Showing posts with label Team Ashiyana. Show all posts
Showing posts with label Team Ashiyana. Show all posts

Sunday, 17 March 2013

ٹیم آشیانہ: میرانشاہ شمالی وزیرستان سے

اسلام و علیکم 

محترم دوستوں اور ساتھیوں

ہمیشہ کی طرح کراچی شہر میں رہنے کی وجہہ سے معاشی مصروفیت اور گھریلو معملات کے ساتھ ساتھ آج کل بجلی کا وقت بے وقت آنا جانا مجھ کو مجبور کر رہا ہے کہ میں اپنی ڈائری اور دیگر معمولات زندگی کو تبدیل کروں اور سست روی کا شکار رہوں. پھر بھی میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں کہ اپنی ذات اور مقصد کو کبھی نہ بھولوں. میرانشاہ، شمالی وزیرستان میں ٹیم آشیانہ کے ساتھ رابطے میں rاہنے کی پوری کوشش میں ہوں اور جس ہی کوئی رابطہ ہوتا ہے معلومات کو جمع کر کے لکھ لیتا ہوں. ساتھ ہی اپنے دوستوں، عزیز و اقارب کے ہمراہ ٹیم آشیانہ کے فلاحی کاموں کے لئے جو کچھ بھی کر سکتا ہوں کر رہا ہوں. الله پاک مجھ کو ہمت دے اور استقامت دے - آمین.

گزشتہ دنوں عدنان بھائی آشیانہ کیمپ کے لئے فنڈز اور دیگر سامان جمع کرنے کے لئے پشاور شہر آئے تھے. اور عدنان بھائی کے ہمراہ کچھ دوسرے دوست بھی جن کے ساتھ میری طویل بات ہوتی رہی. اور جو کچھ تفصیلات جمع ہوئی ان کو ترتیب سے لکھا اور ابہ کچھ ضروری تفصیلات آپ سب کو بتا رہا ہوں. 

آشیانہ کیمپ کب سے شمالی وزیرستان میں قائم ہے؟ اور کیا فلاحی کام سر انجام دے رہا ہے؟ ان کی تفصیلات آپ کو انہی صفحات پر ملتی رہتی ہیں. مگر ابھی تک ہم نے وہاں (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں کیا کھویا اور کیا پایا ہے کی تفصیلات ہم ابھی تک یہاں نہیں بتا سکے ہیں. پاکستان کے اندرونی معملات، وزیرستان کے حالات اور  دیگر وجوہات کی بنا پر ہم بہت کچھ چہ کر بھی نہیں بتا سکتے. مگر اتنا ضرور کہ سکتے ہیں ہیں کے ٹیم آشیانہ اور عدنان بھائی کی دن رات کی محنت کی وجہہ سے کم از کم اتنا ضرور ہوا ہے کہ اب شمالی وزیرستان کے کچھ لوگ (بہت ہی کم تعداد میں) نے اپنے بچو کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے. جب میں شمالی وزیرستان گیا تھا اس وقت بھی اور آج بھی میری عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کو یہی تجویز رہی ہے کہ ہم کو سب سے پہلے شمالی وزرستان می نبسنے والے لوگوں میں تعلیم کا شعور پھیلانا ہوگا صرف اور صرف تعلیم ہی ایک عیسیٰ ذارئع ہے جس سے ہم لوگوں میں خود سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو پیدا کر سکتے ہیں اور اسی صلاحیت سے ہم اپنے دوست اور دشمن کو پہچان بھی سکتے ہیں. ہم اسلام کے ماننے والے ہیں اور ہمارا مذہب بھی ہم کو تعلیم سے آگاہی اور حاصل کرنے کا ہمیشہ درس دیتا ہے. الله کا شکر ہے کہ ٹیم آشیانہ کی محنت اب رنگ لا رہی ہے اور آشیانہ کیمپ (میرانشا، شمالی وزیرستان) میں درس و تدریس کا آغاز ہو چکا ہے. مجھ کو ملنے والی معلومات کے مطابق گو کہ ابھی تک آشیانہ کیمپ کو کسی اسکول کا درجہ حاصل نہیں ہے اور ابھی تک وہاں  اساتذہ (ٹیچرز) کی دستیابی ممکن نہیں ہو سکی ہے. مگر کچھ لوگ اپنے بچوں کو آشیانہ کیمپ میں پڑھنے کے لئے بھیج رہے ہیں اور انشا الله انہی کچھ بچوں سے شروع کیا گیا سفر ہم کو شمالی وزیرستان میں کامیاب و کامران کرے گا. 

آشیانہ کیمپ کے زیر انتظام گزشتہ ماہ کے دوران دو (٢) فری میڈیکل کیمپ (مفت طبی امدادی کیمپ) کا انتظام کیا گیا، ادویات کی قلت کے سبب صرف کچھ ہی لوگوں کو ادویات اور علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کی گیں جبکہ کچھ بچوں (٥٠ بچوں) کو خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے (انجکشن) لگائے گئے.  ( دیگر تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں جن کو بہت جلد آشیانہ کیمپ کی سائٹ پر شایع کر دیا جاۓ گا - انشا الله)

آشیانہ کیمپ میں اس وقت بھی کارکنان اور رضاکاروں کو ملا کر ١٧٠ افراد مقیم ہیں جن میں ٥٧ بچے، ٣٨ خواتین اور دیگر مرد حضرت ہیں. اکثر کا تعلق شمالی وزیرستان کے بالائی علاقوں سے ہے جہاں امن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال کی بنا پر لوگوں نے میرانشاہ کا رخ  کیا ہے اور فلحال آشیانہ کیمپ میں مقیم ہیں. ٹیم آشیانہ کے کارکنان اور رضا کار تمام دستیاب فونز اور مقامی افراد کی مدد سے ان لوگوں کے لئے دو (٢) وقت کے غذا کی فراہمی اور دیگر سہولیات کا انتظام کر رہی ہے. (تفصیلات جمع   کی جا رہی ہیں).

آشیانہ کیمپ (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں قائم کے گئے جز وقتی اسکول میں اس وقت مقامی بچوں کی تعداد ٨٠ (اسی) ہے جن میں آشیانہ کیمپ میں مقیم بچے بھی شامل ہیں. کیمپ اسکول میں اساتذہ کی تعداد صرف ٤ (چار) ہے جن میں عدنان بھائی، محترم جلیل ملک بھی، ممتاز خان اور راحیل بھائی شامل ہیں. میرانشاہ میں مقیم مقامی کارکن اور رضاکار اساتذہ کی تلاش میں ہیں. اس کے ساتھ آشیانہ کیمپ اسکول کو مستقل اور مزید بہتر کرنے کی بھی پوری کوشش کی جا رہی ہے. جو انشا الله تمام دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی. 

ڈائری اور آشیانہ کیمپ (میرانشاہ، شمالی وزیرستان) میں جاری معمولات زندگی، فلاحی کاموں کی تفصیلات بہت جل لکھ دی جائیں گی. 

آپ سب کی دعاؤں کے محتاج 
ٹیم آشیانہ 
آشیانہ کیمپ 
میرانشاہ، شمالی وزیرستان.
پاکستان   

Tuesday, 17 July 2012

دتہ خیل، شمالی وزیرستان: جرگے کے ارکان اور بڑوں سے ملاقات کا احوال

اسلام و علیکم 

گزشتہ ڈائری میں ذکر کیا تھا کہ میں اور عدنان بھی ایک اور ساتھ کارکن (ٹیم آشیانہ) کے ساتھ دتہ خیل کے بزرگوں اور بڑوں سے یہاں تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے اجازت لینے جانے کی تیاری کر رہے ہیں.
ہمارا ادمدی سامان تو آگیا ہے مگر ابھی تک ہم کو تفصیلات کا نہیں پتہ کے سامان میں کیا چیز کتنی مقدار میں ہے، لگتا ہے کے آج کی رات بھی جاگ کر ہی گزارنا ہوگی. ہم عشا کی نماز کے بعد لوگوں سے ملنے کے لئے جانے کی تیاری کر ہی رہے تھے، بلال محسود اپنے گھر چلا گیا تھا. اور باقی ساتھ امدادی سامان کے ساتھ آئے ہوے کارکنان کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے. میں دل اور دماغ کو سمجھا رہا تھا کہ وہاں کیا بات کرنا ہے؟ پتہ نہیں یہ کون لوگ ہونگیں؟ ان کے کیا دماغ ہونگیں؟ اور کیا سوچ ہوگی؟ پھر بھی الله کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوے مجھ کو اپنی بات سمجھنے کی پوری کوشش کرنا تھی پھر ان لوگوں نہیں ہم کو رات میں ہی کیوں بلایا؟ یہ سوال بھی دماغ میں بار بار آرہا تھا. عدنان بھائی، نے کہا کے ہم اب جانے کو تیار ہیں. میں نی دل ہی دل میں آیتہ الکرسی پڑھی. الله سے مدد کی بھیک مانگی اور عدنان بھائی کے ساتھ نکل پڑا، ہمارے ساتھ ٹیم آشیانہ کے مقامی کارکن اکرم بھائی بھی موجود تھے. اکرم بھی کے بارے میں یہی سنا ہے کہ یہی عدنان بھائی کو یہاں (شمالی وزیرستان) لے کرآئے تھے. اور جب سے عدنان بھائی یہاں فلاحی کام کر رہے ہیں اکرم بھائی ٹیم آشیانہ کے ساتھ ہیں اور ہر اچھے برے وقت میں ٹیم کا اور کارکنان کا ساتھ دیتے ہیں. میرے پہلے وزٹ کے دوران اکرم بھائی نے ہی میرے دل سے ڈرون جہازوں کا ڈر اور خوف دور کیا تھا. اکرم بھی مقامی زبان کے علاوہ فارسی، ہندکو، اردو اور پنجابی زبان جانتے ہیں. اور میں نے ان کو تھوڑا بہت انگریزی زبان بھی سکھا  دی ہے.  ہم کہاں جا رہے تھے اس کا پتہ صرف اکرم بھائی کو ہی تھا. اس علاقے کے بڑے اور جرگے کے ممبر ہیں. اردو زبان سمجھتے ہیں اور بہت نیک صفت انسان ہیں. 
میں اب آگے کیا لکھوں؟ مجھ کو اجازت نہیں ہے کے میں وہ باتیں بھی لکھوں جو لکھنی چاہیے تاکہ لوگ کچھ تو سمجھیں میں کچھ تو سمجھوں، مگر ووہی سیکورٹی رسک کا بہانہ اس بات پر میری عدنان بھائی سے بہت بار بحث ہوئی ہے کے ہم جو کر رہے ہیں اور جو دیکھ رہے ہیں ووہی لکھ دینا چاہیے مگر عدنان بھائی ہمیشہ مجھ کو کبھی نرمی اور کبھی سختی سے روک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "وقت آنے پر سب سمجھ جاؤ گے،" اب پتہ نہیں وہ وقت کب آئے گا. 
خیر! شام سے ہوئی بارش کی وجہہ سے راستے میں پھسلن زیادہ تھی. ہم ایک مقامی مسجد کی طرف گئے تو وہاں ہم سے پہلے دو  (٢) قبائلی موجود تھے. یہاں بجلی یا روشنی کا کوئی انتظام نہیں ہے. میرے خیال سے بجلی صرف میران شاہ تک ہی موجود ہے اور اگر آگے ہے بھی تو نہیں ہوتی. اندھیرے میں سہی طریقے سے چہرے نہیں دیکھ سکا. سلام بہت گرم جوشی سے ہوا اکرم بھی نی اپنی زبان میں ان کو ہمارے بارے میں بتایا اور ہم لوگ ان کے پہچے پیچھے چل پڑے. عدنان بھی سارا راستہ کچھ نہیں بولے میں بھی صرف یہی کہ سکا کی "اور کتنا چلنا ہوگا؟" ہم مقامی مسجد سے یہی کوئی ١٠ منٹ تک پیدل چلتے رہے ہونگے تو آگے دو (٢) لوگ اور ملے یہ ہتھیار بند لوگ تھے یہ میرے لئے سہی نہیں تھا، ہم لوگ کوئی جنگ کرنے یا کسی کو قتل کرنے کے مقصد سے نہیں جا رہے تھے تو ان لوگوں سے ملوانے کا کیا مطلب. میں کچھ کہنے ہی والا تھا کے عدنان بھائی نے میرا ہاتھ دبا کر مجھ کو روک دیا، ہم ان لوگوں سے سلام دوا کر کے آگے بڑھ،. مزید ١٠-١٥ منٹ تک پیدل چلنا پر پھر کچھ روشنی نظر آئی. یہ جگہ دتہ خیل کے مقام سے تھوڑا آگے ہے. سب سے الگ تھلگ کچھ مکان جو شاید ام نظروں سے نظر بھی نہ آے. کچھ لوگ ادھر ادھر بیٹھے تھے، حلیہ تو قبائلی تھا مگر . . .  خیر ہم کو ایک جھونپڑی نما حجرے میں لے جایا گیا جہاں کوئی نہیں تھا، میں اکرم بھائی اور عدنان بھائی نیچے بچی کہتی پر بیٹھ گئے. میرا تھکن کے مارے براحال تھا  اوپر سے سے یہ لوگ ہم سے اس طرح ملاقات کر رہے تھے جیسے ہم کوئی حکومتی نمائندے ہوں یا ان کے لئے کوئی بہت بڑا خطرہ ہوں. مجھ کو پورا یقین ہے کے یہ لوگ ہمارے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں. دتہ خیل کوئی بہت بڑا علاقہ نہیں ہے جہاں کسی کے بارے میں جاننا مشکل ہو، اسی لئے مجھ کو پورا یقین تھا کہ یہ لوگ ٹیم آشیانہ، عدنان بھائی، کارکنان کے بارے میں سب کچھ جانتے ہونگے. پھر اتنی احتیاط کیوں؟
کچھ ہی دیر میں ایک (١) خوفناک شکل اور لمبا چوڑا انسان (انتہائی مکروہ شکل - الله معاف کرے) اندر آیا اور ہم کو سلام کیا ہم کو کھڑا ہونے کا کہا اور ہماری بہت بدتمیزی کے ساتھ تلاشی لی، اکرم بھائی نے دبے لفظوں میں احتجاج بھی کیا مگر وہ بعد تمیز انسان نہیں مانا. تلاشی کے بعد میرے پاس موجود کاپی اور پین لیتے ہووے مقامی زبان میں کچھ کہا جس پر اکرم بھائی نے اس سے بحث کرنا شروع کردی بات تلخ کلامی تک پہنچی تو عدنان بھائی نی مداخلت کری اور اردو میں کہا "اکرم بھائی، یہ کاپی اور پین ہے، لے لینے دو علم کی چیز ہے کسی نقصان کی نہیں. شاید ان کے کچھ کام آسکے." اکرم بھائی ایک دم چپ اور خاموش ہو گئے. (عدنان بھائی نے اپنی محنت اور اخلاص سے یہاں کے لوگوں میں بہت عزت بنا لی تھی اور آج اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا). یہ بات میرے لئے انتباہ بھی تھی، اور ہوشیار رہنے کے لئے کہی گئی تھی.
تھکن بہت تھی میں نے خود ہی چائے نکال کر سب کو دی. خود بھی پی. تھودا فرحت کا احساس ہوا اور اب  لگ پڑی.   وہ بچہ جو چائے لایا تھا وہی ایک طرف کھڑاہوا تھا. پھرباہر کچھ شور ہوا، وہی مکروہ  شکل انسان (الله معاف کرے) اندر آیا اس دفع اس کے بات کرنے کا انداز الگ تھا، اکرم بھائی سے مقامی زبان میں کچھ کہا اور اکرم بھائی نے ہم کو چلنے کے لئے کہا. ہم اٹھ کھڑے ہوے میں دل ہی دل میں دوا کر رہا تھا کے بس میں جذباتی نہ ہوں اور میرے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جس سے ہم میں سے کسی کو پریشانی ہو، (میں کسی بھی صورت میں ان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتا تھا). 
ہم ایک اور بارے حجرے میں لے جائے گئے یہاں کہتی پر نرم بستر لگے ہوے تھے. ہم آرام سے بیٹھ گئے میں خود کو پرسکوں رکھنے اور پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا. تھوڑا ہی دیر میں اس حجرے نما کمرے میں ایک ستہ ٦-٧ افراد داخل ہونا شروع ہوے. حلیے سے قبائلی کچھ بڑی عمر  کے لوگ تھے اور ٢ کی عمر ٢٠-٢٢ برس کی ہوگی. حلیے سے پڑھے لکھ اور با ادب لگ رہے تھے، ہم بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہوے. نہایت ادب سے سلام کیا اور انہوں نے ہم کو گلے لگایا اور خوش آمدید کہا. سب سے پہلے ایک لڑکے نے جو ان کے ساتھ آیا تھا ہم سے اردو میں بات کرنا شروع کاری اور ہم کو ہوئی تکلیف پر معزرت کری (میں نی دل ہی دل میں کہا، پہلے  دہراتے ہو،تکلیف دیتے ہو پھر معزرت طالب  کرتے ہو،یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟) عدنان بھائی نے کہا "کوئی بات نہیں یہاں کے حالات کے مطابق آپ نے جو کیا وہی مناسب ہوگا"    
عدنان بھائی بھی کبھی کبھی ایسی بات کر جاتے ہیں جس کو سمجھنا کم از کم میرے بس کی بات نہیں. پھر اس لڑکے نے اپنے بارے میں بتایا وہ لڑکا اسلام آباد ا ایک تلمی ادارے سے ١٤ کلاس پڑھ کر آیا تھا اور انگریزی بھی اچھی خاصی بول رہا تھا، مجھ کو ہرات ہوئی کے یہ لڑکا ان لوگوں کے ساتھ کیا کر رہا ہے. کاش کے میرے کو یہاں تصاویر کھنچنے کی اجازت ہوتی، کش کے مجھ کو یہاں کے حالات سہی سہی لکھنے کی اجازت ہوتی. (افسوس ہی افسوس). مجھ کو تو کچھ پوچھنے کی بھی اجازت نہیں تھی، ہم تو یہاں اپنی بات کرنے آے تھے، ان سے کیا پوچھتے؟
اکرم بھائی نے مقامی زبان میں کچھ کہا اور عدنان بھائی اور میری طرف اشارہ کر کہ کچھ کہا. پھر عدنان بھائی سے کہا کے آپ اپنے یہاں آنے کا مقصد بیان کریں. عدنان بھائی نے میری طرف اشارہ کیا اور اردو میں ہی بات شروع کری،
محترم بھائیوں، (میں نی کہا لو جی عدنان بھائی کی تقریر شروع)، مگر ایسا ہوا نہیں، ہم یہاں پچھلے کچھ برسوں سے فلاحی کام سر انجام دے رہے ہیں جن کی تفصیلات کے بارے میں آپ لوگ اور شمالی وزیرستان کے کچھ لوگ باخبر ہیں، میرے یہ دوست (میری طرف اشارہ کر کے کہا) کراچی سے تشریف لائے ہیں اور یہاں (دتہ خیل) کے بچوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانا چاہتے ہیں. جس کے لئے آپ کی اجازت اور رہنمائی کی ضرورت ہے (میں نی ایک دفع پھر دل میں سوچا، کے ان سے کسی رہنمائی کی امید؟ ان کو تو خود ہی رہنمائی کی ضرورت ہے) اور زیر لب مسکرا دیا. (شاید میری مسکراہٹ کو کسی نے محسوس کیا ہو)، باقی بات میرے یہ دوست خود بیان کریں گے. پھر میری طرف اشارہ کر کے مجھ کو اپنی بات مکمل کرنے کے لئے کہا گیا (ایک اچھی بات یہ تھی کے ہماری بات چیت کے دوران کوئی بھی مداخلت نہیں کر رہا تھا، اس کے پیچھے کیا راز تھا یہ الله ہی جانے) میں نے عدنان بھائی کے انداز بیان کو اپناتے ہوے ایک دفع پھر سب کو سلام کیا، جس کا جواب سب نے با آواز بلند دیا، پھر میں نی کہا، "جیسا کے آپ سب ٹیم آشیانہ اور کارکنان کی محنت کے بارے میں جانتے ہی ہیں، میں یہاں صرف اتنا کہنے آیا ہوں کے ہم کو یہاں کے بچوں کے لئے ایک مدرسہ / اسکول کھولنے کی اجازت دیں جہاں ہم مقامی بچوں کو جدید علوم کے بارے میں آگاہی دے سکیں، میں یہ نہیں کہتا کے اسلامی تعلیمات چھوڑ دیں، مگر اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم کے بارے میں آگاہی ہونا بہت ضروری ہے. اور . . . . ایک بڑی عمر کے قبائلی نے مجھ کو اشارہ کر کے روک دیا. مجبورن مجھ کو چپ ہونا پڑا  (بعد میں پتا لگا کے یہ صاحب  یہاں کے جرگے کے رکن ہیں) انہوں نی سب سے کچھ باتیں کرنا شروع کریں یہ بات چیت مقامی زبان میں ہو رہی تھی. درمیان میں وہ عدنان بھائی اور میری طرف اشارہ کر کہ   کچھ کہتے اور اکرم بھی سے مقامی زبان میں کچھ پوچھتے جس کا جواب اکرم بھائی نہایت سکوں سے دیتے. (صبح کے وقت عدنان بھائی نے جس طرح کے شک اور شبے کا اظہار بلال محسود کے لئے کیا تھا پتا نہیں کیوں مجھ کوایسی ہی سوچ اکرم بھائی کے لئے آرہی تھی) میں نی لاہولولہ پڑھا. اور زمین کی طرف دیکھنے لگا. جب ان لوگوں کی بحث رکی تو عدنان بھائی سے کہا گیا کہ ہم لوگ تھوڑا انتظار کریں ایک اور صاحب آرہے ہیں ووہی کوئی فیصلہ کریں گے. اب کون آرہا ہے؟ یہی میں سوچنے لگا. (قسم سے، دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا، کہ کس مصیبت میں پڑھ گیا ہوں، اچھا خاصا کراچی میں تھا، نوکری کر رہا تھا، شام میں دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، زندگی کتنی سکوں سے گزر رہی تھی، یہاں آگیا ہوں جہاں مر بھی گیا تو کسی کو پتہ نہیں لگنے والا کے ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے) پھر اچانک دوسرے ساتھیوں کا خیال آیا کہ عدنان بھائی بھی تو کراچی والے ہیں، فریال باجی تو کینیڈا سے آتی ہیں، فیصل بھائی لاہور سے، ڈاکٹر نگہت پشاور سے اور بھی ساتھی، دوست دوسرے شہروں سے آتے ہیں ظاہر ہے زندگی صرف خود کے لئے جینے کا نام نہیں ہے، الله پاک مجھ کو نیک ہدایت دے میں یہ کیا الٹا سیدھا سوچ رہا ہوں. ہم کو انتظار کرنے کا کہا گیا اور ساتھ ہی کچھ لانے کا بھی کہا گیا، وقت کا پتا نہیں تھا ہمارے پاس گھڑیاں نہیں تھی اکرم بھی سے سرگوشی کر کے کہا کہ بھی بہت تھک گیا ہوں، یہ لوگ چاہ کیا رہے ہیں؟ ایسا لگ رہا ہے کے جیسے ہم کسی مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں. خدا نہ کرے، اگر ڈرون آگئی تو سب کے سب مارے جائیں گے اور پتا نہیں ہم کو کس نام سے  جاۓ؟ اکرم بھائی مسکرا دیے، ساتھ ہی عدنان بھائی بھی مسکرا دیے. تھوڑا دیر میں ایک لڑکا کچھ کھانے پینے کا سامان لے آیا. خوشبو سے لگ رہا تھا کے تازہ تازہ پکایا گیا ہے، بہت بھوک لگنے کے باوجود بھی میں نے کھانے سے انکار کر دیا مجھ کو کہا گیا کے تھوڑا چک لوں مگر میں نے  منع  کر دیا، میرے لہجے میں سختی بھی تھی اب اس وقت یہ تو نہیں کہ سکتا تھا کے میرا روزہ ہے مگر میں یہ کھانا کسی صورت نہیں کھانا چاہتا تھا کیوں کے آج میری فرمائش پر آشیانہ کیمپ میں آلو کا سالن بنا ہے اور مجھ کو پورا یقین ہے کے ہمارے ساتھ ہماری آمد تک کچھ نہیں خانے والے تو میں یہاں بیٹھ کر یہ گوشت، مرغ مسلم کیسے نوش کر سکتا تھا. (پتہ نہیں کیوں میں خود کو بہت طاقتور محسوس کرنے لگا) عدنان بھی نے تو کھانا ہی نہیں تھا کیوں کے ان کی طبیت سہی نہیں تھی) اکرم بھی نی مصلحتا ایک دو ٹکرے اٹھا کر چبا لئے. ہم کو بتایا گیا کے رات کے ١١ بجے سے اپر کا وقت ہو گیا ہے. یہ وقت سہی نہیں ہے، میں نی عدنان بھی سے کہا کے ہم کو اب چلنا چاہیے پتہ نہیں ان کے آنے والا کب تک آے گا، ہم کل دن میں  آکر ان لوگوں سے بات کر لیں گے. مگر اکرم بھائی نے کہا کے ہم اس طرح یہاں سے نہیں جا سکتے (میں بھی یہ بات بھول گیا تھا کے یہاں آتے اپنی مرضی سے ہیں اور جاتے ان لوگوں کی مرضی سے ہیں). بیٹھے رہے، چپ اور خاموش، میں سوچ رہا تھا کے کش میں کراچی سے آیے ہووے امی کے خط ہی پڑھ لیتا، یا ساتھ رکھ لیتا یہاں اب کرنے کو تو کچھ ہے نہیں، جب ان کے وہ (؟؟؟) آے گے تب جانے کیا ہوگا. مگر ہم کو زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا. تھوڑا ہی دیر میں سیکورٹی سخت ہونے کا اندازہ ہوا، حجرے کے اندر اور باہر روشنی بہت کم کر دی گئی. حجرے کے اندر ٥ (پانچ) نوجوان جدید اسلحے سے لیس داخل ہوے اور مختلف جگہوں پر ہوشیار ہو کر کھڑے ہوے، مجھ کو اکرم بھی کی دبی دبی آواز اور الفاظ سنائی دیے، پخیر  راغلے! یہ پشتو کے الفاظ ہیں اور پڑھنے والے سمجھ سکتے ہیں کے ان الفاظ کے کیا مطلب ہے؟ پھر مبارک سلامت کا ہلکا ہلکا شورسنائی دیا. حجرے کے اندر پہلے وہ لوگ داخل ہوے جن سے ہم پہلے ہی مل چکے تھی پھر ٢ (دو) بندوق بردار ہے ان کے پیچھے ایک نوجوان عمر ٢٨-٣٢ برس کے درمیان ہوگی، سرخ سفید چہرہ، سفید رنگ کے قمیض شلوار پہنا ہوا، آنکھوں میں سرما، سر پر سفید اور کالے رنگ کا عمامہ، پیر میں پشاوری چپل. (بہت جاندار شخصیت تھی) حجرے میں داخل ہوا. ہم سب ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑے ہوے. (اس بندے کا کیا نام تھا، یہ مجھ کو ابھی تک نہیں پتہ لگا، مگر اتنا یقین ہے کے یہ بندہ بہت اثر اور رسوق والا ہے) اس نے ہم سب سے بہت گرم جوشی سے ہاتھ ملایا، سلام کا جواب دیا اور ایک طرف بہت پرسکوں ہو کر بیٹھ گیا، رات کے اس وقت جب میں اور میرے ساتھ عدنان بھائی، اکرم بھائی بہت تھکے ہوے تھے یہ انسان ایسا لگ رہا تھا کے جیسے بلکل فریش ہے. ایک مقامی صاحب نے ہم کو بتایا کے ان کے سامنے ہماری پوری بات رکھی گئی ہے اور ابہ آخری فیصلہ انہوں نے ہی کرنا ہے. 
ہماری ان صاحب سے کیا بات ہوئی اس کا سب سے اچھا پہلو یہی ہے کہ ہماری بات کو بہت سکوں سے سنا گیا اور ہم کو کہا گیا کے ہم اپنے  آشیانہ کیمپ میں بچوں کو پڑھنے کے عمل کا آغاز کر سکتے ہیں لیکن اگر ہم کو کسی بھی قسم کی ایسی حرکت یا کام میں ملوث پایا گیا جو مقامی تہذیب، اور یہاں کے اصول، رسم اور رواج کے مطابق نہ ہوے تو ہم کو جرگے کے سامنا کرنا ہوگا اور ہم کو سزا دینے کے بعد  اس علاقے سے باہر نکال  دیا جاۓ گا. بحث کی یا اپنی بات کہنے کی اجازت نہیں تھی. ہم کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا کہ ہم صرف لڑکوں کو ہی پڑھائیں گے، کوئی لڑکی ہم سے پڑھنے نہیں آے گی. ہم کسی بھی طرح سے ان لڑکوں کو مقامی تہذیب، رسم اور رواج، اسلام کے منافی تعلیم نہیں دیں گے اور نہ ہی ایسی کتابیں تقسیم کریں گے جس سے یہاں کے لوگوں میں آپس میں سوچوں کا ٹکراؤ ہو. اور ہم کو کسی بھی وقت جرگے والے یا مقامی بڑے لوگ چیک کرنے آسکتے ہیں جس کے لئے ہم کو ان لوگوں سے ہر ممکن رابطہ رکھنا ہوگا اور ان کے ہر سوال کا جواب دینا ہوگا. اور بھی کچھ سخت باتیں کہی گئی. کچھ لوگوں نے ہم کو بیرونی ممالک کا ایجنٹ بولا تو کسی نے ہم کو پاکستانی اداروں کا ایجنٹ. اور بھی بہت کچھ (جو کچھ بھی کہا گیا بہت عزت دے کر کہا گیا) اور ہم کو یہ بھی بتا دیا گیا کے ہمارے ہر ہر کام پر ان لوگوں کی نظر ہے. اکھڑ میں اس آدمی نے ایک دفع پھر (منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوے) ہم سے کسی بھی قسم کی ہوئی تکلیف پر معذرت مانگی، اپنے بندوق بردار ساتھیوں سے کچھ (مقامی زبان میں) کہا، اور ہم سے اجازت لی وہ خود تو کھڑا نہیں ہوا اکرم بھائی نی اشارہ کیا کے ہماری ملاقات مکمل ہوئی. (میں اس ملاقات سے مطمئن نہیں ہوں، ہماری بات پوری طرح نہیں سنی گئی، نہ ہی ہم جو چاہتے ہیں وہ سنا گیا، بس اپنے ہی لوگوں کی باتیں سن کر ہم کو پابند کر دیا، یہ  غلط ہے) میں نی ان جذبات کا اظہر انگریزی زبان میں عدنان بھی سے حجرے سے نکلتے وقت کیا تو پہچے سے ایک صاحب کی آواز آئ کہ "اگلی ملاقات میں آپ کے سارے شکوے دور کر دے جائیں گے." (مطلب یہاں کسی نے میری انگریزی میں کہی ہوئی بتا کو سمجھ لیا ہے. ہم بندوق برداروں کے پیچھے پیچھے ٢٥-٣٠ منٹ تک چلتے رہے،  ایک دفع پھر ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی. تھکن تو تھی مگر اس ملاقات میں ہوئی تشنگی نے میرا دماغ ہلا کر رکھ دیا تھا. (پتہ نہیں عدنان بھی کس طرح خود کو قابو کرتے ہیں یہی سوچ رہا تھا) ہم لوگ دتہ خیل کی مقامی مسجد تک واپس آے جہاں ہم کو بندوق برداروں نے الوداع  کیا اور یہاں سے ہم اپنی مدد آپ کے تحت اکرم بھائی کی رہنمائی میں آشیانہ کیمپ کی طرف  بڑھنے لگے.

اب جب میں یہ ڈائری لکھ رہا ہوں، تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے، میں خود کو ایک بند گلی میں محسوس کر رہا ہوں، یہاں فلاحی کام کرنا بھی بہت مشکل ہے، کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ہماری آس بنے، ہم کو سہارا دے، ہم کو مضبوط کرے، یہاں صرف ان لوگوں کی حکمرانی ہے جن کے پاس طاقت ہے، کمزور لوگ محکوم ہیں اور ان لوگوں کے ہر طرح کے فیصلے قبول کرنے کے پابند ہیں. ایسے میں یہاں کوئی کیسے علم اور تعلیم کی روشنی پھیلا سکتا ہے.  مجھ کو ایک چھوٹا سا اسکول چلانے کے لئے اتنی باتوں کا پابند کر دیا گیا ہے جیسے خدانخواستہ میں یہاں کوئی عیسائی تبلیغی مشن چرو کرنے والا ہوں، یا یہاں کے رواج کے مخالف میں کوئی مہم شروع کرنے والا ہوں. میں تو صرف یہاں کے بچوں کے لئے سوچ رہا ہوں، کے آخرکب تک یہ بچے ایسے ہی پھرتے رہیں گے؟ ان بچوں کا مستقبل کیا ہے. آج مجھ کو سبق صدر پاکستان پرویز مشرف اور آج کے چیف آف آرمی اسٹاف پرویز کیانی صاحب کی وہ بات بہت شدت سے یاد آرہی ہے جو ان دونوں نے ہی کہی تھی کہ، "ان  علاقوں (شمالی اور جنوبی وزیرستان) میں فوجی آپریشن خوشی سے نہیں کیا گیا بلکہ بہت مجبوری میں کیا جا رہا ہے، جس کے لئے پوری قوم کو افسوس ہے." ظاہر ہے جب حالات یہاں تک پہنچ جائیں جب حکموتی رٹ قائم نہ رہے، طاقتور اپنی طاقت کے بل پر حکومت کرنا چاہئے اور معصوم لوگوں کو اپنا غلام بنا لے (جیسا یہاں شمالی وزیرستان) میں دیکھا جا سکتا ہے تو اور کیا ہوگا. پاکستان کو قائم رکھنا ہے اور مسلمان کو مزید شرمندگی سے بچانا ہے تو ہم کو ایسے نام نہاد طاقتور لوگوں سے جان چھڑانا ہی ہوگی. اس کے لئے یہاں اگر فوجی کاروائی کی جاتی ہے تو یہاں کے مقامی لوگوں کو بھی ساتھ  شامل کرنا ہوگا، یہاں کے لوگ خود بہت پریشن ہیں، اور تھک گئے ہیں. ان لوگوں کو سہارا ملے تو یہ خود ہی ان طاقتور لوگوں کے خلاف اٹھ کھڑے  ہونگے.

اس ملاقات میں مجھ کو بہت کچھ دیکھنے، سیکھنے اور سمجھنے کو ملا. ہو سکتا ہے کے میں یہاں سے واپس کراچی جا کر یہاں کے حالات پر اور  لکھ سکوں، فلحال جتنا لکھا ہے اگر میرے دوست (ٹیم آشیانہ کے ساتھ) ووہی لکھ کر بلاگ اور ایمیل کر دیں تو بہت ہوگا. 
اس ملاقات سے واپس آیا تو پتا لگا کے کافی رات ہو چکی ہے، بھوک اور تھکن سے حالت بری تھی، جلدی جلدی کھانا کھایا اور جس کو جہاں جگہ ملی وہی پر کر لیٹ گیا. میں نی جلدی جلدی ڈائری لکھ  ڈالی ہے،پتہ نہیں کل کیا ہو. ابہ سونے کے لئے لیٹ رہا ہوں. 
ہاتھ میں امی کا بھیجا ہوا خط ہے  مگر پڑھنے کی  ہمت نہیں،سینے پر خط رکھ کر لیتا ہوں اور امی کو اپنے ساتھ محسوس کر رہا ہوں. 
انشا الله کل کی ڈائری کے ساتھ حاضر ہونگا.
آپ سب کی دعاؤں کے محتاج 
ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان.

========================================================================
نوٹ:
  • ٹیم آشیانہ کی یہ ڈائری پڑھنے والے زیادہ تر پاکستانی ہیں یا اردو جانتے ہیں اسی لئے یہ ڈائری اردو میں لکھی جا رہی ہے. مزید اس ڈائری کو انگریزی میں ترجمہ کر کے دینا چاہیں تو وہ بھی یہاں لکھ دی جاۓ گے. 
  • ایسے دوست جو اس ڈائری کو انگریزی میں لکھ کر دینا چائیں وہ ہم سے فوری رابطہ کریں.
     waziristan.dairy@gmail.com
  • وزیرستان ڈائری، ٹیم آشیانہ کے ایک کارکن کی آپ بیتی ہے جس کو لکھنے کی اجازت ٹیم آشیانہ کے کارکنوں کے مشورے سے دی گئی ہے. اس ڈائری کو پبلک کرتے وقت ہم کو حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ باتوں کو ایڈٹ کرنا  پڑتا ہے.ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کے ڈائری کا اصل مفہوم پڑھنے والوں کو سمجھ میں آتا رہے.
  • اگر کوئی دوست یا ساتھ ڈائری لکھنے والے کارکن سے رابطہ کرنے چاہے تو وہ بھی اپر دی گئی ایمل کر کے رابطہ کر سکتا ہے.
  • ٹیم آشیانہ کو آپ کے مشوروں اور دعاؤں کی ہمیشہ ضرورت  رہتی ہے.
جزاک الله 
ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان 



          

Friday, 13 April 2012

Another Page of my dairy: وزیرستان ڈائری کا اگلا صفحہ

اسلام و علیکم دوستوں اور ساتھیوں، 
جہاں اپنی ڈائری ختم کی تھی وہی سے شروع کر رہا ہوں، مگر شروع کرنے سے پہلے ایک اپیل اپنے دوستوں سے، اپنے بھائی بہنوں سے، اپنے فمیلی ممبرز سے، اپنے پڑھنے والوں سے، یہ اپیل مجھ کو عدنان بھائی کی طرف سے آج ہی ملی ہے، اور میں اپنی طرف سے جو کچھ ہو سکتا ہے کرنے کی کوشش میں ہوں، الله پاک مجھ کو ہدایت اور توفیق عطا فرماے اور ٹیم آشیانہ کی وزیرستان میں مشکلات کو آسان فرماے، آمین.
"ٹیم آشیانہ شمالی وزیرستان میں متاثرین "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے لئے فلاحی خدمات سر انجام دے رہی ہے، ٹیم آشیانہ بغیر کسی غرض، لالچ یا نام کے یہ خدمات ادا کر رہی ہے، ٹیم آشیانہ کی بنیادی ذمداری جنگ میں برباد ہوۓ خاندانوں اور یتیم، معذور بچوں کے لئے غذا، ادویات اور کپڑوں کی فراہمی ہے، ٹیم آشیانہ اپنے گھر والوں، دوستوں، احباب اور پڑھنے والوں کی مدد سے ہی یہ سارے کم سر انجام دیتی ہے. مہنگائی اور بگڑتے ہوۓ حالات کی وجہہ سے ٹیم آشیانہ کو ملنے والا فنڈ اب بہت کم رہ گیا ہے، شمالی وزیرستان میں اب بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے، آی ڈی پی کمپ جلو زئی، کے حالات سے آپ سب ہی واقف ہیں، وہاں پر مقیم وزیرستان کے لوگ آہستہ آہستہ اب واپس آرہے ہیں. یہاں ایسے لوگوں کے رہنے اور کھانے پینے اور صحت جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، ہم کچھ زیادہ تو نہیں کر سکتے مگر متسیریں کے لئے دو (٢) وقت کے کھانے اور بیماروں کے لئے ادویات کا انتظام ضرور کر سکتے ہیں، اسس کے علاوہ شدید بیمار افراد کو یہاں سے کسی بھی شہر منتقل کرنے کے لئے یہاں ایک بھی گاڑی موجود نہیں ہے، صرف آرمی کی گروں کو ہی استعمال کیا جا سکتا ہے جو ہر کسی کے لئے نہیں ہیں. ہم (ٹیم آشیانہ) انسانیت کے نام پر محترم جناب عبدلستار ایدھی صاحب، محترم انصار برنی صاحب، محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ اور دوسرے فلاحی اداروں کے سربراہوں اور نامی گرامی انسانیت کے ٹھیکیداروں سے اپیل کرتے ہیں، ان سے بھیک مانگتے ہیں کے یہاں ادویات کی قلت ہوتی جا رہی ہے، غذائی اجناس بھی بہت کم ہو جاتی ہے، بچوں اور خواتین کے لئے کپڑوں کی بھی کمی ہے. یہاں کے لوگ تنگ دست ہیں، یہاں کمی کا کوئی راستہ نہیں، یہاں سکول نہیں، یہاں میڈیکل سنٹر نہیں، یہاں مریضوں کو منتقل کرنے کے لئے گاڑیاں نہیں، آیئں آپ اور ہم مل کر تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں کے مفلس، تنگ دست، لاچار، بےبس، یتیم، مسکین، بیوہ، معزور لوگوں کے لئے کچھ انسانیت کا کام کریں، باتیں تو سب ہی کرتے ہیں آپ یہاں (شمالی  وزیرستان) میں آیئں  اور ہم سب مل کر ایک نیا وزیرستان بناتے ہیں، ہمارے پاس یہاں فلاحی کم کرنے کا ٢ سال کا تجربہ ہے، ہم یہاں کے لوگوں کو اور یہاں کے لوگوں کی حالات کو بہت بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں. ہم یہاں کسی بھی سیاسی، مذہبی یا بیرونی معملات کو کرنے نہیں آی ہیں، ہم صرف اور صرف اپنے پیارے وطن پاکستان کے لوگوں اور اپنے بھائی بہنوں کو یہ احساس دلانے کے لئے آے ہیں کے ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں، اور ابھی پاکستان میں بہت لوگ ایسے ہیں جو یہاں کے لوگوں کے لئے دل میں درد رکھتے ہیں اور اپنا مانتے ہوۓ ان کی مدد کر رہے ہیں. 
ٹیم آشیانہ کو آپ سب کی محبت، خلوص اور دعاؤں کی بہت ضرورت ہے، ساتھ ہی ہر قسم کی امداد کی بھی اشد ضرورت ہے ہم یہاں ذکر نہیں کر سکتے کے یہاں کے حالات کیسے سخت ہوتے جا رہے ہیں. اسس سے پہلے کے بہت دیر ہو جاۓ ہم سب کو مل کر یہاں کے لوگوں کے لئے کام کرنا ہوگا، خاص کر، عبدالستار ایدھی صاحب اگر ایک دفع یہاں آجائیں تو دوسرے فلاحی تنظیموں اور لوگوں میں بھی یہاں اکر فلاحی کام کرنے کے لئے ہمت اور حوصلہ ملے گا. ہم سب ہی لوگوں سے یہ اپیل اور درخواست کرتے ہیں کے آپ لوگ اپنے اپنے طریقے سے ایسی عظیم ہستیوں سے رابطہ کر کے ان کو ہمارا پیغم دیں، ہو سکتا ہے کہ کسی کی بات ان لوگوں کو دل میں اتر جاۓ اور یہاں موجود ہزاروں لوگوں کے لئے خوشی اور خوش حالی کا کچھ سامان ہو جاۓ، 
جزاک الله خیر، سید عدنان علی نقوی، ٹیم ممبر، ٹیم آشیانہ، شمالی وزیرستان. 
رابطے کے لئے، 
+92 345 297 1618
+92 333 342 6031
team.ashiyana@gmail.com
faryal.zehra@gmail.com
s_adnan_ali_naqvi@yahoo.ca

محترم دوستوں اور بھائی بہنوں، اپر لکھا گیا پیغام مجھ کو جس ترہان ملا تھا بلکل اس کو ویسے ہی لکھ دیا ہے. میں نے پچھلے ایک ہفتے میں جو کچھ جمع کیا ہے، وہ صبح اپنے دوستوں، خاندان والوں اور عزیز احباب کی مدد سے، کیا ہے اور انشا الله کل کسی وقت یہ سامان لے کر میں ایک دفع پھر یہاں سے وزیرستان (شمالی) کے لئے روانہ ہو جاؤں گا، انشا الله.
الله پاک مجھ کو اور ہمت، توفیق اور حوصلہ عطا فرماے اور مجھ کو وزیرستان جا کر لوگوں کے لئے فلاحی کام کرنے کی توفیق عطا فرماے، آمین. 
==============================================
==============================================
اور اب میری ڈائری کا اگلا صفحہ،
  محترم نماز عشا سے فارغ ہوکر، ہم کچھ لوگ ایک ساتھ بیٹھ گئے، عدنان بھائی نے بھی اس میٹنگ کے لئے کچھ خاص لوگوں کو ہدایت دی تھی. اس لئے ٹیم آشیانہ کے خاص ممبرز اور کچھ مقامی دوست بھی اس میٹنگ میں شریک تھے، عدنان بھائی نے ایک اور ممبر کو ہم سب کے لئے چائے بنانے کا کہ دیا تھا. ابہ مجھ کو کہا گیا تھا کہ میں وہ سب کچھ کہ ڈالوں جو میرے دل می ہے اور دماغ میں چل رہا ہے. میں نے ایک گہری سانس لی اور ساری ہمت کو جوڑ کر اپنی بات کہنا شروع کری، میری پوری کوشش یہی تھی کے میرا لہجہ اور زبان کسی بھی لمحہ سخت نہ ہو. اور ماحول میں گرمی نہ آجاۓ.
 میں نے الله کا نام لے کر اپنی بات شروع کری، "محترم عدنان بھائی، اور ٹیم آشیانہ کے جانباز ساتھیوں، عزیز ترین، وزیرستانی بھائیوں، اسلام و علیکم، الله پاک مجھ کو میری بات سہی طریقے سے بیان کرنے کی اور آپ تک پہچانے کی توفیق، ہمت اور سمجھنے کی عقل عطا فرماے، آمین.
میں پچھلے ٧ برسوں سے عدنان بھائی کو جانتا ہوں، مجھ کو اچھی ترہان یاد ہے جب عدنان بھائی کا تقریبن پورا خاندان ہی زلزلے کی نظر ہو گیا تھا اور اس کے بعد عدنان بھائی کی والدہ محترمہ کی موت کے بعد عدنان بھائی نے خود کو ایک دم تبدیل کر لیا، کراچی میں رہنے والا ایک ایسا جوان جس کی زندگی، میں ہمیشہ خوشیاں، ہلا گلہ، موج مستی، وغیرہ شامل تھی ایسے مقصد کی تلاش میں لگ گیا جس کی سمجھ ابھی تک مجھ کو نہیں آرہی ہے. کیا عدنان مجھ کو تھوڑا تفصیل سے باتیں گے کہ اکھڑ یہ سب چل کیا رہا ہے، وہ بہت تعلم یافتہ انسان ہیں، ان کو ایک بہترین نوکری اور زندگی کی ساری آسائش مل سکتی ہیں، وہ اپنا گھر بسا سکتے ہیں، اور وہاں رہ کر بھی یہاں کے لوگوں کے لئے کچھ نہ کچھ تو کر ہی سکتے ہیں. اس کے علاوہ، کبھی کبھی مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کے عدنان بھائی اور ٹیم آشیانہ کے ممبرز کسی خاص مقصد کے لئے فلاحی کام کرتے ہیں، کہیں یہ اندرونی طور پر کسی خفیہ ادارے یا کسی بیرونی ادارے کے کارکن تو نہیں ہیں، کیوں فریال باجی کناڈا سے پاکستان آجاتی ہیں اور یہاں کے لوگوں کے لئے فنڈز جمع کرتی ہیں، اور ہفتوں وزیرستان کی پہاڑیوں میں گم ہو جاتی ہیں؟ کیوں عدنان بھائی، گلی گلی محلے محلے، جا کر خود بھی بھیک مانگتے پھرتے ہیں، اور باقی کارکنان سے بھی منگواتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر جب یہاں (وزیرستان) کے رہنے والے (معذرت) کے ساتھ ہم کو پاکستانی اور خود کو وزیری کہتے ہیں تو پھر ہم کو کسی غیر کی مدد کر کے کیا حاصل؟ کیوں کے اگر ہم پاکستانی ہیں تو ہم کو سب سے پہلے اپنے پاکستانی بھائی بہنوں کی مدد کرنا چاہیے، پاکستان میں بھی ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی اسی ترہان کی مدد کی ضرورت ہے. جتنی جلدی اور جتنی روانی سے میں اپنی بات کہنا چاہتا تھا کہ ڈالی اور مجھ کو صاف محسوس ہوا کے ٹیم آشیانہ کے ممبرز، اور مقامی لوگوں کے ماتھوں پر شکنی پڑھ چکی تھی. عدنان بھائی بھی کسی گہری سوچ میں تھے، اور جب انہوں نے اپنا چہرہ اپر کی جانب اٹھایا تو میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا عدنان بھائی کی آنکھیں نام ہو رہی تھی، اور چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا. میں عدنان بھائی کے قریب گیا اور ان سے اپنی باتوں کی سختی پر ندامت کا اظھار کیا اور معذرت چاہی تو انہوں نے اشارے سے مجھ کو سب ٹھیک ہے کہا اور خود کو نارمل ظاہر کرنے لگے. ٹیم آشیانہ کے چہروں پر خفگی اور مقامی لوگوں کے چہروں پر ناراضگی صاف محسوس کی جا سکتی تھی، اب مجھ کو اپنی باتوں کی گہری کا بہت اچھی ترہان احساس ہونے لگا تھا. اور ندامت کی وجہہ سے میں نے اپنا چہرہ نیچے کر لیا اور اشارے سے مزید کچھ کہنے سے انکار کردیا. 
اسی اثنا میں چائے بھی آگئی اور ہم سب چپ چاپ بیٹھ کر چائے پینے لگے، چائے پینے کے دوران عدنان بھائی نے کہا، اگر منصور بھائی اپنی بات مکمل کر چکے ہیں تو میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور اگر منصور بھائی کی بات مکمل نہیں ہے تو یہ پہلے اپنی بات مکمل کر لیں، میں نے اشارتاً کہا کا میری بات ختم ہو چکی ہے اگر آپ کی گفتگو کے دوران کسی بات کا پوچھنا مقصود ہوا تو آپ کی اجازت سے پوچ لوں گا. میں نے اپنے ساتھ اپنی عزیز ڈائری بھی رکھی ہوئی تھی جس پر میں نوٹس لیتا جا رہا تھا. 

دوستوں، یہاں بجلی کا معملات ٹھیک نہیں ہیں، کب اتی ہے اور کب جاتی ہے کچھ نہیں پتہ. اسی لئے ابھی تک کی ڈائری لکھ کر اجازت چاہتا ہوں، اور انشا الله اپنی ڈائری کا یہ صفحہ آج ہی مکمل کرنے کی کوشش کروں گا. ٹیم آشیانہ کے لئے جو سامان میں نے جمع کیا ہے ابہ اس کی پیکنگ کرنی ہے جس کے لئے میرے بھانجا بھانجی آگئے ہیں. تو مجھ کو ابھی کے لئے اجازت دیں، الله پاک آپکا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہم سب پر سلامتی فرماے، آمین. 
جزاک الله
آپ کا بھائی، آپ کا دوست،
منصور احمد.
waziristandairy@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com

    

    

Monday, 9 April 2012

وزیرستان ڈائری: دتہ خیل میں میڈیکل کمپ

اسلام وعلیکم
ایک بار پھر دیر ہونے  پر معافی، ایک تو یہاں بجلی کے بہت مسائل ہیں پھر کچھ ذاتی ذمہ داریاں، پھر انٹرنیٹ کا موجود ہونا. یہ سب ایسے مسلے ہیں جن کی وجہہ سے ہمیشہ دیر ہو جاتی ہے. میں مزید وقت لئے بغیر اپنی ڈائری وہی سے شروع کرتا ہوں جہاں ختم کری تھی. 
"نماز عشا کے بعد میں نے سوچا تھا کے یہ حضرت یہاں رک کے میری پوری بات سنیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ان حضرت نے ہم سے اجازت مانگی اور مجھ کو کہا کہ ہم پھر آیئں گے اور آپ سے بات کریں گے اور اسلام و علیکم کہ کر چلے گئے. 
میری رات بہت مشکل تھی، میں نے جو کچھ ان حضرات سے کہا تھا وہ کچھ ایسا تھا جو یہاں کے طالبان ٹائپ لوگوں کے لئے ٹھیک نہیں تھا. یہاں بس ایک ہی بات سنی جاتی ہے جو جہاد ہے، مگر جہاد کے مطلب شاید ہی کسی کو پتہ ہوں. اور جن کو علم ہے وہ کمزور لوگ ہیں جو ظلم، زبردستی کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے کیوں کہ ان کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کے خاندان اور گھر بار سب برباد کر دے جا سکتے ہیں. یہاں میں ایک دفع پھر پاکستان کی افواج اور سلامتی کے اداروں کو خراج تحسین پیش کروں گا کے یہاں جو کچھ بھی یہ لوگ کر رہے ہیں وہ کوئی معمولی کام نہیں     ہے، الله پاک ان جوانوں کو ہمت حوصلہ صبر اور استقامت عطا فرماے - آمین.

در بدر:
اگلی صبح، نامز فجر ادا کری، ساری رات نیند بھی نہی ہے تھی، سر بھی درد کر رہا تھا اور دماغ بھی بہت بوجھل تھا عدنان بھائی نے میری dشکل یخ کر کچھ اندازہ لگایا  ہوگا تومجھ کو اپنے پاس بلا کر کہا "منصور اتنا نہ سوچو، یہ لوگ جتنے خطرناک لگتے ہیں اتنے ہیں نہیں. یہ لوگ بھی اب سوچنے  لگے ہیں کہ کیا سہی ہے اور کیا غلط مگر اپنے مستقبل کو لے کر تھوڑا پریشان اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں. اور تم کو جو بہتر لگتا ہے bکرو، بس جذباتی ہونے سے گریز کرو اور خود کو سادگی سے بیان کرو. الله پاک مدد کرنے والا ہے."

میں ٹیم آشیانہ کی میڈیکل ٹیم کے ساتھ دتہ خیل سے تھوڑا آگے کی جانب روانہ ہوا. یہاں ہم کو بچوں کو ادویات دینا تھی. میرا تھوڑا بہت تجربہ رہا ہے ادویات سے متعلق اپنے اسی تجربے کا آج امتحان لینا تھا.
                             "اور الله پاک بہتر مدد کرنے والا کارساز ہے."
جیسے ہی ہم نیں اپنا کمپ لگایا، کچھ عجب حلیے والے لوگ ہم سے ملنے ہے اور سب سی پہلے اکرم بھائی سے ان کی شناخت پوچھی. پھر مجھ سے میری اور ٹیم کے باقی لوگوں سے بھی معلومات کری، پہلے میں سمجھا کے یہ لوگ پاکستان کے کسی ادارے کے جوان ہیں مگر ان سب کے حلیے سے ایسا کچھ نہیں لگ رہا تھا.    
وہ لوگ پشتو زبان میں بات کر رہے تھے جو میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی مگر ان کا انداز جارحانہ تھا جو  مجھ کوبالکل اچھا نہ لگا، ایک تو ہم اپنی جان جوکھم میں  ڈال کر  یہاں آے ہیں اور اپر سے ان لوگوں کا انداز، میں نے دل ہی دل میں سوچا مگر کہا کچھ نہیں. پھر اکرم بھائی نے ہم سب کو بتایا کہ یہ لوگ اس علاقے کے رکھوالے ہیں ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر یہاں کوئی کچھ نہیں کر سکتا. میں نے پوچھا اب کیا کرنا ہوگا؟ جواب ملا کہ بڑے خان سے اجازت لینی ہوگی.

عجب ماحول ہے، عجب حالات ہیں، خود کچھ کرتے نہیں، کوئی کچھ کرنا چاہتا ہے تو کرنے نہیں دیتے، میرا دل عجیب محسوس کررہا تھا، دل چاہ رہا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے واپس چلا جاؤں مگر اب یہ بھی میرے اختیار میں نہیں. آیا اپنی مرضی سے ہوں مگر جانا یہاں کے لوگوں کی مرضی سے ہوگا. خدا خدا کر کے بڑے خان کا کوئی آدمی آیا اور ہم کو چار گھنٹے کے لئے میڈیکل کمپ لگانے کی اجازت ملی وہ بھی خان کے آدمی ہمارے سروں پر تلوار بن کر کھڑے رہے گیں. 
ہمارے ساتھ کوئی خاتون نہیں تھی اس لئے ہم کو کسی بھی خاتون کا علاج کرنے یا دوا دینے کی کی اجازت نہیں تھی. ویسے بھی خان کے ہوتے ہووے یہاں کونسی خاتوں نے آجانا تھا. ہم بچوں سے ہی شروع ہووے، اکثر بچے ٣ سے ١٤ برس کے تھے، بہت پیارے، بہت سمجھدار، مگر کوئی بچی میرا مطلب ہے لڑکی نہیں آی یہ بھی خان انکل کی مہربانی کی وجہہ سے ہی ہوا. وزیرستانی ویسے تو بہت جفاکش، نڈر اور جانباز مشہور ہیں مگر نجانے کیوں ان خان ٹائپ کے لوگوں سے خوف زدہ  ہیں. خیر، چھوٹے بچوں کے ساتھ ان کے والد یا کوئی نہ کوئی رشتے دار تھا. اکثر بچوں کے ساتھ ان کے دادا یا نانا تھے، میں نے پوچھا تو پتا چلا کے اکثر کے والد علاقے میں موجود نہیں، یا پھر اس جہاد نما جنگ کے شکار ہو چکے ہیں بچوں کے دادا اپنے بیٹوں کی شدت پر بہت خوش اور مطمئن دکھے یہ ایک اور عجیب بات تھی جو مجھ کو سمجھ نہیں آرہی ہے. ایک بچے کے دادا، غلبان اکبر نام ہے ان کا، نے مجھ کو ادھر ادھر دیکھ کر پشتو میں کچھ کہا جو مجھ کو سمجھ نہیں آیا تو میں نے اکرم بھائی کو بولوا کر ان ان کی بات  سمجھنے کوکہا، اور جب بات سمجھ آی تو پتا لگا کے وہ اپنی بیٹی کے بخار کے لئے دوا مانگ رہے ہیں. میں نے اپنے ساتھ موجود ڈاکٹر شہریار سے کیفیت بتا کر دوا مانگی تو وہ مسکرا دے اور کہا iکی بھا میرے پاس ہی لوگ اسی ترہان سے دوا مانگ رہے ہیں. چلیں شکر ہے کے گھروں میں قید خواتین کو کسی نہ کسی طریقے سے دوا تو ملے. مگر بخار تو بہت سے ہوتے ہیں اور حالت یہ ہے کے خود باپ کو نہیں پتہ کی بیٹی کو کیسا بخار ہے شاید یہاں باپ بھی بیٹی کے لئے نامحرم ہوتا ہوگا. اے خدا، یہ کس راستے پر چل پڑی ہے تیری مخلوق؟
کچھ ہی دیر میں ہم قربان ٤٠ - ٥٠ بچوں سے فارغ ہو چکے تھے، اب کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا، مجھ کو پورا یقین تھا کے اب کوئی اور نہیں آنے والا تو میں نے اکرم بھائی سے کہا کے چلو واپس چلتے ہیں تو انہوں نے کچھ سوچ کے جواب دیا "بھائی ہم خان صاحب کی مرضی کےبغیرجا بھی نہیں سکتے." میرے تو تن بدن میں آگ لگ گی، کہ یہ کونسا طریقہ ہے کیا یہ بھی کراچی کے نو گو ایریا کے جیسا ہے کے آ تو گے ہو جانا مشکل ہے. توبہ ہے یار، میں نے اکرم بھائی سے کہا ایسا لگ رہا ہے کے ہم پاکستان میں نہیں کہیں اور ہی ہیں. اب صرف انتظار کرنے کے اور کچھ نہیں رہ گیا تھا اگر میں جذباتی ہوتا تو خود میرے لئے اور باقی ٹیم ممبرز کے لئے کوئی نہ کوئی پریشانی کھڑی ہو سکتی تھی. جب خان کے آدمیوں کو اندازہ ہوا کے ہم بلکل فارغ ہیں تو ہم کو کہا گیا کے اپنا سامان لپٹیں اور ان کے ساتھ چلے. کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے صرف ان کی بات ہی مانی جا سکتی تھی، ٹیم کے باقی ممبرز شاید ان سب باتوں کے عادی ہو چکے تھے میرے لئے یہ سب بلکل نیا تھا اسی لئے گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی. مجھ کو خوف زدہ کرنے کے لئے یہ لمبی لمبی ڈاری والے، بڑی پگڑی والے کیا کم تھے جو ابھ ان کے سردار مطلب خان صاحب سے بھی ملنا ہوگا جو نجانے کیا کیا سوال جواب کریں گے. ایک تو یہ پہاڑیاں، اپر سے ہر طرف سناٹا، سروں پر ڈرون کا خوف، زمیں پر طالبان کا خوف، یا الله یہ کیسا ملک ہے جہاں میں آزادی کے ساتھ کوئی فلاحی کام بھی نہیں کر سکتا؟ اس خوف سے تو موت ہی بھلی. پیدل چل چل کر میرا حشر نشر ہو چکا تھا، میری اک ٹانگ hپہلے  ہی معذوری سے دوچار ہے لگتا ہے یہاں پورا ہی لنگڑا ہو کر واپس جاؤں گا، اور کچھ پتہ نہیں کے جاؤں گا بھی کے نہیں. خدا خدا کر کے بڑے خان کا حجرہ نما گھر آیا، ہماری جامہ تلاشی لی گئی، شکر خدا کا کہ میرے پاس کیمرہ نہیں تھا جو میں بہت چھپا کر اپنے ساتھ یہاں تک لانے میں کامیاب ہو چکا تھا مگر عدنان بھائی نے استعمال سے سختی سے منع کر دیا تھا. ہمارا ایسا استقبال کیا گیا کے جیسے ہم کسی اور دنیا کی مخلوق ہوں، خاص کر میرے ساتھ تو الگ ہی رویہ تھا شاید میری ڈاری نہ ہونے کی وجہہ سے. ہم کو ایک کھنڈر نما کمرے میں بٹھایا گیا، جہاں سب سے پہلے پینے کے لئے پانی دیا گیا aاس dکی با وضو کا پانی اور نماز، ابھ بھوک بھی لگ پڑی تھی تو بغیر کہے کھانے کا بھی انتظام ہو چکا تھا. مگر میری ساری توجہ بڑے خان کی آمد پر تھی کے کب وہ رونق افروز ہوں اور مجھ کو ان کا دیدار نصیب ہو، میرے دماغ می بہت سوالات تھے اور مجھ کو خان صاحب سے کچھ نہ کچھ تو پوچھنا ہی تھا. اب یہاں تک آگیا ہوں تو اپنے دل کی تسلی کر کے ہی واپس جاؤں گا انجام چاہے کچھ بھی ہو. جیسے ہی کھانا لگا اک جانا  پہچانا چہرہ کمرے میں داخل ہوا میں نے تھوڑا غور سے  دیکھا تواندازہ ہوا کے ان صاحب سے ہم گزری ر ہی  ملاقات کرچکے ہیں. وہ بھی چپ چاپ کھانے میں شریک ہو گے، تھوڑا ہی دیر میں سب اچانک کھڑے ہونا شروع، میں سمجھا کے شاید یہاں کا رواج ہے کہ ایک  شخص نے کھانا ختم کر لیا تو پورا دستر خوان ہی اٹھ جاۓ، میں بھی سب کے دیکھا دیکھی کھڑا ہو گیا اور حسرت بھری نگاہوں سے دستر خوان کو دیکھنے لگا کیوں کہ  ابھی تک میرا پیٹ نہیں aبھرا تھ اور آج بہت دنوں کے بعد دستر خوان پر بہت لذیز اور عمدہ قسم کے کھانے تھے. میری شکل دیکھ کر اکرم بھائی نے کچھ اشارہ کیا جو میری سمجھ نہیں آیا. اس عجیب رواج پر بھی مجھ کو غصّہ آرہا تھا. مگر اگلے ہی لمحے ایک 35-٤٠ برس کا آدمی کمرے میں داخل ہوا، کوئی شک نہیں کے اس کی پوشاک بہت عمدہ تھی، اس نے سب کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور سب اچانک ہی ایک دفع پھر دستر خوان پر بیٹھ گے میں بھی بیٹھ گیا اور سب سے پہلے کھانے پر ہی ہاتھ صاف کرنے لگا. تھوڑا دیر میں ایک صدا آی، الحمد الاللہ. اور دسترخوان سمیٹا جانے لگا مگر میں الله کے فضل اور کرم سے اپنا پیٹ بہت اچھے سے بھر چکا تھا. ابھ اٹھاتے رہو دستر خوان. ایک بڑی بالٹی لیے گے جس میں پانی بھرا تھا اور ایک تھال نما چیز صبح بالٹی سے پانی نکلتے اور تھال میں ہاتھ دھوتے. سب کے دیکھا دیکھی میں نے بھی ایسا ہی کیا. اب کچھ کچھ سمجھ آنے لگا کہ یہ آنے والا کون ہے. کیوں کے سب ہی ان کا پاس جا رہے تھے اور مصاحفہ کر کے ایک طرف نیچے ہی بیٹھ رہے تھے ایک صرف خان ہی تھے جو اونچی جگہ پر تھے باقی ہم سب ہی نیچے.  دربار سج چکا تھا، عوام اور خواص بھی موجود تھے، ہم جیسے مسافر بھی ابھ دیکھنا یہ تھا کہ بادشاہ سرکار کی اعلان کرتی ہے. اکرم بھائی نے ہم سب کا تعارف کرایا، جب میرا نمبر لگا تو ایک انجانا خوف تھا کیوں کہ گزری رات والے صاحب اور میری باتیں سب ہی ان کو پتہ ہونگی. انہوں نے اشارے سے مجھ کو اپنی طرف بولایا، میں اٹھ کے جانے لگا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے مقتل میں جا رہا ہوں. میرے کندھے جھکے ہووے اور آنکھوں میں خوف تھا. کیوں کے میرے کھڑے ہوتے ہی خان کے محافظ ایک دم چوکننا ہو چکے تھے اور ان کے ایک دم جدید ہتھیار کسی بھی قسم کی غلط حرکت کا جواب دینے کے لئے ایک دم تیار. میں جیسے ہی خان صاحب کے تھوڑا قریب ہوا تو وہ اچانک کھڑے ہووے مجھ سے ہاتھ ملایا اور مجھ کو سینے سے لگا کر کہا، کیسے ہو منصور بھائی؟ ان کی اتنی صاف اردو سن کر حکا بکا تھا، کے اگلا جملہ انگریزی میں داغ دیا، How are you feeling in my area? یا الله پاک، یہ کیا ماجرا ہے، یہ کیسا خان ہے جو پشتو تو جانتا ہی ہے مگر اردو اور انگریزی بھی بہت اچھی ترہان جانتا ہے؟ میں نے ایک lزبردستی وی مسکراہٹ کہ ساتھ ان کی باتوں کا جواب اردو میں ہی دیا کہ باقی سارے لوگ بھی گواہ راہیں کہ میں کوئی بعد کلامی نہیں کر رہا، ان خانوں کا کیا پتہ کا کب پٹری سے اتر جائیں او کسی بھی بات کا فائدہ اٹھا کر مجھ کو کسی مشکل سے دو چار کر ڈالیں.
مجھ کو اپنے پاس بٹھایا مجھ سے کراچی کے حالت پوچھے، میری طبیت پوچھ گئی اور میرے یہاں آنے کا سبب پوچھا گیا. انہوں نے فرمایا، "بھی آپ کو اس ترہان در بدر کی ٹھوکریں کھا کر آخر مل کیا رہا ہے؟" شاید وہ سمجھ رہے ہو کے میں کسی پاکستانی  ادارے کا کارندہ ہوں جو یہاں جاسوسی کے مطلب سے آیا ہے، مگر  جلد ہی ماحول کافی دوستانہ ہوگا اور مغرب کی نماز کا وقت ہوتے ہی نماز کی تیاری شروع کر دی گے، اب یہ بات یقینی تھی کہ آج رات ہم کو خان صاحب کے اسی حجرے نما گھر میں رکنا ہوگا. کافی دیر سے مجھ کو اکرم بھائی سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا اسی لئے نماز کہ بعد ہی میں نے ان سے اپنے سارے شکوک کہ اظھار کر دیا. وہ بھی کچھ پریشان تھے مگر مجھ کو اچھی ترہان تسلی دی کے ہم جیسا سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہوگا،انشا الله.
مغرب کی نماز کہ بعد ہی خان صاحب ایک دفع پھر ہمارے درمیان تھے ان کی باتوں سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کے وہ بہت جلدی میں ہمارے بڑے میں سب کچھ جان لینا iچاہتے ہن، ہر بات کہ سوال اور میرے ہر جواب میں سے پھر ایک نیا سوال. کافی دیر ہونے کے بعد انہوں نے ہم کو اجازت دی کے اگر آرام کرنا چاہتے ہیں تو کریں نہیں تو نماز عشاء کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور بیٹھتے ہیں. میں نے تو لیٹنے کو ہی ترجیح دی، آج سارا دیں آرام کہاں ملا اور دماغ تو بہت بری ترہان الجھا ہوا ہی تھا.  
سہی کہا تھا خان صاحب نے کے میرے اس ترہان در بدر پھرنے سے آخر حاصل کیا ہو رہا ہے، یہ سوال کہ جواب اب مجھکو بھی معلوم کرنا ہے.  


دوستوں یہاں تک کہ حال تو لکھ ڈالاہے. آگے بھی انشا الله ضرور لکھوں گا. آپ لوگ  میری ڈائری کو ایک کہانی نہیں حقیقت سمجھ کر ہی پڑھیں، کیوں کہ وزیرستان جیسے علاقے میں خود وہاں کے لوگوں کے لئے جو خطرات ہیں اس سے کہی زیادہ ہم جیسے سوشل ورکر کے لئے بھی بہت مشکلات ہیں. ALLAH پاک ہم سب کو ہمت حوصلہ اور صبر عطا کرے، آمین.
اپنی آرہ سے آگاہ کرنے کے لئے مجھ کو لکھے :
waziristandairy@gmail.com
mansoorahmed.aaj@gmail.com
team.ashiyana@gmail.com
جزاک الله خیر
آپ کہ بھائی.
          

Thursday, 5 April 2012

وزیرستان (شمالی) دتہ خیل کی یادیں. Wazisitstan Dairy!

عزیز ساتھیوں اسلام و علیکم،
دتہ خیل تک آنا میرے لئے کسی معجزے سے کم نہیں تھا. یہاں کا ماحول، یہاں کے لوگ، یہاں کے دن اور رات، سب کے سب میرے لئے حیران کر دینے والے تھے، دتہ خیل  کے رہنے والے لوگ ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے کسی انجانے خوف کا شکار ہیں. 
اگلی صبح، فجر کی نماز کے بعد تک میں خود کو کافی حد تک سنمبھال چکا تھا. سب سے بڑا مسلہ موبائل فون کی سروس کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہہ سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کے جیسے میں زمین پر نہیں کسی اور دنیا میں موجود ہوں. اس کے بعد یہاں کے لوگوں کی زبان پشتو جو ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی، اردو بولنے یا سمجھنے والے بہت ہی کم لوگ ہیں، عدنان بھی نے یہاں بھی ایک صاحب کی خدمات میرے حوالے کری جو میری بات کو پشتو میں ترجمہ کر کے دوسرے لوگوں کو سمجھاتے اور مجھ کو لوگوں کی بات سمجھاتے، ابتدا میں تھوڑی مشکلات ہوئی مگر بعد منی آسانی ہونے لگی، یہاں میرا کام ساتھ لایی گئی امداد کو بچوں میں تقسیم کرنا اور بچوں کو جب تک یہاں ہوں تعلیم کی روشنی سے آگاہی دینا تھا. 
بچے ہمیشہ میری مجبوری رہے ہیں، بچو سے پیار ہر کسی کو ہوتا ہے. مگر کیوں کہ میرا پیشہ ٹیچنگ رہا ہے اسی لئے بچوں کے مزاج کو سمجھنا اور تعلیم دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے. 

تعلیم آخری حل: 
جہاں تک میرے تجربہ ہے چاہے وزیرستان ہو یا افغانستان، (یاد رہے میں ابھی تک افغانستان نہیں گیا ہوں) یا دنیا کا کوئی اور علاقہ، صرف اور صرف تعلیم ہی ایک واحد حل ہے جس کے ذرے لوگوں کے سوچنے کا طریقہ اور زندگی کا معیار تبدیل کیا جا سکتا ہے. گولی، لاٹھی، ڈرون، عسکری قوت سے حملہ کرنا، یا پھر خفیہ ایجینسیوں کی کارستانیاں، یہ سب کسی کام کی نہیں رہتی، ان سب سے وقتی طور پر تو کچھ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے مگر اس سے عوامی جذبات میں شدید غصہ شامل ہو جاتا ہے جو کی کسی بھی معاشرے کے تباہی کا سبب بن سکتا ہے. اور میری معلومات اور تجربے کے مطابق یہاں وزیرستان (شمالی) میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے. یقیناً ہمارے ملک کے عسکری ادارے بہت مضبوط ہیں اور ہمارے جوان بہت بہادری اور بیخوفی کے ساتھ شدت پسندوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، جس کا سہی اندازہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں بیٹھ کر کرنا بہت مشکل ہے یہ تو یہاں اکر ہی پتا چلا کے ہمارے جوان کسی کسی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں. بہرحال یہ باتیں تو عسکری لوگ ہی جانتے ہیں کے کب کس کے خلاف کسی کاروائی کرنا ہے. میں صرف اتنا لکھنا چاہتا ہوں کہ، کچھ لوگوں کی گلتی کی سزا پوری قوم اور نسل کو دینا کہی کا انصاف نہیں. یہاں دتہ خیل میں بھی کچھ اس ہی محسوس ہو رہا ہے، یہاں کوئی پلاننگ ہی نہیں، بس لوگ صبح اٹھتے ہیں، کسی نہ کسی کیمپ کے سامنے جا کر بیٹھ جاتے ہیں جہاں ان کو کھانے کے لئے کچھ مل جاتا ہے، وہ خود کھاتے ہیں اور اپنے بچوں کے لئے لڑ جھگڑ کے بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسی بھاگم بھگ میں شام ہو جاتی ہے. کوئی یہاں بیٹھا ہوتا ہے کوئی وہاں بیٹھا ہوتا ہے. ایسے میں جب کسی کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا تو بچے، خواتین ، اور مرد جہادی تنظیموں میں شامل ہے ہونگے اور انجانے میں اسلام اور پاکستان کے خلاف کاروائی بھی کرے گے.
میں نے اپنے ان خیالات کا اظہار عدنان بھی اور کچھ مقامی لوگوں سے بھی کیا تو ان سب کا کہنا یہی تھا کہ، "منصور بھی، یہاں کوئی کام دھندھا نہیں ہے، ہم لوگ اگر یہاں سے پاکستان میں کہی بھی جاتے ہیں تو لوگ ہم کو بغیر کسی تصدیق کے دہشت گرد کہتے ہیں، کوئی ہم کو کام نہیں دیتا، کوئی ہم سے پوچھتا نہیں کے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں. الٹا پولیس اور دوسرے ادارے ہم لوگوں کو تنگ کرتے ہیں، ایسے میں ہم کیا کریں؟" یہ وہ سوال ہے جس کا مجھ کو جواب ڈھونڈھنا ہے، مگر میں تو صرف ایک فرد ہوں، یہ سوال تو پوری قوم کے لئے ہے. یہ سوال ہمارے اداروں کے لئے ہے، یہ سوال ہماری حکومت کے لئے ہے، کہ، "کیا وزیرستان (شمالی یا جنوبی) میں رہنے والا ہر انسان شدت پسند ہے، پاکستان اور اسلام مخالف ہے؟" میرے خیال میں ایسا بلکل نہیں ہے، کل تک میں بہت ڈرا ہوا سہما ہوا تھا. ہر آہٹ پر ڈر رہا تھا، انجانا خوف تھا، مگر صرف ٢ دن میں ہی یہاں کے لوگوں کی محبت، اور پیار اور اخلاص نے میرا سارا ڈر اور خوف دور کر ڈالا. میں بھی، لکھ کیا رہا تھا اور لکھ کیا ڈالا. 
میں صرف یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ یہاں کے لوگوں کے ایک نسل تو ہم اسس نہ سمجھ میں آنے والی جنگ میں برباد کر چکے ہیں مگر، ابہ جو نسل بری ہو رہی ہیں، جوان ہو رہی ہے، ہم کو اس کا سوچنا ہے، ان بچوں کے پاس بھی کرنے کی لئے کچھ نہیں، یہ بچے بہت سوال رکھتے ہیں، اور ہم سب کو مل کر ہی ان بچوں کے روشن مستقبل کے لئے کام کرنا ہوگا. ٹیم آشیانہ کے مہربانی سے یہاں اکر بہت کچھ سمجھنے کو ملا، میں خود وزیرستان کو کو دہشت گردی کا ادارہ ہی سمجھتا تھا، مگر ایسا نہیں ہے، جب انسان کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا تو کوئی بھی ان کو ورغلا سکتا ہے اور وطن دشمن بنا سکتا ہے. یہاں میری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے بھی ہوئی جو ہم کو پاکستانی اور خود کو وزیر کہلانا پسند کرتے ہیں. 

ہم پاکستان کے لوگوں کے اور پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں: 
آج شام ہی مغرب کی نماز کے بعد کچھ لوگ ٹیم آشیانہ سے ملنے آے، میں کھانا کھا کر فارغ ہوا ہی تھا کہ عدنان بھائی نہ بلوا لیا، میں جب ان کی طرف گیا تو ان میں سے ایک صاحب کھرے ہووے، سر پر بڑی سی کالے رنگ کی پگڑی، لمبے لمبے شلوار قمیض، سفید داڑھی، اور حلیہ سے ایک دم طالبان ٹائپ لگ رہے تھی، میں تھوڑا سا چونکا مگرخود کو سنمبھال کر اسی خلوص سے سلام اور مصاحفہ کیا جس ترہان انہوں نے مجھ سے کیا، میری طرف اشارہ کر کہ انہوں نے پشتو میں کچھ کہا جو میری سمجھ سے باہر تھا بعد میں ٹیم آشیانہ کہ ایک مقامی ساتھ نے بتایا کہ وہ میری ہمت اور بہادری کا کہ رہے تھے کہ میں خطروں کی سر زمین پر آیا ہوں. خیر، ان صاحب کو تھوڑا اردو بھی اتی تھی، انہوں نے جو کہا اس کی کچھ باتیں حذف کر کہ کچھ ہی باتیں یہاں لکھ رہا ہوں، 
"منصور بھائی، الله کے فضل اور کرم سے ہم سب مسلمان ہیں، اور آپس میں بھی بھائی بھائی ہیں، اور ایک مسلمان کا خوں دوسرے مسلمان پر حرام ہے، پھر بھی آپ کہ پاکستان والے مسلمان ہمارے وزیرستان والے مسلمان بھائی کا قتل کر رہے ہیں، اور ہمارے مہمانوں کو بھی بے دردی سے مر رہے ہیں، کیا ہم کو اپنے دفاع میں کچھ بھی کرنے کا حق نہیں؟ آپ کی پاکستانی فوج اور ----- امریکن ہمارے علاقوں میں گھس گے ہیں، اور ہمارے گھروں کو، ہمارے مال مویشیوں کو برباد کر دیا، ہمارے جوانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا. تو کیا ہم کو اس قتال کا بدلہ لینے کا حکم نہیں ہے؟ آیات کی تلاوت کری گی. اور ہم چاہتے ہیں ہم کو ہمارے جوانوں کا خوں بہا، اور ہماری املاک کے نقصان کی تلافی کری جاۓ، ہم کو ووہی عزت دی جاۓ جو دوسرے لوگوں کی ہے، ہم کو ہماری مرضی سے جینے کا حق دیا جاۓ - وغیرہ وغیرہ...."    
ان صاحب کے پرجوش تقریر کہ بعد ان کے ساتھ آے ہوۓ کچھ لوگوں نہیں دبے دبے الفاظ میں الله اکبر، اور جانے کون کون سی صدائیں بلند کری، مجھ کو سچی بات ہے بہت وحشت ہو رہی تھی، یہ تو کھلم خلا طالبان نظریے کا پرچار کرنا تھا. اور دوسرے لوگوں کو اکسانے کا سب سے آسان طریقہ. میں نے احتجاجی نظروں سے عدنان بھائی کی طرف دیکھا انہوں نے آنکھوں سے ہی جواب دیا کہ جواب دینا ہے مگر ان کے جذبات کو ختم ہونے دو، میں خاموش ہی بیٹھا رہا، ایک اور صاحب نے بھرپور پشتو زبان میں تقریر کر ڈالی، میں کیوں کے پشتو زبان سے نہ بلڈ ہوں تو میری سمجھ میں بہت کام ہی سمجھ آیا مگر میرے دوست اکرم بھائی صبح کچھ اردو میں لکھ رہے تھے جو ان صاحب کی تقریر ختم ہوتے ہی مجھ کو دے دیا اور جو کچھ اس میں لکھا تھا وہ میرے لئے نا قابل برداشت تھا. میں چاہے نماز نہ پڑھتا ہوں، لیکن ایک وفادار اور شعور رکھنے والا مسلم ہوں. جو جتنا بھی ترقی پسند کیوں نہ ہو جاۓ، مگر اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انحراف نہیں کر سکتا. نہ ہی کسی ایسے عمل کی حمایت کر سکتا ہے جو کسی بھی طریقے سے اسلامی تعلیمات اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ہو. میں نے ہمت کر کے عدنان بھی اور ان سب حضرت سے اجازت لی کہ میں ان سب باتوں کے جواب میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، دل ہی دل میں الله کا نام پڑھا، درود پاک پڑھا اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کری، اس کہ بعد میں نے سورہ رحمان کی کچھ آیات پڑھی اور پاکستان میں پڑھائی جانے والی نہم جماعت کی انگریزی کی کتاب کے پہلے سبق " حضور پاک (س ع و) کا آخری خطبہ" والا مضمون جو مجھ کو ابھی تک بہت اچھی ترہان یاد ہے پڑھ ڈالا. میں شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا تھا، مجھ کو عدنان بھی کا اشارہ ملا اور ایک گلز پانی خاموشی سے دیا گیا جو میں نے بلکل اسلامی طریقے سے نیچے بیٹھ کر پیا. (الله مجھ کو معاف کرے، کراچی میں ایسا بہت کام ہوا ہے کے میں بیٹھ کر پانی پیتا ہوں). میں نے ان سب حضرات کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور جو کچھ کہا وہ کچھ اس ترہان سے ہے. ( یاد رہے کے ان کے پاس ایک چھوٹا سا ریکارڈر بھی تھا اور جو بھی میں کہ رہا تھا وہ اس کو ریکارڈ کر رہے تھے، اس لئے میرے جذبات سے زیادہ احتیاط لازم تھی).
" میرے محترم دوستوں، آپ سب کی آمد کا بہت شکریہ، آپ کے جذبات اور خیالات سے آگاہی ہوئی، اور جو کچھ میں نے آپ کی زبانی سنا مجھ کو کوئی شک نہیں کہ آپ لوگ بھی ایک مخصوص نظریہ اور خیالات کے حامل ہیں. اسلام ایک امن، محبت، اور خلوص سکھانے والا مذہب ہے، جس میں قتال، جہاد اور لوٹ مار کی اجازت بلکل نہیں، اگر ایسا ہوتا تو آج ساری دنیا ہی مسلمان ہوتی، مگر الله پاک نے جو بھی حکم دیا ان سب ہی میں انسانیت کا درس دیا، ساری قرانی آیات، حضور پاک کے اعمال، اور احادیث اس بات کا ثبوت ہیں کے سہی اسلامی تعلیمات کیا ہیں، یہاں (وزیرستان) یا دوسرے علاقوں میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے، اس سب کے ہم ہی ذمے دار ہیں، نہ ہی کوئی سہی رہنما ملا نہ ہی کوئی سہی ہدایت، ہم کو حالت اور وقت کے حساب سے جو بھی سہی لگا ہم کرتے گئے اور انجانے میں ایسے لوگوں کے غلام ہو گئے جو نہ تو ہمارے دوست تھے نہ ہی اسلام سے وفادار. آج یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ان سب میں ہمارا ہی قصور ہے. ہماری اس غلطی کے لئے انی والی نسلیں بھی ہم کو کبھی معاف نہیں کریں گی. وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوںمیں اسلامی شدت پسندوں نے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بہت زور و شور سے مہم چلائی، اور ان علاقوں کے سادہ لوح عوام ان لوگوں کی baton میں آگے کیوں کہ ہیں کا رواج ہے کے آپ کے علاقے کا برا یا کوئی مولوی جو بول دے وہی حق اور سچ ہے. مگر آج کے جدید دور میں یہاں نہ تو کوئی اور زریا ہے نہ ہی کوئی تعلم جو اپ لوگوں کو شعور دے، اسی وجہہ سے آج اپ لوگ ہم کو پاکستانی کہ رہے ہیں اور خود کو وزیری. آپ شاید بھول گئے ہیں کہ وزیرستان بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک حصہ ہے یہاں پر بھی حکومت پاکستان اور پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے بلکل اسی ترہان جیسے ملک کے دوسرے حصوں میں. یہاں کے لوگوں کو بھی بلکل وہی حقوق حاصل ہیں جو پاکستان کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں. بس یہاں کے نظام میں خان، ملک یا سردار شامل ہیں جو حکومت کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور قانون کی عمل داری کو یقینی بناتے ہیں، میرے حساب سے بری گر بار یہاں ہی ہوئی کہ خان یا سردار کہتے رہے اور آپ کرتے رہے کیوں کہ آپ لوگوں کے پاس (معزرت) کے ساتھ تعلیم نہیں تھی جس کی وجہ سے شعور کی بھی کمی تھی. جہد کا جو فلسفہ آپ کو سکھایا گیا وہ اسلام کے حقیقی فلسفے سے بلکل مختلف اور علیحدہ تھا. جتنے لوگ اس جہاد نما جنگ میں مارے گۓ خود ان کو نہیں پتا تھا کہ وہ شہید بھی ہیں کے نہیں. 
میرے اتنا کہنے کی دیر تھی کے امیر صاحب نے عشاہ کی نماز کا اعلان کر دیا اور ہم سب نے نماز کی تیاری شروع کر دی. 
دوران وضو، عدنان بھائی نے میرے جذبات کا احترام کرتے ہوۓ مجھ کو کچھ اور باتیں بتائیں اور مجھ کو مزید نرم لہجے میں بات کرنے کے لئے کہا. اور ہم نماز کی تیاری میں لگ گئے. 

محترم دوستوں، انشا الله اگر زندگی نے وفا کری تو آج ہی اپنی ڈائری کے کچھ اور صفحات بھی لکھ ڈالوں گا.
جزاک الله خیر
آپ کا دوست آپ کا بھائی 
منصور احمد
   
 
           

Tuesday, 3 April 2012

شمالی وزیرستان میں گزرے کچھ دنوں کی یادیں, Waziristan Dairy Page 2:

وزیرستان (شمالی) میں میرا دوسرا دوسرا دن:
یہ صبح میری دوسرے دنوں کی صبح کی جیسی بلکل نہیں تھی، مجھ کو اسے اٹھایا جا رہا تھا کے جیسے میں کہیں مر نہ گیا ہوں. میرے سر کی جانب عدنان بھی تھے اور پیروں کی جانب ٤ - ٥ افراد، شاید تھکن کی وجہہ سے میں کچھ زیادہ ہی گہری نیند سو گیا ہونگا. آنکھ کھلی تو ایسے سب کو اپنے سامنے دیکھ کر دل دہل گیا اور پہلا خیال جو مجھ کو آیا وہ یہی تھا کہ کہیں بلی جیسے ڈرون نہیں حملہ تو نہیں کر دیا، بس یہ خیال دل میں آنے کی دیر تھی میں اپنے بستر سی ایسے اچھل کے کھڑا ہوا جیسے میرے اوپر کوئی سانپ یا بچھو رینگ رہا ہو. میری اس حرکت پر سب ہی لوگ ہنس پڑے. میں شرمندہ ہوکر کھڑا ہو گیا، خیر، نماز فجر کا وقت ہوا تھا اسی لئے اٹھایا جا رہا تھا. میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ وضو کیا اور نماز ادا کری. نماز کے بعد ہم کو چا ئے دی گے جو پی کر تھوڑا سکوں ملا.
نماز کے بعد ہر طرف چہل پہل شروع ہو چکی تھی. پتہ چلا کہ آج ٹیم آشیانہ وزیرستان کے صبح سے مشکل علاقے دتہ خیل جانے کی تیاری میں ہے، دتہ خیل کا نام میرے لئے نیا نہیں تھا، کراچی میں اکثر خبروں میں دتہ خیل کا ذکر بار بار آیا ہے. میں نے ایک دفع پھر جتنی دعا یاد تھی پڑھنا شروع کر ڈالی، زندگی میں شاید ہی کبھی اتنا خوف آیا ہو مجھ کو. ایک مسلم کی حیثیت سے اتنا ڈرنا شاید گناہ ہو مگر انجانا خوف تھا جو تنگ کر رہا تھا. وجہ شاید طالبان کی غنڈہ  گردی رہی ہو جس کے بارے میں اکثر سنا ہے. یا پھر بلی جیسے ڈرون کا خوف ہوگا، یا پھر اپنوں کے ہاتھوں ذلیل اور رسوا ہونے کا خوف. کیوں کے کوئی پتہ نہیں کے کوئی بھی ہم جیسوں کو دشمن که کر ہماری ہی خبر بنوا ڈالے. خیر الله پاک کا نام لے کر میں نے کوشش کری کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ جو بھی مدد کروا سکتا ہوں کروں، مگر میری ٹوٹی ہوئی ٹانگ مجھ کو زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی.
صبح ٨ بجے ہمارا سفر شروع ہوا جو خیبر پختونخوا میں عام طور پر چلنے والی جیپ میں رہا. ہمارے ساتھ ٣ جیپ روانہ ہوئی جس میں مجھ کو ملا کر ٨ کارکن شامل تھے، ایک ڈاکٹر بھی تھی. ہم جیسے ہی میران شاہ سے باہر نکلے ہمارا پہلا سامنا پاکستان کے فوجی جوانوں سے ہوا، مگر یہ جوان کچھ اور ہی تھے، چہروں پی اتنا غصہ کا دیکھنے تک سے خوف آرہا تھا. عدنان بھائی اور مظفر بھائی نے ان سے بات کری، ہم کو جیپ سے باہر نکالا گیا ہمارا تفصیلی چیک اپ میرا مطلب ہے جامہ تلاشی ہوئی اس کے بعد ہم کو اگے بڑھنے کی اجازت دی گے، میں درود پاک پڑھتا جا رہا تھا. کے اچانک عدنان بھائی نے آواز لگی اور بھائی منصور کراچی کے حالت کے بارے میں بتاؤ. میں تو بہت پہلے سے ہی ان سے بات کرنا چاہ رہا تھا پھر میں بھی شروع ہو گیا اور اپنے بارے میں، اور کراچی کے حالت کے بارے میں ان کو تفصیل سے بتانا شروع کیا، راستے میں جگہ جگہ ناکے لگے ہووے تھے، اوپر سے بہت ہی عجب راستہ تھا جہاں ہر طرف ویرانی، خوف اور سناٹا ہی تھا. ہم اپنے ساتھ پانی کی بوتل اور کچھ خانے پینے کا سامان لے کر نکلے تھے، جو ہم استعمال کرتے جا رہے تھے، عدنان بھائی بھی ہر جگہ کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتا رہے تھے، دن میں ہم نے ظہر کی نماز ادا کری اور سفر پھر شروع کر دیا. جگہ جگہ تلاشی دی کر مجھ کو غصّہ آنے لگا تھا، اور محترم عدنان بھائی صرف مسکرا کر اور مجھ کو استغفار پڑھنے کی تلقین کر رہے تھے. جبہ اثر کی نماز کے لئے ہم ایک جگہ روکے تو میں نے صاف که دیا کے یار ایسا محسوس ہو رہا ہے کے جیسے ہم بارڈر پر کر کے افغانستان میں آگے ہیں جہاں ہر کوئی ہماری تلاشی لے رہا ہے، وزیرستان بھی پاکستان کا ایک حصہ ہے، اور ہر پاکستانی کو یہاں آزادی کے ساتھ آنے جانے کی اجازت ہونی چاہیے جس کا جواب عدنان بھائی نے بہت شفقت اور پیار سے دیا اور جو جواب تھا تو اس کا خلاصہ یہ ہے کے وزیرستان اور فاٹا کے علاقے حالت جنگ میں ہیں اسس لئے حفاظتی اقدامات کے طور پر یہ سب کیا جا رہا ہے.   میں نے دل ہی دل میں کہا کے یار منصور ان سب کی ضرورت تو کراچی میں بھی ہے، کراچی میں بھی کبھی بھی کچھ بھی ہو جاتا ہے. وہاں بھی جگہ جگہ  ناکے لگے ہونا چاہیے تاکے حالت کچھ تو قابو ہوں. الله رحمان ملک انکل کا بھلا کرے جو ہر دفع کراچی اتے ہیں اور حالت سہی ہونے کا وعدہ کر کے چلے جاتے ہیں. خیر، جیسے تیسے کر کے مغرب بھی ہوئی اور عشا بھی ہوئی، اور وہ لمحات آگے جن سے میں خوف زدہ تھا، رات کا سناٹا. اور تنہائی. ابہ پتہ لگا کے وزیرستان کو وزیرستان کیوں کہتے ہیں ، یہاں ہر طرف پہاڑ ہی پہاڑ ہیں اور انہی کی حکمرانی چل رہی ہے. جیسے تیسے کر کے سفر ختم ہوا اور ہم مشہور اور معروف دتہ خیل پہنچ گے، راستے میں کچھ اسی باتیں ہوئی جن کا ذکر کرنا تو ضرور چاہتا ہوں مگر سیکورٹی کی وجہہ سے نہیں کر پاؤں گا. بس الله پاک ہم سب کو ہدایت عطا کرے، آمین.

دتہ خیل میں ہمارے دن کیسے گزرے اسس کا احوال انشا الله اپنی اگلی ڈائری میں ضرور لکھوں گا. میری دعا ہے کے ٹیم آشیانہ جس ترہان سے وزیرستان کے لوگوں کی خدمات کر رہی ہے الله پاک اس کو قبول کرے اور ٹیم آشیانہ، وزیرستان میں رہنے والوں کی مشکلات کو آسان کرے، آمین.
جزاک الله خیر
آپکا بھائی، آپکا دوست
منصور احمد
  

Saturday, 31 March 2012

My 1st day and Introduction at North Waziristan!

1st Day (March - 2012)

We reached at Miranshah (North Waziristan) before 4pm. it was a terrible journey from Peshawer to here. A lot of Security check, Have seen a lot of the people wearing heavy turban on there heads and I was just in  shalwar qameez and a simple Sindhi topi. A team member of Team Ashiyana asked me to wear this as Waziri peoples not like someones into jeans and shirt etc.

From now I am writing my dairy into Roman Urdu as many of readers wants in it and it will easy for me to describe things in the real way.

Apne mhtram dost aur bhai Syed Adnan Ali Naqvi se aqeedat, muhabat ka kuch esa rishta hai ke aaj 10 bars guzr jane ke bawajood bhi is main koi kami nahi aye balke har waqt yeah barhta hi ja raha hai. Meri aur Adnan bhai ki dosti October 2005 ke zalzale ke bad Kashmir main hoi jabh main ne Friends of Adnan ko join kia, Uss time Adnan bhai Kashmir ke Earthquack victims ke liye dil o jan say kam kar rahe thay. Us time say aaj tak jabh jabh Adnan Bhai nai mujh ko awaz di main nai apni pori koshish kari kay unn kay sath khara rahon. kuch time main apni zati majboriun ke wajha say un ka sath nahi day paya jis ka buhat afsoos hai aur rahe ga.

Sindh main aye howe flood ke baad main nai Adnan bhai aur Team Ashiyana ko Sindh main akar kaam karne ke dawat di jo unhon nai mani aur sindh agae, jahan hum nai taqreeban 3 month flood victims ke liye mil kar kaam kia jo mere liye ek buht bara sabq aur tajurba tha jahan mujh ko barahe rast Adnan bhai kay sath mil bethne ka aur social work karne ka moukha hasil howa. Adnan bhai wapis Ashiyana camp Waziristan gae tu mujh ko wahan ane ke dawat di jo main ne foran mani aur jese hi bistar e alalat se utha Waziristan kay liye rawana ho gaya.

Peshawer main meri mulaqat Team Ashiyana ki active member Faryal baji say hoi aur dosre logon say hoi jin kay sath main nain wahan kuch saman pack karwaya aur Waziristan jane kay liye rawana howa.

Peshawar to Miranshah:
Peshawer say hum subha fajr ki namaz parh kar rawana howe, hum ek old type Corolla main thai aur ek Sheroz truck per Team Ashiyana ka imdadi saman tha. dono gariyan jabh tak Peshawar city ke sarkon main rahi har taraf zindagi aur mouj masti kay asar nazr atai rahe lekin jese hi gari city say bahar nikli ek dam ajib mahol ho gaya. mere dmagh main Waziristan ko lay kar ajib ajib batain ane lagi, sab say ziada khoof aur dar Drone attack ka tha jo achanak bagair kisi warning ke ho jate hain. ek anjana sa khoof. main dil hi dil main darood parhte aur jo jo dua yad thi parhta raha aur ALLAH say dua karta raha ka mera yeah safr sath kheriyat ke guzr jae.
Hum jese hi Mashoor FATA ke areas main dakhil howe manzr hi badla howa tha, har guzrne wala shaqs humari gari ko ese dekh raha tha ke jese hm kisi aur dunya ki makhloof hon, chehroon pe lambi lambi dariyan, sar par bari bari pagriyan, shalwar takhnon say onchi. un ko dekh kar main nay bhi apne sar par ek topi saja li jo main karachi say apne sath laya tha. sath hi anjane main khudh hi apni shalwar takhnon say oper balke kafi oper kar dali. meri yeah harkat dekh kar Faryal baji jo kai full burqa main thi aur pichli seat par bethi thi ki ankhon main ek chamak aye aur mujh ko yaqeen hai kay woh muskura rahi hongi.

Jese tese kar kay ek lamba aur thaka dene wala safr mukamil howa. Humare sath nikla howa Sheroz truck raste main janae kahan tha hum pehle hi puhanch gae thay, Miranshah, Ek afsanwi kahani jesa tabah hal city, North Waziristan ka markazi city, balke main tou town hi kahon gaa. sham ho chuki thi. raste ka safr ki wajha say buht thakan thi. phir ek anjana sa khoof ka agr pak agencies say bach gae tu kahin taliban type logon ke hathon main na charh jain aur agr un say bhi bac gaye tu kahin Drone. ALLAH maaf kare, aaj ka safr meri zindagi ke har safr say ziada khtrnak aur dara dene wala tha. Mout ka khoof esa hota hai pehli dafa ehsas howa.

Miranshah ke ek muhalle main team ashiyana ke log moujood thay jo buhat be sabri say humara intizar kar rahe thay sath hi kuch muqami log bhi moujood thay jin ko humari amad ka pata tha aur  kiun kay yeah mera pehla safr tha tu mere liye aur bhi ziada intizar tha. Main nai gari say utar kar sabh say hath milaya. koshish kari ke salam pora karon balke sath kuch aur bhi dua parh lon mgr Adnan bhai ke muskurane par main nai sirf salam karne par hi guzara kia. Karachi main ek haidse ke natije main meri ek tang toot gae thi jis ka operation howa tha aur mujh ko ek lakdi ka sahara le kar chalana parh raha tha tu Adnan bhai nai mere liye ek chair manfgwai jahan main betha. Mujh ko yea sach kehne main koi sharam nahi kay main buhat bori tarhan dara howa tha aur sehma howa tha. raste main hum 2 jagha khane ke liye ruke magr mujh say sirf pani ke aur kuch nahi khaya gaya.

Sham ke lag bhag 4-5 ka tym hoga, sardi ka ehsas ho raha tha, ya shayad dar aur khoof ki wajha say mujh ko lag rahi hogi. Magr bhook bhi lag rahi thi. aur neend bhi arahi thi. Mgar Adnan bhai ne foran hukam day dala ka Mansoor bhai aap pehle naha lain phir namaz ada karte hain aur us ke bad kuch mukhami logon say mulaqat karni hai fir mil kar khana khate hain aur sone ke tayari. yea sun kar tu meri oper ki sans oper aur neche ke neche hi reh gae, main tu abh sirf khana kha kar aram hi kar sakta tha baqi sabh karne ke himat bilkul nahi thi. han shower lene ka idea acha tha. main nai sar hialaya tu mujh ko andar ek kamre main bhej diya jahan bathroom ke nam par ek kamra tha jahan 2 bare bartanon main pani bhara rakha tha jo thoda grm tha. main nai nahaya aur kapre tabdil kar kay bahar agaya. abh tu bhook aur lag rahi thi aur neend bhi.
main nai himat kar kai faryal baji say keh dia ka baji mujh ko zoor ki bhook lagi hai aur aaj main kuch karne ke position main nahi hon tu unhon nai buht shafqat say mere sar par hath phera aur kaha "beta aap khana khao aur aram karo" wese bhi yahan log khud ajate hain agr koi aya tu main keh don gi ka aap aram kar rahe ho, kal mil lena.

Adnan bhai ko jabh lm howa tu unhon nai mere liye foran khane ka intizam kia aur fir hum log jo hum sath aye thay Peshawer say sabh nain mil kar sath hi khana khaya. Khana nihayat sada tha mgr laziz, chane ki dal aur sath allo ki bhujya aur Pathano wali bari bari rotiyan aur chawal. bus masale thoda kam thy baqi sabh laziz tha. Apne pait ki dozakh ko bujhane ke bad main nay ALLAH ka shukr ada kia aur edr udhr dekhne laga tu Adnan bhai ke pas hi bethe ek Waziri buzrg ki awaz aye. jo mix urdu aur pashto main tha k namaz parhe bagair sona Shetan ke sath sone jesa hai. "Yad rahe kay main namaz ka paband nahi" main nai jabran muskura kar dekha aur wazu karne k liye khara howa. mere sath aur bi log wazu karne lage. buzrg Amir ullah nai namaz ada karai Magrib ki namaz qaza ho gae thi meri woh bhi ada kari. abh sirf aur sirf neend arahi thi. Jse hi namaz say farig howa tu Adnan bhai say saf keh dia kai bhai mujh ko woh jaga batao jahan mujh ko sona hai. unhon nai ek taraf ishara kia jahan ek camp type laga howa tha us ke andr farshi bistr per mere sone ka intizam tha. main jitni tezi say tent kay andar sone gaya uss say kahin ziada tezi say bahar nikla. aur ek dafa fir Adnan bhai kay samne akar khara ho gaya aur kaha, "Adnan yar, yeah tum mujh ko kahan sone ko keh rahe ho, yahan tu Drone ese atai hain jese karachi main sarak par Dog gomte hain ya humare gharon main Cats yani billian bagair kisi ijazat ke shan say ati hain aur jati hain hain." Meri iss bat kar sabh nai hansna shuru kar dia, main sharma kar ek taraf ho gaya. meri bat ko isi ne serious nahi liya tha. sach bat hai kai mujh ko khoof lag raha tha ka kahin etna khoof tu mujh ko Karachi main howe accident ke tym par bhi nahi aya tha.
Mujh ko kuch muqami logon nai himat dilai k bhai mansoor, agr mout ko ana hwa tu kahi bhi aur kese bhi ajati hai. aap ALLAH ka nam lu aur su jao aur agr koi esi wesi bat hoi tu hum yahan hain, aap ko har mumkin hifazat karne ki yaqeen dihani karate hain.
Main ek dafa fir tent numa karme main gaya, neend tu buht thi mgr anjana khoof. Marna har kisi ko hai mgr esi mout jis main nam nishan na ho say khoof ata hai.
Abh tent numa kamre main akar, laltain main baith kar jaldi jaldi dairy likh raha hon. Raste main bus security wale buht thay jaga jaga checking, sach bat hai kai ek aam pakistani ka ess elaqe main ana asan bat nahi. Esa lag raha tha kai jese main koi taliban hon ya koi aur, jo pakistan ki sar zameen par ghus aya hai. esi talashi aur khofnak nigahain ke ALLAH bachai. mujh ko har mukham par ammi buht yad aye, pata nahi kiun.
Abh neend arahi hai aur sona bhi chahiye kiun ke hukam azan par uthna bhi hai. bahar bhi sanata hota ja raha hai. jane subh kia hoga.
Shab bakher, Zindagi nai wafa kari tu kal dairy likhon ga, Insha ALLAH.

My Intro!

Dear Readers,
Assalam O Alikum & good evening.

I've spend a few days in Waziristan (North) in the month of March with a social working group (a group of friends) working for the victims of Waziristan (North & South). Many of you may know that "Team Ashiyana" is very known in Waziristan for there services in Medicines, Food and basic life supply into the victims.
I am very thankful for the Syed Adnan Ali Naqvi bro for his kind assistance and for Team Ashiyana, for there love, care and much thankful for the people of Waziristan for the enough love and care of mine. May ALLAH give them courage. Ameen.

After spending 25 days in Waziristan I have back at my home in Karachi. The days I spend at Waziristan was unforgettable days for me and I've learn a lot of more in these days about life, about the mean of our birth, about the problems of Waziristani peoples and many other things.

For that, I've decided to share my life experience which I've got from Waziristan. I am used too to write my dairy on my own pages, there are few pages from them which I am writing her with the kind permission of Adnan bro, Faryal Sister, Team Ashiyana and many Waziristani peoples.

A few of personal details will not be open due to the security reasons. Hope you wont mind it.

Jazak ALLAH Khairan
Mansoor Ahmad