ہیں. ایک تنظیم نہ ہونے کے باوجود بھی میں اور میرے دوست ہر قدم پر میرے ساتھ رہے اور جو ساتھ نہ دے سکے انہوں نے دعا ضرور کی اور شاید انہی دعاؤں کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ آج شمالی وزیرستان کے ایسے علاقے میں موجود ہے جہاں عام حالات میں بھی کوئی آنا پسند نہیں کرتا، ٹیم آشیانہ تعام مشکلات کے باوجود تکلیفوں کا سامنا کرتے ہوۓ اپنے وزیرستانی بھائی، بہنوں اور بچوں کے ساتھ موجود ہے. ایک ایسے وقت جب یہاں کی انتظامیہ بھی یہاں کے لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتی (جان اور مال کے خوف سے) ٹیم آشیانہ الله پاک پر ایمان کی طاقت رکھتے ہوۓ نہ صرف موجود ہے بلکے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ جتنا بھی ہو سکے اپنے وزیرستانی بھائی، بہنوں اور بچوں کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے، مجھے (عدنان) کو اپنے رب (الله) پر پورا بھروسہ اور یقین ہے کہ جس طرح ہم یہاں موجود ہیں ویسے ہی ہم انشا الله یہاں کے لوگوں کی مشکلات، تکلیف اور پریشانیوں کو دور کر سکیں گے. 
آج اپنے بھائی (میرے) کے خیالات جن کر مجھ (عدنان) کو بہت خوشی ہوئی کے کراچی میں رہنے کے باوجود میرے بھائی انسانیت کا درد رکھتے ہیں. میں (عدنان) نے خود بلال محسود اور دوسرے بچوں کے خیالات جانے ہیں، یہ بہت تکلف دے اور پریشن کرنے والی بات ہے کے یہاں کے بچے اپنی پرشانیوں اور مشکلوں سے نکلنے کا حل ایسے لوگوں کے ساتھ جہاد کرنے میں تلاش کر رہے ہیں جو جہاد کا مطلب اور مفہوم بھی نہیں جانتے، میں (عدنان) بہت اچھی طرح یہ بات بھی جانتا ہوں کے آج تک میں نے طالبان یا شدت پسند لوگوں کے حق میں یا خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا، ہاں دل سے ضرور برا جانا اور سمجھا ہے، نہ بولنے کی وجہہ خود اپنا اور ٹیم آشیانہ کی جان کی فکر کرنا تھا. مگر  جب بات یہاں کے بچوں کے مستقبل اور جانوں کی آگئی ہے تو وقت آگیا ہے کے ہم بھی اپنی کوشش کریں اور یہاں کے معصوم بچوں کو سیدھا راستہ دکھائیں، اور روک لیں خودکشی کرنے سے. مگر ہم کو یہ بھی دیکھنا اور سوچنا ہوگا کے ہم ان بچوں کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ کس حد تک ان بچوں کے کام آسکتے ہیں؟ اور کس طرح یہاں کے بچوں کے ذہن بدلنے والوں کا سامنا کر سکتے ہیں؟ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، ہم ابھی تک صرف یہاں فلاحی کام کرتے رہے ہیں، میڈیکل کیمپ لگانا، مفت غذائی اجناس کی تقسیم کرنا، بچوں اور خواتین میں کپڑے تقسیم کر دینا ہی ہمارے کام رہے ہیں، ہم تو آج بھی فنڈز نہ ہونے کی وجہہ سے مجبور اور لاچار بیٹھے ہیں تو کس طرح ان بچوں کو ایک اچھے مستقبل کی امید دلا سکتے ہیں، کیسے ہم بچوں کے ساتھ جھوٹا وعدہ کر سکتے ہیں جبکے خود ہم کو نہیں پتا کے ہم یہاں اور کتنے وقت کے مہمان ہیں؟ اور جب ان بچوں کو ہم جھوٹے سچے خواب دکھا کر یہاں سے چلے جائیں گے اور ان بچوں کو کچھ نہیں ملے گا تو یہ بچے آج سے زیادہ کل ہمارے اور قوم کے مخالف ہو جائیں گے. 
ہم کو کچھ الگ کرنا ہوگا، کچھ ایسا کرنا ہوگا کے جس سے ان بچوں میں جینے کی امنگ بڑھے حالات کا سامنا کرنے کی ہمت ملے، صبر ملے حوصلہ ملے، الله پر ایمان بڑھے، خود محنت کرنے کا جذبہ بیدار ہو، اور ایک دفع ان بچوں میں یہ سری باتیں اور سوچیں  بیدار ہو گئی تو ہم کامیاب ہو سکیں گے. 
ہم کو اچھی طرح  یہ پتا ہے کے یہ کام ہم اکیلے نہیں کر سکتے، ہم خود کمزور ہوں تو کس طرح دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں؟ ہم خود بھوکے ہوں تو کس طرح دوسرے بھوکے کا پیٹ بھر سکتے ہیں؟ ہم خود بے بس ہوں لاچار ہوں تو کس ترہان کسی اور کی مشکلات کو ختم کرنے کا وعدہ کر سکتے ہیں؟ یہی وہ باتیں ہیں جن پر ابہ ہم کو سوچنا ہوگا. میں (عدنان) ٹیم آشیانہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، ایک حصہ صرف اور صرف بچوں کے لئے کام کرے (جن میں بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا،  ان کے خیالات کو جاننا، ان کی سوچ اور فکر کو سمجھنا، بچوں میں تعلیم کی اہمیت کو بیدار کرنا، بچوں کو پڑھانا، کھیل وغیرہ کا انتظام کرنا ہوگا) دوسرا حصہ تمام دستیاب فنڈز سے زیادہ سے زیادہ کام لینے کا سوچے، منصوبہ بندی کرے، ہم کو بتاۓ کے کس طرح ہم کم سے کم فنڈز میں زیادہ سےزیادہ کام کر سکتے ہیں؟ ہم کو اب پوری توجہہ بچوں اور خواتین پر رکھنی ہے اگر ہم ان بچوں اور خواتین پر محنت کریں گے تو مجھ کو پورا یقین ہے کہ یہاں کے کچھ بچے ضرور یہاں کا ماحول بدل ڈالیں گے - انشا الله. 
میں (عدنان) ٹیم آشیانہ کی دوست اور ساتھ جو اس وقت پشاور میں موجود ہیں ان سے اپیل کرتا ہوں کے ایک دفع پھر اپنا بھیک مشن شروع کریں، کوئی بات نہیں اگر ہم کو اپنے اس نیک مقصد کے لئے بھیک بھی منگنی پڑتی ہے تو مانگیں الله پاک ہم سب کا ملک ہے اور سب جانتا ہے، کوشش کریں کے ہم رقم نہیں بلکے ادویات، کپڑے، کتابیں، کھانے پینے کی اشیا جمع  کر سکیں، جیسے ملیں، جہاں سے ملیں جمع کریں، ہمت کریں حوصلہ کریں اور اگر وہاں (پشاور) میں آپ کو میری ضرورت پڑتی ہے تو مجھ کو بلوائیں، میں خود آکر بھک مشن میں حصہ لوں گا، بازاروں میں جائیں، سڑک کنارے ہوں، بڑے ہوٹلوں کے سامنے کھڑے  ہوں، اور لوگوں کو احساس دلائیں کے الله پاک نے جو ان کو دیا ہے اس میں دوسرے لوگوں کا بھی حصہ ہے اور حق ہے، جو ایک وقت کے کھانے پر ہزاروں خرچ کر سکتا ہے، مہنگے مہنگے کپڑے اور موبائل رکھ سکتا ہے وہ یہاں کے بچوں کے لئے کم از کم ایک یا دو وقت کے خانے کا بھی انتظام کر سکتا ہے. (الله پاک بہتر انتظام کروانے والا ہے). 
کراچی میں موجود میری بہن بدر باجی، اور سحر باجی کو میرا پیغام  بھجوائیں کہ وہ بھی وہاں اپنے دوستوں، رشتے داروں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر بھیک مشن شروع کریں، لاہور میں فیصل بھائی  اور عظمت سے رابطہ کریں اور ان سے بھی اپپیال کریں کے وہ وہاں بھیک مشن شروع کریں اور یہاں کے لئے جو بھی جتنا بھی جمع  کر سکتے ہیں کریں. ایک بار الله پاک کا نام لے کر کام تو شروع کریں، مجھ کو پورا یقین ہے اور میرا الله پر بھروسہ ہے کے وہی الل ہم کو یہاں تک لیا ہے انشا الله آگے کا بھی راستہ دکھانے والا ہے. آج صبح نماز فجر کے بعد ہم سب یہاں (دتہ خیل) کے لوگوں سے ملیں گے، یہاں کے لوگوں کے آگے اپنا پیغام رکھیں گے، ان کو یقین دلائیں گے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہم ان کے ساتھ ہیں. ان لوگوں سے اپیل کریں گے کے اپنے بچوں کو آشیانہ کیمپ میں پڑھنے کے لئے بھیجیں، یہاں کسی بھی قسم کی بےحیائی کی تعلیم نہیں دی جاۓ گے بلکے ہم ان بچوں کو دنیا سے بات کرنے کا سلیقہ اور شعور دینے کی کوشش کریں گے، ہم پہلے بھی جو یہ لوگ کھاتے تھے وہی کھاتے تھے اور آج سے میں (عدنان) یہ کہتا ہوں کے میرے حصے کی ایک روٹی میں سے بھی آدھی روٹی یا میرے حصے کے کھانے میں سے آدھا کھانا ان میں سے کسی بچے کا حصہ ہوگا. اور باقی ٹیم آشیانہ کے کارکنان سے بھی اسی طرح کے عمل کی امید رکھتا ہوں. یہ سب کام جو میں آپ سے کرنے کے لئے کہ رہا ہوں یہ سب آسان نہیں ہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کے یہ عمل یا کام کرنا اس کے بس کی بات نہیں یا کوئی یہ کام نہیں کر سکتا وہ ہم کو خدا حافظ کہ سکتا ہے. کیوں کے الله کی رہ میں کے جانے والے کاموں میں مشکلات تو آتی ہی ہیں مگر یاد رکھیں جب مدد آتی ہے تو الله پاک ساری پریشانیوں کو ختم   کر دیتا ہے. 
میرے دوستوں اور ساتھیوں، اور تمام وہ دوست جو مجھ سے یا ٹیم آشیانہ سے آج تک نہیں ملے ہیں، خصوصاً بیرون ملک رہنے والے بھائی، بہن اور ساتھی، ٹیم آشیانہ کو پڑھنے والے دوست احباب، میرے تمام رشتےدار، ٹیم آشیانہ کے کارکنان کے رشتے دار، میں آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر صرف اور صرف الله کی رضا کے خاطر اپیل کرتا ہوں، کے ٹیم آشیانہ کی مدد کریں، ہم کو اپ کی رقم یا پیسوں کی ضرورت نہیں ہم کو ادویات، اجناس، کپڑوں، اور کتابوں کی ضرورت ہے، آپ سب کی کاری ہوئی تھوڑی  تھوڑی مدد یہاں کے لوگوں کے بہت کام آسکتی ہے. میں اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کے ہم کو کچھ ضروری اشیا جیسے کیمرہ، لیپ ٹاپ (پرانا) ہی سہی بھجوائیں، ہم یہاں کے حالت کو ریکارڈ کر کے دنیا کے سامنے رکھیں گے، آج تک ہم ایسا اس لئے نہیں کر سکے کے یہاں کے لوگ نہیں چاہتے کے ان کی باپردہ خواتین اور بھوکے بچوں کی تصور دنیا کو دکھائی جائیں  خود ہم اپنا قیمتی فنڈ اس قسم کی چیزوں کو خریدنے پر خرچ نہیں کر سکتے تھے. مگر میں پوری کوشش کروں گا کہ یہاں کے لوگوں کو قائل کر سکوں کے ہم کو یہاں کے حالت باہر  کی دنیا کو دکھانے کی اجازت دیں. 

ٹیم آشیانہ کے پشاور میں موجود ساتھیوں کوجتنا جلدی ممکن ہو یہ پیغام بھیجے کے ابھی تک جتنا بھی سامان جمع ہوا ہے وہ جلد یہاں بھجوا دیں. ہم زیادہ دیر تک انتظار نہیں کر سکتے. یہاں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ہے اسی لئے کسی بھی ایک کارکن کی ڈیوٹی لگائیں کہ وہ ٢٤ گھنٹوں میں ایک دفع ہمارے کام اور دستیاب فنڈز کی تفصیلات سے سب کو آگاہ کرے. فنڈز اور  سامان کی مکمل تفصیل اپ لوڈ کری جاۓ تاکہ کوئی ابہام نہ رہے. 
میں ٹیم آشیانہ کے سب ساتھیوں اور کارکنان سے اپیل کرتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کے نماز کو اپنے کاموں میں سب سے زیادہ اہمیت دیں. الله پاک سے رابطے کا واحد ذریعہ نماز ہے، نماز پڑھیں، کسی بھی کم کو شروع کرنے سے پہلے اور ختم کرنے کے بعد دو رکعت نماز ضرور پڑھیں. ہر وقت الله کی مدد مانگیں، اپنے گناہوں پر شرمسار ہوں اور الله سے توبہ کریں. الله پاک ضرور مدد فرمائیں گے. 

آپ (میری طرف اشارہ) کر کے کہا کہ، آج سے بچوں کے ذمہ داری میری ہے، ان بچوں کے لئے جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کو اگلی میٹنگ  میں سامنے رکھوں آشیانہ کیمپ کو آشیانہ سکول میں بدل دوں، اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم دینے کی کوشش کروں. مجھ کو یہ بھی کہا کہ میں اپنے دوستوں گھر والوں سے رابطہ کروں اور کہوں کے وہ ہمارے اس کم میں مدد کریں. 

آخر میں عدنان بھائی نے، پاکستان اور پاکستان سے باہر فلاحی اداروں سے ایک دفع پھر رابطے کرنے کے لئے کہا، جو ادارہ بھی فلاحی کاموں کو کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے ان سے رابطہ  کیا جاۓ،اور یہاں کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا جاۓ اور ان اداروں سے کہا جاۓ کے وہ یہاں کرا یہاں کے حالات کو دیکھیں اور یہاں کے لوگوں کے لئے کام کریں، ایک دفع یہاں فلاحی کاموں کا سلسلہ شروع ہو گیا تو انشا الله یہاں کے لوگوں کے حالات بھی بہت تیزی سے بدل سکتے ہیں. حکومتی اداروں سے بھی رابطہ کرنے کی اپیل کی جاتی ہے، کے ٹیم آشیانہ کے کارکنان ایمیلز، فون کالز، خط لکھ کر حکومتی اداروں کو یہاں کے حالت سے آگاہ  کریں اور ان سے اپیل کریں کہ خدارا یہاں کے لوگ بھی  انسان ہیں، پاکستانی ہیں، ان کا بھی پاکستان پر اور پاکستان کے وسائل پر ووہی حق ہے جو کراچی، لاہور، اسلام آباد یا پاکستان کے کسی بھی شہر میں رہنے والے دوسرے پاکستانی کا ہے. یہاں کے لوگوں کو بھی انسان سمجھتے ہوے یہاں کے لئے منصوبے شروع کے جائیں، آپ ان لوگوں کو باتیں کے یہاں کتنا کام ہونا ہے، کیا کیا کام ہونا ہے، حکومتی اداروں میں کوئی نہ کوئی تو ہوگا جو ہماری آواز سن کر لبیک کہے گا اور یہاں کے لوگوں کے لئے آواز بلند کرے گا. 
اگر کوئی غیر ملکی خصوصاً امریکی ہماری بات سننے کے اور سمجھنے کے قابل ہو تو ہم ان سے بھی اپیل کرتے ہیں درخواست  کرتے ہیں، التجا کرتے ہیں کے آپ (امریکی) جو ڈرون حملے کرتے ہیں ضرور کریں، کیوں کے ہم میں سے کسی میں آپ کو روکنے تو کیا پوچھنے کی بھی ہمت نہیں کے آپ بغیر اجازت ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ ضرور کریں، کیونکے جتنا آپ شدت پسندی طالبان اور دہشت  کے مخالف ہیں اس سے کہی زیادہ ہم خود ہیں، ہم تو اپنی سر زمیں پر ان سب کا سامنا کر رہے ہیں. مگر خدارا آپ جب بھی ڈرون سے حملہ کریں (خصوصاً) شمالی وزیرستان میں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان حملوں کا نشانہ حقیقی دہشت گرد ہی ہیں، شدت پسند ہی ہیں، طالبان ہی ہیں، کیونکے یہ ایک حقیقت ہے کے آپ کے ڈرون حملے اکثر ناکام رہتے ہیں اور مقامی (وزیری) لوگ ہی آپ کے حملوں میں مارے جاتے ہیں جس کی وجہہ سے یہاں (شمالی وزیرستان) میں لوگ آپ کی بہت مخالف ہیں. یہ بھی حقیقت ہے کے کچھ شدت پسند عناصر نے یہاں کے لوگوں کو اپنا محکوم بنا رکھا ہے، یرغمال بنا رکھا ہے جن کو چھڑانا جتنا ہم (پاکستانیوں) پر فرض ہے اتنا آپ پر بھی. تو خدارا حملہ کرنے سے پہلے بار بار تصدیق کریں کے جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ سہی ہو رہا ہے یا غلط."

عدنان بھائی نے آج بہت جذباتی باتیں کہی، ان باتوں سے ہم سب میں جو مایوسی محسوس ہو رہی تھی وہ ختم ہوئی، ہم


میں ایک نیا جذبہ  اور امنگ جگ اٹھی ہے، الله کرے کے جیسا عدنان بھائی نے کہا ہے اس پر ہم عمل بھی کر سکیں، ابہ ہم کو بھی ایک جہاد کرنا ہے، اپنے نفس کے خلاف اور ان لوگوں کے خالف جو یہاں کے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل  رہے ہیں. اور اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں. اور انشا الله فتح حق اور سچ کی ہی ہونی ہے. انشا الله.

نماز فجر کا وقت ہو گیا ہے اور اب ہم سب الله کا حضور نماز پڑھنے کی تیاری میں ہیں. میری آپ سے سب سے گزارش ہے کے مجھ کو اور ٹیم آشیانہ کو اور اپنے وزیرستانی بھائی، بہنوں اور بچوں کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں.
جزاک الله 
کارکن ٹیم آشیانہ 
شمالی وزیرستان 
 ٹیم آشیانہ سے رابطے کے لئے:
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

http://ashiyanacamp.blogspot.com